بتلاؤ تو کب شرماتے ہیں یہ اہل سیاست یہ ملاں

0
698

یہ اہل سیاست یہ ملاں

اُمت کو بیچ کے کھاتے ہیں یہ اہل سیاست یہ ملاں
شیطان کو بھی بہکاتے ہیں یہ اہل سیاست یہ ملاں

کرسی میں انکی جان ہے اور کرسی کے لیئے ہی جیتے ہیں
کرسی کے لیئے مر جاتے ہیں یہ اہل سیاست یہ ملاں

کب انکو ضرورت ہے کوئی لکھے ہے قصیدہ انکے لیئے
خود اپنے قصائد گاتے ہیں یہ اہل سیاست یہ ملاں

ہتھیار بھی نفرت ہے انکا نفرت کی تجارت کرتے ہیں
نفرت کی دُکاں چمکاتے ہیں یہ اہل سیاست یہ ملاں

سچ بات تو یہ ہے ہم نفسو کیا خوف خدا ہے انکے لیئے
جب آپ خدا کہلاتے ہیں یہ اہل سیاست یہ ملاں

ان اہل ہوس کی نظروں میں ہے مال عوام بھی حق انکا
ہاں مال خدا کھا جاتے ہیں یہ اہل سیاست یہ ملاں

کردار میں یکساں ہیں دونوں جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں
وعدوں سے فقط بہلاتے ہیں یہ اہل سیاست یہ ملاں

زنبیل میں انکے رہتا ہے انبار دلائل کا صفدر
بتلاؤ تو کب شرماتے ہیں یہ اہل سیاست یہ ملاں

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY