نوروز عالم افروز کا تہوار کیا ہے ؟صفدر ھمٰدانی

0
298

فارسی،عربی اور اردو کے مختلف مضمامین سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر تحریر کردہ ایک معلوماتی تحقیقی مضمون فارسی کے اس لفظ کا لغوی معنی ہے ‘‘نیا دن‘‘ ۔نوروز سال نو اور بہار کا ایک ساتھ استقبال ہے اور یہ دن معربی چین سے ترکی تک کروڑوں لوگ 20 مارچ کو مناتے ہیں۔ نوروز شمسی سال کے آغاز اور بہار کی آمد کا جشن بھی ہے اور ایران، افغانستان، تاجکستان،ازبکستان، پاکستانلوگ جشن کے اس وقت پر ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے اور زور شور سے گاتے بجاتے ہیں اور اسے عید کے تہوار کی طرح منایا جاتا ہے اور اسکے ساتھ آنے والے نئے سال میں سلامتی اور ترقی کی دعائیں کی جاتی ہیں۔

ماہر فلکیات کے لیے اب نوروز کے بالکل صحیح وقت کا تعین کرنابھی ممکن ہوگیا ہے مثلاً اس سال 20مارچ 2010 بروز اتوار اسکا وقت
تہران کے وقت کے مطابق صبح نو بجکر اٹھارہ منٹ اور انیس سکینڈجبکہ پاکسان میں اسی روز پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق 10بجکر49منٹ قبل از دوپہر اور لندن میں 20مارچ 2008 بروز اتوار علی الصبح 5بجکر 49منٹ ہو گا۔یاد رہے کہ اس وقت کو تحویل آفتاب کا وقت کہا جاتا ہے
نوروز کی روایات کے مطابق اس سال 2010میں وقت نوروز پر اس سال کا بادشاہ مشتری زعفرانی لباس زیب تن کیئے کندھے پر زرد شالہ لیئے،تیر کمان ہاتھ میں تھامے،گھوڑے پر سوار تخت پر جلوہ افروز ہو گا۔

اہل تشیح کے ہاں روایت ہے کہ اسی نوروز کے دن بارہویں امام حضرت مہدی ابن العسکری دنیا میں ظہور فرمائیں گے اور اسی طرح اسلامی تاریخ میں تقویم کے اعتبار سے نوروز ہی کا دن ہے جب پہلی بار دنیا میں سورج طلوع ہوا،درختوں پر شگوفے پھوٹے،حضرت نوح کی کشتی کوہ جودی ہر اتری اور طوفان نوح ختم ہوا، نبی آخرالزمان پر نزول وحی کا آغاز ہوا،حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑا اور مقام غدیر خم پر ولایت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کا اعلان ہوا۔

کئی مسالک میں اس روز کی مخصوص عبادات بھی ہیں جن کا بنیادی وصف آنے والے سال کے لیئے خوش بختی،امن وسلامتی اور ترقی کی دعائیں مانگنا اور گزرے ہوئے وقت کے لیئے رب العزت کا شکر ادا کرنا ہے

آئیے نوروز کی تاریخ پر ایک مختصر سی نظر ڈالتے ہیں کہ اس دن گولڈ فش نوروز کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔

ہزاروں برس پہلے قدیم فارس میں شروع ہونے والا یہ تہوار موسم سرما کے اختتام پر زندگی کے از سر نو جاگنے کی نوید دیتا ہے- یہ زرتشت مذہب کا حصہ بھی رہا اور پھر اسلامی سلطنت کا بھی – کہا جاتا ہے کہ بیماری اور بدقسمتی سے پیچھا چھڑانے کے لۓ آگ کے الاؤ کو پھلانگنا اور اس جیسی کئی رسومات ایران کے زرتشتی ورثے کا حصہ سمجھی جاتی ہیں-قدیم فارس میں زرتشت تہذیب زندگی کی تخلیق کا جشن اپنے دیوتا اہورا مزدا کو بھینٹ چڑھا کر منایا کرتی تھی۔

قدیم زمانے میں سیانوں کا خیال تھا کہ سورج زمین کے گرد گردش کرتا ہے اور نوروز ہر سال کے دوران آنے والا وہ مقام یا وقت ہے جب سورج برج دلو کو چھوڑ کر برج حمل میں داخل ہوتا ہے اور اس لیے اس مقام یا مرحلے کو موسم بہار کا مقام اعتدال بھی کہا جاتا ہے۔گویا دوسرے الفاظ میں نوروز سخت موسم سرما کے بعد موسم بہار کی نوید ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں چونکہ نوروز کا تہوار سرکاری طور پر منایا جاتا ہے اور ملک بھر میں عالم تعطیل ہوتی ہے،حکومتی دفاتر پانچ دن کے لۓ بند رہتے ہیں اور لوگ دو ہفتے تک خاندان کے افراد اور دوستوں کے ساتھ تفریح کرتے ہیں اور دعوتیں اڑاتے ہیں-

Nowruz Mobarak

ایران میں نئے سال یا نو روز کا جشن تیرہ دن تک منایا جاتا ہے اور عام تعطیل ہوتی ہے۔ ان چھٹیوں کا تیرہواں دن منحوس گردانا جاتا ہے اور خاندان کے افراد اس دن گھر چھوڑ کر باہرنکل جاتے ہیں اور پورا دن گھر سے باہر کھانے پینے اور کھیلنے کودنے میں گزار دیتے ہیں اور اس طرح وہ اپنی تعطیلات کا اختتام مناتے ہیں۔

افغانستان میں چند برس سے دوبارہ یہ تہوار اہتمام سے منایا جاتا ہے کیونکہ طالبان انتظامیہ نے اس تہوار کو غیر اسلامی قرار دے کر ممنوع قرار دیا تھا – اب نہ صرف وہ پابندی اٹھا لی گئی ہے بلکہ ملک کے عبوری رہنما خود نوروز کے اہتممام میں آگے آگے ہیں-

وسطی ایشیا میں نوروز منانے کا رواج سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ہی شروع ہوا لیکن اب تک لوگ اس کے نہ صرف عادی ہو گۓ ہیں بلکہ آذربائیجان میں تو رسومات کئی ہفتے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہیں- اس بار بھی نوروز سے بہت پہلے ہی جگہ جگہ لوگ آگ کے الاؤ جلا کر اور بچے گھر گھر ٹافیاں مانگ کر اس دن کی تیاری کرتے رہے ہیں-

پرانے وقتوں کے فارس میں جشن نوروز کا آغاز توپ داغ کر کیا جاتا تھا اور ریاست کا سربراہ قوم سے خطاب کیا کرتا تھا۔ ایران میں یہ رواج اب بھی قائم ہے۔

ایرانی نوروز کے رواج سوفرے ہفت سین یا سین سے شروع ہونے والے سات کھانوں کی میز کو ایک تاریخی اہمیت حاصل ہے۔
یہ بھینٹ یا نذرانہ مختلف علامتی اشیاء سے سجی سات سینیوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ یہ اشیاء زندگی میں سچ، انصاف، مثبت سوچ، اچھے عمل، خوش قسمتی، خوشحالی، سخاوت اور بقاء کی علامت کے طور پر شامل کی جاتی تھیں۔

آج کے دور میں بھی یہ رواج ’سوفرے ہفت سین‘ کی صورت میں زندہ ہے۔ سوفرے ہفت سین یا سِن کا مطلب سات سین کی میز ہے ۔ ’س‘ اردو کی طرح فارسی زبان کا ایک حرف ہے اور سوفرے کا مطلب میز ہے جس پر سات ایسے کھانے سجائے جاتے ہے جن کے نام حرف ’س‘ سے شروع ہوتے ہیں۔

یہ میز عام طور پر ہاتھ سے بنُے کپڑے سے ڈھانکی جاتی ہے جسے ’ترماہ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے اوپر دعاؤں کی کتاب رکھی ہوتی ہے جسے ’کلام اللہ‘ کہتے ہیں اور اس کے علاوہ زندگی کے عکس کی علامت کے طور پہ ایک آئینہ بھی رکھا جاتا ہے۔

ان چیزوں کے ساتھ ساتھ موم بتیاں، کنبہ کے ہر فرد کے نام کا ایک رنگا ہوا انڈا، آنے والے سال میں خوشحالی کی علامت کے طور پر روایتی مٹھائیاں اور روٹی بھی سجائی جاتی ہیں۔

نوروز کے وقت سے کچھ پہلے پورا کنبہ اس میز کے گرد بیٹھتا ہے اور گھر کا بڑا دعاؤں کی کتاب سے نئے سال کی دعا پڑھتا ہے۔

اس دوران وہ کتاب کے مختلف صفحوں کے درمیان کچھ رقم بھی رکھتا جاتا ہے جو بعد میں خاندان کے افراد میں تقسیم کردی جاتی ہے۔ یہ شکرانے کا ایک انداز ہے۔ پھر ایک روایتی کھانا پیش ہوتا ہے جو مچھلی، چاول، ہرا دھنیا، خراسانی اجوائین اور پیاز پر مشتمل ہوتا ہے۔

میز پر ایک اور اہم چیز سنہری مچھلی کا پیالہ ہے۔ قدیم فارس میں یہ عقیدہ بھی رائج تھا کہ نئے سال سے کچھ پہلے یہ مچھلی ساکت ہوجاتی ہے اور نیا سال شروع ہوتے ہی اس میں دوبارہ جان آجاتی ہے۔

نوروز کا ایک اور دلچسپ رواج آگ پر سے پھاندنا ہے۔ آجکل یہ رواج کچھ زیادہ عام نہیں، زیادہ تر کنبے صرف موم بتیاں جلالیتے ہیں یا لکڑی کی کچھ شاخوں کی مدد سے ایک چھوٹا سا الاؤ جلالیاجاتا ہے۔
یہ رواج قدیم فارس کی یادگار کے طور پر اب بھی رائج ہے۔

اسی دن کے حوالے سے فال گوش ایک اور قدیم روایت ہے جو نوجوان لڑکیاں اپنے ہونے والے شوہروں کے بارے میں جاننے کے لئے اختیار کرتی ہیں۔فال گوش کے لئے ایسی لڑکیاں ایک اندھیرے کونے میں چھپ کر راستے پر آتے جاتے لوگوں کی گفتگو سنتی ہیں اور اس گفتگو کی صحیح تفسیر سے وہ اپنے مستقبل کے بارے میں جان سکتی ہیں

صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن

SHARE

LEAVE A REPLY