سندھ حکومت نے میر رضا علی کے قتل کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد شروع کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی۔
میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان بلوچ کریں گے، ٹیم میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو، پاکستان رینجرز سندھ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سینئر نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
سندھ حکومت نے متعلقہ اداروں کو افسران نامزد کرنے کے لیے خطوط ارسال کردیے ہیں۔
دوسری جانب جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے گریڈ 20 یا اس سے اوپر کے افسر کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز ہے، سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ کو خط لکھ کر ایف آئی اے کے سینئر افسر کی نامزدگی کی درخواست کی ہے، مجوزہ کمیٹی میں ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ اور ڈی آئی جی نعیم احمد شیخ بھی شامل ہوں گے۔
میر رضا کی موت خودکشی نہیں قتل تھا، جوڈیشل کمیشن نےجے آئی ٹی بنانےکی سفارش کردی
ادھر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار علی لاڑک پر مشتمل ایک رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے جو جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں نامزد پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لے گی، ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ کمیٹی کی معاونت کریں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کو 4 نکات پر تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جن میں نامزد افسران اور اہلکاروں کی صلاحیتوں اور کارکردگی کا جائزہ، مجموعی پولیسنگ کارکردگی کا تعین، جائے وقوع کو جلائے جانے کے معاملے میں انسپکٹر غوث کے کردار کی مزید تحقیقات اور نتائج و سفارشات پر مشتمل رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کرنا شامل ہے۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں نامزد پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے محکمہ داخلہ سندھ نے آئی جی سندھ کو خط بھی ارسال کردیا ہے جوڈیشل کمیشن کے مشاہدات اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات بھی آئی جی سندھ کو بھیج دی گئی ہیں۔
محکمہ داخلہ سندھ نے جوڈیشل کمیشن کے مشاہدات کی روشنی میں سیکرٹری صحت کو بھی خط ارسال کیا ہے۔
کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے میر رضا علی کا ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ کو عہدے سے ہٹانے اور 2 سالہ تربیت کے لیے بھیجنے کی سفارش کی ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,
میر رضا علی کیس میں جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق میر رضا کی موت خودکشی نہیں قتل تھا، پولیس تفتیش میں سنگین کوتاہیاں ہوئیں، جوڈیشل کمیشن نے قصوروار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی سفارش کردی، مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کیس کی رپورٹ 15 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی۔
جوڈیشل کمیشن کے مطابق شواہد متاثر ہونےکے باعث میر رضا کیس کی سخت اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں پولیس کی تفتیش میں سنگین خامیوں، ناقص نگرانی اور پیشہ ورانہ کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔کمیشن نے تفتیش کے ابتدائی مراحل میں ممکنہ شواہد چھپانےکے پہلو کو بھی نظرانداز نہ کرنےکی سفارش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے بروقت معلومات فراہم نہ کرنے سے عوامی قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا۔
موت کو خودکشی قرار دینےکے ابتدائی پولیس مؤقف پر جوڈیشل کمیشن نے سوالات اٹھادیے
رپورٹ کے مطابق حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ پشت سے لگنے والی گولی کا زخم قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں پولیس کے خودکشی کے مؤقف اور میڈیکو لیگل شواہد کے درمیان تضاد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق ڈاکٹراسامہ شیخ کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ نے پہلی رپورٹ کے مشاہدات سے اختلاف کیا۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق میر رضا کی موت کے معاملے میں گولی کے زخم اور دیگر طبی شواہد اہم ہیں۔
میر رضا کیس جوڈیشل کمیشن رپورٹ کے مطابق یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب میر رضا کی موت جس کو ابتدائی طور پر خودکشی بعد میں قتل کہا گیا، پولیس خودکشی کے موقف پر قائم رہی، جو دوسری پوسٹ مارٹم سے مطابقت نہیں رکھتی تھی، ڈاکٹر اسامہ اور ان کے ساتھیوں کے رویے نے بھی پولیس کے موقف کو تقویت دی۔
پولیس کا مفروضہ غیر تصدیق شدہ ٹیکسٹ پیغامات، ایس ایچ او کی منتخب فوٹیج، اور ڈاکٹر اسامہ کی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر مبنی تھا، اس رپورٹ میں بھی خودکشی کا حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا تھا،پولیس نے اس رپورٹ کے اس مشاہدے پر بھی انحصار کیا کہ جسم کے پچھلے حصے پر ایگزٹ وونڈ موجود تھا، پولیس نے اس بنیاد پر یہ فرض کرلیا کہ میر رضا نے خود کو سامنے سے گولی مار کر خودکشی کی، ڈاکٹر اسامہ کی جاری کردہ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ نے اس مشاہدے کی تردید کر دی، اگر مان لیا جائے گولی سامنے سے جسم میں داخل ہوئی تو اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ کسی کو سامنے سے گولی مار کر قتل نہیں کیا جاسکتا۔
میر رضا کی موت خودکشی نہیں قتل تھا، کمیشن کی رپورٹ
انکوائری کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ میر رضا کی موت خودکشی نہیں قتل تھا،گولی کا راستہ، غیر معمولی مقام، خون کی عدم موجودگی خودکشی کی نفی کرتے ہیں،لاش کی حالت، تیزاب سے جلنے کے نشانات، خون میں بے ہوشی کی دوا کی موجودگی خودکشی کی نفی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں ڈاکٹر اسامہ کےکردار اور پولیس تفتیش کے طریقہ کار پر انکوائری رپورٹ میں سوالات اٹھائےگئے
میر رضا کیس میں ڈاکٹر اسامہ کےکردار اور پولیس تفتیش کے طریقہ کار پر انکوائری رپورٹ میں سوالات اٹھائےگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 9 اگست کو ڈاکٹر اسامہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اسامہ شیخ ایڈیشنل آئی جی کراچی کی درخواست پر اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ڈاکٹر اسامہ پر دباؤ ڈالنےکے تاثر سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ ڈاکٹر اسامہ شیخ پر دباؤ ڈالنےکے دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ وزیراعلیٰ سندھ کو اہم کیس پر سینئر پولیس افسران سے بریفنگ لینےکا اختیار حاصل ہے، تاہم شفافیت کے پیش نظر پولیس سرجن کو بھی بلایا جانا چاہیے تھا جو نہیں کیا گیا۔
انکوائری رپورٹ میں ڈاکٹر اسامہ کے رویےکو غیرپختہ اور بچکانہ قرار دیا گیا
ڈاکٹر اسامہ کے حد سے زیادہ خود اعتمادی کے مظاہرے پر بھی تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کا طرز عمل ایک طبی پیشہ ور کے شایان شان نہیں تھا۔ ڈاکٹر اسامہ کو میڈیکو لیگل ذمہ داریاں دینے سے پہلے کم از کم 2 سال کی سخت علمی اور عملی تربیت لازمی قرار دینےکی سفارش کی گئی۔
کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کے ممکنہ طور پر کسی کے زیر اثر ہونےکا خدشہ ظاہرکیا
انکوائری رپورٹ میں ڈاکٹر اسامہ کے ممکنہ طور پر کسی کے زیر اثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ڈاکٹر اسامہ کے ممکنہ طور پر متاثر ہونے کے معاملے کی جامع اور حتمی تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔
کیس میں اہم سی سی ٹی وی ویڈیوز قانونی طریقے سے محفوظ نہ کرنےکا انکشاف
رپورٹ کے مطابق پولیس نے متعدد مقامات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اصل ڈی وی آر کے بجائے موبائل فون سے ریکارڈ کی۔ میر رضا کیس میں ڈیجیٹل شواہد کی تحویل اور محفوظ رکھنے کے طریقہ کار میں سنگین خامیاں سامنے آئیں۔اہم ڈیجیٹل شواہد کی وصولی اور منتقلی کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں۔ میر رضا کے موبائل فون کی تحویل اور فارنزک جانچ کے عمل پر سوالات اٹھائےگئے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کے مطابق میر رضا کی ایپل واچ کو محفوظ رکھنے میں کوتاہی سے ڈیٹا کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ پولیس کی جانب سے ڈیجیٹل شواہد میڈیا کو لیک کرنے کی نشاندہی کی گئی اور کہا گیا کہ مکمل تحقیقات سے پہلے پولیس کے نتائج میڈیا پر جاری کرنا پیشہ ورانہ معیار کے خلاف تھا۔
کمیشن کا گیسٹ ہاؤس میں موجود افراد کی مزید تحقیقات پر زور
میر رضا کیس میں بلیک میلنگ یا انتقامی قتل کے امکان کو بھی مزید تحقیقات میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جوڈیشل کمیشن نے مشتبہ گاڑیوں اور گیسٹ ہاؤس میں موجود افراد کی مزید تحقیقات پر زور دیا ہے۔
ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانےکی سفارش
انکوائری رپورٹ میں میر رضا کیس کی ازسرنو تفتیش کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانےکی سفارش کی گئی ہے۔ مجوزہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی، پاکستان رینجرز سندھ اور سائبرکرائم ایجنسی کے نمائندے شامل کرنےکی سفارش کی گئی ہے۔
ممکنہ غفلت کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش
میر رضا کیس میں ممکنہ غفلت کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے پولیس اہلکاروں کے کردار کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے کی سفارش کی ہے۔کیس میں قصوروار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ میں ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کی قیادت اور نگرانی پر رپورٹ میں تنقید کی گئی ہے۔ ایس ایچ او عدیل افضل کے خلاف جامع انکوائری اور عبوری معطلی کی سفارش کی گئی ہے۔ ایس آئی شبیر لغاری کے خلاف محکمانہ کارروائی اور عبوری معطلی کی سفارش کی گئی ہے۔ ایس ایچ او کامران قریشی کے خلاف محکمانہ کارروائی اور عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔
انکوائری رپورٹ میں اے آئی جی آزاد خان کی جانب سے کسی ٹھوس کوتاہی کا ثبوت نہیں ملا۔رپورٹ کے مطابق اے آئی جی آزاد خان کو ان کی تفتیشی ٹیم کے ارکان نے مایوس کیا۔انکوائری رپورٹ میں اے آئی جی آزاد خان کے بجائے تفتیشی ٹیم کے ارکان کی کارکردگی پر سوالات اٹھائےگئے ہیں۔
رپورٹ میں پولیس تفتیشی نظام میں اصلاحات، فارنزک سہولتوں اور افسران کی تربیت بہتر بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
میر رضا کے اہلخانہ کے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں، جبران ناصر
میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے جیو نیوز سےگفتگو میں کہا کہ میر رضا کے اہلخانہ کے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں،کمیشن نے جے آئی ٹی بنانےکا کہا جو اہلخانہ کا مؤقف تھا، ریکارڈ بتاتا ہےکہ بہت زیادہ شواہد ضائع کیےگئے،کمیشن نےکہا ہےکہ کیس کے پہلے دس دن جو تفتیشی افسران تھے، ان کے خلاف انکوائری کی جائے،کیس کے پہلے دس دن والے افسران میں ڈاکٹر اسامہ بھی شامل ہوں گے۔
جبران ناصر کا کہنا تھا کہ کمیشن نے لکھا ہےکہ کیس میں عوام اور اہلخانہ کا پولیس پر اعتماد کم ہوا ہے۔
………………………..
میر رضا علی کیس کی جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں پولیس کی تفتیش میں سنگین خامیوں، ناقص نگرانی اور پیشہ ورانہ کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔کمیشن نے تفتیش کے ابتدائی مراحل میں ممکنہ شواہد چھپانےکے پہلو کو بھی نظرانداز نہ کرنےکی سفارش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے بروقت معلومات فراہم نہ کرنے سے عوامی قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا۔
میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دینےکے ابتدائی پولیس مؤقف پر بھی جوڈیشل کمیشن نے سوالات اٹھادیے۔
رپورٹ کے مطابق حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ پشت سے لگنے والی گولی کا زخم قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں پولیس کے خودکشی کے مؤقف اور میڈیکو لیگل شواہد کے درمیان تضاد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق ڈاکٹراسامہ شیخ کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ نے پہلی رپورٹ کے مشاہدات سے اختلاف کیا۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق میر رضا کی موت کے معاملے میں گولی کے زخم اور دیگر طبی شواہد اہم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مکمل تحقیقات سے پہلے پولیس کے نتائج میڈیا پر جاری کرنا پیشہ ورانہ معیار کے خلاف تھا۔
میر رضا کیس میں ڈاکٹر اسامہ کے کردار اور پولیس تفتیش کے طریقہ کار پر انکوائری رپورٹ میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 9 اگست کو ڈاکٹر اسامہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اسامہ شیخ ایڈیشنل آئی جی کراچی کی درخواست پر اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ڈاکٹر اسامہ پر دباؤ ڈالنےکے تاثر سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ ڈاکٹر اسامہ شیخ پر دباؤ ڈالنے کے دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ وزیراعلیٰ سندھ کو اہم کیس پر سینئر پولیس افسران سے بریفنگ لینےکا اختیار حاصل ہے، تاہم شفافیت کے پیش نظر پولیس سرجن کو بھی بلایا جانا چاہیے تھا جو نہیں کیا گیا۔
انکوائری رپورٹ میں ڈاکٹر اسامہ کے رویے کو غیرپختہ اور بچکانہ قرار دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اسامہ کے حد سے زیادہ خود اعتمادی کے مظاہرے پر بھی تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کا طرز عمل ایک طبی پیشہ ور کے شایان شان نہیں تھا۔ ڈاکٹر اسامہ کو میڈیکو لیگل ذمہ داریاں دینے سے پہلے کم از کم 2 سال کی سخت علمی اور عملی تربیت لازمی قرار دینےکی سفارش کی گئی۔
انکوائری رپورٹ میں ڈاکٹر اسامہ کے ممکنہ طور پر کسی کے زیر اثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں ڈاکٹر اسامہ کے ممکنہ طور پر متاثر ہونے کے معاملے کی جامع اور حتمی تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں میر رضا کیس میں اہم سی سی ٹی وی ویڈیوز قانونی طریقے سے محفوظ نہ کرنےکا بھی انکشاف ہوا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے متعدد مقامات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اصل ڈی وی آر کے بجائے موبائل فون سے ریکارڈ کی۔ میر رضا کیس میں ڈیجیٹل شواہد کی تحویل اور محفوظ رکھنے کے طریقہ کار میں سنگین خامیاں سامنے آئیں۔اہم ڈیجیٹل شواہد کی وصولی اور منتقلی کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں۔ میر رضا کے موبائل فون کی تحویل اور فارنزک جانچ کے عمل پر سوالات اٹھائےگئے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کے مطابق میر رضا کی ایپل واچ کو محفوظ رکھنے میں کوتاہی سے ڈیٹا کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ پولیس کی جانب سے ڈیجیٹل شواہد میڈیا کو لیک کرنے کی نشاندہی کی گئی۔
میر رضا کیس میں بلیک میلنگ یا انتقامی قتل کے امکان کو بھی مزید تحقیقات میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جوڈیشل کمیشن نے مشتبہ گاڑیوں اور گیسٹ ہاؤس میں موجود افراد کی مزید تحقیقات پر زور دیا ہے۔
انکوائری رپورٹ میں میر رضا کیس کی ازسرنو تفتیش کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانےکی سفارش کی گئی ہے۔ مجوزہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی، پاکستان رینجرز سندھ اور سائبرکرائم ایجنسی کے نمائندے شامل کرنےکی سفارش کی گئی ہے۔
میر رضا کیس میں ممکنہ غفلت کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے پولیس اہلکاروں کے کردار کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے کی سفارش کی ہے۔کیس میں قصوروار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی سفارش کی ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے مدت میں توسیع کا باضابطہ فیصلہ نہ ہونے پر کارروائی آگے نہ بڑھانے کا اعلان کردیا۔
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ ترجمان سندھ حکومت بتایاکہ کمیشن کی مدت میں توسیع کی سمری کابینہ کوبھیج دی ہے۔
کمیشن نے کہا کہ سندھ کابینہ کا اجلاس یکم اکتوبر 2026 کو متوقع ہے،کابینہ اگرکمیشن کی مدت میں توسیع کا فیصلہ نہیں کرتی توکسی کو نہیں بلایا جائے گا جب کہ اب تک ریکارڈ کیے گئے بیانات کی بنیاد پر جلد ہی رپورٹ پیش کردی جائے گی۔
جوڈیشل کمیشن کے حکم نامے کے مطابق اگر سندھ کابینہ کمیشن کی مدتِ میں توسیع کردیتی ہے تو گواہوں کو نئے نوٹس جاری کیے جائیں گے، تین سینئر پولیس افسران کو بھیجےگئے سوال نامے بھی اسی تاریخ کو بھیجے جائیں گے۔
جوڈیشل کمیشن کی مزید کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
میر رضا کیس میں تفتیشی ٹیم نے سپر میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست دینے کی تصدیق کردی۔
میر رضا کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے دوران تفتیشی ٹیم کی جانب سے سپر میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست دینے کی تصدیق کی گئی۔
کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ 6 اگست کو سندھ حکومت بہت ایکٹو ہوگئی تھی، اتنی تیزی کبھی سڑکوں کی مرمت اور گٹروں کے لیے بھی دکھائیں، وہاں بھی لوگ مر رہے ہوتے ہیں۔
جسٹس عمر سیال نے شہریار میمن کو کہا کہ غیر قانونی طور پر میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا، یہ سب آپ کے کیرئیر میں آپ کا پیچھا کرے گا۔
ایس ایس پی ایس آئی یو سمیع اللہ سومرو سے کمیشن نے پوچھا کہ موبائل فون نالے سے ملا تو شادی ہال کے قریب کا بیانیہ کیوں بنایا گیا؟ دنیا خودکشی کا بیانیہ چلارہی تھی، آپ نے تصحیح کیوں نہیں کی؟ اتنے اہم شواہد کے ساتھ کھیل رہے تھے ، کیا پولیس نے فون اَن لاک کرنے کی کوشش میں بلاک کیا؟
اس پر سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ ان کی ٹیم نے کوشش نہیں کی، ممکن ہے سی ٹی ڈی نے کی ہو اور 6 دن تک کیس کی تحقیقات اُن کے پاس رہیں۔
جسٹس عمر سیال نے مزید کہا کہ یہی 6 دن ہیں جب کیس خراب ہوا، آپ سب کچھ ماتحت افسران پر ڈال رہے ہیں ، آپ ایس ایس پی ہیں، خیال کریں کیرئیر یہیں ختم نہ ہوجائے۔
بعد ازاں کمیشن نے کارروائی پیر تک ملتوی کردی
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
میر رضاکمیشن نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کی سوشل میڈیا پر منفی مہم کی شکایت کے بعد این سی سی آئی کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔
جیو نیوز کے مطابق کمیشن نے تحقیقات کے لیے سینئر افسر مقرر کرنے کی بھی ہدایت کی ہے جب کہ ڈاکٹرسمیہ اور ڈاکٹر اسامہ کے درمیان پیغامات کے تبادلے کی فارنزک جانچ کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
گزشتہ روز کی کارروائی کے تحریری حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ ڈاکٹر سمیہ نے ڈاکٹر اسامہ کی ایما پر اپنے خلاف منفی مہم کی شکایت کی، ڈاکٹر اسامہ کی کوششوں کا مقصد جوڈیشل کمیشن کے وقار کو نقصان پہنچانا اور متنازع کرنا ہے، ڈاکٹر سمیہ کو ہراساں کیا جانا ناقابل قبول ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر سمیہ نے کمیشن کو درخواست میں ڈاکٹر اسامہ پر اپنی گفتگوکے کچھ حصے ایڈٹ کرکے مخصوص میڈیا چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو فراہم کرنے کا الزام عائد کیا اور مکمل گفتگو فراہم کرنے کی پیشکش کی۔
ڈاکٹر سمیہ نے کہا ڈاکٹراسامہ کمیشن میں 3 بار پیش ہوئےلیکن گفتگو کا مکمل ریکارڈ نہیں دیا، وہ حتمی رپورٹ تسلیم نہیں کررہے، ڈاکٹر اسامہ کے بیانات سے ان کےطرز عمل پر سوالات اٹھتے ہیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
کراچی میں قتل کیے جانیوالے نوجوان تاجر میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہےکہ میر رضا کے والد پر دباؤ ڈالا جارہا ہے تاکہ مزید کارروائی نہ ہوسکے۔
وکیل جبران ناصر نے کہا کہ گزشتہ شب میر رضا کے والد کو کال آئی، والد کو کال پرکہا گیا کہ ایس ایچ او عدیل افضال ان کا بچہ ہے، عدیل افضال سے ایف آئی آر لے لی ہے۔
جبران ناصر نے بتایا کہ والد کو کہا گیا کہ عامر فاروقی سے بات ہوگئی ہے، آپ کو آصف، عابد، احمد یا عبداللہ کسی پر شک ہے؟ تاہم والد کی جانب سے کسی پر شک کا اظہار نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔
وکیل کے مطابق کال کی ریکارڈنگ اور اسکرین شاٹس رجسٹرار کو جمع کروائی ہے، ڈاکٹر سمیہ کے بیان کے بعد والدین پر دباؤ ڈالا جارہا ہے تاکہ مزید کارروائی نہ ہوسکے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
میر رضا قتل کیس میں جائے وقوعہ سے ملنے والے پستول کا خول سکیورٹی گارڈکے پستول سے میچ نہیں ہوا۔
میر رضا کیس میں ایک اہم فارنزک رپورٹ سامنے آگئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ سے ملنے والا 30بور کا خول پستول نمبرLA-1197 کے 2 ٹیسٹ خولوں سے میچ نہیں ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرائم خول اور ٹیسٹ خولوں کے اسٹرائیکر پن اور بریچ فیس کے نشانات مختلف ہیں، یہ رپورٹ تھانہ فیروزآباد کے مقدمہ نمبر 795/2026 سے متعلق ہے، جس میں اغوا، قتل اور شواہد مٹانے کی دفعات شامل ہیں۔
میر رضا کی فیملی کے وکیل جبران ناصر کی گفتگو
دوسری جانب میر رضا کی فیملی کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ ایک نہایت اہم حقیقت جسے پولیس نے 10 اگست سے چھپائے رکھا تاکہ خودکشی کے بیانیے کو مضبوط اور برقرار رکھا جاسکے یہ ہے کہ جس مقام سے میر رضا کی لاش ملی تھی وہاں سے 9 دن بعد ملنے والا گولی کا خول اس پستول کے ان خالی خولوں سے مطابقت نہیں رکھتا جو پولیس کے ریکارڈ میں موجود ہیں اور جس پستول کو میر رضا نے وافلکس (Wafflix) سے باہر نکالا تھا۔
جبران ناصر کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق جب یہ پستول سکیورٹی کمپنی برائٹ سکیورٹی کو جاری کیا گیا تھا تو اس وقت اس پستول سے فائر کیے گئے دو خالی خول پولیس کے پاس بطور ریکارڈ جمع کرائے گئے تھے، انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ پولیس کو اس رپورٹ کا علم تھا مگر اس پیشرفت کو چھپایا گیا، پولیس نے یہ حقیقت سندھ ہائی کورٹ کے سامنے بھی ظاہر نہیں کی۔
وکیل جبران ناصر کے مطابق اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ جس جگہ سے میر رضا کی لاش ملی تھی اسے اس بہانے سے جلا دیا گیا کہ اس عمل سے گولی کا خول تلاش کرنے میں مدد ملے گی، جب 6 اگست کو گولی کا خول ملا تو 4 مختلف تھانوں کے چار ایس ایچ اوز وہاں موجود تھے، اس کے باوجود جائے وقوعہ میں مبینہ طور پر ردوبدل کیا گیا اور خودکشی کے الزام کو آگے بڑھانے کے لیے ایک جعلی گولی کا خول وہاں رکھ دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن سے ہی میر رضا کے اہل خانہ پولیس کے طرز عمل پر سوالات اٹھا رہے ہیں اور پہلے دن سے ہی سندھ حکومت ان پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی مزاحمت کر رہی ہے، حکومت نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے سے انکار کیا اور خاندان کو مجبور کیا کہ وہ تفتیش کے لیے اسی پولیس پر اعتماد کرے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح تفتیش جاری ہے اسی طرح پولیس کی کارروائی بھی ایک مذاق اور ڈھونگ بنتی جا رہی ہے کیونکہ میر رضا کے قاتلوں کو بچانے کی کوشش میں پولیس کی تفتیش اپنی ساکھ کھوتی جا رہی ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن نے جوڈیشل کمیشن نے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کردی۔
میر رضا کیس میں آج میر رضا کے والد اور بہن کے علاوہ پولیس سرج ڈاکٹر سمعیہ بھی پیش ہوئیں اور کمیشن کی جانب سے پوچھے گئے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔
وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونے تاخیر سے لیب پہنچائے گئے، جس پر کمیشن نے پوچھا کیا سیمپلز کی شیلف لائف ہوتی ہے؟
ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ عمومی طور پر فرق نہیں پڑتا، تاخیر سے اگر کوئی کیمیکل ٹریس نہیں ہوا تو اس کے بارے میں نہیں کہہ سکتے، ہائی پروفائل کیس میں عموماً تاخیر نہیں کی جاتی۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے اعتراض اٹھایا کہ سوال کمیشن کی جانب سے کیے جانے چاہئیں، جبران ناصر کی طرف سے نہیں، جس پر کمیشن نے کہا اگر فیملی کو کوئی سوال پوچھنا ہے تو سندھ حکومت کو کیا اعتراض ہے؟ کیا آپ کچھ چھپا رہے ہیں؟
کمیشن نے کہا کہ وزیر داخلہ سندھ کو طلب کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے جائیں، آپ کے رویے پر وزیر داخلہ کو بلانا چاہیے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی مداخلت پر کمیشن نے کارروائی معطل کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کر دی۔












