رپورٹ : ظفر معین بلے جعفری
ممتاز براڈکاسٹر ، اینکر ، تجزیہ کار ، نیوز کاسٹر ، ادیبہ ،شاعرہ ، مصنفہ اور میرا زمانہ ، میری کہانی جیسی مقبولیت کےنئےریکارڈ قائم کرنے والی خود نوشت کی مصنفہ اور اردو زبان و ادب کی عالمی سفیر محترمہ ماہ پارہ صفدر صاحبہ برسوں بعد کراچی تشریف لائیں توممتاز اسکالر ، ہر دلعزیز کالم نگار ، مستقل میزبان پروگرام ذرا ہٹ کے ، جناب وسعت اللہ خان صاحب نے ان کے اعزاز میں ، کراچی پریس کلب میں ایک شاندار محفل سجائی۔اس سے پہلے لاہور، اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں ان کے اعزاز میں تقاریب سجائی گئیں ۔کہیں ان کی خود نوشت میرا زمانہ ، میری کہانی کی رونمائی کیلئے اور کہیں ادبی ، نشریاتی اور صحافتی دنیا میں ان کی بیش بہا خدمات کو خراج تحسین پیش کرنےکیلئے۔شہر قائد میں بہت سے ادب دوستوں نے بھی ان کےاعزاز میں افطار ڈنر کااہتمام کیا۔
معروف شاعر نصیرترابی کےگھروالوں نے بھی انہیں اپنے آستانے پر مدعوکیا اور مایہ ء ناز اداکار ،ٹی وی اور اسٹیج کے مان منور سعید نے بھی اپنے گھر پران کے اعزاز میں احباب کواکٹھاکیا۔
۔ہم مقررہ وقت پر کراچی پریس کلب پہنچے تو دیکھا کہ معروف سیاسی تجزیہ کاراورصحافی جناب مظہر عباس اور سینئر صحافی محترم توصیف احمد خان چند احباب کے ساتھ پہلے ہی سے محترمہ ماہ پارہ صفدر صاحبہ کے منتظرہیں اور ملک کے موجودہ سیاسی اور معاشی حالات پر گفتگو جاری ہے۔اسی اثنا میں شاعر باکمال جناب جاوید صبا صاحب بھی
آن پہنچے۔
چند ہی لمحات گزرے ہونگے کہ ممتاز کالم نویس ، تجزیہ کار اور اپنی ذات میں ایک انجمن جناب وسعت اللہ خان بھی تشریف لے آئے۔
جناب مظہر عباس کے ٹی وی ٹاک شو کی ریکارڈنگ کا وقت ہونےوالا تھا۔وہ اپنے مخصوص انداز میں ہم سے مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ محترمہ ماہ پارہ صفدر صاحبہ کو ہمارا سلام عرض کیجے گا اور ہماری طرف سے معذرت بھی کرلیں کہ باوجود خواہش اور کوشش کے ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔
تقریب کے میزبان وسعت اللہ خان نے محترمہ ماہ پارہ صفدر کومسکرا کر ویلکم کیا کیونکہ یہ خوبصورت تقریب انہی کےاعزاز میں سجائی گئی تھی۔
بزرگ صحافی اور کالم نویس جناب توصیف احمد خان نے محترمہ ماہ پارہ صفدر کو ان کی خود نوشت میرا زمانہ ، میری کہانی کی اشاعت اور مقبولیت پر مبارکباد دی۔ جناب توصیف احمد خان نے کتاب دینے پر محترمہ ماہ پارہ
صفدر کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا بہت شاندار اور خوبصورت خود نوشت ہے ، میں نے پڑھی تو ہے لیکن میں علالت کے باعث تاحال اس کا مکمل مطالعہ نہیں کر پایا۔البتہ طبیعت کچھ اور سنبھل جائے تو اس پر کالم بھی
لکھوں گا۔
محترمہ ماہ پارہ صفدر نے کہاصاحبانِ علم اور کتاب دوستوں نے میری توقعات سے بڑھ کر پذیرائی بخشی اور
میری حد درجہ حوصلہ افزائی فرمائی۔ محترمہ ماہ پارہ صفدر نے فرمایا کہ حال ہی میں مجھے ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ آپ کی خود نوشت کا نام ہونا چاہیے تھا میرا زمانہ ، میری گواہی۔ یہ سن کر وسعت اللہ خان صاحب کچھ تائید کے سے انداز
میں مسکرائے تو ماہ پارہ صفدر صاحبہ نے کہا میری گواہی تو آدھی ہوتی اور پھر تو میرا زمانہ ، آدھی گواہی ہوجاتا۔ اس پر جناب وسعت اللہ خان نے کہا پھر تو میرا زمانہ اور آدھا سچ بھی ہوسکتا تھا
کب کے بچھڑے ہوئے ہم آج ، کہاں آ کے ملے
جناب وسعت اللہ خان صاحب ، ڈاکٹر توصیف احمد خان ، ڈان ٹی وی کے مشہور اینکر شاہ زیب جیلانی ، لیڈر ٹیلی وژن کے معروف اینکر ، تجزیہ کار اور یوٹیوبر ڈاکٹر ایوب شیخ ، سینئر صحافی سہیل سانگی ، مشہور سپورٹس رپورٹر شکور احمد ، سینئر صحافی محترمہ فہمیدہ ریاض ، بی بی سی کے معروف رپورٹر ریاض سہیل ، پاکستان ٹیلی وژن کراچی کے جنرل مینیجر جناب سید امجد شاہ ، اور پی ٹی وی کے ہی پروڈیوسر جناب غلام مصطفی
سولنگی ، آواز یہ جادو سا جگاتی ہوئی آواز ، نامور گلوکارہ مہ ناز بیگم کی بہن محترمہ عروسہ خان ، معروف شاعر و صداکار جناب جاوید صبا اور راقم السطور ظفر معین بلے جعفری ڈھائی ، تین گھنٹے کی اس تقریب میں مسلسل حسین یادوں اور باتوں کو دہراتے رہے۔
ادھر اس شاندار تقریب کا اختتام ہوا ، فوٹو سیشن ہوا اور شرکائے تقریب رخصت ہونا شروع ہوئے تو ادھر کراچی پریس کلب میں افطار ڈنر پر آئے ہوئے مختلف اخبارات اور ٹیلی وژن چینلز سے تعلق رکھنے والے بہت سے میڈیا پرسنز بھی ایک ساتھ کیفے اور کمروں سےبرآمد ہوئے ، کچھ تو گھروں کو لوٹنے کے لیے اور کچھ اپنے اپنے اخبارات اور چینلز کی جانب روانہ ہونے کےلیے۔ جیسے ہی ان کی نظر ہر دلعزیز اور سینئر نیوز کاسٹر محترمہ ماہ پارہ صفدر صاحبہ پر پڑی تو ان میں سے بہت سے خواتین اور اصحاب ملنے کے لیے آگئے ، پھر کیا تھا ، ایک نئے فوٹو اور گفتگو سیشن کا آغاز ہوگیا۔
ان سے فراغت پا کر محترمہ ماہ پارہ صفدر صاحبہ نے ہمیں مخاطب کیا اور فرمایا کہ ظفر آپ سے تو بات ہی نہیں ہوسکی۔ پھر راقم السطور ظفر معین بلے جعفری اورمحترمہ ماہ پارہ صفدر صاحبہ کے مابین گفتگو کا با ضابطہ اور باقاعدہ آغاز ہوا۔ ماضی کی حسین یادیں قصے واقعات اور ان کا حالیہ دورۂ لاہور اور اسلام آبادکی باتیں چھڑ گئیں ، لاہور میں منعقد ہونے والا عالمی کتب میلہ ، الحمرا ء لاہور اور لاہور جم خانہ ، زیبسٹ یونیورسٹی اسلام آباد میں میرا زمانہ ، میری کہانی کی رونمائی کی تقاریب ، ایکسپریس نیوز چینل کے مارننگ شو ایکسپریسو اور دیگر نیوز چینلز پر جو ان سے مکالمے اور پروگرامز ہوئے، ان پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سرگودھا ، اسلام آباد اور لاہور میں ان کے طالب علمی کا جو حسین دور گزرا اور پنجاب یونیورسٹی کے سنہری عہد سے لے کر موجودہ دور تک کے حوالے سے دیرتک گفتگو جاری رہی۔ سرگودھا ، ملتان ، اسلام آباد اور لاہور میں والد گرامی سید فخرالدین بلے کی اقامت گاہ پر منعقد ہونے والے قافلہ کے پڑاؤ ، دبستان سرگودھا ، لاہور ، راولپنڈی اور ملتان بھی زیر بحث آئے۔ ابھی ہماری باتیں ختم بھی نہ ہو پائی تھیں کہ جناب جاوید صبا اپنی مصروفیات سے فراغت پاکر تشریف لے آئے۔ ہم نے محترمہ ماہ پارہ صفدر صاحبہ سے جاوید صبا صاحب کا تعارف کروایا پھر گفتگو کا ایک نیا دور شروع ہوگیا۔
ہماری خصوصی فرمائش پر جاوید صبا صاحب اور محترمہ ماہ پارہ صفدر صاحبہ نے اپنا کلام بھی عطا
فرمایا۔
یہ خوش خبری بھی سنادوں کہ محترمہ ماہ پارہ صفدر نے اعلان کیا کہ کہ وہ اسی سال کےاواخرمیں اپنی یادیں تازہ کرنے کیلئے پاکستان آسکتی ہیں ۔دیکھنایہ ہے کہ ان کاوعدہ کب وفاہوتاہے۔
ذرا ہٹ کر ایک شام ۔ ماہ پارہ صفدر کے نام
رپورٹ : ظفر معین بلے جعفری













