محمد سلیم نائب قاصد پی بی سی پنڈی تھری نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ گزر بسر کے لئے محدود پنشن کے ساتھ محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پالتا رہا۔ نہایت جفا کش اور خودار انسان حالات کی ستم ظریفی کے باوجود چہرے کی مسکراہٹ قائم رہی۔ بڑا ملنسار، مخلص لگن کے ساتھ دفتری امور کی انجام دہی کے لئے کوشاں رہتا۔ محنت مزدوری کرتے ہوئے سیڑھی سے گر کر ایک ٹانگ بھی فریکچر ہو گئی۔ اس کے باوجود ہمت نہیں ہاری ایک کے بعد ایک کام تبدیل کرکے بچوں کے رزق کے حصول کے لئے کوشاں رہا۔ زندگی میں جو زخم ملا ہنس کے سہہ لیا مگر بڑھتی عمر کے ساتھ کمزوری نے بے بس کر دیا۔ بیماری بغیر علاج کی سہولت کے اور زندگی بغیر ریگولر پنشن کی ادائیگی کے ایک عام انسان کتنا جی سکتا ہے۔ آخری ایام میں پنشن کا حصول مسائل کا شکار ہوا تو ہمت ہار بیٹھا اور بالآخر پریشانیوں میں گھرا ہوا مستقل مزاج ہنستا ہوا جرات اور انا کا پیکر پنشن پنشن پکارتا ہوا زندگی کی بازی ہی ہار گیا۔
محمد سلیم کے پسماندگان میں ایک بیٹا کلیم رضا اور دو بیٹیاں ہیں جن کا واحد سہارا باپ کا سایہ بھی اٹھ گیا اور مسائل جو معمولی آمدن کی موجودگی میں قابو میں نہ تھے اب وہ ایک پہاڑ کی مانند سامنے کھڑے ہیں اور کوئی داد رسی کرنے والا بھی نہیں۔
بیٹا کلیم رضا ریڈیو میں کنٹریکٹ پہ AMA تھا نکال دیا گیا۔ اب گزر بسر کے لئے پرائیویٹ ڈرائیونگ کرکے اپنے بچوں کی روزی روٹی کمانے کی کوشش میں ہے جو مہنگائی کے اس دور میں اپنی والدہ کی مدد کرنے سے قاصر ہے۔
چکلالہ سکیم تھری میں ایف جی قائد اعظم کالج کے ساتھ کچی ابادی میں مقیم ہیں۔
محمد سلیم 14 جون 2023 علی الصبح اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے۔
03105534029
برائے رابطہ: بیوہ محمد سلیم مرحوم














کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کرنا ہے، قاتل تمام سامنے ہیں تمام ارباب اختیار جو یہ مسئلہ حل کر سکتے تھے، وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور ریڈیو کے وہ تمام ذمہ داران جنہوں نے ریڈیو کی اس روایت کو ختم کرنے میں اپنا گھناؤنا کرداد ادا جس کے تحت پنشنرز کو پینشن پہلے ادا کی جاتی تھی اور ملازمین کو تنخواہیں بعد میں، جب آپ اپنے گھر میں بوڑھے ماں باپ کو کھانا بعد میں دوگے تو ایسا ہی ہو گا، پروردگار ہمارے حال پر رحم فرمائے،آمین ۔