خواجہ آصف نے نا اہلی کے معاملے پر سپریم کورٹ میں تحریری جواب جمع کرا دیا۔ جس میں انہوں کہا ہے کہ بطور رکن اسمبلی ملازمت کرنے پر کوئی آئینی یا قانونی پابندی نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے یو اے ای قانون کی غلط تشریح کی۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ خواجہ آصف کا کاغذات نامزدگی میں پیشہ کاروبار بتاناغلط نہیں، آمدن کا بڑا حصہ ذاتی کاروبار سے ہے ، کاروبار سے آمدن زیادہ ہونے کی وجہ سے پیشہ کاروبار بتایا گیا۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ خواجہ آصف کےدبئی کےاکاؤنٹ میں کبھی کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی، بند اکاؤنٹ کو ظاہر نہ کرنا کوئی غلط بیانی نہیں، دبئی کے اکاؤنٹ کو ظاہر نہ کرنا غیر ارادی غلطی تھی کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے خواجہ آصف کی اپیل خارج کرنے کیلئے متفرق درخواست دائر کر دی۔ درخواست وکیل سکندر بشیرکی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی۔ جس میں کہا گیا کہ خواجہ آصف کی نا اہلی کا فیصلہ درست اور قانون کےمطابق ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ فیصلے میں کسی قسم کی عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ خواجہ آصف کی عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل خارج کی جائے اور نااہلی کافیصلہ برقرار رکھا جائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ خواجہ آصف کی اکاؤنٹ ظاہر نہ کرنے کی دلیل قابل جواز و دفاع نہیں، اثاثے ظاہر نہ کرنے کا مقصد ٹیکس سے بچانا ہوتا ہے، خواجہ آصف کے اثاثے ظاہر نہ کرنے سے مفادات کا ٹکراؤ بھی سامنے آتا ہے، اثاثے ظاہر نہ کرنے کا مقصد آمدن کے ذرائع چھپانا ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے نااہلی فیصلے کے خلاف خواجہ آصف کی اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی۔ جسٹس عمرعطاء بندیال کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل تین رکنی خصوصی بنچ 21 مئی کو سماعت کرے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY