وہ پہلے سے بھی سادہ ہو گیا ہے
محبت کا اعادہ ہو گیا ہے
نہیں جس راستے کی کوئی منزل
اسی پر رش زیادہ ہو گیا ہے
تمہیں ملنے کا سوچا بھی نہیں تھا
مگر اب تو ارادہ ہو گیا ہے
ارے چائے کی اور کھانے کی دعوت
ترا دل تو کشادہ ہو گیا ہے
پرندے بوجھ اپنا لے اڑے ہیں
وہ پیڑ اب ایستادہ ہو گیا ہے
جو اڑتا تھا ہواؤں میں ستم گر
اسے دیکھو پیادہ ہو گیا ہے
رخشندہ بتول













