جینے کی آرزو نہیں مرنے کا حوصلہ نہیں
تم نے کہا تھا یاد ہے زندگی سزا نہیں

ہم نے سجائی جسم پر زخموں کی کہکشاں کمال
زخموں کا پیراہن ہے یہ تن پر مرے قبا نہیں

تیرا مجھے پتہ نہیں اپنا حساب صفر ہے
میں نے بھی تجھ کو کھو دیا تو بھی مجھے ملا نہیں

تم کو جُدا ہوئے سُنو اک زمانہ ہو گیا
تم کو یقین آ گیا زندہ ہوں میں مرا نہیں

جتنا بھی منکشف ہوا اُتنا ہی راز بن گیا
برسوں کے بعد آج بھی مجھ پر تو وہ کھُلا نہیں

پوروں میں انگلیوں کی ہے تیری حیات کا مزا
یہ تو مرا نصیب ہے قسمت میں جو شفا نہیں

خنجر میں تیرے نور ہے قاتل ہے تو کمال کا
کوئی بھی ایک زخمِ دل مُدت ہوئی بھرا نہیں

آنکھوں کی پُتلیوں میں ہے رقص آفتاب کا
ہے شور چار سو مگر لیکن کوئی صدا نہیں

اب جو یہ سب معاملہ آ کر یہاں رُکا تو پھر
بندہ نہیں ہوں میں ترا تو بھی مرا خُدا نہیں

ہاتھوں پہ سر لیئے ہوں میں اور اسکے باوجود بھی
قائم ہوں اپنی بات پر وعدے سے میں پھرا نہیں

تتلی کے رنگ پھول کی خوشبو ہے اُسکے ہاتھ میں
لیکن وہ آنکھ بھر کے بھی صفدر کو دیکھتا نہیں
صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY