پاناما بنچ کے 2 ججز 11 اگست تک دستیاب نہیں

0
175

پاناما بنچ کے 2 رکن ججز 11 اگست تک اسلام آباد میں دستیاب نہیں ہوں گے، سپریم کورٹ نے بنچ تشکیل دیتے ہوئے روسٹر جاری کردیا۔
سپریم کورٹ نے 11 اگست تک کےلیے بنچ تشکیل دے دیئےجس کے مطابق سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے تین بنچ مقدمات کی سماعت کریں گے، جبکہ اگست کے دوسرے ہفتے میں دو بنچ مختلف مقدمات کی سماعت کریں گے۔
روسٹر کے مطابق جسٹس عظمت سعید شیخ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کیس سنیں گے۔
دوسری جانب جسٹس اعجاز الاحسن آئندہ ہفتے سے چھٹیوں پر چلے جائیں گے۔

دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ پاناما پیپر ز کیس میں اگر وزیر اعظم کے خلاف کوئی فیصلہ آتا ہے تو ان کے پاس نہ ہی اپیل کا کوئی حق ہوگا اور نہ ہی صدارتی اختیارات انہیں بچانے میں کوئی کردار ادا کرسکیں گے۔

وزیر اعظم کی قانونی ٹیم کا موقف واضح ہے کہ وزیر اعظم کے پاس عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ سے نااہل ہوجانے کے بعد کوئی راستہ نہیں رہ جائے گا۔سینئر ایڈوکیٹ اظہر صدیقی کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 62-1(f)کے تحت کسی بھی رکن پارلیمنٹ کی نااہلیت سزا نہیں ہےبلکہ عدالتی اعلان ہےکہ وہ شخص صادق اور امین نہیں رہالہٰذا اس معاملے میں اپیل کا کوئی حق باقی نہیں بچتا، جیسا کہ جعلی ڈگر رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے معاملے میں ہوا تھا۔

صدارتی معافی کے متعلق اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 45کے تحت صدر کو اختیار ہے کہ وہ کسی بھی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی کی جانب سے دی گئی سزا کو معاف، اس میں نرمی یا ملتوی، اسے معطل یا منسوخ کرسکتا ہے۔تاہم ان اختیارات کا استعمال پاناما کیس میں وزیر اعظم کے معاملے میں نہیں ہوسکتاکیوں کہ اگر وزیر اعظم نااہل ہوتے ہیں تو یہ سزا ہے نہ ہی اثبات جرم۔ان کا موقف تھا کہ صدر اثبات جرم کی معافی نہیں دے سکتے۔

اگر صادق اور امین نہ ہونے کی بنیاد پر انہیں نااہل قرار دیا جاتا ہے اور اس کے بعد کوئی ٹرائل کورٹ وزیر اعظم کو سزا سنائے تو صدر کو انہیں معافی دینے کا اختیار ہوگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY