کوفہ شہر میں ھی ایک اور مشہور معروف مسجد مسجد حنانہ ھے یہ وہ مسجد ھے جہاں واقعہ کربلا کے بعد سادات کرام کے اہل خانہ کو قیدی بناکر جب شام لے کر جارھے تھے تو راستہ میں سفر کے دوران ادھر قیام کیا تھا ان دنوں اس مسجد میں ایک راھب رہا کرتا تھا جس نے اپنے بزرگوں سے سن رکھا تھا کے ایک دن اس راستہ سے کسی مظلوم اللہ کے پیارے برگزیدہ ھستی کا گزر ھو گا جسکو حق کی بات کہنے پر ظلم کر کے قتل کیا جائے گا

masjid-hanana-kofa

تو وہ اپنے طور سے اس انتظار میں تھا کے کب اس اللہ کی پیاری ھستی کا گزر ھو اور وہ دیدار کرے لہذا جب یزیدی قافلہ کے سپاہیوں نے رات اس مسجد کی عمارت میں رھنے کی اجازت چاھی تو اس نے بخوشی اجازت دے دی اور سپاہیوں سے پوچھا یہ لوگ کون ھیں اور یہ نیزے پر کٹا ھوا سر مبارک کس کا ھے تو یزیدی سپاھیوں نے بتایا یہ سر حسین ابن علی کا ھے اور یہ قیدی بھی علی علیہ السلام کے خاندان کے افراد ھیں جو ھمارے خلیفہ کے حکم سے قتل کر دئے گئے ھیں اور اہل خانہ کو قیدی بنا کر ملک شام لے جایا جا رھا ھے جہاں انھیں ھمارے خلیفہ کے حکم سے اسکے دربار میں پیش کیا جائے گا

karbala

چنانچہ اس راھب نے آپ ع ، س کے سر اقدس کے جلال و جمال اور پر نور صورت کو دیکھ کر کہا کے یہ تم نے کیا ظلم کیا خود اپنے ھی ھاتھوں اپنے نبی ص کے نواسے کو زبح کر دیا یہ کیسا ظلم کیا تم نے اللہ کے قہر کو للکارا ھے تم نے۔ مگر وہ دنیاوی لالچ میں گھرے ھوئے لوگ تھے ان پر کوئی اثر نا ھوا وہ بس اسی شوق میں ڈوبے ھوئے تھے کے انھوں نے اپنے خلیفہ کے حکم کو مانا ھے اور اس سے انعام و کرام لیں گے ،

ادھر ایک اور وافعہ بھی رونما ھوا یہ معجزہ یوں ھوا کے اس راھب کی بیٹی جو پیدائشی اندھی تھی اس کی بینائی واپس لوٹ آئی کیوں راھب نے حسین علیہ السلام کو پہچان کر آپکے سر مبارک کو ایک رات کے لئے پیسے دے کر سپاہیوں سے اپنے گھر رکھنے کے لئے مانگا تھا اس کا گھر اسی مسجد کے قریب ھی واقع تھے اس سر کی برکت اور نکلنے والے نور کی بدولت اس کی بیٹی کی آنکھوں کی روشنی واپس آئی تھی جب کے وہ عیسائی کی بیٹی تھی لیکں اسکو اس پاک گھرانے کی عزت و شان کا ادراک تھا جس کی وجہ سے اللہ ان پر عنایت کر رہا تھا جب کہ دوسری طرف یزیدی فوج تھی جو نبی کا کلمہ پڑھتے تھے مگر انکی یہ اوقات نا تھی کہ اسی نبی ص کے گھرانے کی حرمت کو سمجھ سکیں

masjid-e-kofa

ایک اور واقعہ بھی تاریخ میں اسی مسجد کے حوالے سے مشہور ھے جب امام علی علیہ السلام کا انتقال ھوا تو آپکی ع ۔ کی وصیت کے مطابق آپکے فرزند ع ،س آپکو دفن کرنے آپ کی بتائی ھوئی جگہ پر لے جارھے تھے تو اس جگہ سے جب گزرے تو اس کی عمارت ادب سے جھک گئی تھی جسے بہت سے افراد نے دیکھا تھا –

وادی سلام ، کوفہ اور نجف کے درمیان وادی سلام ھے یہ ایک قدیمی قبرستان ھے اس میں بہت سے انبیا کی قبریں ھیں جن میں زیادہ مشہور حضر ت ھود علیہ السلام ، حضرت صالح علیہ السلام ھیں

wadi-e-salam

ان پیغمبروں کی قوموں پر اللہ نے سر کشی اور بے راہ روی اپنے نبی کا حکم نا ماننے کی وجہ سے عزاب میں مبتلا کر کے ھلاک کیا تھا – پھر امام جعفر صادق کا مصلہ ھے جہاں پر آپ اکثر بیٹھ کر نماز پڑھتے اور عبادت کیا کرتے تھے – پھر نجف اور کوفہ کے درمیان ھی حضرت ہانی ، مختار ثقفی ، حضرت مسلم بن عقیل حضر ت علی ع ، س کی صاحبزادی حضرت خدیجہ کا مزار ھے ، حضر ت میثم تمار صحابی رسول اور عاشق مولا علی علیہ اسلام کد مزار بھی ادھر ھے

حضرت کمیل مولا ع ۔ س کے دوست اور صحابی تھے انکا مزار بھی ادھر ھی ھے – حضر ت کمیل اور حضر ت میثم تمار دونوں کو مولا کائنات کی محبت میں بے دردی سے شہید کیا گیا تھا یہ وہ صحابی ھیں جو رسول خدا کے حکم کی لفظ با لفظ پیروی کرنا اپنی زندگی کا اولین مقصد سمجھتے تھے اور اسی جرم کی پاداش میں انکو جان سے جانا پڑا

جاری ہے

رافیعہ گیلانی۔ راجن پور

SHARE

LEAVE A REPLY