اے میرے عکس ہنر
میری فتح و شکست کے ہمسفر
آج نیا سا کچھ اپنے بارے میں سوچتے ہیں
اسرار ابدیت میں جنوں کے چراغ جلاتے ہیں
چلو اپنے اپنے دل ہتھیلیوں پر رکھتے ہیں
سنو ۔۔۔
ایسا کرو
تھوڑی سی مٹی لو
اسے گیلا کرو اور تھپتپاؤ
اس سے
ایک اپنا بت بناؤ
ایک میرا بت بناؤ
پھر دونوں کو
تھوڑ پھوڑ کر مٹی کر دو
مٹی میں تھوڑا سا پانی اور ملاو
اسے گوندھو اور خوب گوندھو
پھر سے
ایک اپنا بت بناؤ
ایک میرا بت بناؤ
حبیب من ۔۔۔۔
اب ہمارا سفر مکمل ہوا
میرے بت میں
تمہارے بت کی مٹی شامل ہے
اور ۔۔ تمہارے بت میں
میرے بت کی مٹی شامل ہے
اب ہمیں کوئی جدا نہ کر پائے گا
جب تک ہم زندہ ہیں
ایک ہی لحاف اوڑھ کر سوئیں گے
اور ۔۔ جب ہم مر جائیں گے
ایک ہی مٹی اوڑھ کرسوئیں گے

( مرکزی خیال ایک چینی نظم سے)

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY