کربلا کے بعد ۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 1
” کربلا سے کوفہ کی روانگی ۔۔اسیری کے سفر کا آغاز ”
گیارہ محرم 61 ہجری۔۔ کربلا کی سرزمین پر سورج ایک بار پھر طلوع ہوا، مگر آج کی صبح کل جیسی نہ تھی۔
کل یہاں حق نے اپنے خون سے تاریخ لکھی تھیآج اسی تاریخ کو زنجیروں اور اسیری کے سفر پر روانہ ہونا تھا۔
ریت ابھی تک شہداء کے خون سے تر تھی۔
فرات اسی طرح بہہ رہا تھا۔ ہوا اسی طرح چل رہی تھی۔مگر خیموں کی جگہ راکھ تھی، اور ان راکھوں کے درمیان وہ اہلِ بیتؑ تھے جنہوں نے گزشتہ رات اپنی زندگی کی سب سے کٹھن شب، شبِ یازدہم، گزاری تھی۔
گیارہ محرم کی صبح عمر بن سعد نے اپنے مقتولین کو دفن کرنے کا حکم دیا۔ دوسری طرف امام حسینؑ اور ان کے جان نثار ساتھیوں کے مقدس اجساد کربلا کی تپتی ہوئی ریت پر بے گور و کفن پڑے رہے۔
تاریخی روایات کے مطابق اسی روز شہداء کے سروں کو نیزوں پر بلند کیا گیا اور مختلف قبائل کے سپرد کیا گیا تاکہ انہیں کوفہ میں عبید اللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
پھر وہ لمحہ آیا جس نے انسانیت کے ضمیر کو ہمیشہ کے لیئے حق اور باطل کی پہچان کا طریقہ دیا۔
اہلِ بیتِ رسول ﷺ کو اسیری کے سفر کے لیے تیار کیا گیا۔
وہ خواتین جن کی عزت و تکریم مسلمانوں کے ایمان کا حصہ تھی، آج قید و اسارت کی منزلوں کی طرف روانہ کی جا رہی تھیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ایک مرتبہ پلٹ کر کربلا کی سرزمین کو دیکھا۔
وہیں ان کے بھائی حسینؑ آرام فرما رہے تھے۔
وہیں حضرت عباسؑ تھے۔
وہیں حضرت علی اکبرؑ تھے۔
وہیں حضرت قاسمؑ تھے۔
وہیں ننھے علی اصغرؑ تھے۔
وہیں کم سن عون و محمد تھے۔
مگر اب رکنے کی اجازت نہ تھی۔
یہ سفر ان کی مرضی کا نہیں، تقدیر کی ایک عظیم ذمہ داری کا سفر تھا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام، بیماری اور کمزوری کے باوجود، اس قافلے کے روحانی رہبر تھے۔ اگرچہ جسمانی طور پر ناتواں تھے، مگر آنے والے دنوں میں انہی کی زبان سے حق کی گواہی بلند ہونی تھی۔
کربلا سے کوفہ تک کا یہ سفر صرف چند میلوں کا فاصلہ نہیں تھا۔
یہ قربانی سے پیغام تک…
اور شہادت سے بیداری تک کا سفر تھا۔
اگر عاشورا نے اسلام کے اصولوں کو اپنے خون سے محفوظ کیا، تو اسیری کے اس سفر نے انہی اصولوں کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔
میرے عزیز دوستو!
ہم اکثر کربلا کو صرف میدانِ جنگ تک محدود کر دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ کربلا کا پہلا باب تھا اور اس کا دوسرا باب گیارہ محرم کی صبح شروع ہوتا ہے۔
یہ وہ باب ہے جہاں تلوار خاموش ہو جاتی ہے، مگر حق کی آواز پہلے سے زیادہ بلند ہو جاتی ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے ہمیں سکھایا کہ جب حالات انسان سے سب کچھ چھین لیں، تب بھی سچائی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
کربلا ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم وقتی طور پر جسموں کو قید کر سکتا ہے، مگر حق کے پیغام کو کبھی قید نہیں کر سکتا۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حق کو حق سمجھنے، اس پر ثابت قدم رہنے، اور باطل کو باطل پہچان کر اس سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت، ان کے صبر، وفا، استقامت اور حق گوئی سے اپنی زندگیوں کو روشن کرنے کی توفیق عطا فرما۔
الہی آمین یا رب العالمین
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
حوالہ جات؛
تاریخ الرسل والملوک ۔۔۔ امام طبری
الارشاد ۔۔۔ شیخ مفید
البدایہ والنہایہ ۔۔۔ ابن کثیر
مقتل الحسین ۔۔۔ ابو مخنف (منقول روایات)
الملہوف علیٰ قتلیٰ الطفوف ۔۔۔ سید ابن طاؤوس
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
قسط نمبر 2
” راستۂ کوفہ ۔۔ اسیری کا پہلا سفر “
گیارہ محرم 61 ہجری… کربلا کی تپتی ہوئی ریت ابھی تک سید الشہداء حضرت امام حسینؑ اور ان کے وفادار ساتھیوں کے مقدس خون کی خوشبو سے معطر تھی۔ سورج طلوع ہو چکا تھا، مگر اس دن کی روشنی میں بھی ایک عجیب سی اداسی تھی، جیسے آسمان خود زمین کے غم میں شریک ہو۔
شبِ یازدہم گزر چکی تھی۔
وہ رات جس میں نہ خیمے باقی رہے، نہ چراغ، نہ سکون۔
صرف راکھ تھی، سسکیاں تھیں اور شہداء کے بے گور و کفن اجساد، جو خاموشی سے آنے والی نسلوں کو حق کی قیمت بتا رہے تھے۔
صبح ہوئی تو قافلۂ اسیران کو کوفہ کی طرف روانہ کرنے کی تیاری شروع ہوئی۔
تاریخی روایات کے مطابق اسیرانِ اہلِ بیتؑ کو نہایت سخت حالات میں روانہ کیا گیا۔ بعض روایات میں مذکور ہے کہ خواتین کو بے کجاوہ اونٹوں پر سوار کیا گیا، جن پر نہ آرام تھا، نہ پردے کا وہ انتظام جو ان کے شایانِ شان تھا۔ اسیری کی یہ پہلی منزل ہی ان کے لیے ایک نئی آزمائش بن گئی۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام شدید علالت میں تھے۔ بیماری نے جسم کو نڈھال کر رکھا تھا، مگر روح اپنے عظیم مقصد سے پوری طرح باخبر تھی۔ بعض تاریخی روایات میں ان کی قید کی سختیوں اور پاؤں مبارک میں زنجیروں کا بھی ذکر ملتا ہے، جو اس سفر کی مشقت کو اور بڑھا دیتی ہیں۔
قافلہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔
ہر قدم کے ساتھ کربلا پیچھے رہ رہی تھی، اور کوفہ نزدیک ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔ مگر ہر دل جیسے وہیں کربلا میں رہ گیا تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ایک آخری بار اس سرزمین کی طرف نگاہ اٹھائی، جہاں ان کے بھائی حسینؑ، حضرت عباسؑ، حضرت علی اکبرؑ، حضرت قاسمؑ، حضرت عون و محمدؑ، حضرت علی اصغرؑ اور دوسرے عزیز ہمیشہ کے لیے آرام فرما رہے تھے۔
لمحہ لمحہ درد کی تصویر تھا۔ کربلا میں رکے رہنا ممکن نہ تھا ۔
اب ان کے کندھوں پر ایک اور ذمہ داری تھی۔
اگر حسینؑ نے میدانِ کربلا میں اپنے خون سے حق لکھا تھا، تو اب زینبؑ کو اسی حق کو اپنی زبان سے زندہ رکھنا تھا۔
قافلے میں ننھے بچے بھی تھے۔
کسی کی نظریں بار بار پیچھے مڑ جاتی تھیں۔
کوئی اپنی ماں کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا۔
کسی کی آنکھوں میں خوف تھا، کسی کی آنکھوں میں اپنے بابا کی آخری جھلک ابھی تک زندہ تھی۔
سفر طویل تھا۔
کوفہ ابھی دور تھا۔
مگر اس سے بھی زیادہ طویل وہ آزمائش تھی جو اس قافلے کی منتظر تھی۔
تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کربلا سے کوفہ ستر اسی میل کی دوری پر تھا ۔۔ اور یہ صرف ایک شہر کی طرف جانے والا سفر نہیں تھا، بلکہ یہ وہ راستہ تھا جس پر چلتے ہوئے اہلِ بیتِ رسول ﷺ نے صبر، وقار اور استقامت کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بن گئی۔
میرے عزیز دوستو!
زندگی میں بعض اوقات ایسے مرحلے آتے ہیں جب انسان کے پاس نہ طاقت ہوتی ہے، نہ وسائل، مگر اس کے پاس سچائی ہوتی ہے۔
کربلا کے بعد کا یہ سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کا قافلہ کبھی حالات کا محتاج نہیں ہوتا۔
کبھی تلوار حق کی آواز بنتی ہے، اور کبھی صبر۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے ثابت کر دیا کہ اگر کردار مضبوط ہو تو قید بھی دعوتِ حق کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حق کو حق سمجھنے، اس پر ثابت قدم رہنے، اور باطل کو باطل پہچان کر اس سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت، ان کے صبر، وقار، استقامت اور حق گوئی کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرما۔
الہی آمین یا رب العالمین
………………………………
کربلا کے بعد ۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 3
” کوفہ میں داخلہ ۔۔۔ ایک شہر، دو ضمیر “
کچھ شہر اپنے دروازوں سے نہیں، اپنے ضمیر سے پہچانے جاتے ہیں۔
کوفہ بھی ایسا ہی ایک شہر تھا۔
یہی وہ شہر تھا جہاں کبھی امیر المؤمنین حضرت علیؑ نے عدل و انصاف کی حکومت قائم کی تھی۔ یہی وہ گلیاں تھیں جنہوں نے حسنؑ اور حسینؑ کے قدموں کی آہٹ سنی تھی۔ مگر آج اسی شہر کے دروازے رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیتؑ کا استقبال نہیں، بلکہ ان کے قافلۂ اسیران کو دیکھنے کے لیے کھل رہے تھے۔
گیارہ محرم کے بعد سفر جاری رہا، اور بالآخر وہ لمحہ آ پہنچا جب کوفہ کی فصیلیں سامنے نمودار ہونے لگیں۔
شہر میں خبر پھیل چکی تھی کہ ایک قافلہ آ رہا ہے۔
لوگ گھروں سے نکل آئے۔
بازار بھرنے لگے۔
گلیوں میں ہجوم جمع ہونے لگا۔
مگر بہت کم لوگ جانتے تھے کہ جنہیں وہ دیکھنے آ رہے ہیں، وہ کوئی اجنبی قیدی نہیں، بلکہ رسولِ خدا ﷺ کے گھرانے کے افراد ہیں۔
قافلہ آہستہ آہستہ شہر میں داخل ہوا۔
آگے نیزوں پر بلند شہداء کے سر تھے، اور ان کے پیچھے اہلِ بیتِ اطہارؑ کا باوقار مگر غم زدہ قافلہ۔
یہ منظر دیکھ کر بہت سے چہرے بدل گئے۔
بعض آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔
کچھ لوگ حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
کچھ کے دلوں میں پشیمانی نے جنم لیا۔
اور کچھ ایسے بھی تھے جن کے چہرے خاموش تھے، جیسے خوف نے ان کی زبان چھین لی ہو۔
یہ صرف ایک قافلے کا شہر میں داخلہ نہیں تھا۔ یہ ایک پوری امت کے ضمیر کا امتحان تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا خاموش تھیں۔ ان کی نگاہوں میں کربلا کے جلتے ہوئے خیمے بھی تھے، اپنے بھائی حسینؑ کی آخری جھلک بھی، اور معصوم بچوں کی سسکیاں بھی۔ مگر اس خاموشی کے اندر ایک طوفان چھپا ہوا تھا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام بیماری اور کمزوری کے باوجود وقار کے ساتھ اس قافلے میں موجود تھے۔ جسم ناتواں تھا، لیکن روحِ ایمان پہلے سے زیادہ مضبوط تھی۔
کوفہ والوں نے شاید سمجھا تھا کہ وہ ایک شکست خوردہ قافلہ دیکھ رہے ہیں۔
مگر حقیقت اس کے برعکس تھی۔
شکست ان لوگوں کی تھی جنہوں نے حق کو پہچاننے کے باوجود اس کا ساتھ نہ دیا۔
اور فتح ان لوگوں کی تھی جنہوں نے سب کچھ کھو کر بھی اپنا کردار محفوظ رکھا۔
اسی ہجوم میں کچھ خواتین روتی تھیں، کچھ مرد اپنے چہروں کو چھپا رہے تھے، اور کچھ دل پہلی مرتبہ اپنے جرم کا بوجھ محسوس کر رہے تھے۔
مگر ابھی ایک آواز بلند ہونا باقی تھی۔
وہ آواز جو صدیوں تک ظلم کے ایوانوں کو ہلاتی رہے گی۔
وہ آواز جو ایک اسیر خاتون کی تھی، مگر جس کی عظمت کے سامنے بڑے بڑے دربار خاموش ہو گئے۔
میرے عزیز دوستو!
تاریخ میں ایسے لمحے بہت کم آتے ہیں جب ایک شہر اپنے ہی ضمیر کے سامنے کھڑا ہو۔
کوفہ کا یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کبھی کبھی انسان تلوار نہیں اٹھاتا، صرف خاموش رہتا ہے، اور یہی خاموشی اسے تاریخ کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتی ہے۔
حق سے منہ موڑنا ہمیشہ ظلم کا ساتھ دینا نہیں ہوتا، مگر بعض اوقات خاموشی بھی ظلم کو طاقت دے دیتی ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں ایسا دل عطا فرما جو حق کو پہچان سکے، ایسی زبان عطا فرما جو حق کہنے کا حوصلہ رکھے، اور ایسا کردار عطا فرما جو ہر حال میں سچائی کا ساتھ دے۔
آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے )
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
کربلا کے بعد ۔۔۔صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر”
قسط نمبر 4
” حضرت زینب سلام اللہ علیہا ۔۔۔جب خاموشی بول اٹھی”
قافلۂ اسیران آہستہ آہستہ بازارِ کوفہ سے گزر رہا تھا۔
دونوں جانب لوگوں کا ہجوم تھا۔
کسی کے چہرے پر حیرت تھی۔
کسی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
کچھ لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے ۔۔
“یہ کون ہیں؟”
جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیت ہیں تو کئی چہرے زرد پڑ گئے۔
بعض عورتوں کی سسکیاں بلند ہونے لگیں۔
کچھ عورتیں سینہ پیٹنے لگیں۔کچھ مرد ندامت سے سر جھکائے کھڑے تھے۔ رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔
مگر اس ہجوم کے درمیان ایک خاموشی بھی تھی… ایسی خاموشی، جس میں ہزاروں سوال تھے، مگر کسی کے پاس جواب نہ تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا خاموشی سے پورے وقار کے ساتھ اس منظر کو دیکھ رہی تھیں۔
ان کے سامنے وہی شہر تھا جس کے لوگوں نے خطوط لکھ کر ان کے بھائی امام حسین علیہ السلام کو بلایا تھا۔
آج وہی شہر ان کے اہلِ بیت کو اسیری کی حالت میں دیکھ رہا تھا۔
کربلا کے جلتے ہوئے خیمے ابھی ان کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہوئے تھے۔
شہداء کے سروں کی یاد ابھی تازہ تھی۔
معصوم بچوں کی پیاس اور سسکیاں ابھی دل میں زندہ تھیں۔
مگر چہرے پر نہ شکوہ تھا، نہ کمزوری۔
صرف صبر…
صرف وقار…
اور صرف حق کا یقین۔
اسی لمحے، بعض مقتل روایات میں مذکور ہے کہ حضرت فِضّہ سلام اللہ علیہا، جو حضرت فاطمۃ الزہراؑ کی وفادار خادمہ اور برسوں سے اہلِ بیتؑ کی رفیقۂ سفر تھیں، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے ادب و محبت کے ساتھ حضرت زینبؑ کے لیے رِدا کا اہتمام کیا، تاکہ رسولِ اکرم ﷺ کی نواسی پورے وقار اور حجاب کے ساتھ اہلِ کوفہ سے مخاطب ہوں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے سر بلند کیا۔۔۔ اور لوگوں کو خاموش ہونے کا اشارہ فرمایا۔
آہستہ آہستہ بازار کا شور تھم گیا۔
نگاہیں ایک ہی سمت اٹھ گئیں۔
وقت جیسے ٹھہر گیا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ایک اسیر خاتون پوری امت کے ضمیر کی آواز بننے والی تھیں۔
پھر علیؑ کی بیٹی، فاطمہؑ کی تربیت یافتہ، اور حسینؑ کی بہن نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی…
اور کوفہ کے ضمیر کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے تاریخی خطبے کا آغاز فرمایا۔
“يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ…”
“اے اہلِ کوفہ!”
اور کوفہ کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
(جاری ہے۔۔۔)
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
…………………….
” کربلا کے بعد ۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 5
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا خطبہ (حصہ اوّل) ۔۔۔ “اے اہلِ کوفہ!”
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، رسولِ اکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجا، پھر اہلِ کوفہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ۔۔
يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ، يَا أَهْلَ الْخَتْلِ وَالْغَدْرِ، أَتَبْكُونَ؟ رَقَأَتِ الْعَبْرَةُ، وَلَا هَدَأَتِ الزَّفْرَةُ
ترجمہ :
“اے اہلِ کوفہ! اے فریب اور عہد شکنی کرنے والو! کیا تم روتے ہو؟ اللہ کرے تمہارے اشک کبھی خشک نہ ہوں، اور تمہاری آہیں کبھی سرد نہ پڑیں۔”
یہ الفاظ سنتے ہی بازارِ کوفہ پر ایسا سناٹا چھا گیا جیسے وقت خود ٹھہر گیا ہو۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی آواز میں نہ چیخ تھی، نہ فریاد، نہ انتقام کا جذبہ۔ وہ ایک ایسی عظمت کی آواز تھی جو صرف حق، صبر اور یقین سے جنم لیتی ہے۔ کربلا کی بے شمار مصیبتوں نے ان کے جسم کو تھکا دیا تھا، مگر ان کے ایمان کو نہیں۔ اسیری نے ان کے ہاتھ باندھے تھے، مگر ان کے ضمیر کو نہیں۔
روایت ہے کہ آپؑ کے الفاظ دلوں میں اس طرح اتر رہے تھے کہ مجمع پر گہرا سکوت طاری ہو گیا۔ بہت سے لوگ بے اختیار رونے لگے، کئی اپنے چہروں پر ہاتھ رکھ کر ندامت سے کھڑے رہے، اور کچھ پہلی مرتبہ اپنے عہد شکنی کے بوجھ کو محسوس کرنے لگے۔
لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا لوگوں کو صرف رلانا نہیں چاہتی تھیں۔
وہ ان کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے آئی تھیں۔
اسی لیے آپؑ نے ان کے آنسوؤں کو قبول کرنے کے بجائے ان سے سوال کیا کہ جب حق تنہا تھا، جب رسولِ خدا ﷺ کے نواسے نے مدد کے لیے پکارا تھا، تب تم کہاں تھے؟
پھر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا ۔۔
إِنَّمَا مَثَلُكُمْ كَمَثَلِ الَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكَاثًا، تَتَّخِذُونَ أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ.
ترجمہ:
“تمہاری مثال اس عورت کی سی ہے جس نے بڑی محنت سے سوت کاتا، پھر خود ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اور تم اپنے عہد و پیمان کو آپس میں دھوکے اور فریب کا ذریعہ بنا لیتے ہو۔”
یہ صرف ایک تشبیہ نہ تھی، بلکہ اہلِ کوفہ کے کردار کا آئینہ تھی۔
انہوں نے خود خطوط لکھے۔
انہوں نے خود امام حسین علیہ السلام کو بلایا۔
انہوں نے وفاداری کے وعدے کیے۔
لیکن جب حق کا ساتھ دینے کا وقت آیا تو اپنے ہی وعدوں کو اپنے ہاتھوں سے توڑ دیا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا انہیں یہ بتا رہی تھیں کہ قومیں صرف دشمن کے ظلم سے تباہ نہیں ہوتیں، بلکہ اپنی بے وفائی، کمزوری اور عہد شکنی سے بھی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔
یہ خطبہ صرف اس دور کے اہلِ کوفہ کے لیے نہیں تھا۔
یہ ہر اُس انسان کے لیے تھا جو حق کو پہچان لے، مگر مصلحت، خوف یا دنیاوی مفاد کی خاطر خاموش رہ جائے۔
میرے عزیز دوستو!
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ہمیں یہ سکھایا کہ سچائی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بولی جاتی، بلکہ کبھی ایک بے سروسامان قیدی بھی ایسے الفاظ ادا کر دیتا ہے جو سلطنتوں کی بنیادیں ہلا دیتے ہیں۔
حق کا ساتھ صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں۔
حق کا ساتھ یہ بھی ہے کہ انسان عہد نبھائے، سچ کے ساتھ کھڑا رہے، اور وقت آنے پر اپنے ضمیر کا سودا نہ کرے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حق کو حق سمجھنے، اس پر ثابت قدم رہنے، اور باطل کو باطل پہچان کر اس سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں عہد کی پاسداری کرنے والا، سچائی پر قائم رہنے والا، اور ہر حال میں انصاف کا ساتھ دینے والا بنا۔
اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھ، اور ہمیں ان کی سیرت سے صبر، وفا، استقامت اور حق گوئی سیکھنے کی توفیق عطا فرما۔
الہی آمین یا رب العالمین
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد ۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 6
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا خطبہ (حصہ دوم)
“یہ صرف ایک قتل نہیں تھا”
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبے کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا ۔۔۔
فَابْكُوا كَثِيرًا وَاضْحَكُوا قَلِيلًا، فَلَقَدْ ذَهَبْتُمْ بِعَارِهَا وَشَنَارِهَا، وَلَنْ تَرْحَضُوهَا بِغَسْلٍ أَبَدًا.
ترجمہ:
“پس خوب روؤ اور بہت کم ہنسو، کیونکہ تم اپنے دامن پر ایسا عار اور ایسا ننگ لے چکے ہو جسے تم کبھی دھو نہیں سکو گے۔”
یہ صرف ملامت نہیں تھی۔
یہ ایک ایسا تاریخی فیصلہ تھا جو حضرت زینب سلام اللہ علیہا اہلِ کوفہ کے ضمیر پر ثبت کر رہی تھیں۔
آپؑ نے انہیں بتایا کہ بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جن کے اثرات صرف ایک لمحے یا ایک نسل تک محدود نہیں رہتے، بلکہ تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے لکھ دیے جاتے ہیں۔
پھر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے نہایت درد بھرے لہجے میں فرمایا۔۔
أَتَدْرُونَ أَيَّ كَبِدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَرَيْتُمْ؟ وَأَيَّ كَرِيمَةٍ لَهُ أَبْرَزْتُمْ؟ وَأَيَّ دَمٍ لَهُ سَفَكْتُمْ؟
ترجمہ:
“کیا تم جانتے ہو کہ تم نے رسولِ اللہ ﷺ کے جگر کے کس ٹکڑے کو پارہ پارہ کیا ہے؟ تم نے ان کی کس عزت و حرمت کو بے پردہ کیا ہے؟ اور ان کا کتنا عظیم خون بہایا ہے؟”
یہاں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے واقعے کو صرف ایک جنگ یا ایک سیاسی اختلاف کے طور پر پیش نہیں کیا۔
انہوں نے اہلِ کوفہ کو یہ احساس دلایا کہ انہوں نے جس شخصیت کو شہید کیا، وہ صرف حسین بن علیؑ نہیں تھے، بلکہ رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے، حضرت فاطمۃ الزہراؑ کے لختِ جگر، اور امت کی امانت تھے۔
کربلا میں صرف ایک انسان کا خون نہیں بہا تھا۔
نبوت کے گھرانے کی حرمت مجروح ہوئی تھی۔
رسولِ اکرم ﷺ کے دل کو زخمی کیا گیا تھا۔
اور انسانیت کے ضمیر کو آزمائش میں ڈال دیا گیا تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے یہ الفاظ سن کر مجمع پر ایک بار پھر گریہ طاری ہو گیا۔
کئی لوگ بے اختیار سسکیاں لینے لگے۔
بعض اپنے چہروں کو چھپا کر کھڑے رہے۔
مگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا جانتی تھیں کہ صرف آنسو کافی نہیں۔ جب تک ضمیر بیدار نہ ہو، آنسو تاریخ کا بوجھ ہلکا نہیں کرتے۔
میرے عزیز دوستو!
حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ ظلم صرف تلوار چلانے والے نہیں کرتے۔
بعض اوقات خاموش رہنے والے، حق کا ساتھ چھوڑ دینے والے، اور مصلحت کو سچ پر ترجیح دینے والے بھی تاریخ کے مجرم بن جاتے ہیں۔
کربلا کا پیغام یہی ہے کہ حق کو پہچاننے کے بعد خاموش رہنا بھی ایک آزمائش ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں ایسا ضمیر عطا فرما جو حق کو پہچان کر اس سے منہ نہ موڑے۔
ہمیں ایسا ایمان عطا فرما جو ہر حال میں سچائی کا ساتھ دے۔ ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت، ان کی سیرت سے وفاداری، اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
نوٹ ؛
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبے کا متن قدیم تاریخی مصادر، خصوصاً بلاغات النساء، الارشاد، الملہوف اور دیگر معتبر مراجع کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ ترجمہ اصل مفہوم کے قریب رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، جبکہ درمیان میں دی گئی تشریحات ادبی و فکری توضیح ہیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
کربلا کے بعد ۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 7
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا خطبہ (حصہ سوم/ اختتامی حصہ)
“جب ضمیر جاگ اٹھا”
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔۔
أَلَا وَهَلْ فِيكُمْ إِلَّا الصَّلَفُ وَالْعُجْبُ وَالشَّنَفُ وَالْكَذِبُ وَمَلَقُ الْإِمَاءِ وَغَمْزُ الْأَعْدَاءِ؟
ترجمہ ؛
“آگاہ رہو! تمہارے اندر غرور، خود پسندی، بغض، جھوٹ، خوشامد اور دشمنوں جیسی طعنہ زنی کے سوا کیا باقی رہ گیا ہے؟”
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اہلِ کوفہ کو صرف ان کے ایک جرم پر متنبہ نہیں کیا، بلکہ ان کی اخلاقی گراوٹ کا آئینہ ان کے سامنے رکھ دیا۔
آپؑ نے انہیں یہ احساس دلایا کہ ظلم صرف ایک لمحے میں جنم نہیں لیتا، بلکہ جب جھوٹ، مفاد، بزدلی اور بے وفائی ایک معاشرے کی عادت بن جائیں، تو پھر کربلا جیسے سانحات جنم لیتے ہیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔۔
وَأَنَّى تَرْحَضُونَ قَتْلَ سَلِيلِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ، وَمَعْدِنِ الرِّسَالَةِ، وَسَيِّدِ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَمَلَاذِ خِيَرَتِكُمْ، وَمَفْزَعِ نَازِلَتِكُمْ، وَمَنَارِ حُجَّتِكُم
ترجمہ؛
“اور تم اس جرم کو کیسے دھو سکو گے، جبکہ تم نے خاتم النبیین ﷺ کے فرزند، رسالت کے مرکز، جنتی نوجوانوں کے سردار، اپنے بہترین لوگوں کی پناہ گاہ، اپنی مصیبتوں کے سہارے، اور اللہ کی حجت کے مینار کو شہید کر دیا ہے؟”
حضرت زینب سلام اللہ علیہا اہلِ کوفہ کو یہ احساس دلا رہی تھیں کہ امام حسین علیہ السلام صرف ایک فرد نہیں تھے۔
وہ رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے تھے۔
وہ امت کی امیدوں کے چراغ تھے۔
وہ عدل، حق اور ہدایت کی علامت تھے۔
اسی لیے ان کی شہادت صرف ایک انسان کی شہادت نہ تھی، بلکہ پوری امت کے ضمیر کا امتحان تھی۔
پھر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے آخر میں فرمایا ۔۔
أَلَا سَاءَ مَا قَدَّمَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ، أَنْ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، وَفِي الْعَذَابِ أَنْتُمْ خَالِدُونَ.
ترجمہ؛
“کتنا برا سامان ہے جو تم نے اپنے لیے آگے بھیجا ہے کہ اللہ کا غضب تم پر نازل ہوا، اور تم عذاب کے مستحق بن گئے۔”
یہ الفاظ سن کر بازارِ کوفہ کی فضا بدل گئی۔
روایات میں آتا ہے کہ ہر طرف گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہو گئیں۔
بہت سی عورتیں رونے لگیں۔
مرد سر جھکائے کھڑے تھے۔
کئی لوگ اپنے چہروں پر ہاتھ رکھ کر ندامت کا اظہار کر رہے تھے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا جانتی تھیں کہ یہ آنسو اب امام حسین علیہ السلام کو واپس نہیں لا سکتے تھے۔
وقت گزر چکا تھا۔
امتحان ختم ہو چکا تھا۔
مگر تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہی تھا کہ یہ آنسو وقت پر نہ بہے تھے۔
جب امام حسین علیہ السلام نے نصرت کی صدا دی تھی، اس وقت اگر یہی آنکھیں جاگ جاتی ، یہی قدم اٹھ جاتے، یہی زبانیں حق کے لیے بول پڑتیں، تو شاید تاریخ کا رخ کچھ اور ہوتا۔
مگر اب…
کربلا ہو چکی تھی۔
شہداء اپنے رب سے جا ملے تھے ۔
اور اہلِ کوفہ کے حصے میں صرف پشیمانی رہ گئی تھی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا خاموش ہو گئیں، مگر بازارِ کوفہ میں گونجنے والی ان کی آواز تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی۔
اب قافلہ ابنِ زیاد کے دربار کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں حق ایک بار پھر باطل کے ایوان میں پوری شان سے اپنی گواہی دینے والا تھا ۔
میرے عزیز دوستو!
زینب سلام اللہ علیہا نے ہمیں یہ سبق دیا کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا، بلکہ کبھی ایک اسیر خاتون بھی وہ کام کر جاتی ہے جو بڑے بڑے لشکر نہیں کر سکتے۔
کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے حق کی حفاظت کی، اور کوفہ میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبے سے اس پیغام کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حق کو پہچاننے والی بصیرت، اس پر ثابت قدم رہنے کا حوصلہ، اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت، ان کی سیرت کی پیروی، اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعادت عطا فرما۔
ہمیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی استقامت، بصیرت اور حق گوئی سے اپنا کردار سنوارنے کی توفیق عطا فرما۔
الہی آمین یا رب العالمین
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
…………………..
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 8
” ابنِ زیاد کا دربار ۔۔۔ جب حق اقتدار کے ایوان میں داخل ہوا”
بازارِ کوفہ میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی حق گو آواز خاموش ہو چکی تھی، مگر اس کی بازگشت ابھی تک لوگوں کے دلوں میں موجزن تھی۔
کچھ دیر پہلے یہی لوگ اپنے گھروں سے تماشائی بن کر نکلے تھے، مگر اب ان میں سے بہت سے اپنے آنسو چھپا رہے تھے۔
کوئی اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔
کوئی آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔
کوئی اپنے ضمیر کے بوجھ تلے جھکا جا رہا تھا۔
مگر قافلۂ اہلِ بیتؑ رکا نہیں۔
سپاہیوں نے دوبارہ گھیراؤ مضبوط کیا۔
نیزوں پر بلند شہداء کے مقدس سر آگے بڑھنے لگے، اور ان کے پیچھے اہلِ بیتِ رسول ﷺ کا باوقار مگر غم زدہ قافلہ آہستہ آہستہ دارالامارہ کی طرف روانہ ہوا۔
یہ وہی دارالامارہ تھا جہاں سے عبید اللہ بن زیاد نے ظلم کے احکام جاری کیے تھے۔
آج وہی شخص اپنے دربار میں فاتح کی طرح بیٹھا تھا۔ اسے گمان تھا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔
حسینؑ شہید ہو چکے ہیں۔
اور اب اہلِ بیتؑ اس کے سامنے بے بس کھڑے ہوں گے۔
مگر تاریخ ایک اور حقیقت رقم کرنے والی تھی۔
کربلا میں شہداء کے خون نے حق کی گواہی ثبت کی، بازارِ کوفہ میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبے سے اسے گویائی دی، اور اب وہی گواہی ابنِ زیاد کے دربار میں اقتدار کے غرور کو للکارنے والی تھی۔
قافلہ جب دارالامارہ کے قریب پہنچا تو دروازوں پر سپاہیوں کی قطاریں کھڑی تھیں۔
درباری، سردار اور اہلِ اقتدار جمع تھے۔
سب کی نظریں ایک ہی سمت اٹھی ہوئی تھیں۔
وہ سمجھ رہے تھے کہ شکست خوردہ قیدی ان کے سامنے آئیں گے۔ لیکن جو منظر ان کی آنکھوں کے سامنے آیا، وہ ان کے تصور سے مختلف تھا۔
قیدی ضرور تھے…مگر سر جھکے ہوئے نہیں تھے۔
لب خاموش تھے…مگر وقار سلامت تھا۔
مصیبتیں بے شمار تھیں…مگر اہلِ بیتؑ کی عظمت میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا پورے سکون اور وقار کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھیں۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام بیماری اور کمزوری کے باوجود ایسے ثابت قدم تھے کہ گویا روح کی طاقت جسم کی کمزوری پر غالب آ چکی ہو۔
دربار کے دروازے کھل چکے تھے۔
اقتدار اپنے غرور کے ساتھ تخت پر بیٹھا تھا۔ اور حق، اسیری کے لباس میں، اس کے سامنے داخل ہونے والا تھا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ سانس روکے کھڑی تھی۔
اب دربارِ ابنِ زیاد میں حق اور باطل آمنے سامنے تھے۔ اگلی قسط میں ہم حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور عبید اللہ بن زیاد کے درمیان ہونے والے اس تاریخی مکالمے کا مطالعہ کریں گے، جو اسلامی تاریخ کے عظیم ترین مکالموں میں شمار ہوتا ہے۔
میرے عزیز دوستو!
کبھی کبھی زندگی میں ایسے لمحے آتے ہیں جب انسان کے پاس نہ طاقت ہوتی ہے، نہ وسائل، مگر اس کے پاس سچائی ہوتی ہے۔
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے ہمیں سکھایا کہ عزت اقتدار سے نہیں، کردار سے ملتی ہے۔
حق کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن جو انسان اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے، وہ ظلم کے بلند ترین ایوان میں بھی سچ بولنے کا حوصلہ پا لیتا ہے۔
کربلا سے کوفہ تک کا یہ سفر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایمان کی اصل طاقت تلوار میں نہیں، بلکہ کردار، صبر اور حق گوئی میں ہوتی ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں ہر حال میں حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ایسا حوصلہ عطا فرما کہ ہم خوف، مصلحت اور دنیاوی مفاد سے بالاتر ہو کر سچ کا ساتھ دے سکیں۔
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت، ان کی سیرت کی پیروی، اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی استقامت، بصیرت اور حق گوئی سے اپنے کردار کو سنوارنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ہر ایسے امتحان میں ثابت قدم رکھ جہاں حق اور باطل آمنے سامنے ہوں۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے )
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 9 ۔۔۔ ” دربارِ ابنِ زیاد ۔۔۔ میں نے اللہ کے فیصلے میں حسن ہی حسن دیکھا”
قافلۂ اہلِ بیتؑ دارالامارہ میں داخل ہو چکا تھا۔
ایک طرف ظلم و اقتدار کا نمائندہ، عبید اللہ بن زیاد، اپنے تخت پر فاتحانہ غرور کے ساتھ بیٹھا تھا۔
دوسری طرف کربلا کے لٹے ہوئے مسافر تھے۔
وہی قافلہ جس نے چند روز پہلے اپنے عزیزوں کو اللہ کی راہ میں قربان ہوتے دیکھا تھا۔
وہی قافلہ جس نے جلتے ہوئے خیمے، پیاسے بچوں اور نیزوں پر بلند اپنے پیاروں کے مقدس سروں کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
مگر ان تمام مصائب کے باوجود اہلِ بیتِ اطہارؑ کے چہروں پر شکست کا کوئی نشان نہ تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا پورے وقار کے ساتھ دربار میں تشریف فرما تھیں۔
روایات میں آتا ہے کہ آپؑ نے فاتح کے دربار کی ظاہری ہیبت کو کوئی اہمیت نہ دی، بلکہ نہایت متانت، وقار اور استغنا کے ساتھ بیٹھنا پسند فرمایا۔
عبید اللہ بن زیاد نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو دیکھا تو غرور بھرے لہجے میں کہا:
كَيْفَ رَأَيْتِ صُنْعَ اللَّهِ بِأَخِيكِ وَأَهْلِ بَيْتِكِ؟
ترجمہ؛
“بتاؤ، تم نے دیکھا کہ اللہ نے تمہارے بھائی اور تمہارے اہلِ بیت کے ساتھ کیا کیا؟”
یہ سوال صرف ایک سوال نہ تھا۔
یہ ایک مغرور حکمران کا طنز تھا، جو سمجھ رہا تھا کہ اس نے اہلِ بیتؑ کو شکست دے دی ہے۔
دربار کی تمام نگاہیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی طرف اٹھ گئیں۔
ہر شخص منتظر تھا کہ شاید ایک غم زدہ بہن اپنے بھائی کا نوحہ کرے گی۔
شاید وہ شکست اور بے بسی کا اظہار کرے گی۔
مگر علیؑ کی بیٹی نے ایسا جواب دیا جس نے ظلم کے غرور کو ہمیشہ کے لیے بے نقاب کر دیا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا۔۔۔
مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا
ترجمہ؛
“میں نے اللہ کے فیصلے میں حسن ہی حسن دیکھا۔”
پھر فرمایا ۔۔۔
هَؤُلَاءِ قَوْمٌ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْقَتْلَ، فَبَرَزُوا إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ…
ترجمہ؛
“یہ وہ لوگ تھے جن کے لیے اللہ نے شہادت مقدر فرما دی تھی، پس وہ اپنے مقررہ مقامِ شہادت کی طرف بڑھ گئے۔”
یہ جواب صرف صبر کا اظہار نہ تھا۔
یہ توحید، رضا بالقضاء، یقین اور ایمان کی وہ بلند ترین منزل تھی جہاں انسان ہر حال میں اللہ کی حکمت اور اس کے فیصلے میں خیر دیکھتا ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا یہ جواب سنتے ہی دربار پر چند لمحوں کے لیے گہرا سکوت طاری ہو گیا۔
عبید اللہ بن زیاد بھی چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گیا۔
شاید اسے توقع تھی کہ ایک اسیر خاتون غم سے ٹوٹ جائے گی، مگر اس نے ایک ایسا جواب سنا جس نے اس کے غرور کو چیلنج کر دیا۔
شاید اسی لمحے اسے احساس ہوا کہ جس قافلے کو وہ شکست خوردہ سمجھ رہا تھا، اس کے ایمان، وقار اور یقین کو کوئی شکست نہیں دے سکا۔
مگر غرور آسانی سے سر نہیں جھکاتا۔
عبید اللہ بن زیاد نے فوراً گفتگو کا رخ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی طرف موڑ دیا۔
اب دربار میں حق اور باطل کا ایک اور تاریخی مکالمہ شروع ہونے والا تھا۔
میرے عزیز دوستو!
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا یہ مختصر مگر عظیم جملہ “مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا” صبر، رضا اور اللہ پر کامل یقین کی معراج ہے۔
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جو دل اللہ کی رضا پر راضی ہو جائے، دنیا کی سب سے بڑی آزمائش بھی اس کے ایمان کو متزلزل نہیں کر سکتی۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا جیسا صبر، یقین، استقامت اور رضا عطا فرما۔
ہمیں ہر آزمائش میں اپنی حکمت پر بھروسہ رکھنے والا دل عطا فرما، اور ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے، خواہ حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں۔
اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھ، اور ہمیں ان کی سیرت پر چلنے کی سعادت عطا فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 10
” دربارِ ابنِ زیاد ۔۔۔ بیمار جسم، مگر حق کی مضبوط آواز “
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے تاریخی جواب نے دربار کی فضا بدل دی تھی۔
عبید اللہ بن زیاد چند لمحوں کے لیے خاموش رہا، مگر اس کا غرور ابھی باقی تھا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ زینب بنتِ علیؑ کو مرعوب کرنا آسان نہیں۔
چنانچہ اس نے اپنی نگاہ اس نوجوان کی طرف موڑی جو بیماری، کمزوری اور قید کی صعوبتوں کے باوجود غیر معمولی وقار کے ساتھ کھڑا تھا۔
وہ حضرت امام زین العابدین، علی بن الحسین علیہما السلام تھے۔
دربار میں بہت سی نگاہیں ان کی طرف اٹھ گئیں۔
ایک بیمار نوجوان… ایک اسیر قافلے کا وارث… اور کربلا کے بعد امامت کے نور کا امین…
عبید اللہ بن زیاد نے پوچھا۔۔
مَنْ أَنْتَ؟
ترجمہ:
“تم کون ہو؟”
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے نہایت سکون سے فرمایا:
أَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ۔
ترجمہ:
“میں علی بن حسین ہوں۔”
ابنِ زیاد نے طنزیہ لہجے میں کہا:
أَلَيْسَ قَدْ قَتَلَ اللَّهُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ؟
ترجمہ:
“کیا اللہ نے علی بن حسین کو قتل نہیں کر دیا؟”
اس کا اشارہ حضرت علی اکبر علیہ السلام کی طرف تھا، جن کا نام بھی علی تھا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے نہایت سکون سے فرمایا:
كَانَ لِي أَخٌ يُسَمَّى عَلِيًّا، قَتَلَهُ النَّاسُ۔
ترجمہ:
“میرا ایک بھائی تھا جس کا نام علی تھا، لوگوں نے اسے قتل کیا۔”
یہ جواب صرف ایک تاریخی حقیقت کا بیان نہ تھا، بلکہ ظلم کے خلاف ایک واضح اعلان بھی تھا۔ امام علیہ السلام نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ شہادت اللہ کی مشیت کے تحت ہوتی ہے، لیکن قتل کا جرم قاتلوں کے سر ہوتا ہے۔
مگر عبید اللہ بن زیاد اپنے ظلم کو تقدیر کا رنگ دینا چاہتا تھا۔ اس نے فوراً کہا:
بَلِ اللَّهُ قَتَلَهُ۔
ترجمہ:
“نہیں، اللہ ہی نے اسے موت دی۔”
ابن زیاد اپنے جرم کی ذمہ داری سے بچنا چاہتا تھا اور قتل کو محض تقدیر کا نام دے رہا تھا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے قرآنِ کریم کی تعلیمات کی روشنی میں اس باطل استدلال کو رد فرمایا۔ آپؑ نے واضح کیا کہ جانوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، لیکن ظلم، قتل اور خونریزی کرنے والا اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔
یہ حقیقت سن کر عبید اللہ بن زیاد کے پاس دلیل باقی نہ رہی۔
جب دلیل ختم ہو گئی تو اس نے طاقت کا سہارا لیا اور غضب ناک ہو کر حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے قتل کا حکم دے دیا۔
اسی لمحے حضرت زینب سلام اللہ علیہا بے اختیار آگے بڑھیں۔ آپؑ نے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کو اپنے دامنِ شفقت میں لے لیا اور نہایت جلال کے ساتھ فرمایا۔۔
“اے ابنِ زیاد! اگر تم نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو پہلے مجھے قتل کرو۔”
دربار پر ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔
یہ ایک بہن کا صرف محبت بھرا ردِعمل نہ تھا، بلکہ امامت کے تسلسل کی حفاظت کا لمحہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے امامت کے اس چراغ کو محفوظ رکھا، کیونکہ کربلا کا پیغام ابھی ختم نہیں ہوا تھا ۔۔۔ اسے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی زبان، دعا اور سیرت کے ذریعے آنے والی نسلوں تک پہنچنا تھا۔
ابنِ زیاد نے دیکھا کہ یہ قافلہ ٹوٹا نہیں۔
نہ زینبؑ ٹوٹیں۔ نہ امام زین العابدینؑ جھکے۔ نہ حق کی آواز کمزور ہوئی۔
دربارِ کوفہ میں اقتدار اپنے تمام ظاہری جاہ و جلال کے ساتھ موجود تھا، مگر حق اسیری کی حالت میں بھی اس سے بلند کھڑا تھا۔
عبید اللہ بن زیاد نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی استقامت دیکھی تو اپنا حکم واپس لے لیا۔
میرے عزیز دوستو!
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ہمیں سکھاتے ہیں کہ جسم کی کمزوری، ایمان کی کمزوری نہیں ہوتی۔
اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہمیں بتاتی ہیں کہ سچی محبت صرف آنسوؤں سے نہیں، بلکہ حق کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہونے سے ثابت ہوتی ہے۔
کربلا کے بعد اگر امام زین العابدین علیہ السلام محفوظ نہ رہتے تو امامت کا تسلسل، دعاؤں کا وہ عظیم خزانہ، اور کربلا کی روحانی تفسیر آنے والی نسلوں تک اس انداز میں نہ پہنچتی۔
یہی وجہ ہے کہ دربارِ ابنِ زیاد کا یہ لمحہ صرف ایک جان بچانے کا واقعہ نہیں، بلکہ کربلا کے پیغام کے محفوظ رہنے کا تاریخی موڑ تھا۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام جیسا علم، حلم، صبر اور یقین عطا فرما۔
ہمیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا جیسا حوصلہ، وفا، استقامت اور حق کی حفاظت کا جذبہ عطا فرما۔
ہمیں ہر حال میں حق کو پہچاننے، اس پر قائم رہنے، اور باطل کے سامنے کمزور نہ پڑنے کی توفیق عطا فرما۔
اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھ، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعادت عطا فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
…………………………
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 11
“کوفہ سے شام ۔۔۔ اسیری کا ایک اور کٹھن سفر”
دربارِ ابنِ زیاد کا ہنگامہ ختم ہو چکا تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی استقامت، حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی حکمت، اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کے غیر متزلزل وقار نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ کربلا میں اگر جسم زخمی ہوئے تھے تو ایمان ہرگز زخمی نہیں ہوا تھا۔
عبید اللہ بن زیاد جان چکا تھا کہ نہ دھمکیاں اس قافلے کو خاموش کر سکتی ہیں، نہ ظلم ان کے حوصلے کو توڑ سکتا ہے۔
چنانچہ اس نے ایک اور فیصلہ کیا۔
اس نے حکم دیا کہ اسیرانِ اہلِ بیتؑ کو شام روانہ کیا جائے، تاکہ انہیں یزید بن معاویہ کے دربار میں پیش کیا جا سکے۔
یہ حکم صرف چند قیدیوں کی منتقلی کا حکم نہ تھا۔
یہ ایک ایسا سفر تھا جو تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ کے لیے نقش ہونے والا تھا۔
ایک طرف نیزوں پر شہدائے کربلا کے مقدس سر تھے۔
دوسری طرف رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیتؑ، جن کے دل ابھی تازہ غموں سے لبریز تھے۔
قافلہ دوبارہ روانہ ہوا۔
پیچھے کوفہ کی گلیاں رہ گئیں…
مگر ان گلیوں میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی آواز ہمیشہ کے لیے گونجتی رہ گئی۔
آگے ایک طویل، صبر آزما اور مشقت بھرا سفر تھا۔
راستے میں بے شمار بستیاں آنے والی تھیں۔
لوگ اس قافلے کو دیکھیں گے۔
کوئی تماشائی بنے گا۔
کوئی اشک بہائے گا۔
اور کوئی پہلی مرتبہ سمجھے گا کہ کربلا میں صرف ایک جنگ نہیں ہوئی تھی، بلکہ حق اور باطل کا فیصلہ ہوا تھا۔
مگر اہلِ بیتِ اطہارؑ کے لیے یہ سفر صرف جسمانی مشقت کا سفر نہ تھا۔
یہ صبر، استقامت اور اللہ پر کامل بھروسے کا سفر تھا۔
ہر منزل پر ایک نیا امتحان تھا۔
ہر شہر میں ایک نیا منظر۔
اور ہر پڑاؤ پر حق کی گواہی کا ایک نیا باب رقم ہونا تھا۔
میرے عزیز دوستو!
کبھی کبھی انسان ایک امتحان سے نکلتا ہے تو سمجھتا ہے کہ اب آزمائش ختم ہو گئی۔
مگر اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے راستے میں صبر کرنے والوں کے لیے ہر امتحان، ایک نئی بلندی کا ذریعہ بنتا ہے۔
اگر دل اللہ سے وابستہ ہو تو راستے کی سختیاں انسان کو توڑتی نہیں، بلکہ اس کے کردار کو مزید نکھار دیتی ہیں۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں ہر آزمائش میں صبر، ہر مشکل میں استقامت، اور ہر حال میں حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعادت نصیب فرما۔
ہمارے دلوں کو حق سے وابستہ رکھ، اور ہمیں ہر حال میں تیری رضا پر راضی رہنے والا بنا۔
الٰہی آمین یا رب العالمین
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 12
“راستے کی منزلیں۔۔۔ جہاں جہاں حق نے دستک دی”
کوفہ اب پیچھے رہ گیا تھا۔
مگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی حق گو آواز اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے حکمت بھرے کلمات ابھی تک اس شہر کے ضمیر پر دستک دے رہے تھے۔
عبید اللہ بن زیاد نے یزید کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کو شام روانہ کرنے کا حکم دے دیا۔
ایک بار پھر قافلہ سفر پر تھا۔
آگے نیزوں پر شہدائے کربلا کے مقدس سر تھے، اور ان کے پیچھے رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیتؑ کا وہ غم زدہ مگر باوقار قافلہ، جس نے چند ہی روز پہلے کربلا کی تپتی ریت پر اپنے پیاروں کو اللہ کی راہ میں قربان ہوتے دیکھا تھا۔
یہ سفر صرف ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچنے کا سفر نہ تھا۔
یہ حق کے پیغام کا سفر تھا۔
یزیدی اقتدار چاہتا تھا کہ لوگ اس قافلے کو اپنی فتح کی علامت سمجھیں۔
یہ صرف ایک قافلے کی کوفہ سے شام منتقلی نہ تھی، بلکہ اقتدار کی ایک سوچی سمجھی نمائش تھی۔ قافلے کو بستی بستی اور شہر شہر اس لیے گزارا جا رہا تھا کہ لوگ اسے یزید کی فتح سمجھیں، مگر تاریخ نے اسی سفر کو اہلِ بیتؑ کی اخلاقی فتح بنا دیا۔
جہاں جہاں یہ قافلہ گزرا، وہاں وہاں لوگوں کے دلوں میں سوال جنم لینے لگے۔
یہ کیسے قیدی تھے جن کے چہروں پر خوف کے بجائے وقار تھا؟
یہ کیسی خواتین تھیں جن کے لباس غم سے بوجھل تھے، مگر جن کی عظمت نگاہوں کو جھکا دیتی تھی؟
یہ کیسا نوجوان تھا جو بیماری اور اسیری کے باوجود اللہ کی یاد اور صبر کی تصویر بنا ہوا تھا؟
بہت سے لوگ حقیقت سے ناواقف تھے۔
انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ باغی ہیں، مگر جب انہوں نے اس قافلے کو دیکھا تو ان کے دل اس دعوے کو قبول نہ کر سکے۔
کئی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔
کئی دل بے چین ہو گئے۔
اور کئی زبانوں پر خاموش سوال آ گئے کہ اگر یہ باغی ہیں، تو ان کے چہروں پر رسولِ خدا ﷺ کے گھرانے کا نور کیوں جھلک رہا ہے؟
یوں اقتدار جس سفر کو اپنی فتح کا جلوس بنانا چاہتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسی سفر کو حق کی خاموش دعوت بنا دیا۔
ہر منزل پر، بغیر تلوار کے…
بغیر لشکر کے…
اور بغیر کسی ظاہری قوت کے…
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کا کردار خود ان کا تعارف بن گیا۔
یہی اس سفر کا سب سے بڑا معجزہ تھا۔
کربلا میں شہداء کے خون نے حق کی گواہی دی تھی۔
کوفہ میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبوں نے اس گواہی کو زبان دی تھی۔
اور اب شام کی طرف بڑھتا ہوا یہ قافلہ اپنے صبر، وقار اور کردار سے اسی حق کی گواہی دے رہا تھا۔
ہر قدم کے ساتھ ظلم کی ظاہری فتح چھوٹی ہوتی جا رہی تھی، اور حق کی اخلاقی فتح تاریخ میں زیادہ نمایاں ہوتی جا رہی تھی۔
میرے عزیز دوستو!
