دسمبر کے آخری عشرے میں سفر حجاز کا مبارک سفر کیا۔ کیا رحمت! کیابرکت! کیا سماں!، کیا

رونق! کیا محبت! کیا معجزے! اللہ ! اللہ – کیا میں! کیا میری بساط! اور کیا اللہ پاک کی کرم

نوازیاں، سبحان اللہ- وہاں جاکر اس قدر خوشی ہوئ یہ دیکھ کرکہ اللہ پاک کی محبت میں کس قدر

لوگ جوق در جوق لبیک اللہھم لبیک کا ورد کرتے چلے آرہے ہیں- اسی طرح امتی رسول صلی اللہ

علیہ وسلم کے حرم میں ہر علاقے، ہر مسلک، ہر قوم ، ہر زبان، ہر حیشیت، ہر فقہ کے لوگ

بھنورں کی طرح پروانہ وار چلے آتے ہیں اور من کی مرادیں پارہے ہیں- نہ موسم کی فکر، نہ

جگہ کی، نہ امیری، نہ اسیری، نہ غریبی، نہ مجبوری، نہ معذوری کوئ چیز رکاوٹ نہیں- یہ

سب تو وہاں جاکر سبھی محسوس کرتے ہیں اور دل تشکر اور آنکھیں عقیدت سے فرش راہ ہوتی

ہیں- مگر میں یہ دیکھ کر بہت روحانی خوشی محسوس کرتی تھی کہ اس قدر لوگ ہیں اور سب

باوضو، لاکھوں فرزندان توحید پاک صاف اور باوضو ، چپہ چپہ پاک، ہر نفس پاک، ہر سانس پاک

کیا یہ معجزہ نہیں- دونوں جگہ مکہ اور مدینہ میں روح سرشار رہتی- -بس جس چیز نے دل ہلا

دیا وہ ہے روٹی کی ناقدری- سالن کے ساتھ روٹیاں مفت- روٹی بھی سائز میں اچھی خاصی بڑی،

کوئ غریب روٹی لینے والا نہیں ملتا- سب کو پیسا چاہیے- پیسا مانگنے کے لیے ہر ملک سے

گروہ کی شکل میں نظر آتے ہیں- مگر روٹیوں کو کچرے میں ڈالتے دیکھ کر روح کانپ جاتی

تھی- روٹی کے چکر میں تو سارا جہاں کاروبار چلا رہا ہے اور ایسی جگہ روٹی اور رزق کی یہ بے حرمتی افسوس!
میں اس سفر میں کھانے کی بچی ہوئ دو روٹیاں تبرک کے طور پر ساتھ لے آئ ہوں- تھوڑی تھوڑی

کرکے کبھی دودھ میں بھگو کر کبھی سالن میں کھاتی ہوں- مجھسے برداشت نہیں ہوا کہ رزق کو

ضائع کردیا جائے- حکومت زائرین کی سہولت اور آسائش کے لیے ہر سامان مہیا کرتی ہے جو

قابل تحسین ہے- مگر روٹی بھی اگر قیمتا” ملے شاید ضیاع میں کچھ کمی ہو جائے- اے رب

العزت، اے قادر مطلق ہمیں معاف کردے آمین! کچھ چیزیں ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ،

مگر شاید یہ میرے دل کی تکلیف دہ آواز ہے یہ کسی کے دل میں اتر جائے- اور اسکا کوئ سد

باب ہو کے روٹی کی اس قدر بے حرمتی نہ ہو- ویاں اللہ کے گھر میں ٹنوں کے حساب سے روٹی

ضائع ہوتی ہے کوئ لینے والا نہیں ہوتا-

ہم نے کئ لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو ایک بہت تکیف دہ جملہ سننے کو ملا وہ یہ تھا

کہ پاکستانیوں کی فطرت نہیں بدل سکتی کہ وہ اپنا بچا ہوا ضرور دوسروں کو دیتے ہیں-

حالانکہ ایسی بات نہیں تھی کہ بچا ہوا لوگوں کو دیتے تھے- بعض دفعہ دو، تین چیزیں آگئیں

اور ایک چیز ہم نے چھوئ بھی نہیں’ پیک ہے، وہ بھی اگر دیتے ہیں تو کوئ لینے کو تیار

نہیں ہوتا- تو یہ پاکستانی بلکہ میں تو اس بات پر بہت فخر کرونگی –کیونکہ پاکستانی

ہونے کے ناطے ہم اپنے ساتھ لوگوں کو شامل کرنا چاہتے ہیں، ساتھ کھلانا چاہتے ہیں- ساتھ

کھلانے سے برکت ہوتی ہے- اور ہم نہ اپنے آپ کو کمتر محسوس کرتے ہیں بلکہ ہمیں تو بہت

فخر ہوتا ہے کہ ہمیں کوئ بلائے اور اپنے ساتھ کرے تو وہ آدھی روٹی بھی ہمارے لیے بہت

قابل عزت اور قابل فخر بات ہوگی کہ اللہ پاک نے ہمیں کہاں کہاں سے عطا کیا ہے-

SHARE

LEAVE A REPLY