اسلام آباد میں ریڈیو پاکستان کی سات منزلہ عمارت کو لیز پر دینے کا مسلہ ابھی تک حل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے اورایسے میں ملازمین کی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث کارکنوں اور پروگراموں کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھتا چلا جا رہا ہے

اس دوران وزیر اطلاعات فواد چوہدری اپنے موقف سے بالکل ٹس سے مس ہوتے نظر نہیں آ رہے

دراٰن اثنا منگل دو اکتوبر کی شب ہم ٹی وی کے پروگرام ندیم ملک کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے روایتی بدزبانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے سابق قومی اسمبلی کے قائد خورشید شاہ اور سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو اوسط سے بھی کم بیلو ایوریج افراد قرار دیا اور خورشید شاہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایک لاکھ تریسٹھ ہزار لوگ سٹیل مل پی آئی اے ٹی وی اور ریڈیو میں بھرتی کروائے۔ میزبان ندیم ملک نے بار دگر فواد چوہدری سے ان اعدادوشمار کی تصدیق چاہی تو انہوں نے یہی الفاظ دوبارہ دوہرائے

اسلام آباد کے ریڈ زون میں ریڈیو پاکستان کے نیشنل براڈکاسٹنگ ہاوس کی سات منزلہ عمارت کو لیز پر دینے کے حوالے سے فوار چوہدری نے اپنا کئی دن پہلے سے رٹا رٹایا ہوا بیان پھر سے دوہرا دیا اور کہا کہ عمارتوں کی کوئی اہمیت نہیں اور ریڈ زون کیا ہوتا ہے ہم نے تو عام لوگوں کے لیئے گورنر ہاوس کھول دیئے ہیں

ریڈیو پاکستان پر اس مرتبہ انہوں نے ایک اور الزام کا یہ اضافہ کیا کہ ریڈیو کو ایک ارب روپے پنشن کی مد میں دینا پڑتے ہیں اور ایسے لوگوں کو بھی پنشن ملتی ہے جو کبھی دفتر ہی نہیں ائے تھے

ریڈیو پاکستان کے افسران کی تنظیم کے سرکردہ افراد نے فواد چوہدری کے اس نئے الزام پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے افراد کے نام سامنے لائیں اور انکو پنشن دینے والے ذمیداروں کا تعین کریں نا کہ پورے ادارے کو بدنام کیا جائے

SHARE

3 COMMENTS

  1. دھیلے کی تھیلی میں آنہ آجائے تو وہ پھٹنے لگتی ہے ۔اوقات کسی وکیل کا منشی بننے کی بھی نہیں تھی ۔اور مل گئی وزارت, یہ کچھ تو ہونا تھا ۔

  2. Mr. Fawad Chaudhay became Minister for Information and Broadcasting, but, he knows nothing Radio Medium and its utility. He is on the worst track. I protest.

LEAVE A REPLY