امریکہ میں کبھی کبھار انصاف کی رفتار بہت ہی سست ہوتی ہے۔ جن پانچ ملزمان پر 11 ستمبر 2001ء کے امریکہ پر دہشت گرد حملوں میں اہم کردار کا الزام ہے، اُن کے خلاف مقدمہ انتہائی سست روی کا شکار ہے۔

پکڑے جانے کے 15 برس یا زیادہ مدت کے بعد بھی پانچ دہشت گرد جن پر حملوں کا الزام ہے کیوبا کے گوانتانامو کے امریکی فوجی اڈے پر قائم حراستی مرکز میں قید ہیں، اور کئی وجوہ کی بنا پر، امریکی حکام کو یہ مقدمہ 2020ء سے پہلے شروع ہونے کی توقع نہیں، جب کہ اِس کے بعد مقدمے کی تکمیل میں متعدد سال لگ سکتے ہیں۔

قانونی چارہ جوئی کا معاملہ غیر معمولی طور پر پیچیدہ ہے، جس میں وکلائے صفائی نے، جو شہری اور فوجی وکلا پر مشتمل ہیں، سینکڑوں تحریری سوالات کیے ہیں جن میں ملزمان کو پکڑے جانے میں امریکی اہلکاروں کے کردار پر سوال اٹھائے گئے ہیں، پھر مشتبہ افراد کی حراست اور اُن سے روا رکھا گیا سلوک، پہلے تھائی لینڈ اور پولینڈ کے خفیہ مقامات پر اور بعدازاں گوانتانامو میں زیر حراست میں رکھنے سے متعلق سوال شامل ہیں۔

امریکہ کی جانب سے یہ بات تسلیم کرنے سے الزامات پیچیدہ ہوئے کہ پکڑے جانے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف ’’تفتیش کے سخت نوعیت کا طریقہٴ کار‘‘ استعمال ہوا، جس پر ناقدین نے، جن میں امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی شامل ہے، اسے ’’اذیت‘‘ کا نام دیا ہے، جن میں ’واٹر بورڈنگ‘ شامل ہے، جس طریقہٴ تفتیش میں ڈوبنے کا احساس دلایا جاتا ہے۔

حال ہی میں، امریکی اہلکاروں نے کہا ہے کہ اُنھوں نے ایسے تفتیشی طریقہٴ کار پر بندش عائد کر رکھی ہے۔

اِن میں سے ایک مشتبہ فرد کا نام خالد شیخ محمد ہے جو پاکستانی اسلام پرست شدت پسند ہے۔ اُنھوں نے 2007ء میں شیخی ماری تھی کہ ’’شروع سے آخر تک 11 ستمبر کی کارروائی کا میں ہی ذمہ دار تھا‘‘۔

تریپن برس کے محمد پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ہی 1996ء میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کو امریکہ پر حملوں کی تجویز دی تھی۔ بن لادن کو 2011ء میں کی گئی خفیہ کارروائی میں ہلاک کیا گیا، جس دوران خصوصی امریکی فوج نے وسط شب پاکستان کے چھپے ہوئے ٹھکانے پر چھاپہ مارا تھا۔

گوانتانامو میں بند دوسرا مشتبہ شخص ولید بن اطاش ہے۔ 40 برس کا یہ یمنی شخص مبینہ طور پر افغانستان میں القاعدہ کا تربیتی کیمپ چلاتا تھا، جہاں طیارہ ہائی جیک کرنے والے 19 ہائی جیکروں میں سے دو کو تربیت دی گئی۔ اور 46 برس کا رمزی بن الشب، جو یمنی ہے، جس پر ہائی جیکروں کے جرمن سیل کی مدد کرنے کا الزام ہے، جس کا کام فلائیٹ کے اسکول تلاش کرکے دہشت گردوں کو امریکہ میں داخل کرانا تھا۔

دیگر دو مشتبہ افراد میں سے کویت سے تعلق رکھنے والا 41 برس کا عمار البلوشی اور محمد کا بھتیجا شامل ہے، جن پر ہائی جیکروں کو 120000 ڈالر بھیجنے کا الزام ہے، تاکہ دیگر اخراجات کے علاوہ فضائی تربیت کے لیے درکار رقم فراہم کی جاسکے۔ اور، 50 سال کے سعودی باشندے مصطفیٰ الہاسوی نے چند ہائی جیکروں کو رقوم، مغربی لباس، ٹریولرز چیک اور کریڈٹ کارڈ بھیجوائے تھے۔

ان پانچ دہشت گردوں کے خلاف مقدمے کا معاملہ ایک عدالت سے دوسری عدالت کی جانب روانہ کیا جاتا رہا، فوجی ٹربیونل سے سول عدالت کی جانب اور پھر گوانتانامو میں فوجی عدالت کو بھیجا گیا۔

پانچوں کے پانچوں مشتبہ ملزمان 2002 یا 2003ء میں پاکستان سے پکڑے گئے تھے؛ اُن پر پہلی بار 2008ء میں سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ کے دوران فرد جرم عائد کیا گیا تھا۔ لیکن، صدر براک اوباما نے یہ عدالتی کارروائی معطل کر دی جب اُنھوں نے ایک سال بعد اقتدار سنبھالا، تاکہ اُن کے چوٹی کے مشیر کیس پر نظر ثانی کر سکیں۔

محکمہٴ دفاع کے ایک اعلیٰ اہلکار نے 2010ء میں اُن کے خلاف ’’بغیر کسی سبب کے‘‘ دہشت گردی کے الزامات واپس لے لیے؛ یعنی مزید تفتیش کے بعد اُن پر پھر سے الزام لگایا جا سکتا ہے۔

اوباما کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے ان مقدمات کی سماعت نیویارک کی ایک سولین عدالت میں کرنے کا فیصلہ کیا، جو ’ورلڈ ٹریڈ سینٹر‘ کے مقام سے زیادہ دور نہیں جہاں ہائی جیکروں نے دو کمرشل جیٹ طیارے دو فلک بوس عمارتوں سے ٹکرائے، جن کے نتیجے میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY