ایک دور تھا کہ یہ محاورہ عام تھا “ اس سے بات کیا کریں وہ تو کٹھ پتلی ہے “ کٹھپتلی کا پسَ منظر یہ تھا کہ یہ ایک قسم کا تماشہ تھا جس کے لیے نہ اسٹیج کی ضرورت ہوتی تھی نہ بجلی کے کنکش کی، اگر ہوتی تو پھر یہ محفل لوڈ شیڈینگ کی وجہ سے کبھی منعقد ہی نہ ہو پاتی اچھا تھا کہ اس دور میں بجلی نہیں تھیں۔ جبکہ اوقات کار کی پابندی تھی رات اس زمانے میں آرام کے لیے اور دن کام کرنے کے لیے ہوتا تھا اسی میں غریب لوگ چند لمحے تفریح کے لیے نکال لیتے تھے۔۔ اگر اس کے لیے کچھ چاہیے ہوتا تو ایک چار پائی، جس پر چادر پڑی ہوتی تھی اس کی آڑ میں بیٹھ کر ایک شخص (جیسے اس کھیل کی زبان میں بالم کہتے تھے) تاروں میں بندھی ہوئی پتلیوں کوگھماتا پھراتا تھا اور وہ ناچتی تھیں ا ور تماش بین دیکھتے کہ وہ ناچ بھی ہیں اور گا بھی رہی ہیں ، اس کے بالم کی بیگم صاحبہ اس کے ساتھ بیٹھ کر آوازیں نکالتی رہتی تھیں۔ وہ نچاتا ضرورتھا مگروہ کاٹھ کی پتلیا ں بھی تما شائیوں کے سامنے پورے کپڑے پہن کر ناچتی تھیں ، آج کی طرح نہیں کہ سب چلتا ہے؟ پردے کی وجہ یہ تھی ۔ کہ لوگ دن و رات اپنی پردہ پوشی کے لیے اپنے رب سے، سب سے زیادہ دعا مانگا کرتے تھے۔ چونکہ رب کی ایک صفت ستار بھی ہے لہذا وہ اپنی کریمی سے پردہ چاہنے والوں کی پردہ پوشی کر تا رہتا تھا۔کیونکہ کہ وہ خو بھی پردے میں رہتا ہے اوروں کو بھی پردہ پوشی کا حکم دیتا ہے۔ نیز دعائیں مانگنے والے اسے سب سے زیادہ پسند ہیں۔ بلکہ اس نے یہاں تک کہدیا کہ جو نہ مانگے وہ میر ا منکر ہے۔ اس کاایک فائیدہ یہ تھا کہ نہ کوئی دوسرے کے پردے کے پیچھے جھانکنا پسند نہیں کرتا تھا، نہ ہی برائی کھلے عام کرتا تھا۔ اگر لوگ برائی کرتے بھی تھے تو چھپ کر عموماً راجدھانیوں یا دار الحکومت میں جاکر۔سفر ذرا مشکل تھا اسی لیے لوگ سفر مشکل سے ہی کتے تھاے۔دوسرے سفر میں لٹ جانے کا خوف بھی ہوتا لہذا دار الحکومت یا راجدھانی کی طرف لوگ کم ہی جاتے ہے۔ میڈیا تھی نہیں کہ لوگوں کے بیڈ روموں میں جھانک کر دیکھتی۔ اس لیے سب کے پردے ڈھکے رہتے تھے۔ا س وقت کٹھ پتلی ہونا یا کہلانا گالی سمجھا جاتا تھا ۔ لہذا نہ ہی کوئی کٹھ پتلی بننا پسند کرتا تھا اور نہ کہلانا ۔ اس کھیل ہم نے بچپن میں دیکھا تھا؟ تاریخ ہمیں اس وقت ملا جبکہ1947 میں ہندوستان بھارت بن گیا ۔ اور ایک شاعر نے کانگریس کے طرز حکومت پھبتی کسی اور ہندوستانی پارلیمان کی رونمائی اپنے اشعار میں اس طرح کرا ئی کہ “ ڈور بالم نے ہلائی سر ہلا گردن ہلی ۔ پتلیوں کی راس لیلا نام کونسل ہال ہے“ اس وقت وہاں کے سیاسی رہنما تو یہ سن کر شرما گئے اور اصلاح کرلی کہ اسوقت تک وہں شرمانے کا رواج تھا۔ مگر ہمسایہ اسے دیکھ کر نقل کر نے لگے۔ جبکہ یہ محاورہ سب کا سنا ہوا تھا کہ ً نقل میں عقل نہیں ہوتی ہے“ہم اس میدان اتنے بڑھے کہ یہ تک بھول گئے کہ ہمارا اپنا کلچر ہے ،اپنا آئین ہے اور اپنا دین ہے جس کے تحت ہماری زندگی کو چلنا ہے۔ ا گر یہ مجبوری نہ ہوتی تو ہم الگ ملک بنا تے ہی کیوں؟ اب آپ کہیں گے کہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں اس میں سب نے اس ملک کی نقل کی اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمارے رہنما جب بھی وہاں جائیں! تو ہمیشہ ایک ہی بات کہتے ہیں کہ ہم ایک ہیں ہمارا کلچر ہے یہ دیوار دشمنوں نے ہمارے درمیان کھنچ دی جو ستر سال پہلے نہ تھی۔ لیکن جب پیری کھوج لگانے ہوئے چلتے ہیں تو اس کے پیرے انہیں سے جاکر ملتے جو کہتے ہوئے کہ یہ لکیریں ہم نے کھینچیں تم ہی نے کھینچیں ہیں ، نہ مانیں تو ہمارے گانے سن لیں ڈرامے دیکھ لیں۔ دونوں میں کوئی فرق ہے؟ اور نقل کا تحریری ثبوت مانگیں؟ تو آرکائی میں جاکراخباروں میں پڑھ لیجئے۔ کہ لاہور میں اسی خاندان کی حکومت جس نے؟ ایک پتلی گھر بڑے خرچے سے تعمیر کیا تھا ۔ کہ ا س آرٹ کو پھر سے زندہ کیا جا ئے ۔ پتہ نہیں وہ ابھی تک زندہ بھی ہے یانہیں یا صرف تخختی کی رونمئی حد تک تھا ،مگر ایک بات ضرور ملے گی کہ اب وہاں کسی کو کٹھ پتلی بننے اور کہلانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ اس کے بڑے فائدے ہیں؟ اس لیے وہ ا ب فخر سے کہتا ہے کہ میں فلاں کی کٹھ پتلی ہوں میں اسے بلا لوںگا اگر تم نے مجھے چھیڑاتو اور چھیڑ نے والا اس خرکت سے ہٹ جاتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک پڑوسی کا حشر دیکھ چکا ہے کہ جہاں جمہوریت کے چکر میں آزادی بھی گئی۔

بالم اب بھی ہے، مگر تاروں کے بجائے بے تاری ہے؟ جیسے “وائر لیس “ کہتے ہیں۔ اگر اس لفظ کا پوسٹ مارٹم کر یں توآپ دیکھیں گے کہ “ وائر “ کے معنی ہیں تار ۔ اور “ لیس “کے معنی ہیں بغیر تار کے ۔ ان دونوں کو ملا کر ہی یہ جملہ مکمل ہوتا ہے۔ یعنی وہ سلسلہ جو بغیر تار کے کسی سے جڑا ہواہے۔ اب تو وائرلیس کا لفظ بھی وقت کے ساتھ متروک ہو گیا ہے۔ وائرلیس شروع میں تار بھیجنے کے لیے استعمال ہو تا تھا ۔ اب اس جگہ ریموٹ کنٹرول نے لے لی ہے۔ یہ انتہائی جدید اضافہ ہے لغت میں، کہ ریموٹ تھوڑے فاصلہ کو بھی کہا جا سکتا ہے ۔ اور ایک سمند پار یا سات سمندر پار جگہ کو بھی اور سرحد پار کو بھی اور “بالم “موقع پر چارپائی کے پیچھے موجودہونے کے بجائے کہیں بھی ہو سکتا ہے۔اور اس کے حکم پر“ بم “ کہیں بھی پھٹ سکتا ہے۔ سرحدیں مقدس ہیں اور انہیں پھلانگا بہت ہی معیوب بات ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں ناقابل معافی لکھاہوا ہے ۔ مگر اب چاروں طرف اتنی خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں کہ یہ فعل کثرت استعمال کی وجہ اب برائی میں شامل نہیں رہا، جیسے اردو زبان میں غلط العام فصیھم۔اب کوئی بھی کسی ملک میں آزادی دلانے کے نام پر مداخلت کر سکتا ہے۔ گوکہ کوئی مانے نہ مانے مگر دنیا جانتی ہے کہ کون کس کی کٹھ پتلی ہے ریموٹ کس کے پاس ہے ۔اور وہ ملک جب ضروری سمجھے تو45 سال کے بعد بھی کہہ سکتا ہے کہ ہم نے فلاں ملک کو آزادی دلائی حالانکہ نہ وہ پہلے آزاد تھا نہ اب آزاد ہے۔ چونکہ اب قتل بھی معیوب نہیں رہاہے۔ لہذا اقتدار مضبوط بنا نے، یا نو ایجاد طرز حکمرانی کو مضبوط بنا نے کے لیے کچھ لا شیں گرادی جا ئیں تو کوئی بات نہیں ۔ اس کے بارے میں ایک شاعر پہلے ہی ایک شعر کہہ گئے ہیں کہ “ جس کو ہو اپنی جاں عزیز میری گلی آئے کیوں“ اب جدھر جائیے آپکو ریموٹ طرزِ حکمرانی نظر آئے گا۔ اور چاروں طرف لوگ شاکی نظر آئیں گے۔ یہ کونسا تماشہ ہے کہ جنگ بندی ہے بھی اور نہیں بھی، جب چاہا گولہ باری شروع ہوگئی جب ریموٹ کا بٹن دبا بند ہوگئی جیسے کبھی ہوئی ہی نہیں رہی تھی ؟

لوگ شہریت کہیں کی رکھتے ہیں اور کماکر دولت کہیں رکھتے ہیں۔ جبکہ حکومت کسی اور ملک پر کرتے ہیں۔ پھراپنے اکاونٹ میں رقم بھی ریموٹ سے بھیجتے ہیں ۔ اب تک تو اسکائی ٹرینیں بغیر ڈرائیور کے چل رہی تھیں۔ ڈرون ہوائی جہاز بغیر پائلٹ کے بمباری کر رہے تھے۔ اب ملکی حکومتیں ریموٹ سے چل رہی ہیں ۔ اور کاریں اور بسین بھی ایسی آنے والی ہیں کہ بغیر ڈرائیور کے چلیں گی ۔ انسان کی جگہ روبوٹ لے چکے ہیں ۔جو باقی آسامیاں بچی ہیں وہ بھی روبوٹ سے پر ہو جائیں گے۔ باقی صرف کمپوٹر انڈسٹریز رہ جائیگی اس میں کتنے انسان کھپیں گے ؟ سوچیئے جب بے روز گاری حد سے بڑھ جا ئے گی اور بے روزگاری کی بنا پر سب ڈاکو بن جا ئیں گے۔ تو ان کو بھتا کون دے گا کہاں سے ملے گا۔ اور جب نہیں ملے گا کو توبھتہ خور تھوک کے حساب سے قتل کرنے لگیں؟ ابھی تک تو ترقی یافتہ ملکوں میں عدل باقی تھا جس کی بنا پر یورپ اورا س قبیل کے دوسرے ممالک جنت تھے جہاں حکوتیں ووٹوں کے ذریعہ بدل جاتی تھیں۔ جب انہیں ریموٹ کنٹرو کریگا جیسا امریکی الیکشن میں الزام ہے۔ تو پھر یہاں بھی ظلم کا بول با لا ہو جائے گا اگریہ ہی عالم سب جگہ ہو گیا ہے کہ کوئی کہیں محفوظ نہیں ہے، تو جو بچا ہے وہ بھی آئندہ برے سے برا ہو تا جا ئے گا، یہاں بھی جب بیروزگاری ہو گی انہیں بھی روز گار نہیں ملے گا تو یہ بھی کہاں تک برداشت کر سکیں گے؟ پھر یہ بھی ایسا ہی کرنے لیں گے جیسے کہ غیر ترقی یافتہ ممالک کر رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے دن گنے جا چکے اور قیامت کہیں قریب ہی ہے جو چپکے سے آدبوچے گی۔ پھر اس آگے اب وہ سوچیں جنہوں نے اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کی۔ اس کا جواب نہ کسی نے سوچا ہے نہ ہی کسی کے پاس ہے۔

۔شمس جیلانی

SHARE

LEAVE A REPLY