صدارتی ایوارڈ یافتہ معروف گائیک اعجاز قیصر کی تدفین 27 مئی کو فیصل آباد کے مقامی قبرستان میں ادا کر دی گئی، نماز جنازہ میں سماجی اور گلوکار گھرانے سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔
فیصل آباد میں صدراتی ایوراڈ یافتہ گائیک اعجاز قیصر گزشتہ روز انتقال کر گئے تھے، اعجاز قیصر ذیابیطس، دل اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔ گزشتہ روز اعجاز قیصر کو طعبیت ناساز ہونے پر ہپستال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔
اعجاز قیصر پاکستان ٹیلی وژن سے غزل گائیگی کے پروگراموں سے شہرت حاصل کی تھی، اعجاز قیصر کی نماز جنازہ کے بعد قریبی قبرستان میں تدفین کر دی گئی، ان کے بچھڑنے پر ہر آنکھ اشک بار نظر آئی۔
اعجاز قیصر کی نماز جنازہ میں حسن صادق، شرافت علی، علی شیر اور امانت علی نے بھی شرکت کی۔ حسن صادق کا کہنا تھا کہ غزل کی دنیا کا ایک بڑا نام اس دنیا سے چلا گیا، امانت علی کا کہنا تھا کہ اعجاز قیصر موسیقی میں میرے استاد تھے۔ اعجاز قیصر کے جانے سے خاندان اور موسیقی کی دنیا میں خلا پیدا ہو گیا ہے۔
موسیقی کی دنیا میں اپنی آواز کے بل پر پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کرنے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکار اعجاز قیصر انتقال کرگئے۔68 سالہ اعجاز قیصر، دل ،گردوں اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا تھے، انہوں نے اپنی مدھر آواز سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں موسیقی کے ساتھ محبت رکھنے والوں کے درمیان اپنی
منفرد شناخت بنائی۔اعجاز قیصر بیماری کے باعث ایک عرصے سے گمنامی اختیار کر چکے تھے، ان کے دل کی شریانیں بند اور گردوں کی بیماری کے باعث وہ بہت کمزور بھی ہو چکے تھے۔گزشتہ رات انہیں طبیعت ناساز ہونے پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسک













