افغان طالبان نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے عملے کواب محفوظ راستہ نہ دینے کا اعلان کردیا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ عالمی ریڈ کراس کابل کی جیل میں طالبان قیدیوں کی مدد کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی ترجمان آندریا پریٹا کا کہنا ہے کہ انہیں طالبان کے اس اعلان پرشدید تشویش ہے، ریڈ کراس طالبان کے ساتھ رابطےمیں ہے اور امید ہے کہ اس مسئلے کا حل نکل آئے گا تاکہ وہ افغانستان میں کام جاری رکھ سکیں۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس افغانستان میں گزشتہ 30 سالوں سے کام کر رہی ہے اور ملک بھر میں ان کے ایک ہزار افراد کام کر رہے ہیں،یہ تنظیم جیلوں میں قیدیوں کو دی جانی والی سہولیات کی نگرانی اور طبی امدادفراہم کرتی ہےتاہم انہوں نے افغانستان میں اپنی کارروائیاں گزشتہ سال اس وقت کم کر دی تھیں جب ان کے 7کارکن کو ہلاک کردیاگیا تھا۔

قبل ازیں اپنے بیان میں طالبان کا کہنا تھا کہ کابل میں واقع پلِ چرخی جیل میں طالبان قیدیوں کو بہت برے حالات میں رکھا ہوا ہے اور ان کی صحت بہت خراب ہے۔ اگر طالبان قیدیوں کو کچھ ہوا تو اس کی ذمے دار انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس ہو گی جبکہ پلِ چرخی جیل میں سینکڑوں قیدی حالات کی بہتری کے لیے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان ملک کے مختلف حصوں پر حملے کر رہے ہیں جبکہ صوبہ بغلان میں کیے گئے ایک تازہ حملے میں طالبان نے 44 افغان پولیس اور فوجی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY