کیا زمانے میں پنپنے کی یہ ہی باتیں ہیں۔۔۔ شمس جیلانی

0
847

ہم نے علامہ اقبال ؒ کے ایک شعر کا یہ مصرع اولیٰ اس لیے چنا ہے کہ اس وقت قوم اتنی بلندی پر نہیں پہنچی تھی جتنی کہ اب پہنچ چکی ہے۔ اس وقت علامہ کوجو شکایت قوم سے تھی وہ یہ تھی کہ ع فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہ ہی باتیں ہیں۔ اس کے گواہ ہم خود بھی ہیں کہ اس زمانے میں ایمان اتنا کمزور نہیں ہوا تھا،اگر کسی کا جانور بھی گم جاتا تو جسے وہ ملتا مالک کو تلاش کر کے اس تک پہنچا کے آتا؟مگر اب اس کا الٹ ہے کہ بس چلے تو مالک کے ہاتھ میں سے جانور کی رسی چھین کر بھا گ جاتا ہے۔جبکہ دنیا یہ مانتی ہے کہ دین اسلام پیغمبر ِاسلام ﷺ، صحابہ ؓ عظام اور اولیا ئے کرام رح نیز عام مسلمانوں کے اچھے کردار سے پھیلا؟ جبکہ آج کا مسلمان اپنے موجودہ کرد ارسے اپنے ماضی پر پانی پھیر رہا ہے۔ جتنی اہمیت لین دین کو اسلام نے دی اب اس کا عشر ِ ِ عشیربھی مسلمانو ں میں باقی نہیں ہے۔ تو بتا ئیےکہ اب ہمارے پاس باقی بچا کیا ہے؟ یہ ہی نہ کہ عمل اور خلوص سے خالی عبادات؟ ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ شرائط پوری کرتے ہیں۔ کتنے ہیں جن کی نمازوں میں خشوع اور خضوع پایا جاتاہے؟ یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔ پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ وہ کتنے ہیں جو لقمہ حلال کھاتے ہیں اور اپنے بچو ں کے پیٹو ں میں ڈالتے ہیں؟ایسی صورت حال میں کچھ اسلامی جماعتوں کا یہ خیال کہ لوگ موجودہ دنیا کے مسلمانوں کو اچھی اور عزت کی نگا ہ سے دیکھیں گے جبکہ ان میں کوئی اچھا ئی باقی ہی نہیں ہے کیسے ممکن ہے؟۔ہم نے جس طرح رسم رواج کے طور پرعبادات کو اپنا یا ہوا ہے یعنی ایک دوسرے کو با ور کرانے کے لیے کہ ہم بھی مسلمان ہیں؟ جبکہ ان میں سے خلوص کا عنصراب کسی میں موجود نہیں ہے؟ نہ اللہ کے ساتھ خلوص ہے نہ ہم بندوں کے ساتھ مخلص ہیں۔ ایسی عبادات کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ“ ایسی تمام عبادات جو خلوص سے خالی ہوں وہ کرنے والو ں کے منہ پر قیامت کے دن مار دی جا ئیں گی“ اور وہ دیکھیں گے کہ ان کے کھاتے میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہوگا جو مال بے ایمانی سے کمایا اور اللہ کی راہ میں کی راہ میں خرچ کیا گیا ہوگا۔ البتہ اس سے ان کے نامِہ اعمال ضرور سیاہ ہو ں گے جو بے ایمانی سے کمایا، جبکہ ان کے پاس اس دن مظلوموں کو بدلے میں دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہو گا؟ اور وہ سیدھے جہنم میں بھیج دیئے جا ئیں گے۔یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں۔ یہ وہ اپنے نبی ﷺ سے فرما رہا ہے سورہ رعد کی آیت 5 میں جبکہ اس سے پہلے وہ گنا چکا ہے کہ میں نے کیا کیا پیدا کیا” پانی ایک ہے زمیں ایک ہے لیکن ہر پھل کا مزہ جدا ہے شکل جدا ہے خوشبو جدا ہے۔ پھر بھی انہیں میرے وجود کا یقین نہیں آتا صرف اتنی سی بات پر کہ میرے فرشتے قیامت کے دن انہیں لا کر میرے روبرو پیش کر یں گے جنہیں میں مرنے کے بعد دو بارہ پیدا کر چکا ہوں گا اور ان سے میں حساب لونگا۔ جس طرح دین ہم نے فیشن میں اپنا یا ہوا ہے اسی طرح طریقہ حکومت میں بھی جمہوری نظام اپنا ہوا ہے۔ جبکہ اسلامی ممالک میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اکثریت اس میں مسلمانوں کی ہو اور قوانین غیر اسلامی نافذ ہوں؟ جمہوریت میں بھی ہمارا یہ ہی عالم ہے کہ نہ مسلمان اس پر عمل کرتے ہیں۔ نہ اسلامی قوانین پر؟ اور خاص طور سے پاکستان میں جو کہ بنا یا ہی اسی کے نام پر گیا تھا کہ وہاں اسلامی قوانین نافذ کیئے جائیں گے اور ہم اسے مثالی اسلامی ملک بنا کر پوری دنیا میں تیرا نام بلند کریں گے جو وہ چو ہتر سال میں نہیں کرسکے؟ اسلامی قوانین تو وہ اس لیئے نافذنہیں کر سکے کہ وہ انہیں آج کی ماڈرن دنیا میں زیب نہیں دیتے جو کہ بقول ان کے دقیانوسی ہیں، اگر ہم نافذ کر دیں تو ہمیں لوگ کیا کہیں گے؟ جبکہ جمہوری ملکو ں میں بھی رواج یہ ہے کہ جو اقتدار میں آنے کے بعد بدعنوانی کرے، یا جھوٹ بولے توبرطرف بھی کردیا جاتا ہے اور ساتھ میں سزا بھی پاجاتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں اس کے غیر لکھے آئین کے مطابق جو جتنا بڑا بے ایمان ہے اتنا ہی کامیاب رہتا ہے کہ وہ کھاتا بھی اور کھلاتا بھی۔ چونکہ وہاں کے ہر وزیراعظم کو مصلحت کے تحت چلنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر آپ وہاں کرسی پر فرشتہ لا کر بھی بٹھا دیں تو بھی وہ کام کر ہی نہیں سکتا؟ یہ وہ مجبوری ہے جو کسی پاکستانی وزیر اعظم کو اگر وہ کچھ کرنا بھی چاہے تو بھی وعدے پورے نہیں کرنے دیتی؟ اور یہ ہی صورت حال اسوقت تک رہے گی جب تک وہاں یہ بھان متی کا کنبہ چلتا رہےگا۔ کیونکہ دنیا میں خالص چیزیں چلتی ہیں ملاوٹ نہیں چلتی؟ جبکہ وہاں اس کا الٹ کہ وہا ں کوئی چیز خالص نہیں چلتی صرف اور صرف ملاوٹ چلتی ہے؟ یہ ہی ہمارا المیہ ہے کہ نہ ہم اللہ کے قوانین چا ہتے نہ بندووں کے قوانیں یعنی ہم لا قانو نیت پسند کرتے ہیں؟ اس پر طرہ یہ ہے کے؟ دونو نظام متضاد ہیں۔ آجکل جو نظام پوری میں دنیا میں رائج ہے وہ سود در سود پر مبنی ہے جوکہ انسانی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کا نام ہے؟ جبکہ اس کے برعکس اسلام مجبوریوں میں انسانیت کی مدد کرنے کا نام ہے۔ یعنی اگر کوئی دیوالیہ ہو جا ئے تو وہ شرع سود بڑھاتا نہیں ہے۔ بلکہ مقروض کو مہلت دینے کا حکم دیتا ہے، قر ضہ حسنہ کی بات کر تا ہے۔ اس سے بھی اسے ریلیف نہ ملے تو معاف کر دینے کا حکم دیتا۔ شاید بہت کم لوگوں کے علم یہ بات ہو کہ بینک کرپسی کا قانون سب سے پہلے اسلام نے روشناس کرا یا اور اسلامی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا کہ اگر مقروض کے پاس کچھ نہ ہو تو وہ بیت المال سے ادا کرے؟ مگر اس میں مشکل یہ ہے کہ وہ تقوے کے بغیر نہیں چلتا اور تقویٰ مسلمانوں میں مفقود ہے؟لہذا سرمایا دارانہ نظام صدیوں سے چل رہا ہے جبکہ اسلامی نظام مدت ہوئی دنیا سے مفقود ہوچکا ہے۔ تمام مسلمان ملکوں میں بد عنوانیاں عام ہیں۔ سیدھی سی بات ہے اربوں روپیہ لگا کر جو حکومت میں آئے گا اس سے یہ امید رکھنا کہ وہ ایمانداری سے کام کریگا۔ کیسے ممکن ہے اگر کھا ئے کھلائے گا نہیں تو اگلے الیکشن میں آئے گا کیسے اور وراثتی جمہوریت کیسے چلے گی کہ لوگ چالیس چالیس تک حکمراں کیسے رہیں؟ میرا مشورہ عوام کو یہ ہے کہ وہ خود نہیں سدھر سکتے تو حکمرانو ں کوسدھارنے کی بات بھی کرنا چھوڑ دیں؟ اور واویلا مچانا کم کردیں کہ اس سے اسلام کی بد نامی کم ہو جا ئے گی؟کم از اُس دہری سزا سے تو بچیں گے؟ ایک خود عمل نہ کرنے کی اور دوسری اسلام کو دنیا میں بدنا م کر نے کی؟ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو خیال جسے اپنی حالت کے بدلنے کا۔

SHARE

LEAVE A REPLY