پاکستان بزنس سنٹر کویت کے زیر اہتمام عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر کے اعزاز میں یادگار الوداعی تقریب
– آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا
جانے والے تو مجھے یاد بہت ائے گا
– کویت میں گذرا وقت ہمیشہ یاد رہے گا،کوشش ہے ویزوں کے حوالے سے اچھی خبر دے کر جاؤں،عزت مآب سفیر پاکستان
– کمیونٹی ویلفیئر،مینگو فیسٹول،پاکستانی مصنوعات کے فروغ میں سفیر پاکستان نے ہمیشہ ساتھ دیا، حافظ محمد شبیر کا خراج تحسین
کویت: ( طارق اقبال ) پاکستان بزنس سنٹر کویت نے سوموار 17 جون کی شب زمردہ ہوٹل میں عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر کے اعزاز میں ایک یادگار الوداعی تقریب کا اہتمام کیا جس میں کویت میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک ریکارڈ تعداد شریک ہوئی،پاکستان بزنس سنٹر کویت کے ڈائریکٹر جنرل حافظ محمد شبیر نے اپنی ٹیم کے ہمراہ معزز مہمانان کا استقبال کیا-تقریب کی میزبانی کے فرائض محمد افضل شافی نے بڑے خوبصورت انداز سے انجام دئیے اور ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ کمپیئرنگ کے شعبہ میں کویت بھر میں ان کا کوئی ثانی نہیں،خاص طور پر شخصیات کو اسٹیج پر مدعو کرنے سے پہلے اشعار کا انتخاب وہ اتنے مؤثر انداز سے کرتے ہیں کہ شخصیت کا پورا خاکہ ذہن میں آجاتا ہے،وہ نام نہ بھی لیں تو سمجھ میں آجآتاہے کہ وہ کون سی شخصیت کو بلوا رہے ہیں۔عزت ماب سفیر پاکستان غلام دستگیر کو اسٹیج پر مدعو کرتے ہوئے انہوں نے درج ذیل اشعار پیشِ کئے:
جدائیوں میں رفاقتوں کا ملال کیا،یہ حال کیا
رفاقتوں میں رفاقتوں کا سوال کیا،ملال کیا
ہم اپنے ہاتھوں سے تم کو رخصت نہیں کرینگے،نہیں کرینگے
جو خود بھی اکتا کے چل دئیے تو ملال کیا،خیال کیا
محمد افضل شافی بہت کم اپنا کلام محافل میں پیش کرتے ہیں،انہوں نے عزت مآب سفیر پاکستان کیلئے درج ذیل اشعار پیش کئے
جو محبتوں کی نظیر تھے،جو دلوں کے بے حد امیر تھے
جو زمانے بھر میں تھے معتبر،وہ خبیر تھے، وہ بصیر تھے
تیری چاہ میں جو بھٹک گئے،وہ دیوانے کب کے گذر گئے
جنہیں سب سے تھیں ملی نفرتیں،وہی الفتوں کے سفیر تھے
عزت مآب سفیر پاکستان تالیوں کی گونج میں اسٹیج پر تشریف لائے،انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان بزنس سنٹر کویت کے ڈائریکٹر جنرل حافظ محمد شبیر کاتہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مختصر نوٹس پر ان کے اعزاز میں انتہائی شاندار اور یادگار تقریب کا اہتمام کیا،اب انہیں واقعی احساس ہو گیا ہے کہ وہ جا رہے ہیں۔ انہوں نے پوری کمیونٹی کو ایک چھت تلے جمع کر دیا ہے،حافظ محمدشبیر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ انتہائی مختصر نوٹس پر بڑی سے بڑی تقریب کا اہتمام کر لیتے ہیں۔ تقریباً ساڑھے تین سال کویت میں بطور سفیر خدمات انجام دیں،کویت میں جو وقت گذرا ہمیشہ یاد رہے گا،وہ محمد جمیل،ارشد نعیم چوہدری،راجہ بلال،ماجد علی چوہدری،رانا اعجاز حسین اور حافظ محمد شبیر کے دلی طور پر شکر گذار ہیں جنہوں نے انہیں بڑے خوبصورت الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،کمیونٹی نے ہمیشہ بڑا اچھا ریسپانس دیا۔

تمام پاکستانی تنظیموں کے ساتھ بڑے اچھے روابط رہے،ان کی کوشش ہوتی تھی کہ تمام تنظیموں کے پروگراموں میں شریک ہوں،اگر کسی پروگرام میں شریک نہیں ہوسکا تو اس کی وجہ سرکاری مصروفیات ہو سکتی ہیں،انہوں نے کہا کہ حافظ محمد شبیر کمیونٹی ویلفیئر کیلئے ہمیشہ پیش پیش رہے،انہوں نے کویت میں پاکستانی مصنوعات کے فروغ کیلئے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا،ایکسپو میں شرکت کے لئے جو وفد پاکستان جاتے رہے ہیں ان میں حافظ محمد شبیر نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔حافظ محمد شبیر نے مزید کہا کہ کویت میں قیام کے دوران کمیونٹی کو تین بڑے مسائل کا سامنا رہا، ان میں 1) پاکستانیوں کیلئے کویتی ویزوں کی بحالی۔2) سفارتخانہ کی بلڈنگ اور3) قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی سرفہرست تھے۔ پاکستانیوں کیلئے کویتی ویزے پچھلے بارہ سال سے بند ہیں۔ انہوں نے کویت حکومت کے ساتھ ہر سطح پر ویزوں کا مسئلہ اٹھایا، پچھلی حکومت اور نئی حکومت میں بھی ویزوں کا مسئلہ حل کرنے کی پوری کوشش کی گئی، پچھلی حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم نے کویت کا دورہ کیا تو اس وقت بھی ویزوں کے مسئلہ پر بات کی گئی،موجودہ حکومت میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کویت کا دورہ کیا انہوں نے بھی ویزوں کے مسئلہ پر وزیر داخلہ کویت سے بات کی،کویت وزیر داخلہ نے مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کیا ہے،وہ خود بھی وزیر داخلہ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں،ان سے ملاقات کے بعد پتہ چل جائے گا کہ کویت حکومت کا ارادہ کیا ہے،کویت حکومت کوجو تشویش تھی وہ کسی حد تک کم ہو چکی ہے، ان کی پوری کوشش ہوگی کہ کویت سے جانے سے پہلے ویزوں کے حوالہ سے کوئی اچھی خبر دے کر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کویت حکومت کے جتنے بھی وفود پاکستان جاتے رہے ہیں ان کے ساتھ ویزوں کا مسئلہ اٹھایا جاتا رہا ہے۔جہاں تک پاکستانی سفارت خانہ کی بلڈنگ کا مسئلہ ہے پاکستانی حکومت کے مالی حالات کچھ ایسے ہیں کہ کم از کم اگلے دو سال تک اس بارے میں کچھ نہیں ہو سکتا۔پی آئی اے پروازوں کی بحالی کے حوالہ سے چئیرمین پی ائی اے اور سی ای او پی آئی اے سے ان کی بات ہوئی ہے،ان کا کہنا ہے کہ فی الحال پی ائی اے کے پاس طیارے نہیں، جب بھی صورت حال بہتر ہوئی وہ کویت کیلئے پروازیں بحال کر دیں گے۔ان کی کوشش ہے کہ زیادہ نہیں تو کویت کیلئے ہفتہ وار دو پروازیں ہی شروع کر دی جائیں عزت مآب سفیر پاکستان نے کہا کہ روزانہ تقریباً 300 افراد سفارتخانہ میں اپنے کاموں کئے آتے ہیں ان میں سے پانچ بھی مطمئن ہوئے بغیر چلے گئے تو سمجھیں گے کہ ہم ناکام ہو گئے۔وہ یہاں سے ابو ظہبی جا رہے ہیں اپ میں سے اکثر لوگ کاروبار کیلئے وہاں جاتے رہتے ہیں،آپ میں سے جو کوئی بھی ابو ظہبی آئے تو ان کی میزبانی کر کے بڑی خوشی محسوس ہوگی۔قبل ازیں تقریب کے میزبان حافظ محمد شبیر ڈائریکٹر جنرل پاکستان بزنس سنٹر کو محمد افضل شافی نے مندرجہ ذیل اشعار کے ساتھ مائیک پر انے کی دعوت دی
قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں
سارے جھگڑے انا کے ہوتے ہیں
بات نیت کی صرف ہے ورنہ
وقت سارے دعا کے ہوتے ہیں
حافظ محمد شبیر تالیوں کی گونج میں مائیک پر تشریف لائے،انہوں نے عزت مآب سفیر پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی دعوت قبول کی۔ انہوں نے کویت میں پاکستانی تنظیموں کے صدور اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا جو انتہائی مختصر نوٹس ہر تشریف لائے،یہ ہمارا کمال نہیں یہ عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر کی کمیونٹی کیلئے خدمات کا اعتراف ہے،وہ انتہائی ملنسار ہیں اور 24 گھنٹے کمیونٹی کی رسائی میں ہوتے ہیں، لوگ انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ انہوں نے کویت میں مقیم پاکستانی میڈیا کو بھی خراج تحسین پیش کیا جو ہر وقت دستیاب یوتے ہیں اور کمیونٹی کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔ وہ سفارتخانہ پاکستان کے افسران اشعر شہزاد،ڈاکٹر عمر جاوید،مرزادانش بیگ،عطاء الرحمن اور کمرشل سیکشن کے نوید صابر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو دن رات کمیونٹی کی خدمت کیلئے مصروف رہتے ہیں۔پاکستانی کمیونٹی کی ویلفیئر اور کویت میں پاکستانی مصنوعات کے فروغ کیلئے عزت مآب سفیر پاکستان نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا اور رہنمائی کی۔ گذشتہ برس زھراء جمیعہ میں گرینڈ مینگو فیسٹول کا اہتمام کیا گیا جس میں ساڑھے تین ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے اور 12 ممالک کے سفیروں نے شرکت کی لیکن اس میں سارا کام سفیر پاکستان نے کیا،انہوں نے ہماری طرف سے سفیروں کو فون کئے،الحمد للہ اج کویت کی تقریباً ہر مارکیٹ،بقالہ جات پر پاکستانی آم دستیاب ہیں، کویتی،عرب اور ایشیائی کمیونٹی تسلیم کرتی ہے کہ پاکستانی آم ذائقہ اور خوشبو کے لحاظ سے دنیا میں نمبر ون ہے۔حافظ محمد شبیر نے اعلان کیا کہ پاکستان بزنس سنٹر کے زیر اہتمام 30 جون کوپاکستانی مینگو گرینڈ فیسٹول کا انعقاد کیا جائے گا۔ حافظ محمد شبیر سے پہلے سفارتخانہ کے ڈپٹی چیف آف مشن اشعر شہزاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر سے انہوں نے اور سفارتخانہ پاکستان کے دیگر افسران نے بہت کچھ سیکھا ہے،وہ بڑی محبت سے رہنمائی کرتے ہیں ٹھنڈے مزاج کے افسر ہیں اور کبھی غصہ میں نہیں آتے،بڑی محبت سے رہنمائی کرتے ہیں اور سب کو تلقین کرتے ہیں کہ کسی کی بھی بات پر غصہ نہیں کرنا،انہیں کبھی غصہ میں نہیں دیکھا،تقریب کا اغاز تلاوت قرآن مجید سے ایا، مقدس آیات تلاوت کرنے کی سعادت نوجوان قاری حافظ عامر شبیر نے حاصل کی،نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویت کے مشہور ثنا خوان قمر نظامی نے پیش کی۔ کویت اور پاکستان کے قومی ترانے پیش کئے گئے جن کے احترام میں تمام شرکاء خاموش اور باادب کھڑے ہو گئے، یوکے انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو محمد جمیل نے بڑے خوبصورت الفاظ میں عزت مآب سفیر پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ یوکے انٹرنیشنل کے طلباء واساتذہ انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ پی ٹی آئی کویت کے بانی صدر ارشد نعیم چوہدری نے عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کویت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی بے لوث خدمت کی،ان کی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جاسکیں گی۔پی ٹی آئی کویت کے کوآرڈینیٹر راجہ بلال نے عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کمیونٹی کی بے لوث خدمت کی اور 24 گھنٹے کمیونٹی کو دستیاب رہے، ماجد علی چوہدری ممبر بورڈ آف گورنرزاوورسیزپاکستانیز فاؤنڈیشن نے عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر کو زبردست خراج تحسین پیش کیا،ان کے ساتھ تقریباً ساڑھے تین سال کا ساتھ رہا،وہ انتہائی نفیس اور ٹھنڈے مزاج کے افسر ہیں، وہ ہر کسی کو برابر وقت دیتے رہے،انہوں نے کمیونٹی کی بڑی مدد کی، انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ کویت پاکستان فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے صدر رانا اعجاز حسین ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عزت مآب سفیر پاکستان کے اعزاز میں اتنی شاندار الوداعی تقریب منعقد کرنے پر حافظ محمد شبیر کو مبارکباد ہیش کرتے ہیں،حافظ صاحب خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے خیر کے کام لے رہا ہے۔عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر نے کویت میں بڑی کامیاب سفارتکاری کی،کے پی ایف اے کے تمام پروگراموں میں عزت مآب سفیر شریک رہے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جس پر وہ ان کے شکر گذار ہیں،کمیونٹی انہیں بھول نہیں سکے گی،رانا اعجاز حسین نے درج ذیل شعر کے ساتھ اپنے خطاب کا اختتام کیا۔
آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا
جانے والے تو مجھے یاد بہت ائے گا
آخر میں عزت ماب سفیر پاکستان غلام دستگیر،اشعر شہزاد،ڈاکٹر عمر جاوید،مرزادانش بیگ اور نوید صابر کو کمیونٹی کیلئے خدمات پر پاکستان بزنس سنٹر کی طرف سے یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔مولانا عارف جاوید محمدی کی دعا کے ساتھ یہ تقریب اختتام کو پہنچی۔شرکاء کیلئے پرتکلف عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
ترتیب ‘ تصاویر – ووپ میڈیا کویت













