قاتلوں کی اس بستی میں ہم،صفدر ھمِدانی

0
949

قاتلوں کی اس بستی میں ہم ڈھوندھ رہے ہیں کوئی انساں

کیسی عید کہاں کی عید
ہم تو اپنے بچوں کو دفنا کر آئے ہیں
جاگنے والی آنکھوں کو سُلوا کر ائے ہیں
باپ نے بیٹا،بیٹے نے ایک باپ لحد میں اتارا ہے
بھائی نے بھائی کی میت قبر کی گود میں رکھی ہے
عید کی خوشیاں منانے والو
یہ بھی سوچو
ہم بھی پاکستان کے رہنے والے ہیں
زندہ باد ہاں زندہ باد برسوں سے کہنے والے ہیں
اس پاک وطن کی بنیادوں میں اپنا خون بھی شامل ہے
ہم بھی اس مٹی کو چومنے والے ہیں
لیکن اب جو قبرستانوں میں ہم
اپنے چاند ستاروں کو دفنا کر آئے ہیں
تو یہ سوچ رہے ہیں
کیا اس مُلک کے حاکموں کو یہ خبر نہیں ہے
ہم جو پارہ چنار میں رپنے والے ہیں
ہم پر روز قیامت ٹوٹتی رہتی ہے
اب تو قبرستانوں میں دفنانے کی جا ملتی نہیں
یاسیت کے مارے بچے گُم سُم ہیں
بہنوں نے بھائیوں کے جنازے
آنکھوں میں سجا کر رکھے ہیں
لیکن یہ سب اندھے گونگے بہرے حاکم بے حس ہیں
انکی لُغت میں ہم سب رینگتے کیڑے ہیں
انکے پاس اک لفظ نہیں تعزیت کا
انکے گھر سے کوئی جنازہ نکلے کڑیل بیٹے کا
پھر انکو محسوس ہو شاید
باپ کا اپنے بیٹے کی میت کو لحد میں رکھ کے آنا کیا ہوتا ہے
بے حس حاکمو دیکھو ہمارے
ہاتھوں پر ہے خون کی مہندی
آنکھوں میں اشکوں کا چراغاں
قاتلوں کی اس بستی میں ہم ڈھوندھ رہے ہیں کوئی انساں

SHARE

LEAVE A REPLY