احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت آج ہوگی، نواز شریف اور مریم نواز حاضری سے استثنیٰ مکمل ہونے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہونگے۔
تفصیلات کے مطابق آج ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کے وکیل امجد پرویز اپنے حتمی دلائل کا آغاز کریں گے،گذشتہ روز نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے سات روز کے بعد اپنے حتمی دلائل مکمل کئے تھے۔
گذشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز والدہ کی عیادت کیلئے ہارلے اسٹریٹ کلینک پہنچیں،اس موقع پر میڈیا سے مختصر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان واپسی کو کلثوم نواز کی صحت سے مشروط قرار دیا۔
اس سے قبل پچیس جون کو احتساب عدالت نے نیب ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی تھی۔
کل ہونے والی سماعت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ایون فیلڈ ریفرنس میں اپنے حتمی دلائل مکمل کئے تھے،نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ استغاثہ ثابت نہیں کر سکا کہ بچے نواز شریف کے زیر کفالت ہیں، واجد ضیاء نے بھی کہا کہ بچوں کے زیر کفالت ہونے کے ثبوت نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ واجد ضیاء نے یہ بھی تسلیم کیا کہ میاں شریف بچوں کو جیب خرچ دیتے تھے،نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ہمیں دفاع کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے خلاف ایک بھی چیز ثابت کریں تو دفاع پیش کریں گے۔
خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بریت کا کیس ہے کیونکہ اس کیس میں کوئی شہادت پیش نہیں کی گئی،انہوں نے اپنے دلائل مکمل کرنے پر عدالت کا شکریہ بھی ادا کیا جب کہ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے بھی خواجہ حارث کو دلائل مکمل کرنے پر مبارکباد دی،سردار مظفر نے کہا کہ اگر کوئی غلطی ہوئی تو معافی کا طلبگار ہوں۔