اقتدار اپنے زور، اپنی طاقت اور اپنی تشہیر پر بھروسہ کرتا ہے، مگر حق اپنے کردار پر بھروسہ کرتا ہے۔
یزیدی حکومت نے اس سفر کو اپنی کامیابی کا مظاہرہ بنانا چاہا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی سفر کو اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی عظمت اور حقانیت کی دائمی گواہی بنا دیا۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کردار کی طاقت کبھی کبھی ہزار خطبوں سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں ہر حال میں حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمارے کردار کو سچائی، صبر، وقار اور اخلاص سے مزین فرما۔
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت، ان کے صبر، ان کی استقامت اور ان کی سیرت سے روشنی حاصل کرنے کی سعادت عطا فرما۔
ہمارے دلوں کو ہمیشہ حق کی طرف مائل رکھ، اور ہمیں ہر آزمائش میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
.…………………………
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 13
“دمشق کے دروازے۔۔۔ جشن کے شہر میں غم کا قافلہ”
شام اب زیادہ دور نہ تھا۔
طویل اور صبر آزما سفر کے بعد قافلۂ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام دمشق کے قریب پہنچ چکا تھا۔
یہ وہ شہر تھا جو اسلامی سلطنت کا مرکز تھا۔
یہاں یزید کی حکومت قائم تھی، اور اسی کے حکم پر شہر کو ایک غیر معمولی انداز میں سجایا جا رہا تھا۔
گلیاں آراستہ کی جا رہی تھیں۔
بازاروں میں رونق تھی۔
گھروں اور راستوں کو زینت دی جا رہی تھی۔
لوگوں کو بتایا گیا تھا کہ ایک عظیم فتح حاصل ہوئی ہے اور باغیوں کو گرفتار کر کے لایا جا رہا ہے۔
شام کے اکثر لوگ حقیقت سے بے خبر تھے۔
انہوں نے نہ کربلا دیکھی تھی، نہ فرات کی پیاس، نہ جلتے ہوئے خیمے، نہ معصوم بچوں کی سسکیاں۔
انہیں صرف وہی بتایا گیا تھا جو صاحب اقتدار انہیں سنانا چاہتا تھا۔
مگر حق کو ہمیشہ چھپایا نہیں جا سکتا۔
جیسے جیسے قافلہ شہر کے قریب آتا گیا، بہت سے لوگوں کے دلوں میں عجیب سی بے چینی پیدا ہونے لگی۔
یہ کیسے قیدی تھے جن کے چہروں پر خوف کے بجائے وقار تھا؟
یہ کیسی خواتین تھیں جن کے لباس غم میں ڈوبے تھے، مگر جن کی عظمت نگاہوں کو جھکا دیتی تھی؟
اور یہ کیسے مقدس سر تھے جن کے نور کو نیزے بھی چھپا نہ سکے؟
روایات میں آتا ہے کہ انہی ایام میں جلیل القدر صحابی حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کی نظر اس قافلے پر پڑی۔ انہوں نے جب نیزے پر بلند سرِ مبارک اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے غم زدہ قافلے کو دیکھا تو حیرت اور رنج سے بھر گئے۔ اسی ملاقات میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو اسیری کے سفر کے دردناک ترین مناظر میں شمار ہوتا ہے، اور جس کا ذکر ہم اگلی قسط میں تفصیل سے کریں گے۔
اب دمشق کے دروازے کھلنے والے تھے۔
ایک طرف جشن کی تیاریاں تھیں۔ دوسری طرف رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیتؑ کا غم زدہ قافلہ۔
تاریخ ایک ایسے منظر کی گواہ بننے والی تھی جہاں اقتدار اپنی فتح کا جشن منا رہا تھا، مگر درحقیقت اخلاقی فتح اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے حصے میں آ رہی تھی۔
میرے عزیز دوستو!
جھوٹ وقتی طور پر لوگوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال سکتا ہے، مگر ہمیشہ کے لیے حقیقت کو چھپا نہیں سکتا۔
شام کے لوگوں کو ایک کہانی سنائی گئی تھی، لیکن جب انہوں نے اہلِ بیتِ رسول ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو بہت سے دلوں نے وہ سوال کرنا شروع کر دیے جن کا جواب صاحب اقتدار کے پاس نہیں تھا۔
حق کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ اسے اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے ہمیشہ الفاظ کی ضرورت نہیں پڑتی، کبھی کردار ہی سب سے مضبوط گواہی بن جاتا ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حق کو پہچاننے والی بصیرت عطا فرما۔
ہمیں جھوٹے پروپیگنڈے، تعصب اور گمراہی سے محفوظ رکھ۔
ہمارے دلوں کو اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت، ان کے صبر، ان کے وقار اور ان کی سیرت کی روشنی سے منور فرما۔
ہمیں ہمیشہ حق کا ساتھ دینے اور سچائی کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 14
” دمشق میں داخلہ۔۔۔ جشن کے شہر میں غم کا قافلہ “
طویل، صبر آزما اور درد سے بھرے سفر کے بعد قافلۂ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام دمشق کے دروازے تک پہنچ گیا۔
یہ وہ شہر تھا جہاں یزید اپنی حکومت کے اقتدار کے عروج پر بیٹھا تھا۔
اس کے حکم سے شہر کو غیر معمولی انداز میں سجایا گیا تھا۔
گلیاں آراستہ تھیں۔
بازار آباد تھے۔
دف بج رہے تھے۔
لوگ نئے لباس پہنے ہوئے تھے۔
ہر طرف یہ اعلان کیا جا رہا تھا کہ ایک عظیم فتح حاصل ہوئی ہے اور “باغیوں” کو گرفتار کر کے لایا جا رہا ہے۔
مگر حقیقت اس جشن سے کہیں زیادہ المناک تھی۔
آگے نیزوں پر شہدائے کربلا کے مقدس سر تھے۔ ان میں سرِ اقدسِ حضرت امام حسین علیہ السلام بھی تھا۔
اور ان کے پیچھے رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیت علیہم السلام کا وہ غم زدہ مگر باوقار قافلہ تھا، جس نے چند روز پہلے کربلا کی تپتی ریت پر اپنے پیاروں کو اللہ کی راہ میں قربان ہوتے دیکھا تھا۔
انہی لمحوں میں، روایات کے مطابق، رسولِ اکرم ﷺ کے صحابی حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ دمشق پہنچے۔
انہوں نے شہر کی آرائش دیکھی تو حیرت سے لوگوں سے پوچھا ۔۔۔
“آج دمشق میں یہ خوشی کیسی ہے؟”
لوگوں نے جواب دیا
“عراق سے فتح کا قافلہ باغیوں کے ساتھ آ رہا ہے۔”
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کا دل بے چین ہو گیا۔ وہ شہر کے دروازے کی طرف بڑھے۔
چند لمحوں بعد ان کی نگاہ نیزے پر بلند سرِ اقدسِ حضرت امام حسین علیہ السلام پر پڑی۔
وہ لرز اٹھے۔ پھر ان کی نظر اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے قافلے پر گئی۔
مستند روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے حضرت سکینہ بنتِ حسین سلام اللہ علیہا سے عرض کیا ۔۔
“میں آپ کے نانا رسولِ خدا ﷺ کا صحابی سہل بن سعد ہوں۔ اگر میں آپ کی کوئی خدمت کر سکتا ہوں تو ضرور بتائیں ۔”
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا نے نہایت درد بھرے لہجے میں فرمایا۔۔۔
“اگر ممکن ہو تو نیزہ بردار سے کہہ دیں کہ سرِ مبارک کو ہمارے قافلے سے کچھ آگے لے چلیں ، تاکہ لوگوں کی نظریں سرِ مبارک کی طرف رہیں اور رسولِ خدا ﷺ کی بیٹیوں اور بچیوں پر کم پڑیں۔”
یہ درخواست صرف ایک خواہش نہ تھی۔ یہ حیا، وقار اور اہلِ بیت کے پردے کی حفاظت کی آخری کوشش تھی۔
روایات میں مذکور ہے کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے نیزہ بردار کو کچھ مال دیا، جس کے بعد اس نے سرِ مبارک کو قافلے سے آگے کر لیا۔
مگر اس منظر کا درد کم نہ ہوا۔
ایک طرف جشن تھا… دوسری طرف رسولِ اکرم ﷺ کی آل اسیری کی حالت میں شہر میں داخل ہو رہی تھی۔
ایک طرف نعرے تھے…
دوسری طرف خاموش آنسو۔
ایک طرف اقتدار اپنی فتح کا اعلان کر رہا تھا… اور دوسری طرف تاریخ خاموشی سے لکھ رہی تھی کہ اصل فتح کس کی تھی۔
اب قافلہ دمشق میں داخل ہو چکا تھا۔
اگلا مرحلہ یزید کا دربار تھا…
جہاں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا وہ عظیم خطبہ تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدلنے والا تھا۔
میرے عزیز دوستو!
کبھی کبھی ایک معاشرہ جھوٹ کو اس قدر بار بار سنتا ہے کہ وہ اسے سچ سمجھنے لگتا ہے۔
لیکن جب سچ اپنی اصل صورت میں اس کے سامنے آتا ہے تو دل جاگنے لگتے ہیں۔
دمشق میں بھی یہی ہوا۔ جشن کی آرائش زیادہ دیر حق کی روشنی کو چھپا نہ سکی۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حق کو پہچاننے والی بصیرت عطا فرما۔
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت، ان کے صبر، ان کے وقار اور ان کی سیرت سے وابستہ رکھ۔
ہمارے دلوں کو ہر قسم کے تعصب، ظلم اور فریب سے محفوظ فرما، اور ہمیں ہمیشہ سچائی کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
……………………………….…..
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 15
” دربارِ یزید۔۔۔ اقتدار کے سامنے حق کی پہلی ساعت “
دمشق کی گلیاں پیچھے رہ گئی تھیں۔
جشن کی صدائیں اب آہستہ آہستہ خاموش ہو رہی تھیں۔
قافلۂ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کو شاہی محل کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔
یہ وہ دربار تھا جہاں دنیاوی اقتدار اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ موجود تھا۔
بلند ستون…
قیمتی فرش…
امرائے سلطنت…
سپہ سالار…
درباری…
اور تخت پر بیٹھا یزید بن معاویہ…
اسے گمان تھا کہ آج اس کی سب سے بڑی فتح کا دن ہے۔
چند ہی لمحوں بعد رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیت علیہم السلام کو اس کے سامنے لا کھڑا کیا گیا۔
اسیر تھے…
مگر شکست خوردہ نہ تھے۔
تھکے ہوئے تھے…
مگر سر جھکے ہوئے نہ تھے۔
غم سے بوجھل تھے…
مگر وقار پہلے سے زیادہ بلند تھا۔
پھر شہدائے کربلا کے مقدس سر دربار میں پیش کیے گئے۔
ان میں سرِ اقدسِ حضرت امام حسین علیہ السلام بھی تھا۔
روایات میں آتا ہے کہ یزید نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی سے سرِ اقدس کے لبوں کی طرف اشارہ کیا۔
وہ انہی لبوں کی بے حرمتی کر رہا تھا جنہیں رسولِ اکرم ﷺ نے بے شمار مرتبہ بوسہ دیا تھا۔
دربار میں خاموشی چھا گئی۔
کچھ چہرے مطمئن تھے۔
کچھ نظریں جھکی ہوئی تھیں۔
اور کچھ دل اس منظر کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔
روایات میں مذکور ہے کہ دربار میں موجود بعض بزرگوں نے یزید کے اس طرزِ عمل پر ناگواری کا اظہار کیا اور اسے رسولِ اکرم ﷺ کی محبت اور احترام کی یاد دلائی۔
مگر صاحب اقتدار جب غرور میں مبتلا ہو جائے تو نصیحت اس کے کانوں تک نہیں پہنچتی۔
یزید بن معاویہ یہ گمان کر بیٹھا تھا کہ کربلا کا باب بند ہو چکا ہے، مگر اسے خبر نہ تھی کہ اصل تاریخ ابھی لکھی جانی باقی ہے۔ اسے گمان تھا کہ اب کوئی آواز باقی نہیں رہی۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ علیؑ کی بیٹی خاموش کھڑی ہیں ، اور ان کی یہ خاموشی چند ہی لمحوں میں ایسا خطبہ بننے والی ہے جو قیامت تک ظلم کے ایوانوں کو لرزاتا رہے گا۔
میرے عزیز دوستو!
صاحب اقتدار اکثر یہ سمجھتا ہے کہ وہ مخالف آوازوں کو خاموش کر سکتا ہے۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ حق کی آواز کبھی تلوار سے ختم نہیں ہوتی۔
کبھی وہ خون سے زندہ رہتی ہے…اور کبھی ایک باوقار خاتون کے خطبے سے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حق کا احترام کرنے والا دل عطا فرما۔
ہمیں غرور، ظلم اور تکبر سے محفوظ رکھ۔
اور ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت، ان کے صبر اور ان کی سیرت سے ہمیشہ وابستہ رکھ۔
الٰہی آمین یا رب العالمین
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔
.………………….
“کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر”
قسط نمبر 16
” حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا خطبۂ شام ۔۔۔ حصہ اول”
“کیا تم نے گمان کیا، اے یزید۔۔۔؟”
دربارِ یزید میں ایک گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
ایک طرف صاحبِ اقتدار اپنے تخت پر بیٹھا تھا۔
اس کے گرد درباری، سپہ سالار اور اہلِ حکومت موجود تھے۔
اسے گمان تھا کہ کربلا کا باب بند ہو چکا ہے۔
امام عالی مقام حسین علیہ السلام شہید ہو چکے تھے۔
ان کے ساتھی شہادت پا چکے تھے۔
اہلِ بیتِ رسول ﷺ اسیری کی حالت میں اس کے دربار میں موجود تھے۔
بظاہر ہر چیز یزید کے اختیار میں تھی۔
مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ حق کی گواہی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے سر اٹھایا۔
وہ ایک غم زدہ بہن تھیں۔ اپنے بھائی حسین علیہ السلام کی شہادت دیکھ چکی تھیں۔
اپنے بیٹوں، بھتیجوں اور خاندان کے جوانوں کی قربانیاں دیکھ چکی تھیں۔
جلتے ہوئے خیموں، پیاسے بچوں اور اسیری کے طویل سفر سے گزر چکی تھیں۔
مگر جب وہ بولیں تو لہجے میں شکست نہ تھی۔
نہ التجا تھی۔
نہ خوف تھا۔
یہ علیؑ کی بیٹی کی آواز تھی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور رسولِ اکرم ﷺ اور آپؐ کی آل پر درود کے بعد قرآنِ مجید کی آیت تلاوت فرمائی:
> وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ
(سورۂ آلِ عمران: 178)
ترجمہ:
“اور کافر ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ ہم انہیں جو مہلت دے رہے ہیں، وہ ان کے لیے بہتر ہے۔ ہم تو انہیں اس لیے مہلت دیتے ہیں کہ وہ اپنے گناہ میں اور بڑھ جائیں، اور ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔”
دربار میں قرآن کی آواز بلند ہوئی۔ یہ محض ایک آیت کی تلاوت نہ تھی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ابتدا ہی میں یزید کے سب سے بڑے زعم کو توڑ دیا تھا۔
وہ سمجھ رہا تھا کہ اقتدار، لشکر اور ظاہری غلبہ اللہ کی رضا کی علامت ہیں۔
مگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے قرآن کے ذریعے اسے بتا دیا کہ ہر مہلت انعام نہیں ہوتی، ہر اقتدار عزت نہیں ہوتا، اور ہر ظاہری فتح اللہ کی رضا کی دلیل نہیں ہوتی۔
پھر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے براہِ راست یزید کو مخاطب کیا:
أَظَنَنْتَ يَا يَزِيدُ حِينَ أَخَذْتَ عَلَيْنَا أَقْطَارَ الْأَرْضِ وَآفَاقَ السَّمَاءِ، فَأَصْبَحْنَا نُسَاقُ كَمَا تُسَاقُ الْأُسَرَاءُ، أَنَّ بِنَا عَلَى اللَّهِ هَوَانًا، وَبِكَ عَلَيْهِ كَرَامَةً؟
ترجمہ:
“اے یزید! کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ جب تم نے زمین کے راستے اور آسمان کے کنارے ہم پر تنگ کر دیے، اور ہمیں اس طرح ہانک کر لایا گیا جیسے اسیروں کو لایا جاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ کی نگاہ میں بے قدر ہیں اور تم اس کے نزدیک صاحبِ عزت ہو؟”
دربار میں موجود لوگوں نے شاید پہلی مرتبہ کسی کو یزید سے اس انداز میں مخاطب ہوتے سنا تھا۔
“اے یزید!”
نہ کوئی شاہی لقب۔
نہ کوئی تعظیمی خطاب۔
نہ صاحبِ اقتدار کے جاہ و جلال کا خوف۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسے صرف اس کے نام سے پکارا۔
اور پھر اس کے اقتدار کے سب سے بڑے فریب کو اس کے سامنے رکھ دیا۔
کیا اقتدار مل جانا عزت کی دلیل ہے؟
کیا کسی مظلوم کو قید کر لینا اس کی بے قدری کی علامت ہے؟
کیا ظاہری فتح یہ ثابت کرتی ہے کہ اللہ ظالم سے راضی ہے؟
نہیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے کلام کا مفہوم واضح تھا۔
اللہ کے نزدیک عزت کا معیار تخت نہیں۔
لشکر نہیں۔
سلطنت نہیں۔
عزت کا معیار حق ہے۔
تقویٰ ہے۔
اور اللہ کے سامنے انسان کا کردار ہے۔
پھر آپؑ نے فرمایا:
فَشَمَخْتَ بِأَنْفِكَ، وَنَظَرْتَ فِي عِطْفِكَ، جَذْلَانَ مَسْرُورًا، حِينَ رَأَيْتَ الدُّنْيَا لَكَ مُسْتَوْسِقَةً، وَالْأُمُورَ مُتَّسِقَةً…
ترجمہ:
“پس تم نے تکبر سے اپنی ناک بلند کر لی، اپنے اطراف پر فخر سے نگاہ ڈالی، خوش اور مسرور ہوئے، جب تم نے دیکھا کہ دنیا تمہارے لیے قابو میں آ گئی ہے اور معاملات تمہارے حسبِ خواہش درست ہو گئے ہیں۔”
یہ الفاظ یزید کے تخت سے نہیں ٹکرائے تھے۔
یہ اس کے غرور سے ٹکرائے تھے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے دربار کے درمیان کھڑے ہو کر واضح کر دیا کہ جسے یزید اپنی فتح سمجھ رہا ہے، ممکن ہے وہ صرف مہلت ہو۔
اور جسے وہ اہلِ بیتؑ کی شکست سمجھ رہا ہے، تاریخ اسی کو حق کی عظیم ترین گواہی کے طور پر محفوظ کرنے والی ہے۔
اس دن یزید تخت پر بیٹھا تھا۔
اور زینب سلام اللہ علیہا اسیرانِ کربلا کے درمیان کھڑی تھیں۔
مگر تاریخ نے فیصلہ کر دیا کہ تخت پر بیٹھا ہر شخص بلند نہیں ہوتا، اور اسیری میں کھڑا ہر انسان شکست خوردہ نہیں ہوتا۔
خطبہ ابھی جاری تھا…
اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا اگلا سوال دربار کے اخلاقی وجود کو جھنجھوڑنے والا تھا:
أَمِنَ الْعَدْلُ يَا ابْنَ الطُّلَقَاءِ…؟
ترجمہ :
“اے آزاد کردہ لوگوں کے بیٹے! کیا یہ انصاف ہے۔۔۔؟”
(خطبہ جاری ہے۔۔۔)
میرے عزیز دوستو!
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبے کا آغاز ہمیں ایک بہت گہرا سبق دیتا ہے۔
ہم اکثر دنیاوی کامیابی کو اللہ کی رضا اور مشکل کو اللہ کی ناراضی سمجھ لیتے ہیں۔
مگر ہر آسانی انعام نہیں ہوتی۔
ہر مہلت رضا نہیں ہوتی۔
اور ہر آزمائش ذلت نہیں ہوتی۔
کبھی تخت انسان کا امتحان ہوتا ہے…
اور کبھی زنجیر انسان کی عظمت کی گواہی بن جاتی ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں ظاہری کامیابی کے فریب سے محفوظ فرما۔
ہمیں حق اور باطل میں فرق کرنے والی بصیرت عطا فرما۔
ہمیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا جیسا یقین، حوصلہ اور حق گوئی عطا فرما۔
اور جب دنیا کی طاقت، دولت یا اقتدار ہمارے سامنے ہو تو ہمارے دل کو صرف تیری عظمت کے سامنے جھکنے والا بنا۔
اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھ اور ہمیں ان کی سیرت سے روشنی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
“کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر”
قسط نمبر 17
“حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا خطبۂ شام ۔۔۔ حصہ دوم ”
“اے ابنِ طلقاء! کیا یہ انصاف ہے۔۔۔؟”
دربار خاموش تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا یزید کے غرور، اس کے اقتدار اور اس کی ظاہری فتح کے زعم کو قرآنِ مجید کی روشنی میں بے نقاب کر چکی تھیں۔
آپؑ نے واضح کر دیا تھا کہ ہر مہلت اللہ کی رضا نہیں ہوتی۔
ہر اقتدار عزت کی علامت نہیں ہوتا۔ اور ہر ظاہری شکست، اللہ کے نزدیک بے قدری نہیں ہوتی۔
مگر خطبہ ابھی جاری تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اب ایک ایسا سوال اٹھایا جو صرف یزید سے نہیں، بلکہ عدل کے نام پر قائم ہر ظالم اقتدار سے تھا۔
آپؑ نے فرمایا:
أَمِنَ الْعَدْلِ يَا ابْنَ الطُّلَقَاءِ، تَخْدِيرُكَ حَرَائِرَكَ وَإِمَاءَكَ، وَسَوْقُكَ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ سَبَايَا؟
ترجمہ:
“اے آزاد کردہ لوگوں کے بیٹے! کیا یہ انصاف ہے کہ تم اپنی آزاد عورتوں اور کنیزوں کو پردے میں رکھو، اور رسول اللہ ﷺ کی بیٹیوں کو اسیر بنا کر پھراؤ؟”
یہ سوال دربار کی فضا کو چیر گیا۔
“یا ابنَ الطُّلَقاء۔۔۔”
“اے آزاد کردہ لوگوں کے بیٹے۔۔۔”
یہ محض ایک طعنہ نہ تھا۔اس ایک لفظ کے پیچھے تاریخ کا ایک پورا باب موجود تھا۔
طُلَقاء، طَليق کی جمع ہے؛ یعنی وہ لوگ جنہیں فتحِ مکہ کے موقع پر رسولِ اکرم ﷺ نے قدرت رکھنے کے باوجود معاف کر کے آزاد چھوڑ دیا تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کو اس کے خاندانی ماضی کی یاد دلائی۔
گویا فرما رہی تھیں:
جس رسول ﷺ نے تمہارے بڑوں کو فتح کے دن معاف کیا، آج اسی رسول ﷺ کی بیٹیوں کے ساتھ تم یہ سلوک کر رہے ہو؟
ایک طرف فتحِ مکہ کا عفو تھا۔ دوسری طرف کربلا کے بعد کی اسیری۔
ایک طرف رسولِ رحمت ﷺ کا کردار تھا۔ اور دوسری طرف یزیدی اقتدار کا رویہ۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے سوال ہی میں دونوں کردار تاریخ کے سامنے رکھ دیے۔
پھر آپؑ نے فرمایا:
قَدْ هَتَكْتَ سُتُورَهُنَّ، وَأَبْدَيْتَ وُجُوهَهُنَّ، تَحْدُو بِهِنَّ الْأَعْدَاءُ مِنْ بَلَدٍ إِلَىٰ بَلَدٍ..
ترجمہ:
“تم نے ان کے پردوں کو پامال کیا، انہیں بے پردگی کی اذیت سے دوچار کیا، اور دشمن انہیں ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتے رہے۔۔۔”
پھر آپؑ نے اس سفرِ اسیری کا درد دربار کے سامنے رکھ دیا:
وَيَسْتَشْرِفُهُنَّ أَهْلُ الْمَنَاهِلِ وَالْمَنَاقِلِ، وَيَتَصَفَّحُ وُجُوهَهُنَّ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ، وَالدَّنِيُّ وَالشَّرِيفُ…
ترجمہ:
“راستوں اور منزلوں پر لوگ انہیں دیکھتے رہے؛ قریب و دور، ادنیٰ و شریف، سب کی نگاہیں ان کی طرف اٹھتی رہیں۔۔۔”
یہاں حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے لیے رعایت نہیں مانگ رہی تھیں۔
وہ رحم کی درخواست نہیں کر رہی تھیں۔
وہ یزید کے سامنے اس کے ظلم کی اخلاقی فردِ جرم پڑھ رہی تھیں۔
آپؑ اسے یاد دلا رہی تھیں کہ جن خواتین کو تم نے شہر شہر پھرایا، وہ کسی معمولی خاندان کی عورتیں نہیں تھیں۔
وہ رسولِ اکرم ﷺ کے گھرانے کی بیٹیاں تھیں۔
وہی رسول ﷺ جن کا نام تمہاری سلطنت میں اذان کے ساتھ بلند ہوتا تھا۔
وہی رسول ﷺ جن کی امت پر تم حکومت کا دعویٰ کر رہے تھے۔
اور پھر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
لَيْسَ مَعَهُنَّ مِنْ رِجَالِهِنَّ وَلِيٌّ، وَلَا مِنْ حُمَاتِهِنَّ حَمِيٌّ۔
ترجمہ:
“ان کے ساتھ ان کے مردوں میں سے کوئی سرپرست نہ تھا، اور نہ کوئی ایسا محافظ جو ان کی حفاظت کر سکتا۔”
اللہ اکبر۔۔۔۔ یہ صدائے شہادت ۔۔۔
یہ الفاظ کہتے ہوئے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے سامنے کربلا کا میدان پھر سے زندہ ہو گیا ہوگا۔
حسین علیہ السلام شہید ہو چکے تھے۔
عباس علیہ السلام شہید ہو چکے تھے۔
علی اکبر علیہ السلام شہید ہو چکے تھے۔
قاسم علیہ السلام اور بنی ہاشم کے جوان اپنے رب کے حضور جا چکے تھے۔
وہ تمام محافظ، جو کبھی اہلِ حرم کے خیموں کے گرد موجود تھے، کربلا کی ریت پر اپنا خون دے چکے تھے۔
اور اب انہی خواتین کو اسیری کی حالت میں شہر شہر لے جایا گیا تھا۔
مگر دیکھیے…
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے غم کو کمزوری نہیں بنایا۔
انہوں نے اپنے دکھ کو گواہی بنا دیا۔
انہوں نے اپنی اسیری کو دلیل بنا دیا۔
اور اپنے زخموں کو یزید کے اقتدار کے خلاف فردِ جرم بنا کر اسی کے دربار میں پیش کر دیا۔
اس دن سوال صرف یہ نہ تھا کہ اہلِ بیتؑ کے ساتھ کیا ہوا۔
سوال یہ تھا: کیا یہ انصاف تھا؟
اور شاید اسی لیے حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس حصے کا آغاز کسی بددعا سے نہیں کیا۔کسی فریاد سے نہیں کیا۔
بلکہ صرف ایک سوال سے کیا:
أَمِنَ الْعَدْلِ يَا ابْنَ الطُّلَقَاءِ۔۔۔؟
“اے ابنِ طلقاء! کیا یہ انصاف ہے۔۔۔؟”
ایک ایسا سوال…
جس کا جواب یزید کے پاس اس دن بھی نہیں تھا۔
اور تاریخ کے پاس آج بھی صرف ایک ہی فیصلہ ہے۔
نہیں۔۔۔یہ انصاف نہیں تھا۔
خطبہ ابھی جاری تھا۔
اور اب حضرت زینب سلام اللہ علیہا یزید کے ظلم کے پیچھے چھپی اس دیرینہ عداوت کو بے نقاب کرنے والی تھیں جس کا ذکر آپؑ نے ان الفاظ میں کیا:
وَكَيْفَ يُرْتَجَىٰ مُرَاقَبَةُ مَنْ لَفَظَ فُوهُ أَكْبَادَ الْأَزْكِيَاءِ…
( خطبہ جاری ہے۔۔۔)
میرے عزیز دوستو!
عدل صرف عدالتوں، کتابوں اور تقریروں کا لفظ نہیں۔
عدل کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب طاقت ہمارے ہاتھ میں ہو اور کمزور ہمارے سامنے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فتحِ مکہ کے دن قدرت رکھتے ہوئے معاف کیا۔
اور کربلا کے بعد صاحبِ اقتدار نے بے بس اور غم زدہ خواتین کو اسیری میں شہر شہر پھرایا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے تاریخ کے سامنے دونوں کردار رکھ دیے۔
اور ہمیں یہ سکھا دیا کہ انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنی طاقت ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت استعمال کیسے کرتا ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں عدل کو صرف کہنے نہیں، اپنے کردار میں زندہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔
جب ہمیں اختیار ملے تو ہمیں ظلم سے محفوظ رکھ۔
جب ہمارے سامنے کمزور ہو تو ہمارے دل میں رحم، انصاف اور انسانیت پیدا فرما۔
ہمیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا جیسی حق گوئی، بصیرت اور استقامت عطا فرما۔
اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھ، اور ہمیں ان کی سیرت سے عدل، صبر اور کردار کا درس حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
…………………………..
“کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر”
قسط نمبر 18
” حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا خطبۂ شام ۔۔۔ حصہ سوم ”
“دلوں میں چھپی عداوت۔۔۔ جب زینبؑ نے تاریخ کا پردہ اٹھایا”
دربارِ یزید میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا سوال ابھی فضا میں گونج رہا تھا:
أَمِنَ الْعَدْلِ يَا ابْنَ الطُّلَقَاءِ۔۔۔؟
“اے ابنِ طلقاء! کیا یہ انصاف ہے۔۔۔؟”
آپؑ اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی اسیری، ان کے پردوں کی پامالی اور شہر شہر پھرائے جانے کی اذیت کو یزید کے سامنے رکھ چکی تھیں۔
مگر اب حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے خطاب کو ایک اور گہری سطح پر لے جا رہی تھیں۔
اب بات صرف اسیری کی نہ تھی۔
اب سوال اس عداوت کا تھا جو برسوں سے دلوں میں پلتی رہی تھی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
وَكَيْفَ يُرْتَجَىٰ مُرَاقَبَةُ مَنْ لَفَظَ فُوهُ أَكْبَادَ الْأَزْكِيَاءِ، وَنَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ دِمَاءِ الشُّهَدَاءِ؟
ترجمہ:
“اور اس شخص سے اللہ کا خوف اور پاس و لحاظ کیسے متوقع ہو، جس کے منہ نے پاکیزہ لوگوں کے جگر کے ٹکڑے اُگل دیے، اور جس کا گوشت شہیدوں کے خون سے پروان چڑھا ہو؟”
یہ الفاظ نہایت سخت تھے۔مگر ان کے پیچھے ایک تلخ تاریخی یاد موجود تھی۔
خطبے کے اس مقام کو شارحین عموماً جنگِ اُحد کے بعد حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے جسدِ مبارک کے ساتھ پیش آنے والے واقعے اور یزید کے خاندانی ماضی کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا گویا تاریخ کے بند دریچے کھول رہی تھیں۔
ایک طرف اُحد تھا۔
دوسری طرف کربلا۔
ایک طرف رسولِ اکرم ﷺ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا خون تھا۔
دوسری طرف رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے امام حسین علیہ السلام کا خون۔
زمانے بدل گئے تھے۔
چہرے بدل گئے تھے۔
مگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا یزید کے سامنے یہ سوال رکھ رہی تھیں کہ:
کیا اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے یہ عداوت اچانک پیدا ہوئی تھی؟
پھر آپؑ نے فرمایا:
وَكَيْفَ يُسْتَبْطَأُ فِي بُغْضِنَا أَهْلَ الْبَيْتِ مَنْ نَظَرَ إِلَيْنَا بِالشَّنَفِ وَالشَّنَآنِ، وَالْإِحَنِ وَالْأَضْغَانِ؟
ترجمہ:
“اور ہمارے اہلِ بیت سے اس شخص کی دشمنی میں دیر کیسے سمجھی جائے، جو ہمیں عداوت، بغض، دل کے کینے اور چھپی ہوئی دشمنیوں کی نگاہ سے دیکھتا رہا ہو؟”
یہاں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے چار ایسے الفاظ استعمال کیے جو انسانی دل میں چھپی دشمنی کی مختلف کیفیتوں کو ظاہر کرتے ہیں:
الشَّنَف۔۔۔
سخت نفرت اور بیزاری۔
الشَّنَآن۔۔۔
گہرا بغض اور دشمنی۔
الإِحَن۔۔۔
دل میں چھپا ہوا کینہ۔
الأَضْغَان۔۔۔
وہ دیرینہ عداوتیں جو سینوں میں دبی رہیں۔یہ محض الفاظ کی تکرار نہ تھی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا یزید کے سامنے نفرت کی پوری نفسیات رکھ رہی تھیں۔
کینہ جب دل میں چھپا رہے…
بغض جب نسلوں کی یاد بن جائے…
عداوت جب اقتدار حاصل کر لے…
تو پھر ظلم صرف ایک واقعہ نہیں رہتا۔ وہ کربلا بن جاتا ہے۔
پھر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کے اس طرزِ عمل کی طرف اشارہ فرمایا جسے دربار اپنی فتح کا اظہار سمجھ رہا تھا:
ثُمَّ تَقُولُ غَيْرَ مُتَأَثِّمٍ وَلَا مُسْتَعْظِمٍ۔۔۔
ترجمہ:
“پھر تم یہ کہتے ہو، نہ اپنے آپ کو گناہ گار سمجھتے ہوئے اور نہ اس فعل کو کوئی بڑی بات جانتے ہوئے۔۔۔”
اور خطبے کی معروف نقل میں اس کے بعد یزید سے منسوب اشعار کا حوالہ آتا ہے:
لَأَهَلُّوا وَاسْتَهَلُّوا فَرَحًاثُمَّ قَالُوا يَا يَزِيدُ لَا تُشَلْ
ترجمہ:
“وہ خوشی سے پکار اٹھتے اور کہتے: اے یزید! تیرے ہاتھ شل نہ ہوں۔”
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے پھر فرمایا:
مُنْحَنِيًا عَلَىٰ ثَنَايَا أَبِي عَبْدِ اللَّهِ سَيِّدِ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، تَنْكُتُهَا بِمِخْصَرَتِكَ۔۔۔
ترجمہ:
“اور تم ابو عبداللہ، جنتی نوجوانوں کے سردار، کے دندانِ مبارک کی طرف جھکے ہوئے اپنی چھڑی سے انہیں چھو رہے تھے۔۔۔”
دربار میں سرِ اقدسِ امام حسین علیہ السلام موجود تھا۔
وہی حسین علیہ السلام…جنہیں رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے سینے سے لگایا تھا۔
وہی حسین علیہ السلام…جن کے لیے نبیِ رحمت ﷺ کی محبت امت نے دیکھی تھی۔
اور آج انہی کے سرِ اقدس کے سامنے یزید اپنی ظاہری فتح کے زعم میں بیٹھا تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس منظر کو خاموشی سے گزرنے نہیں دیا۔
انہوں نے اسے تاریخ کے سامنے گواہی بنا دیا۔
پھر فرمایا:
وَكَيْفَ لَا تَقُولُ ذٰلِكَ، وَقَدْ نَكَأْتَ الْقَرْحَةَ، وَاسْتَأْصَلْتَ الشَّأْفَةَ، بِإِرَاقَتِكَ دِمَاءَ ذُرِّيَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَنُجُومِ الْأَرْضِ مِنْ آلِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟
ترجمہ:
“اور تم ایسا کیوں نہ کہو، جبکہ تم نے زخم کو پھر سے چھیڑ دیا، جڑ کو کاٹ ڈالنے کی کوشش کی، محمد ﷺ کی اولاد کا خون بہایا، اور آلِ عبدالمطلب کے زمین پر چمکتے ستاروں کو شہید کر دیا؟”
یہاں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کو صرف ایک جنگ نہیں کہا۔
انہوں نے اسے ایک پرانے زخم کا دوبارہ کھل جانا قرار دیا۔
قَدْ نَكَأْتَ الْقَرْحَةَ۔۔۔
“تم نے زخم پھر چھیڑ دیا۔۔۔”
کتنا گہرا استعارہ تھا۔
تاریخ کا زخم…
جو شاید وقت کی تہوں میں چھپ گیا تھا۔
کربلا میں پھر سے کھل گیا تھا۔
مگر یزید شاید یہ بھول گیا تھا کہ خون بہا کر تاریخ کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
اس دن دربار میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا تنہا کھڑی تھیں۔
نہ ہاتھ میں تلوار تھی۔
نہ پیچھے لشکر تھا۔
نہ کوئی ظاہری اقتدار۔
مگر ان کے پاس حافظۂ تاریخ تھا۔
انہوں نے ماضی کو حال کے سامنے کھڑا کر دیا۔
اور یزید کو بتا دیا کہ ظلم کا چہرہ وقت کے ساتھ بدل سکتا ہے…
مگر تاریخ اس کے نقش پہچان لیتی ہے۔
خطبہ ابھی جاری تھا۔
اور اب حضرت زینب سلام اللہ علیہا یزید کو اس انجام کی خبر دینے والی تھیں جس سے کوئی صاحبِ اقتدار بچ نہیں سکتا:
وَلَتَرِدَنَّ وَشِيكًا مَوْرِدَهُمْ۔۔۔
“اور بہت جلد تم بھی اسی مقام پر پہنچو گے جہاں وہ پہنچ چکے ہیں۔۔۔”
(خطبہ جاری ہے۔۔۔)
میرے عزیز دوستو!
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبے کا یہ حصہ ہمیں ایک بہت گہری حقیقت سکھاتا ہے۔
نفرت کبھی اچانک ظلم نہیں بنتی۔
پہلے وہ دل میں ایک خیال بنتی ہے۔
پھر کینہ۔
پھر عداوت۔
اور جب وہی عداوت طاقت حاصل کر لے تو انسان دوسرے انسان کے خون کو بھی معمولی سمجھنے لگتا ہے۔
اسی لیے ہمیں اپنے دلوں کی نگرانی کرنی چاہیے۔
کیونکہ دل میں چھپا ہوا ایک چھوٹا سا بغض، اگر مسلسل پالا جائے، تو کبھی کبھی نسلوں کے لیے زخم بن جاتا ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمارے دلوں کو بغض، کینے، حسد اور عداوت سے پاک فرما۔
ہمیں اپنے دل کی کیفیتوں کو پہچاننے اور انہیں تیری رضا کے مطابق سنوارنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا جیسی بصیرت عطا فرما کہ ہم ظلم کے صرف ظاہر کو نہیں، اس کی جڑ کو بھی پہچان سکیں۔
اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھ، اور ہمیں ان کے صبر، حق گوئی اور کردار سے روشنی حاصل کرنے کی سعادت عطا فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
…………………………….
کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر”
قسط نمبر 19
” حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا خطبۂ شام ۔۔۔ حصہ چہارم ”
“اب عدالت اللہ کی ہوگی۔۔۔”
دربارِ یزید میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی آواز مسلسل بلند ہو رہی تھی۔
آپؑ یزید کے غرور کو بے نقاب کر چکی تھیں۔ اس کے عدل کا پردہ چاک کر چکی تھیں۔
اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی اسیری کو تاریخ کے سامنے گواہی بنا چکی تھیں۔
اور اس عداوت کی تہوں کو بھی کھول چکی تھیں جو دلوں میں چھپی رہی اور بالآخر کربلا کی صورت میں خون بن کر بہہ نکلی۔
مگر اب حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے گفتگو کا رخ بدل دیا۔
اب آپؑ یزید کو ماضی نہیں دکھا رہی تھیں۔
اب اسے مستقبل دکھا رہی تھیں۔
وہ مستقبل…
جہاں نہ تخت ہوگا۔
نہ دربار۔
نہ لشکر۔
نہ شاہی جاہ و جلال۔
وہاں صرف ایک عدالت ہوگی۔ اللہ کی عدالت۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
وَلَتَرِدَنَّ وَشِيكًا مَوْرِدَهُمْ، وَلَتَوَدَّنَّ أَنَّكَ شُلِلْتَ وَبَكِمْتَ، وَلَمْ تَكُنْ قُلْتَ مَا قُلْتَ، وَفَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ۔
ترجمہ:
“اور بہت جلد تم بھی اسی مقام پر پہنچو گے جہاں وہ پہنچ چکے ہیں، اور اس وقت تم آرزو کرو گے کہ کاش تمہارے ہاتھ شل ہو گئے ہوتے، تمہاری زبان گونگی ہو گئی ہوتی، اور نہ تم نے وہ کہا ہوتا جو کہا، نہ وہ کیا ہوتا جو تم نے کیا۔”
کیا عجیب منظر تھا۔
یزید تخت پر بیٹھا تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا اسیری کی حالت میں اس کے سامنے کھڑی تھیں۔
مگر گفتگو ایسے ہو رہی تھی جیسے مجرم سامنے ہو اور فردِ جرم پڑھنے والی آواز اسے اس کے انجام سے آگاہ کر رہی ہو۔
آپؑ نے یزید کو یہ نہیں کہا کہ ہمارا وقت آئے گا تو ہم تم سے انتقام لیں گے۔
آپؑ نے یہ نہیں کہا کہ ہمارا لشکر تمہارے لشکر کو شکست دے گا۔
آپؑ نے اسے ایک ایسی عدالت یاد دلائی جہاں کسی لشکر کی ضرورت نہیں۔ جہاں کسی گواہ کو خریدا نہیں جا سکتا۔ جہاں کسی فیصلے کو اقتدار بدل نہیں سکتا۔
اللہ کی عدالت۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے پھر بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا:
اللَّهُمَّ خُذْ لَنَا بِحَقِّنَا، وَانْتَقِمْ لَنَا مِمَّنْ ظَلَمَنَا، وَأَحْلِلْ غَضَبَكَ بِمَنْ سَفَكَ دِمَاءَنَا، وَقَتَلَ حُمَاتَنَا۔
ترجمہ:
“اے اللہ! ہمارا حق دلوا، ہمارے ظالموں سے ہمارا بدلہ لے، اور اپنا غضب ان لوگوں پر نازل فرما جنہوں نے ہمارا خون بہایا اور ہمارے محافظوں کو قتل کیا۔”
یہ دعا ایک شکست خوردہ انسان کی فریاد نہ تھی۔ یہ ایک مظلوم کی اپنے رب کے حضور دعویٰ پیش کرنے کی صدا تھی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا جانتی تھیں کہ دنیا کی عدالت خاموش ہو سکتی ہے۔
صاحبِ اقتدار خود منصف بن سکتا ہے۔
مجرم تخت پر بیٹھ سکتا ہے۔ اور مظلوم کو زنجیروں میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔
مگر اللہ کی عدالت میں منصب نہیں دیکھے جاتے۔وہاں نام نہیں دیکھے جاتے۔
وہاں خاندان اور سلطنت نہیں دیکھی جاتی۔ وہاں اعمال تولے جاتے ہیں۔
پھر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
فَوَاللَّهِ مَا فَرَيْتَ إِلَّا جِلْدَكَ، وَلَا حَزَزْتَ إِلَّا لَحْمَكَ۔
ترجمہ:
“پس اللہ کی قسم! تم نے درحقیقت اپنی ہی کھال چاک کی ہے اور اپنے ہی گوشت کو کاٹا ہے۔”
یہ خطبے کے نہایت غیر معمولی جملوں میں سے ایک تھا۔
یزید سمجھ رہا تھا کہ اس نے اہلِ بیتؑ کو نقصان پہنچایا ہے۔
مگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس کے سامنے ظلم کی ایک ابدی حقیقت رکھ دی:
ظالم کا وار سب سے پہلے خود اس کی انسانیت کو زخمی کرتا ہے۔
وہ جب کسی بے گناہ کا حق چھینتا ہے تو اپنے نام کے ساتھ ظلم لکھتا ہے۔
جب کسی کا خون بہاتا ہے تو اپنے اعمال نامے کو خون آلود کرتا ہے۔
جب کسی مظلوم کو رسوا کرنا چاہتا ہے تو دراصل اپنی رسوائی کا سامان تیار کرتا ہے۔
ظلم کا تیر بظاہر دوسرے کے جسم میں اترتا ہے…مگر اس کا زہر ظالم کی اپنی روح میں پھیلتا ہے۔
پھر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
وَلَتَرِدَنَّ عَلَىٰ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِمَا تَحَمَّلْتَ مِنْ سَفْكِ دِمَاءِ ذُرِّيَّتِهِ، وَانْتَهَكْتَ مِنْ حُرْمَتِهِ فِي عِتْرَتِهِ وَلُحْمَتِهِ۔
ترجمہ:
“اور تم رسول اللہ ﷺ کے حضور اس حال میں پہنچو گے کہ تم پر ان کی اولاد کا خون بہانے اور ان کے خاندان اور قرابت کی حرمت پامال کرنے کا بوجھ ہوگا۔”
دربار میں شاید بہت سے لوگ پہلی مرتبہ اس منظر کو اس زاویے سے دیکھ رہے تھے۔
یہ صرف حسین علیہ السلام کا قتل نہ تھا۔
یہ صرف کربلا کا ایک سیاسی معرکہ نہ تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا یزید کو یاد دلا رہی تھیں کہ ایک دن اسے رسولِ اکرم ﷺ کے سامنے بھی کھڑا ہونا ہے۔
وہ رسول ﷺ…
جن کے نواسے کا سر اسی دربار میں موجود تھا۔
وہ رسول ﷺ…
جن کی بیٹیاں اسیری کی حالت میں سامنے کھڑی تھیں۔
وہ رسول ﷺ…
جن کا نام اسی سلطنت کی مسجدوں میں اذان کے ساتھ لیا جاتا تھا۔
اور اب حضرت زینب سلام اللہ علیہا گویا یزید سے پوچھ رہی تھیں:
جب تم رسول اللہ ﷺ کے سامنے پہنچو گے تو کیا جواب دو گے؟
پھر آپؑ نے قرآنِ مجید کی اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو مردہ نہ سمجھا جائے۔
خطبے کی معروف نقل میں فرمایا:
وَحَسْبُكَ بِاللَّهِ حَاكِمًا، وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ خَصِيمًا، وَبِجَبْرَئِيلَ ظَهِيرًا۔
ترجمہ:
“اور تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ فیصلہ کرنے والا ہوگا، محمد ﷺ تمہارے مدِ مقابل ہوں گے، اور جبرائیل مددگار ہوں گے۔”
اب دربار کا نقشہ بدل چکا تھا۔
ظاہری طور پر یزید تخت پر تھا۔
مگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے الفاظ نے ایک اور عدالت قائم کر دی تھی۔
حاکم ۔۔۔ اللہ۔
مدعی ۔۔۔ رسولِ اکرم ﷺ۔
اور حق کا مددگار ۔۔۔ جبرائیل۔
پھر تخت کہاں تھا؟
سلطنت کہاں تھی؟
دربار کہاں تھا؟
یزید کی ظاہری طاقت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے چند جملوں کے سامنے کتنی چھوٹی دکھائی دینے لگی تھی۔
کربلا میں حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے گواہی دی تھی کہ حق پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔
اور اب دربارِ شام میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا اعلان کر رہی تھیں کہ: ظلم حساب سے بچ نہیں سکتا۔ فیصلہ شاید دیر سے ہو… مگر عدالت قائم ہوگی۔ گواہی پیش ہوگی۔
اور ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوگا۔
خطبہ ابھی جاری تھا…
اور اب حضرت زینب سلام اللہ علیہا یزید کو وہ چیلنج دینے والی تھیں جو تاریخ کے عظیم ترین خطابات میں ہمیشہ زندہ رہے گا:
فَكِدْ كَيْدَكَ، وَاسْعَ سَعْيَكَ، وَنَاصِبْ جُهْدَكَ۔۔۔
“پس جو تدبیر کر سکتے ہو کر لو، جتنی کوشش کر سکتے ہو کر لو، اور اپنی پوری طاقت لگا لو۔۔۔”
مگر…
تم ہمارا ذکر مٹا نہیں سکو گے۔
(خطبہ جاری ہے۔۔۔)
میرے عزیز دوستو!
دنیا میں بعض فیصلے دیر سے ہوتے ہیں۔
کبھی مظلوم اپنی زندگی میں انصاف نہیں دیکھ پاتا۔
کبھی ظالم تخت پر بیٹھا رہتا ہے۔اور کبھی سچ بولنے والا زنجیروں میں کھڑا ہوتا ہے۔
مگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ انصاف صرف دنیا کی عدالتوں تک محدود نہیں۔
ایک عدالت وہ بھی ہے جہاں نہ ثبوت چھپایا جا سکتا ہے، نہ گواہ خریدا جا سکتا ہے، نہ صاحبِ اقتدار اپنے منصب کے پیچھے چھپ سکتا ہے۔
اسی لیے مومن ناامید نہیں ہوتا۔
وہ جانتا ہے: اللہ کی عدالت میں کوئی مقدمہ گم نہیں ہوتا۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں اپنے حضور جواب دہی کا احساس عطا فرما۔
ہمیں کسی کا حق چھیننے، کسی پر ظلم کرنے اور کسی مظلوم کی آہ کا سبب بننے سے محفوظ رکھ۔
اگر ہم سے کسی کا حق ضائع ہوا ہو تو ہمیں اسے پہچاننے، معافی مانگنے اور حق لوٹانے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا جیسا یقین عطا فرما کہ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، تیرا عدل اس سے کہیں بڑا ہے۔
اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھ اور ہمیں ان کی سیرت سے حق، عدل اور جواب دہی کا شعور حاصل کرنے کی سعادت عطا فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
“کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر”
قسط نمبر 20
” حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا خطبۂ شام ۔۔۔ حصہ پنجم ”
“جو تدبیر کر سکتے ہو کر لو۔۔۔ ہمارا ذکر مٹا نہ سکو گے”
دربارِ یزید پر ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایک ایک کر کے یزید کے غرور، اس کے ظلم، اس کے اقتدار اور اس کے انجام کو بے نقاب کر چکی تھیں۔
اب خطبہ اپنے عروج پر تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے نہایت جلال اور یقین کے ساتھ فرمایا:
فَكِدْ كَيْدَكَ، وَاسْعَ سَعْيَكَ، وَنَاصِبْ جُهْدَكَ، فَوَاللَّهِ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا، وَلَا تُمِيتُ وَحْيَنَا، وَلَا تُدْرِكُ أَمَدَنَا، وَلَا تَرْحَضُ عَنْكَ عَارَهَا.
ترجمہ:
“پس جو تدبیر کر سکتے ہو کر لو، جتنی کوشش کر سکتے ہو کر لو، اور اپنی پوری طاقت لگا لو۔ اللہ کی قسم! نہ تم ہمارے ذکر کو مٹا سکو گے، نہ ہمارے نورِ وحی کو ختم کر سکو گے، نہ ہماری منزل کو پا سکو گے، اور نہ اس ظلم کا داغ اپنے دامن سے دھو سکو گے۔”
یہ الفاظ کسی اسیر خاتون کے نہیں لگتے تھے۔
یہ ایک ایسے یقین کی آواز تھی جو صرف اللہ پر کامل ایمان رکھنے والے دل سے نکل سکتی تھی۔
یزید کے پاس تخت تھا۔
لشکر تھا۔
خزانے تھے۔
اقتدار تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے پاس نہ فوج تھی، نہ ہتھیار، نہ سلطنت۔ مگر ان کے پاس حق تھا۔
اور حق کی طاقت ہمیشہ اقتدار کی طاقت سے بڑی ہوتی ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کو واضح کر دیا کہ ظلم وقتی طور پر جسموں کو زخمی کر سکتا ہے، مگر حق کے پیغام کو ختم نہیں کر سکتا۔
کتنی عجیب حقیقت ہے۔اس دن یزید سمجھ رہا تھا کہ اس نے حسین علیہ السلام کو تاریخ سے مٹا دیا ہے۔
لیکن آج…چودہ صدیاں گزرنے کے بعد… دنیا کے ہر کونے میں امام حسین علیہ السلام کا نام محبت، عزت اور عقیدت سے لیا جاتا ہے۔
اور یزید؟ اس کا نام ظلم، جبر اور اقتدار کے غرور کی علامت بن چکا ہے۔
یہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے الفاظ کی سچائی تھی۔
پھر آپؑ نے فرمایا:
وَهَلْ رَأْيُكَ إِلَّا فَنَدٌ، وَأَيَّامُكَ إِلَّا عَدَدٌ، وَجَمْعُكَ إِلَّا بَدَدٌ.
ترجمہ:
“تمہاری رائے بے بنیاد ہے، تمہارے دن گنے ہوئے ہیں، اور تمہاری جمع کی ہوئی طاقت بہت جلد بکھر جائے گی۔”
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کو یہ احساس دلایا کہ دنیا کا اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔
سلطنتیں قائم ہوتی ہیں…پھر مٹ جاتی ہیں۔
محلات آباد ہوتے ہیں…پھر ویران ہو جاتے ہیں۔
تخت سجتے ہیں…پھر خالی رہ جاتے ہیں۔
مگر حق…وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
پھر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے قرآنِ مجید کی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ انجام ہمیشہ متقین کے لیے ہے، اور ظالم اپنے انجام کو پہنچ کر رہتا ہے۔
اس وقت دربار میں شاید بہت سے لوگ پہلی مرتبہ محسوس کر رہے تھے کہ تخت پر بیٹھا شخص ظاہری طور پر فاتح ضرور ہے، مگر اخلاقی طور پر شکست کھا چکا ہے۔
اور اسیر خاتون بظاہر بے بس ضرور ہے، مگر تاریخ اسی کے حق میں گواہی دے رہی ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنی گفتگو کو اللہ تعالیٰ کی حمد پر ختم کیا۔
آپؑ نے واضح کر دیا کہ اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی عزت کسی تخت یا سلطنت کی محتاج نہیں۔
ان کی عزت اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے رسول ﷺ اور اپنے پیغام کے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔
اس دن دربارِ یزید میں ایک عجیب منظر تھا۔
تخت خاموش تھا…مگر حق بول رہا تھا۔
اقتدار موجود تھا…مگر اس کے پاس جواب نہ تھا۔
زنجیریں موجود تھیں…مگر آزاد روح ان کے اندر کھڑی تھی۔
اور اسی لمحے تاریخ نے فیصلہ سنا دیا۔
کربلا میں حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے اسلام کو زندگی دی تھی۔
اور شام میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبے سے اس زندگی کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔
میرے عزیز دوستو!
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا یہ اعلان صرف یزید کے لیے نہیں تھا۔ یہ ہر دور کے ظالم کے لیے ہے۔
ظلم کچھ عرصہ غالب آ سکتا ہے۔ مگر سچائی کو ختم نہیں کر سکتا۔
جھوٹ شور مچا سکتا ہے۔ مگر حق کی روشنی بجھا نہیں سکتا۔
اسی لیے جب بھی دنیا میں ظلم بڑھتا ہے، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی آواز پھر سنائی دیتی ہے:
“فَوَاللَّهِ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا…”
“اللہ کی قسم! تم ہمارا ذکر کبھی مٹا نہیں سکو گے۔”
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا جیسا یقین، حوصلہ اور حق گوئی عطا فرما۔
ہمیں ایسے ایمان سے نواز کہ ہم حالات سے نہیں، تیری ذات سے امید رکھیں۔
ہمیں ظلم کے سامنے خاموش تماشائی نہ بنا، بلکہ حق کے گواہ بننے کی توفیق عطا فرما۔
اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھ، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعادت عطا فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 21
” حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا خطبۂ شام ۔۔۔ آخری حصہ ”
“حق کی آواز کبھی نہیں مرتی”
دربارِ یزید پر گہرا سکوت طاری تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا حق کی گواہی کو اس مقام تک پہنچا چکی تھیں جہاں ظلم کے پاس کوئی جواب باقی نہ رہا تھا۔
یزید اپنے تخت پر ضرور بیٹھا تھا، مگر الفاظ کی جنگ میں وہ خاموش ہو چکا تھا۔
اب حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبے کو اللہ تعالیٰ کی حمد پر ختم کرتے ہوئے فرمایا:
وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الَّذِي خَتَمَ لِأَوَّلِنَا بِالسَّعَادَةِ وَالْمَغْفِرَةِ، وَلِآخِرِنَا بِالشَّهَادَةِ وَالرَّحْمَةِ، وَنَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُكْمِلَ لَهُمُ الثَّوَابَ، وَيُوجِبَ لَهُمُ الْمَزِيدَ، وَيُحْسِنَ عَلَيْنَا الْخِلَافَةَ، إِنَّهُ رَحِيمٌ وَدُودٌ، وَحَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔
ترجمہ:
“تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، جس نے ہمارے پہلے بزرگوں کا انجام سعادت اور مغفرت پر فرمایا، اور ہمارے آخری افراد کو شہادت اور اپنی رحمت سے سرفراز کیا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کے اجر کو کامل فرمائے، اپنے فضل سے انہیں مزید عطا کرے، اور ان کے بعد ہماری بہترین نگہبانی فرمائے۔ بے شک وہ نہایت مہربان، بے حد محبت فرمانے والا ہے، اور ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے، اور وہی بہترین کارساز ہے۔”
یہ الفاظ سن کر محسوس ہوتا تھا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کو صرف ایک سانحہ نہیں، بلکہ اللہ کی رضا اور اس کی حکمت کے آئینے میں دیکھا تھا۔
جہاں لوگوں کو صرف شہادتیں دکھائی دے رہی تھیں، وہاں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو اللہ کی رحمت نظر آ رہی تھی۔
جہاں دنیا اسیری کو ذلت سمجھ رہی تھی، وہاں آپؑ اسے حق کی سربلندی کا ذریعہ قرار دے رہی تھیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے پورے خطبے میں ایک مرتبہ بھی اپنی ذات کے لیے کوئی شکوہ نہیں کیا۔
نہ اپنے دکھ کا نوحہ کیا۔
نہ اپنی اسیری پر افسوس ظاہر کیا۔
بلکہ ہر جملہ دینِ اسلام، اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی عظمت، اور ظلم کے انجام کی ترجمانی کرتا رہا۔
یہی اس خطبے کی سب سے بڑی عظمت ہے۔
اس وقت دربار میں ظاہری طاقت یزید کے پاس تھی۔
تخت بھی اسی کا تھا۔
سپاہ بھی اسی کی تھی۔
حکم بھی اسی کا چل رہا تھا۔
لیکن اخلاقی قوت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے پاس تھی۔ اور تاریخ نے ہمیشہ اخلاقی قوت کو ہی زندہ رکھا ہے۔
وقت گزرتا گیا۔
یزید کی سلطنت ختم ہو گئی۔
اس کے محلات ویران ہو گئے۔
اس کے درباری مٹی میں مل گئے۔
مگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا یہ خطبہ آج بھی دنیا بھر میں حق، صبر اور استقامت کی علامت کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔
یہی اس خطبے کی سب سے بڑی فتح ہے۔
کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے حق کی حفاظت کی۔
اور شام میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنی زبان سے اس خون کے پیغام کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔
یوں تلوار اپنا کام کر چکی تھی…
اب قلم اور زبان نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا خاموش ہو گئیں۔
مگر ان کی خاموشی بھی ایک پیغام تھی۔
ایسا پیغام جو صدیوں بعد بھی اہلِ حق کے دلوں میں زندہ ہے۔
میرے عزیز دوستو!
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا خطبہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سچائی کی طاقت صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی۔
کبھی ایک مظلوم کی زبان بھی ظلم کے مضبوط ترین تخت کو ہلا دیتی ہے۔
اگر انسان حق پر ہو، اللہ پر بھروسہ رکھتا ہو، اور اپنے مقصد میں مخلص ہو، تو اس کے الفاظ صدیوں تک زندہ رہتے ہیں۔
اسی لیے آج بھی کربلا کا پیغام زندہ ہے، کیونکہ اسے صرف خون نے نہیں، بلکہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی حق گوئی نے بھی محفوظ کیا۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا جیسا ایمان، صبر، استقامت اور حق گوئی عطا فرما۔
ہمیں ہر حال میں حق کا ساتھ دینے، ظلم کے سامنے ڈٹ جانے، اور اپنے کردار سے دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمارے دلوں کو اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت سے ہمیشہ منور رکھ، اور ہمیں ان کی سیرت پر چلتے ہوئے حق کی گواہی دینے والوں میں شامل فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 22
” دربارِ یزید ۔۔۔ جب حق کی ایک اور آواز بلند ہونے لگی ”
حضرت زینب سلام اللہ علیہا خاموش ہو چکی تھیں۔ مگر ان کی خاموشی بھی دربارِ یزید میں گونج رہی تھی۔
چند لمحے پہلے تک یزید اپنے اقتدار، اپنی سلطنت اور اپنی فتح پر نازاں تھا۔
مگر اب وہی دربار، جہاں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کو رسوا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے الفاظ سے لرز اٹھا تھا۔
ہر طرف ایک عجیب سکوت چھا گیا۔ درباری ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔
بعض کے سر جھکے ہوئے تھے۔کئی چہروں پر حیرت نمایاں تھی۔ اور خود یزید بھی چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گیا۔
اس نے شاید کبھی یہ تصور بھی نہ کیا تھا کہ ایک اسیر خاتون، جس نے چند روز پہلے اپنے بھائی، اپنے بھتیجوں اور اپنے خاندان کے جوانوں کی شہادت دیکھی ہو، اس قدر جرأت، حکمت اور وقار کے ساتھ اس کے سامنے کھڑی ہو جائے گی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے نہ کوئی رحم کی اپیل کی۔ نہ اپنی اسیری کا شکوہ کیا۔ نہ دنیاوی سہولت کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے صرف حق کی گواہی دی۔اور یہی گواہی یزید کے لیے سب سے بڑا جواب بن گئی۔
دربار کی فضا بدل چکی تھی۔
جن لوگوں کو اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے بارے میں صرف سرکاری پروپیگنڈا سنایا گیا تھا، وہ آج پہلی مرتبہ رسولِ اکرم ﷺ کے گھرانے کی عظمت، ان کے صبر اور ان کے ایمان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
یزید نے محسوس کیا کہ اگر یہ گفتگو اسی طرح جاری رہی، تو دربار میں موجود لوگوں کے دل بدل سکتے ہیں۔
اسے خطرہ تھا کہ جو مجلس اس نے اپنی فتح کے اعلان کے لیے سجائی تھی، وہ کہیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کے حق میں گواہی نہ بن جائے۔
اسی اثنا میں دربار میں موجود ایک نوجوان پر سب کی نگاہیں ٹھہر گئیں۔
وہ بیماری اور سفر کی مشقت سے کمزور ضرور تھے، مگر ان کے چہرے پر نبوی نور، علوی وقار اور حسینی صبر جھلک رہا تھا۔
یہ تھے…
حضرت امام علی بن الحسین، زین العابدین علیہ السلام۔
کربلا کے واحد نوجوان مرد زندہ گواہ۔۔۔امام حسین علیہ السلام کے فرزند۔
اور امامت کی اس عظیم ذمہ داری کے امین، جو کربلا کے بعد آپ کے سپرد ہو چکی تھی۔
یزید کی نظریں بھی اب ان کی طرف اٹھیں۔
شاید وہ سمجھ رہا تھا کہ بیماری اور اسیری نے اس نوجوان کو خاموش کر دیا ہوگا۔
مگر اسے معلوم نہ تھا کہ جس گھرانے کی خواتین نے دربار کو جھنجھوڑ دیا، اس گھرانے کا امام بھی خاموش رہنے کے لیے نہیں آیا تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ اس وقت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے یزید سے خطاب کرنے کی اجازت طلب کی۔
ابتدا میں یزید نے ہچکچاہٹ ظاہر کی۔
وہ جانتا تھا کہ اگر اس نوجوان نے بھی اپنے خاندان کی طرح حق بیان کیا، تو اس کے دربار کی ظاہری شان بکھر سکتی ہے۔
بعض درباریوں نے بھی یزید کو متنبہ کیا کہ انہیں بولنے کا موقع نہ دیا جائے۔
مگر مجمع کی خواہش اور حالات کے دباؤ کے باعث، بالآخر حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کو گفتگو کی اجازت مل گئی۔
یہ اجازت دراصل یزید کی مجبوری تھی…
اور حق کے ایک نئے باب کا آغاز۔
اب دربارِ شام میں ایک اور آواز بلند ہونے والی تھی۔
وہ آواز، جس میں رسولِ اکرم ﷺ کے خاندان کا تعارف تھا۔
وہ آواز، جو لوگوں کو بتانے والی تھی کہ اسیر بنا کر لائے جانے والے یہ لوگ کون ہیں۔
اور وہ آواز، جو یزید کے تمام پروپیگنڈے کو چند لمحوں میں بے نقاب کر دینے والی تھی۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام منبر کی طرف بڑھے…
دربار میں مکمل خاموشی تھی۔سب نظریں اسی نوجوان پر جمی ہوئی تھیں۔ اور تاریخ ایک نئے خطبے کی منتظر تھی۔
(جاری ہے۔۔۔)
میرے عزیز دوستو!
حق کی آواز کو دبانے کی کوشش وقتی طور پر کامیاب دکھائی دے سکتی ہے، لیکن جب وہ آواز سچائی، کردار اور اللہ پر یقین سے بلند ہو، تو اسے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے بعد حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا کھڑا ہونا اس حقیقت کی علامت تھا کہ کربلا کا پیغام ایک فرد کے ساتھ ختم نہیں ہوا، بلکہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوا۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حق کو پہچاننے والی بصیرت، اسے بیان کرنے کا حوصلہ، اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت، ان کے صبر، ان کی حکمت اور ان کی سیرت سے روشنی حاصل کرنے کی سعادت عطا فرما۔
ہمارے دلوں کو حق کے لیے زندہ رکھ، اور ہماری زبانوں کو ہمیشہ سچائی کا ترجمان بنا۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
………………..
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 22
” دربارِ یزید ۔۔۔ امام زین العابدین علیہ السلام کا تاریخی خطبہ (حصہ اوّل) ”
دربار پر مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
سب کی نگاہیں اس نوجوان اسیر پر مرکوز تھیں، جسے ابھی ابھی گفتگو کی اجازت ملی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ کھڑے ہوئے۔
بیماری نے جسم کو کمزور ضرور کر دیا تھا، مگر چہرے پر نبوت کا نور، امامت کا وقار اور صبرِ حسینی کی جھلک نمایاں تھی۔
آپ منبر کے قریب تشریف لے گئے۔
لوگ ہمہ تن گوش تھے۔
کسی کو اندازہ نہ تھا کہ اگلے چند لمحوں میں ایک ایسا خطبہ سننے کو ملے گا، جو بنی اُمیہ کے برسوں کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دے گا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، رسولِ اکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجا، پھر نہایت وقار سے فرمایا:
أَيُّهَا النَّاسُ، أُعْطِينَا سِتًّا، وَفُضِّلْنَا بِسَبْعٍ…
ترجمہ:
“اے لوگو! ہمیں اللہ تعالیٰ نے چھ عظیم صفات عطا فرمائیں، اور سات ایسی فضیلتوں سے ممتاز فرمایا جن میں کوئی ہمارا شریک نہیں۔”
پھر امام علیہ السلام نے فرمایا:
أُعْطِينَا الْعِلْمَ، وَالْحِلْمَ، وَالسَّمَاحَةَ، وَالْفَصَاحَةَ، وَالشَّجَاعَةَ، وَالْمَحَبَّةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ۔
ترجمہ:
“ہمیں علم عطا کیا گیا، حلم عطا کیا گیا، سخاوت عطا کی گئی، فصاحت عطا کی گئی، شجاعت عطا کی گئی، اور اہلِ ایمان کے دلوں میں ہماری محبت رکھی گئی۔”
یہ تعارف کسی ذاتی فخر کے لیے نہ تھا۔
یہ اس امت کو اس کی بھولی ہوئی حقیقت یاد دلانے کے لیے تھا۔
وہ لوگ جنہیں یزید نے باغی قرار دیا تھا، امام علیہ السلام بتا رہے تھے کہ وہ کون ہیں۔
وہ کسی قبیلے کے سردار نہیں تھے۔ وہ رسولِ اکرم ﷺ کے گھرانے کے وارث تھے۔
پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا:
وَفُضِّلْنَا بِأَنَّ مِنَّا النَّبِيَّ الْمُخْتَارَ مُحَمَّدًا ﷺ، وَمِنَّا الصِّدِّيقَ، وَمِنَّا الطَّيَّارَ، وَمِنَّا أَسَدَ اللَّهِ وَأَسَدَ رَسُولِهِ، وَمِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ۔
ترجمہ:
“ہمیں اس بات سے فضیلت دی گئی کہ ہم ہی میں اللہ کے برگزیدہ رسول حضرت محمد ﷺ ہیں، ہم ہی میں صدیق ہیں، ہم ہی میں جعفرِ طیار ہیں، ہم ہی میں اللہ اور اس کے رسول کے شیر (حضرت علی علیہ السلام) ہیں، اور ہم ہی میں اس امت کے دو سردار جوانانِ جنت، حسن اور حسین علیہم السلام ہیں۔”
یہ سنتے ہی دربار کی فضا بدلنے لگی۔
لوگ ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھنے لگے۔
بہت سے افراد پہلی مرتبہ جان رہے تھے کہ جن قیدیوں کو ان کے سامنے لایا گیا ہے، وہ کوئی عام لوگ نہیں…
بلکہ رسول اللہ ﷺ کے اپنے اہلِ بیت ہیں۔
امام زین العابدین علیہ السلام نے ابھی اپنے خاندان کا تعارف ہی شروع کیا تھا…
اور یزید کے چہرے کے آثار بدلنے لگے۔
اسے محسوس ہوا کہ اگر یہ خطاب اسی انداز میں جاری رہا تو لوگوں کے دل اس کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔
لیکن امام علیہ السلام ابھی رکے نہیں تھے…
اب وہ اپنے نسب کا ایسا تعارف کرانے والے تھے جسے سن کر دربار پر ایک اور سکوت طاری ہو جائے گا۔
(خطبہ جاری ہے۔۔۔)
میرے عزیز دوستو!
انسان کی اصل پہچان اس کا نسب نہیں، بلکہ اس کا کردار ہے۔
لیکن جب حق کو چھپانے کے لیے کسی پاکیزہ خاندان کو بدنام کیا جائے، تو پھر حقیقت کو بیان کرنا ایک دینی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا یہ تعارف اپنی ذات کی تعریف نہیں تھا، بلکہ امت کو رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیت کی صحیح شناخت کرانا تھا۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی صحیح معرفت عطا فرما۔
ہمارے دلوں میں ان کی محبت کو مضبوط فرما، اور ہمیں ان کے علم، حلم، صبر اور کردار سے اپنی زندگی سنوارنے کی توفیق عطا فرما۔
حق کو پہچاننے والی نگاہ، حق کو قبول کرنے والا دل، اور حق پر قائم رہنے کی ہمت عطا فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
ایک اہم تحقیقی نوٹ
( یہ ابتدائی حصہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے خطبے کا معروف اور مستند آغاز ہے، جو متعدد قدیم مآخذ، خصوصاً الاحتجاج اور دیگر معتبر تاریخی کتب میں منقول ہے۔ یہ حصہ مجھے بہت بہت پسند ہے ۔۔ آپ تصور تو کیجئے ۔۔۔ ایک غمزدہ نوجوان کی استقامت ‘ آواز ‘ مدلل لہجہ اور خطاب کی فصاحت و بلاغت ۔۔۔ اللہ اللہ ۔۔صدقے)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 23
دربارِ یزید ۔۔۔ “میں مکہ اور منیٰ کا فرزند ہوں”
دربارِ یزید پر مکمل خاموشی طاری تھی۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اہلِ بیت علیہم السلام کی فضیلت بیان کرنے کے بعد اب اپنی گفتگو کا وہ حصہ شروع کیا، جس نے دربار میں موجود ہر شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
آپ علیہ السلام نے اپنے نام سے تعارف نہیں کرایا۔
نہ فرمایا کہ میں حسینؑ کا بیٹا ہوں۔
بلکہ ایسے انداز سے اپنی شناخت بیان کی کہ سننے والوں کے دل خود بخود رسولِ اکرم ﷺ کے خاندان کی طرف متوجہ ہونے لگے۔
آپؑ نے فرمایا:
أَنَا ابْنُ مَكَّةَ وَمِنًى، أَنَا ابْنُ زَمْزَمَ وَالصَّفَا.
ترجمہ:
“میں مکہ کا فرزند ہوں، میں منیٰ کا فرزند ہوں، میں زمزم اور صفا کا فرزند ہوں۔”
یہ صرف الفاظ نہ تھے۔
یہ پورے اسلام کی تاریخ کا تعارف تھا۔
مکہ…
جہاں سے توحید کا نور طلوع ہوا۔
منیٰ…
جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت زندہ ہوئی۔
زمزم…
جو اللہ کی رحمت کی نشانی ہے۔
صفا…
جہاں حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی سعی کو اللہ نے عبادت بنا دیا۔
امام زین العابدین علیہ السلام گویا فرما رہے تھے کہ ہم اسی گھرانے سے ہیں، جس سے اسلام کی بنیاد وابستہ ہے۔
پھر آپؑ نے فرمایا:
أَنَا ابْنُ مَنْ حَمَلَ الرُّكْنَ بِأَطْرَافِ الرِّدَاءِ.
ترجمہ:
“میں اس ہستی کا فرزند ہوں جس نے حجرِ اسود کو اپنی چادر کے کناروں سے اٹھایا تھا۔”
یہ اشارہ رسولِ اکرم ﷺ کے اس معروف واقعے کی طرف تھا، جب خانۂ کعبہ کی تعمیر کے بعد قبائل میں حجرِ اسود نصب کرنے پر اختلاف ہوا، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی حکمت سے سب قبائل کو اس سعادت میں شریک فرمایا۔
دربار میں بہت سے لوگ یہ واقعہ جانتے تھے۔
جیسے ہی امام علیہ السلام نے یہ جملہ فرمایا، کئی نگاہیں جھک گئیں۔
پھر آپؑ نے فرمایا:
أَنَا ابْنُ خَيْرِ مَنِ ائْتَزَرَ وَارْتَدَى، أَنَا ابْنُ خَيْرِ مَنِ انْتَعَلَ وَاحْتَفَى.
ترجمہ:
“میں اس بہترین ہستی کا فرزند ہوں جس نے لباس پہنا، میں اس بہترین ہستی کا فرزند ہوں جس نے جوتے پہنے اور ننگے پاؤں بھی اللہ کی راہ میں چلے۔”
امام علیہ السلام ابھی رسولِ اکرم ﷺ کا نام نہیں لے رہے تھے۔
لیکن ہر جملہ سننے والوں کے دل میں ایک ہی مبارک ہستی کا نقش واضح کرتا جا رہا تھا۔
دربار میں ایک عجیب کیفیت پیدا ہو گئی۔
جو لوگ ابھی تک اہلِ بیت علیہم السلام کو صرف قیدی سمجھ رہے تھے، اب انہیں احساس ہونے لگا کہ یہ وہی خاندان ہے جس پر اسلام کی بنیاد قائم ہوئی۔
یزید کے چہرے کے آثار بدلنے لگے۔
اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ خطبہ صرف ایک تقریر نہیں…
بلکہ اس کے اقتدار کے خلاف ایک خاموش انقلاب ہے۔
اور امام زین العابدین علیہ السلام ابھی رکے نہیں تھے۔
اب وہ اپنے جدِ امجد، رسولِ اکرم ﷺ کا ایسا تعارف کرانے والے تھے کہ دربار کی فضا اشکبار ہو جائے گی۔
( خطبہ جاری ہے۔۔۔)
میرے عزیز دوستو!
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے ہمیں یہ سکھایا کہ اپنی شناخت دولت، اقتدار یا دنیاوی حیثیت سے نہیں، بلکہ حق، ایمان اور اپنے کردار سے ہوتی ہے۔
جب انسان سچائی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو اس کی اصل پہچان خود اس کے الفاظ سے ظاہر ہو جاتی ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں اپنے دین کی صحیح معرفت عطا فرما۔
ہمیں رسولِ اکرم ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت میں سچا اور ثابت قدم بنا۔
ہماری شناخت بھی ایمان، تقویٰ اور حق کے ساتھ وابستہ فرما، نہ کہ دنیا کی عارضی شان و شوکت کے ساتھ۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 24
دربارِ یزید ۔۔۔ “میں اس ہستی کا فرزند ہوں…”
دربارِ شام پر ایسی خاموشی طاری تھی کہ ہر لفظ دلوں پر نقش ہو رہا تھا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نہایت وقار اور اطمینان کے ساتھ اپنے آباؤ اجداد کا تعارف کروا رہے تھے۔
یہ کسی خاندان کی تعریف نہ تھی… یہ امت کو اس کی بھولی ہوئی حقیقت یاد دلانے کا لمحہ تھا۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا:
أَنَا ابْنُ خَيْرِ مَنْ طَافَ وَسَعَى، أَنَا ابْنُ خَيْرِ مَنْ حَجَّ وَلَبَّى.
ترجمہ:
“میں اس بہترین ہستی کا فرزند ہوں جس نے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا و مروہ کی سعی کی، حج ادا کیا اور لبیک کی صدا بلند کی۔”
پھر آپؑ نے فرمایا:
أَنَا ابْنُ مَنْ أُسْرِيَ بِهِ مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى.
ترجمہ:
“میں اس ہستی کا فرزند ہوں جنہیں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک شبِ معراج لے جایا گیا۔”
یہ سنتے ہی دربار میں ایک ہلچل سی پیدا ہوئی۔
اب کسی کے لیے بھی یہ سمجھنا مشکل نہ رہا کہ امام زین العابدین علیہ السلام اپنے جدِ امجد، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ذکر فرما رہے ہیں۔
آپؑ نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا:
أَنَا ابْنُ مَنْ بَلَغَ بِهِ جِبْرَئِيلُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى.
ترجمہ:
“میں اس ہستی کا فرزند ہوں جنہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے۔”
پھر فرمایا:
أَنَا ابْنُ مَنْ دَنَا فَتَدَلَّى، فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى.
ترجمہ:
“میں اس ہستی کا فرزند ہوں جو قربِ الٰہی کے اس مقام تک پہنچے کہ دو کمانوں کے فاصلے سے بھی زیادہ قریب ہو گئے۔”
امام زین العابدین علیہ السلام کے یہ الفاظ دربار کی فضا کو بدل رہے تھے۔
لوگوں کے دلوں سے غلط فہمیاں دور ہو رہی تھیں۔
جن قیدیوں کو باغی کہا گیا تھا، وہ دراصل رسولِ اکرم ﷺ کے گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔
کئی آنکھیں اشکبار ہو چکی تھیں۔
کئی دل پشیمانی سے بھر گئے تھے۔
اور یزید…اپنے تخت پر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔
اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اگر یہ خطبہ اسی طرح جاری رہا تو اس کی برسوں کی سیاسی مہم چند لمحوں میں ختم ہو جائے گی۔
لیکن امام علیہ السلام ابھی رکے نہیں تھے۔
اب وہ اپنے والد، سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا ایسا تعارف کرانے والے تھے، جو دربار کے ہر دل کو ہلا دے گا۔
( خطبہ جاری ہے۔۔۔)
میرے عزیز دوستو!
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے خطبے میں یہ نہیں فرمایا کہ “ہم مظلوم ہیں، ہمارے ساتھ ہمدردی کرو۔”
بلکہ آپؑ نے امت کو یاد دلایا کہ ہم وہی خاندان ہیں جس پر اللہ نے اپنی سب سے بڑی نعمتیں نازل فرمائیں۔
جب انسان اپنی اصل پہچان اللہ سے جوڑ لیتا ہے، تو دنیا کی کوئی طاقت اس کی عزت چھین نہیں سکتی۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں اپنے محبوب رسول حضرت محمد ﷺ کی سچی محبت عطا فرما۔
ہمیں اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی معرفت، محبت اور اتباع نصیب فرما۔
ہماری زبان کو حق کہنے کی ہمت، ہمارے دل کو ایمان کی روشنی، اور ہمارے کردار کو تقویٰ کی خوشبو عطا فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 25
دربارِ یزید ۔۔۔ “میں علیؑ اور حسینؑ کا فرزند ہوں”
دربارِ شام پر ایسی خاموشی چھائی ہوئی تھی کہ ہر لفظ دلوں میں اتر رہا تھا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ایک ایک جملے کے ساتھ اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی عظمت کو لوگوں کے سامنے آشکار کر رہے تھے۔
ہر تعارف کے ساتھ یزید کا چہرہ بدل رہا تھا…
اور ہر جملے کے ساتھ حاضرین کی آنکھوں سے پردے اٹھتے جا رہے تھے۔
پھر امام علیہ السلام نے فرمایا:
أَنَا ابْنُ عَلِيٍّ الْمُرْتَضَى.
ترجمہ:
“میں علی المرتضیٰ کا فرزند ہوں۔”
یہ صرف ایک نام نہ تھا۔
یہ اس شخصیت کا تعارف تھا جس نے رسول اللہ ﷺ کی آغوش میں پرورش پائی، جس نے اسلام کے ہر نازک مرحلے میں دین کا دفاع کیا، اور جسے رسول اللہ ﷺ نے متعدد مواقع پر اپنی قربت اور فضیلت سے نوازا۔
پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا:
أَنَا ابْنُ فَاطِمَةَ الزَّهْرَاءِ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ.
ترجمہ:
“میں فاطمہ زہراؑ کا فرزند ہوں، جو تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں۔”
یہ سنتے ہی دربار میں ایک اور خاموشی چھا گئی۔
لوگوں کو پہلی مرتبہ شدت سے احساس ہوا کہ جنہیں قیدی بنا کر لایا گیا ہے، وہ حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا، رسول اللہ ﷺ کی لختِ جگر، سیدۃ نساء العالمین کی اولاد ہیں۔
پھر امام زین العابدین علیہ السلام کی آواز مزید رقت آمیز ہو گئی۔
آپ نے فرمایا:
أَنَا ابْنُ الْحُسَيْنِ الْمَقْتُولِ بِكَرْبَلَاء.
ترجمہ:
“میں حسین کا فرزند ہوں، جنہیں کربلا میں شہید کیا گیا۔”
پھر فرمایا:
أَنَا ابْنُ مَنْ قُتِلَ عَطْشَانًا، أَنَا ابْنُ مَنْ سُلِبَ رِدَاؤُهُ وَعِمَامَتُهُ.
ترجمہ:
“میں اس کا فرزند ہوں جسے پیاسا شہید کیا گیا۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کی چادر اور عمامہ بھی لوٹ لیے گئے۔”
اب دربار کی فضا پہلے جیسی نہ رہی۔
بہت سے لوگوں کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔
جنہیں صرف اتنا بتایا گیا تھا کہ کچھ باغیوں کو قتل کیا گیا ہے، وہ اب حقیقت جان رہے تھے۔
یہ باغیوں کا قافلہ نہیں تھا…یہ رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیت کا قافلہ تھا۔
یزید اپنے تخت پر بے چین ہو کر پہلو بدلنے لگا۔
وہ محسوس کر رہا تھا کہ امام زین العابدین علیہ السلام کا ہر جملہ اس کے اقتدار کی بنیادیں ہلا رہا ہے۔
لوگوں کے دل بدل رہے تھے۔
فضا بدل رہی تھی۔
اور تاریخ بھی بدل رہی تھی۔
امام علیہ السلام ابھی خاموش نہیں ہوئے تھے…
اب وہ اپنے والدِ گرامی حضرت امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت کا ایسا بیان فرمانے والے تھے کہ دربار میں کہرام برپا ہو جائے گا۔
(خطبہ جاری ہے۔۔۔)
میرے عزیز دوستو!
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے نسب کا تعارف فخر کے لیے نہیں کرایا۔
آپ کا مقصد امت کو یہ بتانا تھا کہ جن لوگوں پر ظلم ہوا، وہ کوئی عام خاندان نہیں، بلکہ رسولِ اکرم ﷺ کے گھرانے کے افراد تھے۔
جب حق کو چھپانے کی کوشش کی جائے، تو حق کا تعارف کرانا بھی عبادت بن جاتا ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی سچی محبت، صحیح معرفت اور ان کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں حق کو پہچاننے والی آنکھ، سچ بولنے والی زبان، اور ظلم کے سامنے ڈٹ جانے والا ایمان عطا فرما۔
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت کو ہمارے ایمان کی زینت بنا۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر”
قسط نمبر 26
“ اذان کی آواز… اور یزید کا خاموش ہو جانا ”
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اپنے آباؤ اجداد کا تعارف کراتے ہوئے اس مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں حق کی پوری حقیقت آشکار ہونے والی تھی۔
آپؑ نے نہایت درد بھرے لہجے میں فرمایا:
أَنَا ابْنُ الْحُسَيْنِ الْمَقْتُولِ بِكَرْبَلَاء، أَنَا ابْنُ الْمَذْبُوحِ بِشَطِّ الْفُرَاتِ، أَنَا ابْنُ مَنْ قُتِلَ عَطْشَانًا.
ترجمہ:
“میں حسینؑ کا فرزند ہوں جنہیں کربلا میں شہید کیا گیا۔ میں اس ہستی کا فرزند ہوں جنہیں دریائے فرات کے کنارے ذبح کیا گیا۔ میں اس کا فرزند ہوں جسے پیاسا شہید کیا گیا۔”
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے الفاظ دربارِ شام میں گونج رہے تھے۔
ہر جملہ دلوں پر اثر کر رہا تھا۔
اب یہ کسی قیدی کی گفتگو نہ تھی…
یہ حق کی گواہی تھی۔
دربار میں موجود بہت سے لوگوں کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔
کئی لوگ بے اختیار آہیں بھر رہے تھے۔
جنہیں چند روز پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ کچھ باغیوں کو قتل کر کے لایا گیا ہے، وہ اب جان چکے تھے کہ یہ تو رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیت ہیں۔
یزید نے حاضرین کے بدلتے ہوئے چہرے دیکھے۔ اس نے محسوس کیا کہ مجلس اس کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ جس دربار کو اس نے اپنی فتح کا اعلان کرنے کے لیے سجایا تھا، وہی دربار اب اس کے خلاف گواہی دے رہا تھا۔ تاریخ میں آتا ہے کہ اسی موقع پر یزید نے خطبے کو روکنے کے لیے مؤذن کو اذان دینے کا حکم دیا۔
مؤذن نے اذان شروع کی۔
جب آواز آئی :
“الله أكبر، الله أكبر”
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا:
“اللہ سب سے بڑا ہے، اس سے بڑھ کر کوئی عظمت نہیں۔”
پھر مؤذن نے کہا:
“أشهد أن لا إله إلا الله”
امام علیہ السلام نے فرمایا:
“میرے دل، میری زبان اور میرے وجود کا ذرہ ذرہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔”
دربار خاموش تھا۔ ہر نگاہ امام زین العابدین علیہ السلام کی طرف اٹھی ہوئی تھی۔
پھر مؤذن نے بلند آواز سے کہا:
“أشهد أن محمدًا رسول الله ﷺ”
یہ الفاظ سنتے ہی حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے یزید کی طرف رخ فرمایا اور نہایت وقار سے پوچھا:
“اے یزید! بتاؤ، یہ محمد ﷺ جن کا نام ابھی لیا گیا، کیا وہ میرے نانا ہیں یا تمہارے؟”
پھر فرمایا:
“اگر تم کہو کہ وہ تمہارے نانا ہیں تو تم جھوٹ کہتے ہو، اور اگر مانتے ہو کہ وہ میرے نانا ہیں، تو پھر تم نے ان کی اولاد کو کیوں قتل کیا؟ کیوں انہیں قید کیا؟ اور کیوں ان کے اہلِ بیت کو اس حال میں درباروں میں پھرایا؟”
یہ سوال کسی ایک شخص سے نہ تھا…یہ تاریخ کے ضمیر سے سوال تھا۔ یزید کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔
روایات میں آتا ہے کہ دربار پر ایک بار پھر گہرا سکوت چھا گیا۔
بہت سے حاضرین اشکبار ہو گئے۔
حق اپنی پوری روشنی کے ساتھ سامنے آ چکا تھا۔
یزید نے محسوس کیا کہ اب مزید خاموش رہنا بھی اس کے لیے مشکل ہے، اور جواب دینا بھی ممکن نہیں۔
اس دن دربارِ شام میں ایک بیمار اور اسیر امام نے بغیر کسی لشکر، بغیر کسی ہتھیار اور بغیر کسی ظاہری طاقت کے، صرف حق کے سہارے ظلم کے ایوان کو لرزا دیا۔
میرے عزیز دوستو!
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے ہمیں یہ سبق دیا کہ سچائی کی سب سے بڑی طاقت دلیل ہوتی ہے۔ تلواریں جسموں کو زخمی کر سکتی ہیں، لیکن حق پر مبنی ایک سوال جھوٹ کی پوری عمارت کو ہلا دیتا ہے۔ جب انسان اللہ پر بھروسہ رکھ کر حق بات کہتا ہے، تو اس کی آواز صدیوں بعد بھی زندہ رہتی ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حق کو پہچاننے، اسے قبول کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت، ان کی سیرت سے وابستگی، اور حق کی خاطر ہر آزمائش کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطا فرما۔
ہماری زبان کو سچائی کا ترجمان اور ہمارے دل کو ایمان کی روشنی سے منور فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 27
“حق کی فتح… اور یزید کی بے بسی”
دربارِ شام پر ایسی خاموشی طاری تھی جیسے وقت خود ٹھہر گیا ہو۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا وہ سوال، جس کا جواب یزید کے پاس نہ تھا، حاضرین کے دلوں میں گونج رہا تھا۔
“اے یزید! بتاؤ، رسولِ خدا ﷺ میرے نانا ہیں یا تمہارے؟”
کوئی بول نہ سکا۔
یزید بھی خاموش رہا۔
اس کی نگاہیں کبھی درباریوں پر پڑتیں اور کبھی اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی طرف اٹھتیں۔
اب وہ سمجھ چکا تھا کہ جس مقصد کے لیے اس نے اسیرانِ کربلا کو شام لانے کا منصوبہ بنایا تھا، وہ اس کے بالکل برعکس ثابت ہوا۔
وہ چاہتا تھا کہ لوگ اہلِ بیتؑ کو باغی سمجھیں، مگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور امام زین العابدین علیہ السلام کے خطبات نے ہر پردہ چاک کر دیا۔
دربار میں بیٹھے بہت سے لوگ آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے۔
“یہ اگر واقعی رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت ہیں، تو ان کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا؟”
“حسینؑ کا قصور کیا تھا؟”
یہ سوال اب صرف دربار تک محدود نہ رہے۔
ان کی بازگشت شام کی گلیوں تک پہنچنے لگی۔
تاریخی روایات کے مطابق، یزید نے محسوس کیا کہ حالات اس کے قابو سے نکلتے جا رہے ہیں۔
اس نے اپنی ذمہ داری سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی اور بعض مواقع پر قتلِ امام حسین علیہ السلام کا بوجھ عبید اللہ بن زیاد پر ڈالنے لگا۔
یہ اس کی سیاسی مجبوری بھی تھی اور عوامی ردِعمل کا خوف بھی۔
لیکن حقیقت کو اب چھپانا ممکن نہ تھا۔
شام کے وہ لوگ، جنہوں نے برسوں صرف سرکاری بیانیہ سنا تھا، پہلی مرتبہ رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
ان کے صبر، وقار اور ایمان نے وہ کام کر دکھایا جو ہزاروں خطبے بھی نہ کر سکتے تھے۔
یزید کے چہرے سے فتح کی خوشی غائب ہو چکی تھی۔ اس کی جگہ اضطراب اور بے چینی نے لے لی تھی۔
دربار ختم تو ہو گیا، لیکن امام زین العابدین علیہ السلام کے الفاظ ختم نہ ہوئے۔
وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہو گئے تھے۔
حق کی یہی پہچان ہے… اسے دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔
اب شام کی فضا بدلنے لگی تھی۔
لوگ اہلِ بیت علیہم السلام کے بارے میں مزید جاننا چاہتے تھے، اور یزید اس بڑھتی ہوئی بیداری سے خوفزدہ تھا۔
یہی وہ لمحہ تھا جہاں کربلا کی تلواروں سے شروع ہونے والی جنگ، دلوں اور ضمیروں کی فتح میں بدل رہی تھی۔
میرے عزیز دوستو!
ظلم وقتی طور پر طاقت ور دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔
امام زین العابدین علیہ السلام نے ہمیں سکھایا کہ صبر، حکمت اور حق پر قائم رہنا وہ قوت ہے جو باطل کے سب سے مضبوط ایوان کو بھی ہلا دیتی ہے۔
آواز اگر سچی ہو، تو وہ قید خانوں سے نکل کر نسلوں تک پہنچتی ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حق کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور ہر حال میں انصاف کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرما۔
ہمارے دلوں میں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت ہمیشہ زندہ رکھ، اور ہمیں ان کے صبر، حلم اور استقامت سے سبق لینے والا بنا۔
ہمیں ہر قسم کے ظلم سے محفوظ رکھ اور ہمیشہ سچائی کے راستے پر قائم رکھ۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
* تحقیقی نوٹ
( اس قسط میں بیان کیا گیا کہ یزید نے بعد میں قتلِ امام حسینؑ کی ذمہ داری عبید اللہ بن زیاد پر ڈالنے کی کوشش کی۔ یہ مضمون متعدد قدیم تاریخی مصادر، جیسے تاریخ طبری، انساب الأشراف اور دیگر روایات میں مختلف الفاظ کے ساتھ ملتا ہے۔ تاہم یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ مورخین اس واقعے کی جزئیات میں مختلف تعبیرات بیان کرتے ہیں۔ اس لیے یہاں وہی بات شامل کی گئی ہے جس پر تاریخی روایات کا عمومی مفہوم قائم ہے۔ شکریہ
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر
قسط نمبر 28
“شام کی فضا بدلنے لگی… اور یزید کی پسپائی”
دربارِ شام میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے خطبے اور حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے بے مثال خطاب کے بعد حالات پہلے جیسے نہ رہے۔
وہ لوگ جو چند روز پہلے اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کو دشمن سمجھ رہے تھے، اب انہی مقدس ہستیوں کے احترام میں سر جھکانے لگے تھے۔
شام کی گلیوں اور بازاروں میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا۔
“اگر یہ واقعی رسولِ خدا ﷺ کے اہلِ بیت ہیں، تو ان کے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا؟”
یہ سوال یزید کے محل تک پہنچ چکا تھا۔
یزید نے محسوس کیا کہ عوام کی ہمدردیاں آہستہ آہستہ اہلِ بیت علیہم السلام کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔
جس کامیابی کا جشن منانے کے لیے اس نے یہ دربار سجایا تھا، وہ اب اس کی سیاسی ناکامی میں تبدیل ہو چکا تھا۔
تاریخی روایات کے مطابق، اس نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے قتلِ امام حسین علیہ السلام کی ذمہ داری عبید اللہ بن زیاد پر ڈالنے کی کوشش کی۔
وہ کہنے لگا کہ اگر وہ خود اس معاملے میں ہوتا تو ایسا نہ ہونے دیتا۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اب ایسے بیانات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والے سوالات کو خاموش نہیں کر سکتے تھے۔
حق اپنی منزل تک پہنچ چکا تھا۔
یزید نے حالات کو سنبھالنے کے لیے اہلِ بیت علیہم السلام کے ساتھ اپنا رویہ بدلنا شروع کیا۔
روایات میں آتا ہے کہ اس نے ان کے قیام و طعام کا بہتر انتظام کرنے کا حکم دیا اور ظاہری طور پر احترام کا اظہار کیا۔
مگر اہلِ بیت علیہم السلام جانتے تھے کہ دنیا کی کوئی آسائش کربلا کے زخموں کا مداوا نہیں بن سکتی۔
ان کے دل ابھی بھی میدانِ کربلا میں اپنے پیاروں کے ساتھ تھے۔
چند روز بعد یزید نے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے کہا:
“اگر آپ مدینہ واپس جانا چاہیں تو میں واپسی کا انتظام کر دیتا ہوں۔”
یہ پیشکش بظاہر احترام کی تھی، لیکن اس کے پیچھے عوامی دباؤ بھی نمایاں تھا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے اہلِ بیت سے مشورہ فرمایا۔
اسی موقع پر حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے ایک ایسی خواہش ظاہر کی جس نے وہاں موجود ہر شخص کو خاموش کر دیا۔
آپؑ نے فرمایا:
“ہم اپنے شہداء پر گریہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں چند دن ایسے دیے جائیں تاکہ ہم اپنے عزیزوں کا سوگ منا سکیں۔”
تاریخی روایات کے مطابق، یزید نے اس درخواست کو قبول کر لیا۔
شام کی سرزمین، جہاں چند روز پہلے اہلِ بیت علیہم السلام کو قیدیوں کی حیثیت سے لایا گیا تھا، اب وہیں ان کے مصائب پر آنسو بہائے جانے لگے۔
کہا جاتا ہے کہ بہت سی شامی عورتیں اہلِ بیت علیہم السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔
وہ روتیں، تعزیت کرتیں اور پہلی مرتبہ جان پاتی تھیں کہ کربلا میں رسولِ اکرم ﷺ کے خاندان پر کیا بیت چکی تھی۔
یہ صرف چند خواتین کا اجتماع نہ تھا…
یہ ظلم کے خلاف بیدار ہونے والے ضمیر کی پہلی اجتماعی صدا تھی۔
یزید اگرچہ تخت پر بیٹھا تھا، لیکن اخلاقی میدان میں وہ شکست کھا چکا تھا۔
اہلِ بیت علیہم السلام قید میں تھے، مگر تاریخ کی عدالت میں وہی فاتح تھے۔
میرے عزیز دوستو!
باطل اپنی طاقت کے زور پر لوگوں کو کچھ عرصہ خاموش تو کر سکتا ہے، لیکن سچائی کو ہمیشہ کے لیے نہیں دبا سکتا۔
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے ہمیں سکھایا کہ صبر، وقار اور حق پر استقامت وہ طاقت ہے جو دشمن کے دل بھی بدل دیتی ہے۔
کربلا کی تلواریں ختم ہو گئیں، لیکن کربلا کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت نصیب فرما، ان کے صبر، استقامت اور حق گوئی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ظلم کے سامنے جھکنے سے بچا، حق کا ساتھ دینے کی ہمت عطا فرما، اور ہمارے دلوں کو ایمان، اخلاص اور محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے ہمیشہ آباد رکھ۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
* تحقیقی نوٹ
ایک اہم تاریخی احتیاط بتانا ضروری ہے۔ شامی خواتین کے اہلِ بیتؑ کے پاس آ کر تعزیت کرنے اور چند روز تک سوگ منانے کا ذکر متعدد شیعہ مصادر، جیسے الملہوف، نفس المهموم اور بعد کی تاریخی روایات میں ملتا ہے، لیکن اس کی تمام جزئیات پر تمام قدیم مؤرخین کا اتفاق نہیں ہے۔ اس لیے میں نے کوشش کی ہے کہ اسے “تاریخی روایات کے مطابق” بیان کروں ، نہ کہ قطعی تاریخی حقیقت کے طور پر تاکہ ادبی حسن برقرار رہے ۔۔شکریہ )
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 29
“شام میں مجلسِ عزا… اور حق کی گواہی”
یزید کی اجازت کے بعد اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کو چند روز شام میں قیام کا موقع ملا۔
یہ وہی شہر تھا جہاں چند دن پہلے انہیں قیدیوں کی صورت میں داخل کیا گیا تھا۔
لیکن اب حالات بدل چکے تھے۔
حق کی روشنی آہستہ آہستہ دلوں میں اتر رہی تھی۔
تاریخی روایات کے مطابق، حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے یزید سے اپنے شہدائے کربلا پر گریہ و ماتم کرنے کی اجازت طلب کی۔
یزید، جو عوام کے بدلتے ہوئے جذبات سے پہلے ہی پریشان تھا، اس درخواست کو رد نہ کر سکا۔
اجازت ملتے ہی اہلِ بیت علیہم السلام نے اپنے عزیزوں کی یاد میں مجلسِ عزا برپا کی۔
وہ مجلس کسی محل کی شان و شوکت کی نہیں، بلکہ درد، صبر اور وفاداری کی مجلس تھی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت اُمِ کلثوم سلام اللہ علیہا، حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اور دیگر اہلِ حرم، سب اپنے پیاروں کو یاد کر کے اشک بہا رہے تھے۔
کربلا کی ہر یاد ایک نئے زخم کو تازہ کر دیتی تھی۔
حضرت علی اکبر علیہ السلام کی جوانی…
حضرت قاسم علیہ السلام کی کم سنی…
حضرت عباس علمدار علیہ السلام کی وفا…
حضرت علی اصغر علیہ السلام کی معصومیت…
اور سب سے بڑھ کر حضرت امام حسین علیہ السلام کی مظلوم شہادت…
ہر ذکر پر آنکھیں اشکبار ہو جاتی تھیں۔
تاریخی روایات میں آتا ہے کہ شام کی بہت سی خواتین بھی اس مجلس میں شریک ہوئیں۔
وہ روتیں، اہلِ بیت علیہم السلام سے تعزیت کرتیں اور پہلی مرتبہ کربلا کی حقیقت اپنی زبان سے سنتیں۔
جن لوگوں نے پہلے صرف حکومت کا بیان سنا تھا، اب وہ مظلوموں کی زبانی حقیقت سن رہے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ اس مجلس نے شام کے ماحول پر گہرا اثر ڈالا۔
بہت سے لوگوں کے دل بدل گئے۔
انہیں احساس ہوا کہ جنہیں باغی کہا گیا، وہ تو رسولِ اکرم ﷺ کے سب سے قریب ترین اہلِ بیت تھے۔
یہ مجلس صرف گریہ کی مجلس نہ تھی…
یہ ظلم کے خلاف ایک خاموش احتجاج بھی تھی۔
یہ کربلا کے پیغام کی پہلی عوامی اشاعت تھی۔
تلواریں خاموش ہو چکی تھیں، مگر شہداء کا خون اب بھی انسانوں کے ضمیر کو پکار رہا تھا۔
چند روز بعد، جب واپسی کی تیاری شروع ہوئی، اہلِ بیت علیہم السلام کی نگاہیں ایک بار پھر کربلا کی سمت اٹھیں۔
دلوں میں ایک ہی آرزو تھی…
کاش! ایک بار پھر شہدائے کربلا کی قبروں پر حاضری نصیب ہو جائے۔
یہ آرزو آنے والے سفر کا رخ متعین کرنے والی تھی۔
میرے عزیز دوستو!
اہلِ بیت علیہم السلام نے دکھایا کہ غم کو بھی ایک عبادت بنایا جا سکتا ہے، اگر وہ اللہ کی رضا، حق کی سربلندی اور مظلوموں کی یاد کے لیے ہو۔
ان کا گریہ کمزوری نہیں تھا، بلکہ ظلم کے خلاف زندہ ضمیر کی علامت تھا۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت، ان کی سیرت سے وابستگی اور حق کی خاطر ہر قربانی دینے کا حوصلہ عطا فرما۔
ہمارے دلوں کو ظلم سے نفرت اور مظلوموں سے محبت عطا فرما۔
ہمیں ہمیشہ سچائی، عدل اور صبر کے راستے پر قائم رکھ۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
* تحقیقی نوٹ
( اس قسط میں شام میں اہلِ بیت علیہم السلام کی مجلسِ عزا کا ذکر ان تاریخی روایات کی بنیاد پر کیا گیا ہے جو الملہوف، نفس المهموم، بحارالانوار اور دیگر شیعہ مصادر میں نقل ہوئی ہیں۔ البتہ اس مجلس کی مدت، مقام اور بعض جزئیات کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ اسی لیے اسے “تاریخی روایات کے مطابق” کے انداز میں بیان کیا گیا ہے، نہ کہ قطعی متفق علیہ تاریخی واقعہ کے طور پر۔..شکریہ )
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر
قسط نمبر 30
“شام سے روانگی… کربلا کی طرف”
چند روز گزر چکے تھے۔
شام کی فضا پہلے جیسی نہ رہی تھی۔
جس شہر میں اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کو قیدی بنا کر لایا گیا تھا، اب وہی شہر ان کی مظلومیت پر اشک بہا رہا تھا۔
تاریخی روایات کے مطابق، یزید نے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر آپ مدینہ واپس جانا چاہتے ہیں تو سفر کا انتظام کر دیا جائے۔
اہلِ بیت علیہم السلام کے لیے سواریوں اور سفر کی ضروریات کا بندوبست کیا گیا۔
روانگی کی تیاری کے دوران حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے اپنی دلی خواہش کا اظہار کیا۔
آپؑ نے فرمایا:
“اگر ممکن ہو تو ہم مدینہ جانے سے پہلے ایک بار پھر کربلا کی سرزمین پر جانا چاہتے ہیں، تاکہ اپنے شہداء کو سلام پیش کر سکیں۔”
یہ خواہش صرف حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی نہ تھی…یہ پورے قافلے کے دل کی صدا تھی۔
چنانچہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے قافلے کے محافظ سے فرمایا:
“ہمیں اس راستے سے لے چلو جو کربلا کی طرف جاتا ہو۔”
یہ الفاظ سنتے ہی قافلے پر ایک گہری خاموشی چھا گئی۔
کربلا…
وہ سرزمین جہاں ہر ذرہ شہداء کے خون کی گواہی دے رہا تھا۔
جہاں ایک بہن نے اپنے بھائی کو آخری بار دیکھا تھا۔
جہاں ایک باپ نے اپنے جوان بیٹے کو راہِ خدا میں قربان کیا تھا۔
جہاں ایک شیرخوار نے اپنے بابا کی آغوش میں ظلم کا آخری تیر سہا تھا۔
قافلہ شام سے روانہ ہو گیا۔
اونٹ آہستہ آہستہ صحرا کی وسعتوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔
کسی کی زبان پر کوئی شکوہ نہ تھا۔ ہر دل میں صرف ایک ہی آرزو موجزن تھی۔
کاش! ایک بار پھر اپنے شہداء کی قبروں پر حاضری نصیب ہو جائے۔
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا خاموش تھیں۔
مگر ان کی آنکھوں میں کربلا کے وہ تمام مناظر پھر سے زندہ ہو رہے تھے جنہیں وقت بھی مٹا نہ سکا تھا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام بھی خاموش تھے۔
وہ جانتے تھے کہ یہ صرف ایک سفر نہیں… یہ وفا، صبر اور یادِ شہداء کی طرف واپسی کا سفر تھا۔
دن گزرتے گئے۔
صحرا کا ہر راستہ قافلے کو اس مقدس سرزمین کے قریب لے جا رہا تھا۔
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دلوں کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی۔
آخرکار کئی دن کے سفر کے بعد… دور کربلا کی مقدس سرزمین کے آثار نمایاں ہونے لگے۔
قافلے کی نگاہیں بے اختیار اسی سمت اٹھ گئیں۔
کسی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، اور کسی کے لبوں پر خاموش دعا آ گئی۔
یہ وہی سرزمین تھی…
جہاں حق نے باطل کو ہمیشہ کے لیے بے نقاب کر دیا تھا۔
جہاں جسم خاک میں سو گئے تھے، مگر ان کی قربانی رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بن گئی۔
قافلہ آہستہ آہستہ کربلا کی طرف بڑھ رہا تھا۔
ہر دل بے قرار تھا…اور ہر روح اپنے پیاروں سے ملاقات کے انتظار میں تھی۔
میرے عزیز دوستو!
کچھ سفر صرف راستے طے کرنے کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ اپنے عہد، اپنی محبت اور اپنی وفاداری کو تازہ کرنے کے لیے بھی ہوتے ہیں۔
شام سے کربلا کا یہ سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام نے اپنے شہداء کی یاد کو کبھی فراموش نہیں کیا، بلکہ اسے حق کے پیغام کا حصہ بنا دیا۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت پر ہمیشہ قائم رکھ۔
ہمیں ان کے صبر، وفا، استقامت اور حق گوئی سے اپنی زندگی سنوارنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمارے دلوں کو شہدائے کربلا کی یاد سے زندہ رکھ اور ہمیں ہمیشہ حق کا علمبردار بنا۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
* تحقیقی نوٹ
(اس قسط میں مشہور شیعہ تاریخی روایت کو اختیار کیا گیا ہے، جس کے مطابق اہلِ بیت علیہم السلام نے شام سے واپسی کے سفر میں کربلا جانے کی خواہش ظاہر کی۔ روایات میں بعض جگہ اس خواہش کو حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا سے منسوب کیا گیا ہے، جبکہ عملی طور پر قافلے کی رہنمائی اور محافظوں سے گفتگو حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمائی۔ اسی لیے دونوں روایات کو باہم مربوط انداز میں پیش کیا گیا ہے تاکہ تاریخی تسلسل اور ادبی حسن دونوں برقرار رہیں۔۔شکریہ )
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 31
“کربلا… ایک بار پھر!”
کئی دنوں کے سفر کے بعد قافلہ اُس سرزمین کے قریب پہنچ گیا، جہاں چند ہفتے پہلے تاریخ کا سب سے عظیم اور دردناک باب رقم ہوا تھا۔
یہ کربلا تھی…
وہی کربلا، جہاں ریت کا ہر ذرہ شہداء کے خون کی خوشبو سے معطر تھا۔
جیسے ہی قافلہ قریب پہنچا، حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی نگاہیں بے اختیار میدانِ کربلا کی طرف اٹھ گئیں۔
دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔
قدم جیسے رک گئے۔
یہ وہی جگہ تھی جہاں بھائی کی آواز آخری بار سنائی دی تھی…
یہ وہی میدان تھا جہاں حضرت عباس علیہ السلام علم اٹھائے فرات کی جانب بڑھے تھے…
یہ وہی سرزمین تھی جہاں حضرت علی اکبر علیہ السلام نے اپنے بابا سے آخری اجازت لی تھی…
اور یہی وہ جگہ تھی جہاں چھ ماہ کے حضرت علی اصغر علیہ السلام نے اپنے ننھے سے گلے پر ظلم کا تیر سہا تھا۔
قافلہ آہستہ آہستہ رکا۔
ہر طرف خاموشی تھی۔
صحرا کی ہوا بھی جیسے آہستہ چل رہی تھی۔
اسی اثنا میں چند افراد ایک قبر کے قریب عبادت اور دعا میں مشغول دکھائی دیے۔
تاریخی روایات کے مطابق، ان میں جلیل القدر صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو اپنے شاگرد عطیہ عوفی کے ساتھ زیارتِ قبرِ امام حسین علیہ السلام کے لیے حاضر ہوئے تھے۔
حضرت جابرؓ نابینا ہو چکے تھے۔
انہوں نے عطیہ سے کہا:
“میرا ہاتھ قبرِ حسینؑ پر رکھ دو۔”
جیسے ہی ان کا ہاتھ قبرِ مبارک پر پڑا، ان کے لبوں سے بے اختیار نکلا:
“السلام علیکم یا آل اللہ… السلام علیک یا أبا عبداللہ.”
پھر وہ زار و قطار رونے لگے۔
اسی دوران عطیہ کی نگاہ دور سے آنے والے قافلے پر پڑی۔
انہوں نے عرض کیا:
“اے جابر! ایک قافلہ ہماری طرف آ رہا ہے۔”
حضرت جابرؓ نے بے چینی سے پوچھا:
“دیکھو… یہ کون ہیں؟”
جب معلوم ہوا کہ یہ رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیت علیہم السلام کا قافلہ ہے، تو حضرت جابرؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
انہوں نے آگے بڑھ کر نہایت ادب و احترام کے ساتھ اہلِ بیت علیہم السلام کا استقبال کیا۔
وہ لمحہ الفاظ سے بیان نہیں کیا جا سکتا تھا۔
ایک طرف کربلا کے شہداء کی خاموش قبریں تھیں…
دوسری طرف ان کے غم سے ٹوٹے ہوئے اہلِ بیت علیہم السلام…
اور تیسری طرف رسولِ خدا ﷺ کے ایک وفادار صحابی، جو اپنے آقا کے نواسے کی قبر پر سلام پیش کرنے آئے تھے۔
یہ صرف ملاقات نہ تھی…
یہ وفاداری، محبت اور حق کے ایک ہی قافلے کا دوبارہ اکٹھا ہونا تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا آہستہ آہستہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی قبرِ مبارک کی طرف بڑھیں۔
قدم لڑکھڑا رہے تھے…
آنکھیں اشکبار تھیں…
لب خاموش تھے…
اور دل برسوں کے نہیں، چند ہفتوں کے اس فراق کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا۔
اب وہ لمحہ آ پہنچا تھا…
جب اہلِ بیت علیہم السلام ایک بار پھر اپنے شہداء کے پاس کھڑے تھے۔
لیکن ان قبروں کو دیکھ کر ایک سوال ہر دل میں اٹھ رہا تھا…
آخر ان بے گوروکفن شہداء کو کس نے دفن کیا تھا؟
یہی سوال ہمیں کربلا کے ایک اور دردناک باب کی طرف لے جاتا ہے…
میرے عزیز دوستو!
وفاداری صرف زندگی میں ساتھ دینے کا نام نہیں، بلکہ بچھڑ جانے والوں کی یاد کو زندہ رکھنے کا نام بھی ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ کی یہ حاضری ہمیں بتاتی ہے کہ اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت زمانے اور فاصلے کی محتاج نہیں ہوتی۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی سچی محبت عطا فرما، اور ان کی قربانیوں کو سمجھنے اور ان کے پیغام پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔
ہمارے دلوں کو حق کی محبت اور باطل سے نفرت سے بھر دے، اور ہمیں ہمیشہ اپنے نیک بندوں کے نقشِ قدم پر چلنے والا بنا۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
* تحقیقی نوٹ
( اس قسط میں مشہور شیعہ روایت کو اختیار کیا گیا ہے، جس کے مطابق اہلِ بیت علیہم السلام کی کربلا آمد کے موقع پر حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ اور عطیہ عوفی سے ملاقات ہوئی۔ اگرچہ اس ملاقات کے تاریخی وقوع پر بعض محققین نے سوالات اٹھائے ہیں، لیکن یہ روایت صدیوں سے شیعہ تاریخی و مقتل لٹریچر میں معروف اور مقبول ہے۔ ۔۔شکریہ )
……………………………….
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 32
“یہ قبریں کس نے بنائیں؟”
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو تھم نہیں رہے تھے۔
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام خاموشی سے اپنے شہیدوں کی قبروں کے گرد کھڑے تھے۔
کربلا کی فضا پر ایسا سکوت طاری تھا، جیسے یہ سرزمین خود اپنے راز سنانے والی ہو۔
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السلام کی قبرِ مبارک کی طرف دیکھا۔
وہ مٹی…
جسے عاشورا کے دن خون نے لال کر دیا تھا…
آج ایک خاموش قبر کی صورت میں سامنے تھی۔
ہر نگاہ میں ایک ہی سوال تھا…
آخر ان بے گوروکفن شہداء کو کس نے دفن کیا تھا؟
یہ سوال ہمیں چند ہفتے پیچھے لے جاتا ہے…
عاشورا کی شام گزر چکی تھی۔
گیارہ محرم کو عمر بن سعد کا لشکر اپنے قیدیوں کے ساتھ کربلا سے روانہ ہو گیا۔
میدانِ کربلا میں صرف شہداء کے بے جان جسم رہ گئے۔
چاروں طرف خاموشی تھی۔
ریت پر خون کے نشانات ابھی تازہ تھے۔
ہوا میں نیزوں اور تلواروں کی گرد ابھی باقی تھی۔
اسی دن یا اس کے بعد قبیلہ بنو اسد کے کچھ افراد میدانِ کربلا پہنچے۔
وہ اس دل خراش منظر کو دیکھ کر سکتے میں آ گئے۔
ہر طرف شہداء کے پاکیزہ اجساد بکھرے ہوئے تھے۔
لیکن ایک مشکل تھی…
وہ ان جسموں کی شناخت نہیں کر پا رہے تھے۔
کسے کہاں دفن کیا جائے؟
کس کا جنازہ پہلے اٹھایا جائے؟
کس کا نام کیا ہے؟
وہ حیران اور پریشان کھڑے تھے۔
مشہور شیعہ روایات کے مطابق، اسی وقت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اللہ کے حکم سے وہاں تشریف لائے۔
اگرچہ آپؑ قیدی تھے، مگر اللہ نے اپنے ولی کو اپنے والد اور دیگر شہداء کی آخری ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔
آپؑ نے بنو اسد سے فرمایا:
“آئیے، میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کون کہاں آرام فرمائے گا۔”
پھر آپؑ ایک ایک شہید کے پاس گئے۔
ہر جسم کو پہچانا۔
ہر شہید کا نام لیا۔
بنو اسد حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
جب حضرت امام حسین علیہ السلام کے جسدِ مبارک کے قریب پہنچے تو حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
آپؑ نے اپنے والدِ گرامی کے جسدِ اطہر کو نہایت احترام سے اٹھایا۔
روایات میں آتا ہے کہ آپؑ نے قبر میں اترتے ہوئے فرمایا:
“بسم الله، وعلى ملة رسول الله.”
“میں اللہ کا نام لے کر، اور رسولِ اکرم ﷺ کے دین و طریقے کے مطابق، اپنے والد کو سپردِ خاک کرتا ہوں۔”
پھر اپنے والد کو سپردِ خاک کیا۔
قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے ہر ذرہ گواہی دے رہا تھا…یہ کوئی معمولی قبر نہیں تھی۔
یہ اس ہستی کا آرام گاہ تھی جس نے دینِ محمدی ﷺ کو اپنی جان دے کر زندہ رکھا۔
پھر حضرت علی اکبر علیہ السلام، بنی ہاشم کے دیگر شہداء اور اصحابِ باوفا کی تدفین عمل میں آئی۔
حضرت عباس علمدار علیہ السلام کو اسی مقام پر سپردِ خاک کیا گیا جہاں آپؑ نے وفا کی آخری مثال قائم کی تھی، اسی لیے آج بھی آپؑ کا روضہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضۂ مبارک سے جدا مقام پر ہے۔
یوں جیسے وقت وہیں رک سا گیا ہو … ہر منظر یاد کے پردے پر نوحہ کناں تھا۔
اہلِ بیت علیہم السلام دوبارہ انہی قبروں کے سامنے کھڑے تھے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے مٹی کو ہاتھ نہ لگایا، بلکہ اشکوں سے اپنے بھائی کی قبر کو سلام پیش کیا۔
کربلا خاموش تھی…
لیکن اس کی خاموشی بھی قیامت برپا کر رہی تھی۔
میرے عزیز دوستو!
کچھ قبریں صرف مٹی کا ڈھیر نہیں ہوتیں، بلکہ وہ انسانیت کے ضمیر کو زندہ رکھنے والی نشانیاں بن جاتی ہیں۔
کربلا کی یہ قبریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ حق کے لیے دی گئی قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی، بلکہ نسلوں کے لیے ہدایت کا چراغ بن جاتی ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی سچی محبت عطا فرما، ان کی قربانیوں کی قدر کرنے کی توفیق دے، اور ہمیں حق، صبر اور وفاداری کے راستے پر ثابت قدم رکھ۔
ہمارے دلوں کو شہدائے کربلا کی یاد سے زندہ رکھ، اور ہماری زندگیوں کو بھی دینِ حق کی خدمت کا ذریعہ بنا۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
.…………………………..
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر “
قسط نمبر 33
“قبروں کے سائے میں… ایک بہن کی آخری حاضری”
کربلا کی مقدس سرزمین پر شام ڈھلنے لگی تھی۔
صحرا کی خاموشی میں صرف آہوں اور سسکیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ ایک طرف خاموش کھڑے تھے، جبکہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام اپنے شہیدوں کی قبروں کے گرد جمع تھے۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اپنے والدِ گرامی کی قبرِ مبارک کے قریب کھڑے تھے۔
سر جھکا ہوا تھا…
لبوں پر دعا تھی…
اور آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا آہستہ آہستہ آگے بڑھیں۔
چند لمحوں تک خاموش رہیں۔
جیسے الفاظ بھی اس غم کے سامنے بے بس ہو گئے ہوں۔
پھر لرزتی ہوئی آواز میں عرض کیا:
“السلام علیک یا أبا عبداللہ…”
“بھائی! زینب آپ کے پاس واپس آ گئی ہے۔”
یہ وہی بہن تھی جو عاشورا کے دن آپ سے جدا ہوئی تھی۔
اور آج…
اسی میدان میں دوبارہ حاضر تھی۔
لیکن اس بار نہ خیمے تھے…
نہ علمِ عباس تھا…
نہ علی اکبر کی آواز…
نہ معصوم بچوں کی چہکار…
ہر طرف خاموش قبریں تھیں…
اور ان قبروں کے درمیان کھڑے وہ لوگ، جنہوں نے کربلا کی ہر مصیبت اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایک ایک قبر کی طرف بڑھتی رہیں۔
حضرت علی اکبر علیہ السلام کی قبر…
حضرت قاسم علیہ السلام کی قبر…
اصحابِ باوفا کی قبریں…
اور دور حضرت عباس علمدار علیہ السلام کا مزار…
ہر قدم کے ساتھ آنسو بڑھتے جا رہے تھے۔
کربلا کی مٹی گویا اپنے بچھڑنے والوں کو سینے سے لگائے خاموش پڑی تھی۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے خاندان کی طرف دیکھا۔
ہر چہرہ غم کی تصویر بنا ہوا تھا۔
لیکن ان چہروں پر شکوہ نہ تھا۔
صرف صبر تھا…
اور اللہ کی رضا پر کامل یقین۔
چند لمحوں کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے وقت ٹھہر گیا ہو۔
صحرا کی ہوا بھی آہستہ چلنے لگی۔
یہ صرف قبروں کی زیارت نہ تھی.
یہ وفا کا عہد تازہ کرنے کا لمحہ تھا۔
یہ اعلان تھا کہ کربلا کی قربانی کبھی فراموش نہیں ہوگی۔
آخرکار روانگی کا وقت قریب آ گیا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ایک بار پھر حضرت امام حسین علیہ السلام کی قبرِ مبارک کی طرف دیکھا۔
نگاہوں میں بے شمار یادیں تھیں۔
لب خاموش تھے ۔۔۔
مگر دل جیسے عرض کر رہا تھا:
“بھائی! ہم جا رہے ہیں… لیکن آپ کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچے گا۔”
قافلہ آہستہ آہستہ کربلا سے رخصت ہونے لگا۔
اونٹ آگے بڑھنے لگے۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی نگاہیں آخری لمحے تک ان مقدس قبروں پر جمی رہیں۔
کربلا پیچھے رہ گئی…
لیکن کربلا کا پیغام ہمیشہ کے لیے ان کے ساتھ سفر پر روانہ ہو چکا تھا۔
میرے عزیز دوستو!
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے ثابت کر دیا کہ جسم ایک جگہ رہ جاتے ہیں، مگر حق کا پیغام سفر کرتا رہتا ہے۔
کربلا صرف ایک سرزمین کا نام نہیں، بلکہ صبر، وفا، قربانی اور حق پر ثابت قدم رہنے کا وہ درس ہے جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ان کے صبر، وفا اور قربانیوں سے سبق لینے والا بنا، اور ہمارے دلوں کو ہمیشہ حق کے راستے پر ثابت قدم رکھ۔
شہدائے کربلا کے پیغام کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی سعادت عطا فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
………………………………….
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 34
“کربلا سے رخصتی… مدینہ کی طرف آخری سفر”
کربلا کی مقدس سرزمین پر چند لمحے ایسے گزرے جنہیں الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہ تھا۔
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے اپنے پیاروں کی قبروں کو آخری بار دیکھا۔
ہر قبر ایک داستان تھی…
ہر مٹھی بھر خاک ایک قربانی کی گواہ تھی…
اور ہر آہ ایک ایسا درد تھی جو تاریخ کے سینے میں ہمیشہ زندہ رہنے والا تھا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے خاموشی سے اپنے والدِ گرامی کی قبرِ مبارک پر سلام عرض کیا۔
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے ایک بار پھر کربلا کی طرف نگاہ اٹھائی۔
یہ وہی میدان تھا جہاں انہوں نے اپنے بھائی کو اللہ کی رضا پر قربان ہوتے دیکھا تھا۔
یہ وہی زمین تھی جہاں وفا نے حضرت عباس علیہ السلام کی صورت میں ہمیشہ کے لیے اپنا نام لکھ دیا تھا۔
یہیں حضرت علی اکبر علیہ السلام کی جوانی، حضرت قاسم علیہ السلام کی امنگیں، حضرت علی اصغر علیہ السلام کی معصومیت، اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے جگر کے ٹکڑے، حضرت عون اور حضرت محمد بھی راہِ خدا میں قربان ہوئے تھے۔
ایک بہن اپنے بھائیوں کو یاد کر رہی تھی… اور ایک ماں اپنے بیٹوں کو۔ دونوں غم ایک ہی دل میں سمٹ آئے تھے۔
اب رخصت ہونے کا وقت آ چکا تھا۔
قافلے کے اونٹ آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگے۔
ہر قدم جیسے دل کو کربلا سے مزید دور لے جا رہا تھا۔
کوئی پیچھے مڑ کر دیکھتا…
کوئی خاموشی سے آنسو پونچھ لیتا…
اور کوئی اپنے دل ہی دل میں شہداء کو سلام پیش کرتا۔
کربلا کی سرزمین آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہونے لگی۔
لیکن اہلِ بیت علیہم السلام جانتے تھے کہ اصل کربلا کبھی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوتی۔
وہ دلوں میں زندہ رہتی ہے۔
سفر دوبارہ شروع ہو چکا تھا۔
منزل مدینہ تھی…
وہی مدینہ جہاں رسولِ اکرم ﷺ کا روضۂ مبارک تھا، لیکن وہی شہر اب اپنے حسینؑ، اپنے عباسؑ، اپنے علی اکبرؑ اور اپنے دیگر شہداء کا منتظر بھی تھا۔
سب جانتے تھے کہ مدینہ واپس تو پہنچ جائیں گے، مگر یہ واپسی پہلے جیسی نہ ہوگی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا جانتی تھیں کہ مدینہ کی ہر گلی انہیں اپنے بھائی کی یاد دلائے گی۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام جانتے تھے کہ مسجدِ نبویؐ میں داخل ہوتے وقت لوگ ایک ہی سوال کریں گے:
“حسینؑ کہاں ہیں؟”
اور اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ہر دل ایک بار پھر ٹوٹ جائے گا۔
قافلہ خاموشی سے آگے بڑھتا رہا۔
صحرا کی ہوائیں چل رہی تھیں…
مگر اب یہ ہوائیں صرف ریت نہیں اڑا رہی تھیں۔
یہ کربلا کا پیغام اپنے ساتھ لے کر جا رہی تھیں۔
وہ پیغام کہ ظلم وقتی ہو سکتا ہے…
مگر حق ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
اور اب یہی پیغام مدینہ پہنچنے والا تھا۔
میرے عزیز دوستو!
بعض رخصتیاں فاصلے پیدا نہیں کرتیں بلکہ تعلق کو اور گہرا کر دیتی ہیں۔
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کربلا سے رخصت ضرور ہوئے، مگر کربلا کو اپنے دلوں سے کبھی رخصت نہ ہونے دیا۔
اسی لیے آج بھی کربلا صرف ایک مقام نہیں، بلکہ حق، صبر، وفا اور قربانی کی زندہ علامت ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں شہدائے کربلا کے پیغام کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرما۔
ہمارے دلوں کو اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت سے ہمیشہ آباد رکھ، اور ہمیں حق کے راستے پر ثابت قدم رہنے کی سعادت نصیب فرما۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 35
” شہرِ رسولؐ میں غم کی خبر ”
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام گہری سوچ میں تھے۔
مدینہ…
وہ شہر جہاں سردار انبیا ، سرور کونین ، رحمت العالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ آرام فرما تھے۔
وہ جانتے تھے کہ روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہو کر انہیں وہ خبر پیش کرنی ہوگی جس نے امتِ محمدی ﷺ کا دل ہمیشہ کے لیے زخمی کر دیا تھا۔
قافلہ جوں جوں مدینہ کے قریب پہنچ رہا تھا، دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں
آخرکار مدینہ کی سرحدیں قریب آ گئیں۔
یہ وہی شہر تھا جہاں سے اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام چند ماہ پہلے روانہ ہوئے تھے۔
آج وہ واپس آ رہے تھے…
مگر اس حال میں کہ قافلے کے سب سے روشن چراغ کربلا کی سرزمین پر ہمیشہ کے لیے سو چکے تھے۔
تاریخی روایات رقم کرتی ہیں ۔۔۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے ایک مقام پر قافلے کو رکنے کا حکم دیا۔۔ اور اپنے وفادار ساتھی بشیر بن حذلم کو اپنے پاس بلایا۔
آپؑ نے فرمایا:
“اے بشیر! مدینہ جاؤ اور ہمارے پہنچنے کی خبر اہلِ مدینہ تک پہنچاؤ۔”
بشیر نے ادب سے سر جھکایا، اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور تیزی سے مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔
انہیں معلوم تھا کہ وہ صرف ایک قافلے کی آمد کی خبر نہیں لے جا رہے…
وہ مدینہ کو اس کے سب سے بڑے غم کی خبر دینے جا رہے تھے۔
ادھر اہلِ بیت علیہم السلام مدینہ کے باہر خاموشی سے انتظار کرنے لگے۔
ہر نگاہ شہر کی سمت اٹھی ہوئی تھی۔
ہر دل ایک نئے امتحان کے لیے خود کو تیار کر رہا تھا۔
کیونکہ کربلا کے غم کو شہرِ رسول ﷺ کے دروازے پر دستک دینی تھی۔
چند ہی لمحوں بعد بشیر مدینہ میں داخل ہوئے۔
یہ وہی مدینہ تھا جہاں کبھی رسولِ اکرم ﷺ کی آمد پر خوشی کی صدائیں بلند ہوتی تھیں۔
لیکن آج بشیر کی آواز ایک ایسے غم کی خبر لے کر آئی تھی جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا ۔
وہ بلند آواز سے پکارنے لگے:
يا أهل يثرب، لا مقام لكم بها
قُتل الحسين فأدمعي مدرار
الجسم منه بكربلاء مضرج
والرأس منه على القناة يدار
ترجمہ:
“اے اہلِ مدینہ! اب اس شہر میں خوشی سے رہنے کا وقت نہیں رہا۔ حسینؑ شہید کر دیے گئے ہیں۔ میری آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہیں لیتے۔ ان کا پاکیزہ جسم کربلا کی سرزمین پر خون میں غلطاں رہا، اور ان کا پرنور سر مبارک نیزوں پر اٹھا کر پھرایا گیا۔”
یہ الفاظ سنتے ہی مدینہ کی فضا بدل گئی۔
گھروں کے دروازے کھلنے لگے۔
مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے بے اختیار گھروں سے نکل آئے۔
ہر طرف رونے اور سسکیوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔
کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے کے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔
بشیر کی آواز پورے مدینہ میں گونج رہی تھی۔
ہر گلی…
ہر کوچہ…
ہر دروازہ…
غمِ حسینؑ کی گواہی دے رہا تھا۔
ادھر مدینہ سے باہر حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام خاموشی سے انتظار کر رہے تھے۔
وہ جانتے تھے…
چند ہی لمحوں میں مدینہ کا ہر دل ٹوٹنے والا ہے۔
میرے عزیز دوستو!
بعض خبریں صرف کانوں تک نہیں پہنچتیں، بلکہ پوری قوم کے دل پر نقش ہو جاتی ہیں۔
بشیر بن حذلم کی آواز صرف ایک اعلان نہ تھی، بلکہ وہ تاریخ کا وہ لمحہ تھا جب مدینہ نے پہلی مرتبہ کربلا کے غم کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
کبھی کبھی انسان سب سے زیادہ اس جگہ لوٹنے سے ڈرتا ہے جہاں اس کی سب سے خوبصورت یادیں بسی ہوں۔
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے لیے مدینہ واپسی خوشی کی نہیں، صبر کے ایک نئے امتحان کی ابتدا تھی۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت میں ثابت قدم رکھ، اور ان کے صبر، وفا اور قربانی کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں حق کا ساتھ دینے اور ظلم سے نفرت کرنے والا بنا۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 36
“شہرِ رسول ﷺ میں اہلِ بیت کی واپسی”
بشیر بن حذلم کی صدا ابھی مدینہ کی گلیوں میں گونج ہی رہی تھی کہ پورا شہر بے چین ہو اٹھا۔
ہر طرف ایک ہی سوال تھا۔
“کیا واقعی اہلِ بیتِ رسول ﷺ واپس آ گئے ہیں؟”
لوگ اپنے گھروں سے نکلنے لگے۔
بوڑھے، جوان، عورتیں اور بچے…
سب بے اختیار مدینہ سے باہر اس مقام کی طرف چل پڑے جہاں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اپنے اہلِ بیت کے ساتھ قیام کیے ہوئے تھے۔
کسی کی آنکھوں میں یقین نہ تھا…
کسی کے دل میں امید نہ تھی…
اور کسی کے لبوں پر دعا کے سوا کچھ نہ تھا۔
چند ہی دیر میں مدینہ کے باہر ایک ہجوم جمع ہو گیا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے لوگوں کو اپنی طرف آتے دیکھا۔
ہر چہرے پر غم نمایاں تھا۔
ہر آنکھ اشکبار تھی۔
اہلِ مدینہ جب قافلے کے قریب پہنچے تو ان کی نظریں بے اختیار ان چہروں کو تلاش کرنے لگیں، جن کے ساتھ وہ چند ماہ پہلے رخصت ہوئے تھے۔
مگر…
نہ حضرت امام حسین علیہ السلام تھے…
نہ حضرت عباس علمدار علیہ السلام…
نہ حضرت علی اکبر علیہ السلام…
نہ حضرت قاسم علیہ السلام…
نہ حضرت عون اور حضرت محمد…
قافلے میں صرف ان کی یادیں تھیں…
اور ان کے غم سے ٹوٹے ہوئے اہلِ بیت۔
یہ منظر دیکھتے ہی ہر طرف آہ و بکا بلند ہو گئی۔
مدینہ، جو کبھی رسولِ اکرم ﷺ کی مسکراہٹوں سے آباد تھا، آج انہی کے نواسے کے غم میں ڈوب گیا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اونٹ سے نیچے تشریف لائے۔
لوگ ادب سے آپؑ کے گرد جمع ہو گئے۔
کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ کچھ پوچھ سکے۔
خاموش آنسو ہی سب کچھ بیان کر رہے تھے۔
تاریخی روایات کے مطابق، حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر نہایت درد بھرے انداز میں لوگوں کو کربلا کے سانحے کی خبر سنائی۔
آپؑ نے فرمایا کہ ہم پر ایسی مصیبت ٹوٹی ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
ہمارے مرد شہید کر دیے گئے…
ہمارے بچوں کو یتیم کر دیا گیا…
اور ہماری عورتوں کو اسیر بنا کر شہروں میں پھرایا گیا۔
یہ الفاظ سنتے ہی مدینہ ایک بار پھر سسکیوں سے بھر گیا۔
لوگ اپنے سروں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگے۔
کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیت پر ایسا بھی وقت آ سکتا ہے۔
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا خاموش کھڑی تھیں۔
ان کی آنکھیں مدینہ کی طرف اٹھی ہوئی تھیں۔
یہ وہی شہر تھا جہاں بچپن گزرا…
جہاں بابا حضرت علی علیہ السلام کی یادیں تھیں…
جہاں والدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خوشبو بسی ہوئی تھی…
لیکن آج اسی شہر میں وہ ایک ایسی مسافر بن کر واپس آئی تھیں، جس کے دل میں کربلا ہمیشہ کے لیے بس چکی تھی۔
اب صرف ایک منزل باقی تھی…
روضۂ رسولِ اکرم ﷺ۔
وہی روضۂ رسولِ اکرم ﷺ، جہاں خاندانِ نبوت کا وارث اپنے جدِ امجد ﷺ کی امت کا حال سنانے حاضر ہونے والا تھا۔
میرے عزیز دوستو!
غم انسان کو توڑ بھی سکتا ہے، اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والا ہو تو اسی غم کو صبر اور ہدایت کا ذریعہ بھی بنا دیتا ہے۔
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے اپنے غم کو صرف آنسوؤں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے حق کے پیغام میں بدل دیا۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت عطا فرما، ان کے صبر، استقامت اور قربانیوں سے اپنی زندگی کو منور کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمارے دلوں کو حق کی محبت اور باطل سے نفرت سے بھر دے، اور ہمیں ہمیشہ اپنے نیک بندوں کے راستے پر چلنے والا بنا۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
…………………………..
” کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر ”
قسط نمبر 37
“روضۂ رسول ﷺ پر پہلی حاضری”
مدینہ کی فضائیں غم سے بوجھل تھیں۔
اہلِ مدینہ اپنے محبوب اہلِ بیتِ رسول ﷺ کو گھیرے ہوئے آہستہ آہستہ مسجدِ نبوی ﷺ کی طرف بڑھ رہے تھے۔
یہ وہی راستے تھے…
جن پر کبھی حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے نانا رسولِ اکرم ﷺ کے ساتھ چلا کرتے تھے۔
آج…
انہی راستوں پر ان کے اہلِ بیت واپس آ رہے تھے، مگر حسینؑ ساتھ نہ تھے۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام خاموش تھے۔
ہر قدم کے ساتھ آپؑ کا دل اپنے جدِّ امجد رسولِ اکرم ﷺ کے روضۂ اقدس کے قریب ہو رہا تھا۔
آخرکار وہ لمحہ آ پہنچا…
روضۂ رسولِ اکرم ﷺ سامنے تھا۔
وہی روضہ…
جہاں سے اسلام کی روشنی پوری دنیا میں پھیلی تھی۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام آگے بڑھے۔
آپؑ نے نہایت ادب و احترام سے سلام عرض کیا۔
“السلام علیک یا رسول اللہ، السلام علیک یا جدّاہ۔”
پھر چند لمحے خاموش کھڑے رہے۔
آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔
الفاظ جیسے گلے میں اٹک گئے تھے۔
آخر نہایت درد بھرے لہجے میں عرض کیا:
“یا رسول اللہ ﷺ! آپ کی امت نے آپ کے اہلِ بیت کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کی گواہی دیتے ہوئے بھی دل کانپتا ہے۔ آپ کے نواسے حسینؑ کو کربلا میں شہید کر دیا گیا، ان کے ساتھیوں کو قتل کر دیا گیا، اور ہماری خواتین اور بچوں کو اسیر بنا کر شہروں میں پھرایا گیا۔”
روضۂ رسول ﷺ کے قریب موجود اہلِ مدینہ یہ الفاظ سن کر زار و قطار رونے لگے۔
ہر شخص اپنے آنسو ضبط کرنے سے عاجز تھا۔
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا بھی روضۂ رسول ﷺ کے قریب حاضر ہوئیں۔
چند لمحے خاموش رہیں۔
نگاہیں جھکی ہوئی تھیں۔
یہ وہی جگہ تھی جہاں بچپن میں اپنے نانا رسولِ خدا ﷺ کی محبت اور شفقت محسوس کی تھی۔
آج وہی نواسی اپنے دل کے زخم لے کر حاضر تھی۔
روایات میں محفوظ الفاظ تو نہیں ملتے، لیکن اس لمحے کی کیفیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی صاحبزادی، حضرت امام حسین علیہ السلام کی بہن، اور حضرت عون و محمد کی ماں، اپنے دل کے بے شمار زخم لیے روضۂ رسول ﷺ کے سامنے کھڑی تھیں۔
مدینہ کی فضا اشکوں سے بھیگ چکی تھی۔
لوگ خاموش تھے…
مگر ان کی خاموشی میں ہزاروں آہیں پوشیدہ تھیں۔
اس دن مسجدِ نبوی ﷺ میں صرف ایک خاندان کا غم نہ تھا…
یہ پوری امت کے ضمیر کا امتحان تھا۔
اہلِ بیت علیہم السلام نے اپنے آنسوؤں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر امت کو یاد دلایا کہ حق کی قیمت کتنی عظیم ہوتی ہے۔
میرے عزیز دوستو!
روضۂ رسول ﷺ پر یہ حاضری ہمیں سکھاتی ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام نے ہر مصیبت کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے اپنا تعلق مضبوط رکھا۔
غم نے انہیں اللہ سے دور نہیں کیا، بلکہ مزید قریب کر دیا۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں رسولِ اکرم ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی سچی محبت عطا فرما۔
ہمیں ان کے راستے پر چلنے، ان کے صبر سے سبق لینے، اور حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمارے دلوں کو ایمان، اخلاص اور محبتِ اہلِ بیت سے ہمیشہ منور رکھ۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
……………………………………..
کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر
قسط نمبر 38
“اربعین ۔۔۔ کربلا کا پیغام… مدینہ سے قیامت تک”
روضۂ رسولِ اکرم ﷺ پر حاضری کے بعد اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔
اسیری کا سفر ختم ہو چکا تھا…
لیکن ذمہ داری کا سفر ابھی باقی تھا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام جانتے تھے کہ کربلا صرف ایک جنگ کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا پیغام ہے جسے آنے والی نسلوں تک پہنچانا ان کی ذمہ داری ہے۔
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے کوفہ اور شام کے درباروں میں حق کی گواہی دے دی تھی۔
اب مدینہ میں وہی پیغام محبت، صبر اور حکمت کے ساتھ لوگوں تک پہنچنا تھا۔
مدینہ کے لوگ روز اہلِ بیت علیہم السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے۔
وہ کربلا کے بارے میں پوچھتے…
امام حسین علیہ السلام کی آخری گھڑیوں کے بارے میں جاننا چاہتے…
حضرت عباس علیہ السلام کی وفا، حضرت علی اکبر علیہ السلام کی قربانی، حضرت قاسم علیہ السلام کے جذبۂ ایمان، اور حضرت علی اصغر علیہ السلام کی مظلومیت سنتے تو بے اختیار اشکبار ہو جاتے۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نہ انتقام کی بات کرتے…نہ نفرت کی۔
آپؑ لوگوں کو صبر، تقویٰ اور حق پر ثابت قدم رہنے کی تعلیم دیتے۔
آپؑ فرماتے کہ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، لیکن حق کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا بھی خواتین کو کربلا کا پیغام سناتیں۔
آپؑ انہیں بتاتیں کہ کربلا صرف ایک میدان کا نام نہیں…
بلکہ ہر دور میں حق اور باطل کے درمیان ہونے والے معرکے کا نام ہے۔
اہلِ مدینہ جتنا سنتے، اتنا ہی ان کے دلوں میں اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت اور امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کا احساس بڑھتا جاتا۔
یوں لگتا تھا جیسے کربلا ختم نہیں ہوئی…
بلکہ اب ہر دل میں زندہ ہو رہی ہے۔
صدیاں گزرتی چلی گئیں…
حکمران بدلتے رہے…
زمانے بدلتے رہے…
لیکن امام حسین علیہ السلام کا پیغام نہ بدلا۔
آج بھی دنیا کے ہر کونے سے لاکھوں بلکہ کروڑوں عاشقانِ اہلِ بیت علیہم السلام کربلا کا رخ کرتے ہیں۔
وہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حق کو تلوار سے دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔
اربعین کا یہ عظیم اجتماع صرف ایک یادگار تقریب نہیں…
بلکہ اس عہد کی تجدید ہے کہ ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا جائے گا، اور امام حسین علیہ السلام کے پیغام کو زندہ رکھا جائے گا۔
یہی کربلا کی حقیقی فتح ہے۔
یزید کا اقتدار تاریخ کے صفحات میں دفن ہو گیا…
لیکن حسین علیہ السلام کا نام آج بھی دلوں پر حکمرانی کر رہا ہے۔
میرے عزیز دوستو!
کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن اس کا انجام ہمیشہ عزت اور سربلندی ہوتا ہے۔
اگر ہمارے دلوں میں سچائی، عدل، صبر اور اللہ کی رضا کی طلب زندہ ہے، تو کربلا کا پیغام بھی ہمارے اندر زندہ ہے۔
” دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حضرت امام حسین علیہ السلام کے مقصد کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ہر دور کے ظلم کے سامنے حق کا ساتھ دینے کا حوصلہ عطا فرما، اور ہمارے دلوں کو محبتِ رسول ﷺ اور محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے ہمیشہ منور رکھ۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم
(جاری ہے۔۔۔)
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بسم اللہ الرحمن الرحیم
“کربلا کے بعد۔۔۔ ایک سفر جو دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا”
آخری قسط”اختتامیہ اور شکرانہ”
الحمدللہ رب العالمین!
اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم سے “کربلا کے بعد۔۔۔ صبر، اسیری اور حق کی گواہی کا سفر” کی 38 اقساط مکمل ہوئیں۔
یہ صرف تاریخ کے چند اوراق بیان کرنے کی کوشش نہیں تھی، بلکہ ان عظیم ہستیوں کے صبر، استقامت، وفا اور حق کی گواہی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک عاجزانہ کوشش تھی، جنہوں نے اپنے عمل سے انسانیت کو یہ سکھایا کہ حق کے لیے کھڑا ہونا ہی اصل کامیابی ہے۔
اگر ہم کربلا کے بعد کے اس پورے سفر کو ایک جملے میں سمیٹنا چاہیں تو وہ یہ ہے کہ:
” حق کے لیے کھڑے ہونا تعداد کا نہیں، کردار کا امتحان ہے۔”
کربلا نے ہمیں سکھایا کہ اگر حق پر صرف چند افراد بھی باقی رہ جائیں، تب بھی حق کا علم نہیں جھکنا چاہیے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا ساتھیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہمیں یہ سبق دیا کہ حق کی خاطر قربانی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔
اور حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے ہمیں یہ سکھایا کہ اگر حق کی راہ میں قربان ہونے والے دنیا سے چلے جائیں، تو پیچھے رہ جانے والوں کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی…
بلکہ وہیں سے ان کی اصل ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔
انہوں نے اپنے صبر، اپنے کردار، اپنے خطبات اور اپنی گواہی سے شہداء کے خون کی حفاظت کی، اور حق کے چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔
آج وہ مقدس ہستیاں ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں…
لیکن ان کی تعلیمات، ان کی سیرت، اور ان کا پیغام آج بھی ہمارے پاس ایک امانت کی صورت میں موجود ہے۔
اب یہ ذمہ داری ہماری ہے…کہ ہم اس چراغ کو روشن رکھیں۔
اپنے کردار سے…
اپنی زبان سے…
اپنے قلم سے…
اپنے عمل سے…
اور اپنی آنے والی نسلوں تک اس پیغام کو پہنچا کر رخصت ہوں۔
چراغ سے چراغ جلتا رہے۔
اگر ہر نسل اگلی نسل تک حق، انصاف، دیانت، صبر اور محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام کا یہ نور پہنچاتی رہے، تو کربلا کا پیغام کبھی ماند نہیں پڑے گا۔
کربلا ہمیں صرف رونا نہیں سکھاتی…
کربلا ہمیں بدلنا سکھاتی ہے۔
کربلا ہمیں صرف قربانی یاد نہیں دلاتی…
کربلا ہمیں حق کے ساتھ کھڑا ہونا سکھاتی ہے۔
اور کربلا ہمیں صرف ماضی کی داستان نہیں سناتی…
کربلا ہمیں مستقبل کی ذمہ داری بھی سونپتی ہے۔
میرے عزیز دوستو!
اگر اس تحریر میں کوئی خیر، کوئی روشنی اور کوئی اثر ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کا فضل، رسولِ اکرم ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی عنایت ہے۔
اور اگر کہیں کوئی کمی، کوتاہی یا غلطی رہ گئی ہو تو وہ میری بشری کمزوری ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور آپ سب سے درگزر کی درخواست کرتی ہوں۔
“کربلا ایک واقعہ نہیں… ایک ذمہ داری ہے۔”
“اور یہ ذمہ داری ہم سب پر نسل در نسل قیامت تک باقی رہے گی۔”
” اختتامی دعا ”
اے ہمارے پروردگار!
اس معمولی سی کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔
اسے میرے، میرے والدین، میرے اساتذہ، میرے اہلِ خانہ، اور ہر اس شخص کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے جس نے اسے پڑھا، سنا یا آگے پہنچایا۔
ہمیں ہمیشہ حق کا ساتھ دینے، ظلم کے سامنے ڈٹ جانے، اور اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔
اے ہمارے پروردگار!
ہمیں حق کو پہچاننے، اس پر ثابت قدم رہنے، اور اسے آنے والی نسلوں تک امانت کے ساتھ پہنچانے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں حضرت امام حسین علیہ السلام کے مقصد کو سمجھنے، حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے صبر کو اپنانے، اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی استقامت سے اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمارے دلوں میں ہمیشہ حق کا چراغ روشن رکھ، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو ظلم کے سامنے خاموش نہ رہیں، بلکہ عدل، سچائی اور انسانیت کا علم بلند رکھیں۔
الٰہی آمین یا رب العالمین۔
دعا گو
ڈاکٹر نگہت نسیم













