پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بجٹ اجلاس میں شرکت کا خطرہ مول لینا پڑے گا۔
نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام جیو پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ورچوئل اجلاس سے متعلق سوال پر احسن اقبال نے کہا کہ کسی بھی ریاست کی 3 شاخیں ایگزیکٹو، عدلیہ اور پارلیمنٹ ہیں، اس وقت ایگزیکٹو فعال ہے کابینہ کے اجلاس بھی ہوتے ہیں جس میں پورے ملک سے لوگ آتے ہیں، اس میں افسران بھی شریک ہوتے ہیں۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کابینہ کے اجلاس ہوسکتے ہیں تو پارلیمنٹ کے اجلاس میں کیا قباحت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح ہائی کورٹس کے سیشن ہورہے ہیں، سپریم کورٹ میں مختلف علاقوں سے سائلین اور وکلا آرہے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عملدرآمد کرنا ہے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اگر ایس او پیز کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ورنہ بہت غلط پیغام جائے گا کہ دیگر تمام ادارے کام کررہے ہیں اور پارلیمنٹ لاک ڈاؤن کردے کہ ہم تو ورچوئل اجلاس کی طرف جارہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ ایک طرف حکومت کہہ رہی ہے کہ ملک نارمل ہورہا ہے، سیاحت کے لیے ملک کھولا جارہا ہے، دفاتر کھولے جارہے ہیں، پارکس کھول دیے گئے ہیں سب کھولا جارہا ہے دوسری طرف ہم پارلیمنٹ کے اجلاس پر جو اراکین اسمبلی خود کو اتنے کمزور ظاہر کریں کہ ہماری جان بہت پیاری ہے، لوگ مرتے ہیں تو مریں، یہ مناسب بات نہیں۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ یورپ، لبنان، مشرق وسطیٰ کی مثال دیکھ لیں، برطانیہ اور امریکا میں اجلاس ہورہا ہے ہر ملک میں پارلیمنٹ کے اراکین مل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سارے ممالک کی ڈومیسٹک پارلیمنٹس نے لوگوں کی تعداد محدود کی ہے اور ہر جماعت کے تناسب سے شرکت یقینی بناتے ہیں تو ہم نے بھی کہا ہے کہ ایس او پیز طے کرلیں کہ سماجی فاصلے کے تحت کتنے افراد کو اجلاس میں آنا چاہیے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ورچوئل اجلاس میں اسمبلی کی کارروائی میں اس طریقے سے حصہ نہیں لے سکتے اور انہوں نے کہا کہ ورچوئل اجلاس میں اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر جس کو چاہے شٹ ڈاؤن کردے اور آپ اس پر بات نہ کرسکیں۔
مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا کہ ابھی ملک میں بجٹ پاس ہونا ہے، بجٹ کی بحث بہت اہم چیز ہے، یہ کوئی معمول کی کارروائی نہیں ہے اس میں اراکین اسمبلی کا موجود ہونا بہت ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ملک میں کورونا کی صورتحال، ٹڈی دل کا مسئلہ، کورونا کے بعد معاشی بحالی یہ بہت اہم مسئلے ہیں اور میں یہ کہوں گا کہ ہر شعبے کے پیشہ وارانہ خطرات ہوتے ہیں ہم سیاستدان، عوام سے دور نہیں ہوسکتے، احتیاط ضرور کرنی چاہیے۔












