حُسین شناسی کا سفر۔31۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
629

قسط اکتیس

جب تک
ان کی زندگی آرام اور آسائش سے گزرے
اور جب امتحان میں ڈالے جائیں تو دیندار بہت کم رہ جاتے ہیں”
مولا حسین علیہ السلام نے
اپنے خطابت میں جا بجا اتمام حجت کی
یعنی
آپ کسی معاملہ پر
مخالف کے لئے کوئی ایسا راستہ نہیں چھوڑنا چاہتے تھے
کہ
آپ اپنے خاندان کے ساتھ کیسے کربلا آ گئے
واقعہ کربلا میں
امام حسین علیہ السلام نے
یزیدی فوج پر
دنیا و آخرت دونوں جہانوں کے لئے اتمام حجت مکمل کر دی
امام حسین علیہ السلام کربلا پہنچے
خیمے گاڑے
کربلا کے قریبی قبیلہ بنی اسد کوطلب فرمایا
زمین ساٹھ درہم میں خریدی
کہ
کل کوئی یہ عذر پیش نہ کر سکے
کہ
امام حسین علیہ السلام
دراصل زمین پر قبضہ کر کے رہنا چاہ رہے تھے اور ریاست کو کاروائی کرناپڑی
اس دوران
یزیدی فوج کا پہلا دستہ کربلا پہنچ گیا، جس کی قیادت حضرت حر کر رہے تھے
سفر کی وجہ سے پورا قافلہ پیاسا تھا
امام حسین علیہ السلام نے
ان سب کو پانی پلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ جانور بھی سیر ہو گۓ
امام حسین علیہ السلام چاہتے
تو
اس وقت جنگ کر سکتے تھے
یزیدی فوج تھکی ہوئی تھی
پیاسی تھی اور تعداد میں بھی کم تھی
لیکن
امام حسین علیہ السلام
ان کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئے حالانکہ جانتے تھے آپ کی فوج کو قتل کرنے آئے تھے
آپ ع نے ایسا کچھ نہیں کیا
کہ
کل روز محشر کسی کے پاس یہ عذر نہ رہے
کہ
ہم تو جنگ کرنے کے لئے نہیں بلکہ ان کو صرف وہاں روکنے کے لئے گۓ تھے
امام حسین علیہ السلام نے حملہ کر دیا تو ہم نے اپنے دفاع میں انہیں قتل کیا
اس کے بعد مزید فوج آئی
تو
امام حسین علیہ السلام کو دریائے فرات کے قریب سے خیمے ہٹانے کا کہا
امام حسین علیہ السلام جانتے تھے
کہ
آج یا کل انجام موت ہی ہے
تب بھی جنگ کر سکتے تھے
مگر واقعہ کربلا سننے والا کہہ سکتا تھا
کہ
یہ تو دور جہالت کے عربوں کی طرح پانی کی جنگ تھی نا کہ دین اور اصول کی
عربوں میں بھی اصول تھا
کہ
سال میں چار ماہ ایسے تھے کہ جیسے ہی چاند نظر آتا
جنگیں رک جایا کرتی تھیں
محرم، ذی القعدہ، ذی الحج اور رجب
اس اصول میں انسانیت تھی
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بھی اس اصول کو قائم رکھا
اور ان چار ماہ کو حرمت والے مہینے کہا ، جنگ کو منع کیا
محرم میں
امام حسین علیہ السلام کا کربلا میں پہنچنا بھی
اس بات کی دلیل ہے
کہ
امام حسین علیہ السلام یہ عذر بھی باقی نہیں رہنے دینا چاہتے تھے
کہ
روز محشر وہ کہہ سکیں
کہ
اگر امام حسین علیہ السلام امن کے مہینہ میں آتے تو شاید ہم جنگ نا کرتے
امام حسین علیہ السلام
اس جنگ میں خواتین سمیت شیر خوار بچے بھی ساتھ لائے تھے
عربوں کے اس زمانے میں جنگ کے کچھ اصول ہوا کرتے تھے
اس میں یہ بھی اصول تھا
کہ
جب دشمن اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہو تو حملہ نہیں کیا جاتا تھا
اس لئے امام حسین علیہ السلام کربلا میں اہل و عیال کے ساتھ آئے
اصول تھا
کہ
اگر کوئی بزرگ جنگ کے میدان میں آ جائے
تو
کوئی اس سے جنگ نہیں کیا کرتا تھا
اسی لئے
امام حسین علیہ السلام نے
حضرت حبیب ابن مظاہر جیسے بزرگ کو خط لکھ کر کربلا پہنچنے کا حکم دیا
اصول تھا
کہ
اگر تازہ مہندی لگائے دولہا میدان میں آئے تو اس سے جنگ نہیں کی جاتی تھی
یہی وجہ تھی
کہ
امام حسین علیہ السلام نے حضرت امیر قاسم علیہ السلام کی شادی کی
اصول تھا
کہ
اگر کوئی شخص اپنے ساتھ چھوٹا بچہ لے کر آ جاتا تھا تو جنگ رک جاتی تھی
امام حسین علیہ السلام
حضرت علی اصغر علیہ اسلام کو لے کر میدان جنگ میں گۓ
تاکہ
کل کوئی یزیدی یہ عذر نہ کر سکے
کہ
اگر حسین ع یہ کر دیتا ، وہ کر دیا تو میں جنگ روک دیتا
اگر یہ جنگ
اقتدار کی جنگ ہوتی
امام حسین علیہ السلام میدان کربلا میں
اپنے بچے اور خواتین کیوں لے کر آتے
یہ جنگ اقتدار کے لئے نہیں بلکہ خالص مذہب کے لئے تھی
دین اسلام کو بچانے اور اس میں تحریفات کو روکنے کے لئے تھی

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY