حضور ﷺ کی سیرت پاک میں تو ایسے متعدد واقعات ملیں گے جو کہ دربارِ رسالت مآب میں لوگ آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ حضورﷺ ہمیں اتنی بہت سی باتیں یاد نہیں رہ سکتیں ہمیں ایسی صرف چند باتیں بتادیجئے تاکہ ہم جنت کے مالک بن سکیں؟ حضور ﷺ نے کسی آنے والے کودُھتکارا کبھی نہیں اسے چند باتیں بتادیں اوروہ خوش، خوش جنت یا فلاح کی بشارت لیکر چلا گیا؟آج کے ہمارے علمائے کرام ہوتے تو اتنا اس کو ڈانٹتے کہ وہ آئندہ ایسی کسی جگہ پر دوبارہ آنے کا ارادہ اور ایمان لانے کی کوشش بھی نہیں کرتا؟جب کہ حضورﷺ اس کے جانے کے بعد صحابہ ؓ کرام کا تجسس یہ فرماکر اکثر رفع فرمادیاکرتے تھے،کہ اس کو اسلام میں آنے دو انشا ء اللہ یہ سب ارکان اور احکامات پر عمل کریگا،تم سب کو عمل کرتا دیکھ کر اور تمہارے ساتھ خود کو عمل کرتا ہوا نظر آئیگا؟یہ انﷺ کی وہ نرمی ہی تھی کہ جس کی تعریف اللہ سبحانہ نے فرمائی ہے اور نتائج کیانکلے؟ کہ اسلام بڑی تیزی سے دنیا میں پھیلتا چلا گیا اگر خدانخواستہ حضور ﷺسخت ہوتے تو بقول باری تعالیٰ کے لوگ ان سے ﷺ سے ناراض ہو کر چلے جاتے؟ وہی نتائج نکلتے جو کہ ہماری شدت پسندی کی وجہ سے آجکل نکل رہے ہیں اور ہمارے سامنے ہیں؟حضورﷺ کے اس قسم کے واقعات تواتنے ہیں کہ وہ میں کیا کوئی بھی کسی چھوٹے سے مضمون میں پیش نہیں کر سکتا البتہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ المومنون کی صرف آٹھ آیات کے عامل بننے پر فلاح پانے کی ضمانت دی ہے ویسے تو یہ پہلا رکوع گیارہ آیات پر مشتمل ہے جس کی پہلی آیت شروع فلاح کی خوشخبری ہوتی ہے دس اور گیارہ دونوں آخری آیتوں پر رکوع ختم ہوتاجوکہ پھر خوشخبری پر دونوں آیتیں ختم ہوتی ہیں ۔ میں انہیں کو میں یہاں اردو میں بمع تفسیر اور تبصرہ پیش کرتا ہوں؟ جو کہ جنت کے بدلے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے صادر فرما ئی ہیں؟ وہ کون لوگ ہیں اور کتنے سے عمل پر جنت الفردوس، فلاح اورعطا کے حقدار بنیں ہیں پھر بھی امت اسے حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے اور حصولِ فلاح میں ناکام رہے تو کتنی بد قسمت ہے۔آئیے دیکھتے ہیں؟یقیناایمانداروں نے نجات حاصل کرلی!1جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں 2 جو لغو بات سے منہ موڑتے ہیں 3 جو زکاۃ ادا کرتے ہیں 4 جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں بجز اپنی بیویوں اور ملکتی لونڈیوں کے یقیناًیہ ملامتی نہیں ہیں 5 اس کے علاوہ جو اور ڈھونڈیں وہی حد سے تجاوز کرنے ہیں6 جو اپنے وعدے اور7 امانتوں کی حفاطت کرنے والے ہیں8 جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں9 یہ ہی وارث ہیں فردوس کے وارث ہونگے10 اور ہمیشہ رہیں گے 11 ۔ اس میں پہلی بات یہ رکھی ہے کہ وہ لوگ جو نمازوں کو خشوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔جس کی وضاحت حدیث ِ جبرئیل میں ملتی ہے کہ پوری توجہ اور خلوص سے یہ سمجھتے ہوئے ادا کریں کہ میں اسے دیکھ رہا اور یہ نہیں تو یہ تو ہونا چا ہیئے کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے؟ فضول باتوں سے پر ہیز کرنے والے۔ زکاۃ ادا کرنے والے۔ پھر دوسری سب سے اہم بات جو ہے وہ حقوق العباد اور وعدوں کی پابندی اور پاس سب سے زیادہ اہم ہے چونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ بندہ یابندی پہاڑ کے برابر گناہ لیکر آئے تو میں معاف کردونگا؟ مگر حقوق العباد میں کوتاہی کی ہے تو جس کو دکھ یا نقصان پہنچا ہے وہی معاف کریگا یا کریگی۔













