اسےدیکھوپیادہ ہوگیاہے، رخشندہ بتول

0
1307

وہ پہلے سے بھی سادہ ہو گیا ہے
محبت کا اعادہ ہو گیا ہے

نہیں جس راستے کی کوئی منزل
اسی پر رش زیادہ ہو گیا ہے

تمہیں ملنے کا سوچا بھی نہیں تھا
مگر اب تو ارادہ ہو گیا ہے

ارے چائے کی اور کھانے کی دعوت
ترا دل تو کشادہ ہو گیا ہے

پرندے بوجھ اپنا لے اڑے ہیں
وہ پیڑ اب ایستادہ ہو گیا ہے

جو اڑتا تھا ہواؤں میں ستم گر
اسے دیکھو پیادہ ہو گیا ہے
رخشندہ بتول

SHARE

LEAVE A REPLY