بھارت میں پہلی خواجہ سرا جج تعینات۔

0
254

بھارت میں پہلی خواجہ سرا جج تعینات۔خواجہ سرا جوئیتا مالا مونڈال کولکتہ میں پیداہوئی، اسکول میں امتیازی سلوک کےباعث 2009میں اپنا گھرچھوڑکرشمالی بنگال کے ضلع اسلام پورمیں رہائش اختیارکی اور یہاں سے خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے تنظیم قائم کی ۔

عدالتی احکامات کےتحت خواجہ سرا جوئیتامالامونڈال کو بنگال کےضلع اسلام پور کی لوک عدالت کی پہلی خواجہ سراجج مقررکردیا گیا،جوئیتا مالا بھارت کی پہلی خواجہ سراہیں جن کو جج مقرر مقررکیاگیا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نےخواجہ سراؤں کو تیسری جنس کے طورپرشناخت دیتےہوئے حکومت کو احکامات جاری کئے تھے کہ خواجہ سراؤں کو ملازمتوں اورتعلیمی اداروں میں مخصوص کوٹہ دیا جائے۔غیرملکی خبررساں ادارےکے مطابق خواجہ سراجج جوئیتامونڈال کاکہناتھا کہ خواجہ سراؤں کومعاشرے میں امتیازی سلوک کاسامنا کرنا پڑتاتھا۔

جوئیتامالامونڈال نے اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے بات کرتےہوئے کہنا تھا کہ اب تک مالک مکان اورکرایہ داروں سمیت بینک لون کےچارمقدمات کو کامیابی سے مکمل کیا ہے اورامید کرتی ہوں کہ اپنی زمہ داریوں کو پوری ایمانداری سے جاری رکھوں گی انہوں نے کہا کہ معاشرے سے ملنے والی عزت پربہت خوش ہوں

بھارتی عدلیہ عام قانون (کامن لا) پر مبنی ہے۔ یہ نظام انگریزوں نے نوآبادیاتی حکومت کے وقت بنایا تھا۔ اس نظام کو “عام قانون” کے نام سے جانا جاتا ہے جس میں جج اپنے فیصلوں، احکام اور فیصلوں سے قانون کی ترقی کرتے ہیں۔ بھارت میں مختلف سطحوں اور مختلف قسم کی عدالتیں ہیں۔ نئی دہلی میں بھارت کی عدالت عظمٰی موجود ہے اور اس کے تحت مختلف ریاستوں میں عدالت عالیہ ہیں۔ عدالت عالیہ کے تحت ضلعی عدالتیں اور اس کے تحت جو عدالتیں ہیں انہیں “نچلی عدالت” کہا جاتا ہے۔

بھارت کی آزاد عدلیہ کا انحصار عدالت عظمی ہر ہے، جس کا سربراہ چیف جسٹس ہوتا ہے۔ عدالت عظمی کو اپنے نئے معاملات اور عدالت عالیہ کے تنازعات دونوں کو دیکھنے کا حق ہے۔ بھارت میں 24 عدالت عالیہ ہیں جن کے حقوق اور ذمہ داریاں عدالت عظمی کے مقابلے میں محدود ہیں۔ عدلیہ اور مقننہ کے باہمی اختلافات یا تنازع کو صدر جمہوریہ حل کرتا ہے۔

ریاستی عدلیہ

ریاستی عدلیہ میں تین قسم کی بینچیں ہوتی ہیں:
سنگل جس کے فیصلے کو عدالت عالیہ کی ڈویژنل/بنچ/عدالت عظمی میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
ڈویژن بینچ 2 یا 3 ججوں پر مشمتل ہوتی ہے جس کے فیصلہ کو صرف عدالت عظمی میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
آئینی/فل بینچ آئینی تشریح سے متعلق تمام بحثیں اس طرح کی بینچ سنتی ہیں، اس میں کم از کم پانچ جج ہوتے ہیں۔

ماتحت عدالتیں

اس سطح پر شہری فوجداری مقدمات کی سماعت علاحدہ علاحدہ ہوتی ہے اور سول اور سیشن کورٹ مختلف ہوتے ہیں۔ اس سطح کے ججوں کی تقرری عام بھرتی امتحان کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ان کی تقرری گورنر ریاست چیف جسٹس کی سفارش پر کرتا ہے۔

فاسٹ ٹریک عدالت

یہ ایڈیشنل سیشن کورٹ ہے جس کی تشکیل عرصے سے زیر التوا فوجداری اور انڈر ٹرائل مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کیلئے کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بحثیں طویل ہو جانے سے انصاف کا نقصان ہوتا ہے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے نیز جیل میں بھیڑ بڑھ جاتی ہے۔

مالیاتی کمیشن کے مشورہ پر مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں کو 1 اپریل 2001ء سے 1734 فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا حکم دیا۔ اضافی سیشن جج اور اونچے عہدے سے سبکدوش جج اس قسم کی عدالتوں میں مقرر ہو جاتے ہیں۔ ان عدالتوں میں طویل بحثیں ممکن نہیں اور متعینہ مدت میں فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔

عوامی عدالت

عوامی عدالتیں باقاعدہ عدالتوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ سابق یا سبکدوش جج اور دو رکن ایک سماجی کارکن اور ایک وکیل اس کے رکن ہوتے ہیں۔ اس میں سماعت اسی وقت ہوتی ہے جب دونوں فریق اس کے لیے تیار ہوں۔ یہ بیمہ اور معاوضہ والے مقدمات کی سماعت بھی کرتی ہے۔

فوائد

مفت ہے
یہاں ضابطہ اخلاق/ثبوت ایکٹ لاگو نہیں ہوتا۔
دونوں فریق جج سے براہ راست بات کرکے فیصلہ کر سکتے ہیں۔
ان کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔

SHARE

LEAVE A REPLY