پاکستان بار کونسل نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع اور سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف سے متعلق فیصلے کو رکوانے کے لیے کیے گئے حکومتی اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے 28 نومبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا۔
پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے آرمی چیف کو توسیع دینے کی غیر آئینی کوشش کی ہے اور سپریم کورٹ میں گمراہ کن اور غلط دستاویزت پیش کیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس کا فیصلہ رکوا کر غیر آئینی کام کیا ہے جس کے خلاف وکلا احتجاج کریں گے۔
پاکستان بار کونسل کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات کے پیش نظر کل (28 نومبر) کو وکلا ملک گیر ہڑتال کریں گے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹی فکیشن کو معطل کرتے ہوئے وفاقی حکومت، وزارت دفاع اور آرمی چیف کو نوٹس جاری کردیا تھا۔
وفاقی حکومت کو سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے تین رکنی بینچ کے سوالات کا سامنا ہے۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ جیورسٹ فاؤنڈیشن کے وکیل ریاض راہی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کررہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق فوجی صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی جانب سے محفوظ کیے گئے فیصلے کو روکنے کی درخواست دائر کی تھی جس کو منظور کیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو 5 دسمبر تک غداری کیس کا نیا پراسیکیوٹر تعینات کرنے کا حکم دیا اور خصوصی عدالت کو تمام فریقین کو سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت دی۔












