میاں صاحب کیا بھنگ کھاگئے ہو۔۔شمس جیلانی

1
1489

یہ محاورے جب بولاجاتا تھے جب کوئی اپنے خیال میں بہت عقلمندی کی باتیں کر رہا ہوتا تھا جبکہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے؟۔ایک دو دن پہلے بقول ایک ٹی وی اینکر اور ٹی وی چینل نمبر 1 کے پروگرام نمبر ون میں ہم نے بھنگ کو زیر بحث آتے سنا اور دیکھا؟ چونکے ہمارے کان اس سے بچپن سے مانوس تھے لہذا کان بغیر ہم سے پوچھے کھڑے ہو گئے جیسے کہ کسی وی آئی پی کی آمد پر سب کھڑے ہوجاتے ہیں؟ کیونکہ ہمارے بچپن میں یہ ہمارے علاقے میں خود بخود اگتی تھی اوراس کے بہت بڑے بڑے جنگلات تھے جبکہ یہ تھرڈ کلاس کا نشہ کہلاتا تھا جو کھایا بھی جاتا تھا اور پیا بھی جاتا تھا؟غریب غربا اسے دھی میں ڈال کر اور اس کی لسی بناکر پیتے تھے اور کھانے والے اسے تیوہار پر مشروب کی شکل میں گجیوں اور پکوڑوں میں رکھ کر کھاتے اور کھلاتے تھے یہ دیہاتوں میں اسی طرح سے استعمال ہوتاتھا اور ہر ایک دیکھ کر پہچان لیتا تھا کہ یاتو یہ بھنگ کھاکر آیا ہے یا بھنگ پی کر آیا ہے؟ اب آپ پوچھیں گے کہ بھنگ آخر ہے کیا؟ تو عرض ہے کہ اگر آپ منہ تیڑھا کرکے بولیں کیونکہ پاکستان میں انگریزی کا رواج بڑھتا جا رہا ہے تو موریو جانا marijuana کہہ لیں جس کوسنسکرت میں “ بھنگ“ کہتے ہیں اور آجکل بہت ہی عزت احترام سے کھائی اور پی جاتی ہے مگر جدید طریقے سے کیونکہ یہ ہیروئین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے پہلے پوری دنیا میں ممنوع تھی اب ادویات میں مستعمل ہونے کی جائزبنا پر جن ملکو ں میں کل تک اس کا استعمال ممنوع تھا اب جائز ہوتی جارہی ہے اور پاکستان کو بھی چونکہ دنیا کے ساتھ چلنا ہے لہذا جو لوگ اس کو مدینے کی ریاست بنا نے آئے تھے۔ وہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ اس کی کاشت اور نشہ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دیدی جائے؟۔ اب آپ سے کیا چھپانا پاکستان چونکہ بنا ہی اسلام کے نام پر تھا یہاں پر بھی ابھی تک قانونی طور پر جو حرام رہی وہ بھی صرف مسلمان کے لیئے تھی کیونکہ انگریز وں نے اپنے دور میں اسے نہیں اپنایا تھا اس کی وجہ اس کا تھرڈ کلاس ہوناتھا کیونکہ اس کو صرف دیسی استعمال کرتے تھے انگریزنہیں؟ اسکی وجہ سے دونمبر کی نشہ آور اشیاء اور دیسی شراب کے ساتھ ابھی تک فروخت ہوتی رہی جو سونگھنے میں انتہائی بد بو دار اور پینے میں بیحد بد مزہ ہوتی تھی اور سندھی میں اس کا مشروب تھاڈل کہلاتا تھا اس میں دھی، مغزیات مصری اورالائچی وغیرہ ڈال کر اسےمزے دار بنا یا جاتا تھا۔؟ مگر آج کل جو وزیر اعظم ہیں وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اسے حلال قرار دیا جا ئے کیونکہ دوا کے طور پر استعمال کرنے کے لئے اس کی اشد ضرورت ہے جبکہ اپوزیشن والے حسب عادت مخالفت برائے مخالفت کر رہے ہیں کہ اس سے حکومت کو چار پیسے کی آمدنی ہو جا ئیگی؟ جبکہ جن مسلمانوں کونشہ کی عادت ہے وہ تو نشہ آور دوائیں استعمال کر ہی رہے ہیں جو اس کے عادی ہیں اورحکومت جوکہ مہنگائی سے تنگ ہے؟ اسے اور چیزیں ارزاں کرنے کو ملیں یا نہ ملیں، یہ ایک چیز عوام کوہر چیز سے ارزاں مل جائیگی جوکہ ہیروئن سے ابھی تک سستی ہے۔ لہذا ایک پنتھ دوکاج والا معاملہ ہوجائے گا۔ آخرجب بادشاہت توبھی تو ان میں سے اکثر نشہ آور چیزوں کے عادی تھے۔ اور صرف شراب کو اس لیئے حرام سمجھتے تھے کہ فارسی یا عربی میں جب حرمت والی آیت کا ترجمہ کیا گیا تو بجا ئے عربی لفظ “ خمر “ کے شراب کردیا گیا تھا؟ لہذا بھنگ تو نہیں سنی مگر بہت سے روساء افیم اور کوکین وغیرہ کو استعمال کیا کرتے تھے کہ شراب حرام ہے باقی چیزیں نہیں ہیں۔؟۔ ہم بھنگ سے یوں واقف تھے کہ ہوا یہ کہ ہماری پیدائش سے صرف سات سال پہلے1924 ء میں اس علاقے میں کاشتکار جب زمینداروں کے مظالم سے بہت تنگ آگئے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے آج کی طرح ان کی دعا قبول کر لی اور وہاں کارونا کے بجا ئے زرد بخار نام کی ایک بیماری بھیجدی جس نے وہ سارے علاقے جو کہ پیلی بھیت اور نینی تال وغیرہ ا ضلاع کے نشیبی علاقہ میں 65 سے 80 انچ تک بارش ہونے کی وجہ سے انتہائی زرخیز اورآباد تھے سب ویران ہوگئے؟اس علاقے کے زمینداروں نے بعد میں بہت توبہ تلا کی وعدے کیئے کہ ہم آئندہ اپنی ر عایا کو کبھی نہیں ستا ئیں گے نہ انہیں کچھ کہیں گے، مگر کہیں سے کوئی وہاں آکرآباد ہونے اور وہاں بسنے کو تیار نہیں ہوا؟ جبکہ لوگ واقف ہی نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ یہاں کے زمینداروں کو یہاں سے نکالدے گا اور وہ دوسری مخلوق جو کے جب پاکستان سے نکا لی جا ئے گی اور گھر چھوڑ کر یہاں آئیگی تو اس کو یہاں مجبوراً آباد ہونا پڑیگادوسرے یہ زمیندار ی بھی نہیں رہے گی اور نہ ہی ظلم اور انہیں یہ اس وقت یہ زمین مفت میں مل جائیگی؟ وہی جگہ جہاں کہ بھنگ کے کبھی جنگلات تھے پھر پہلے کی طرح وہاں قدم رکھنے کو بھی جگہ نہیں ملے گی اور اسی زمین کی قیمت کروڑوں روپیہ فی ایکڑ ہو جائیگی جو انہوں نے 1947 میں دس روپیہ فی ایکڑ ان ظالم زمینداروں یا ان کے اولاد سے خریدلی تھی؟ پھر وہاں بھنگ نہیں اگے گی بلکہ یہاں سے جن مسلمانوں نے بقول ان کے اللہ کے نام پر ہجرت کی تھی وہ بھی اسے اگا نے کے لیئے کوشاں ہونگے لہذا جو وہاں کے قدیم باشندے تھے دونوں پاکستان میں کوشش کر رہے کہ پاکستان میں وہ نشہ آور ہونے کی وجہ سے ابھی تک حرام ہے جبکہ پاک سر زمین اس کا استعمال ہمیشہ سے تھا 19 انیسویںصدی سے انگریزوں نے بھی اس کو جاری تو رکھا مگر چار پیسے بنا نے کاذریعہ بھی بنالیاتھا جو ابھی تک ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ جاری ہے۔ جبکہ وہاں کے اصل باشندے صدیوں پہلے سے اس کے عادی تھے اور پہلے بغیر ٹیکس دیئے استعمال کر رہے تھے؟۔ خاص طور سے سندھ میں اس کو ظالموں نے ‘ علی جی بوٹی “(علی کی بوٹی) جیسا نام سندھی میں دے رکھا ہے اور کہیں پر بھی ہرا پرچم زمین میں گاڑ کر کوئی ملنگ صاحب آکر وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور وہ ایک مٹی کی کونڈیلی میں وہاں گھٹنا شروع ہوجاتی ہے دوسرے برادرملنگ بھی اس کی بدبو سونگتے ہوئے وہا ں پہنچ جاتے ہیں۔ لائینیں لگ جاتی ہیں ضرورت مند تک رہے ہوتے ہیں اس میں میوے پڑتے ہیں مصری پڑتی ہے وہ ملنگ صاحب وہاں ساقی کا کام انجام دیتے ہیں۔ اور سب کو ایک پیالے میں مقدس مشروب کے طور پر وہ پیش کرتے ہیں اگر شاہ صاحب،وڈیرہ، یا رئیس وہاں موجود ہوتا ہے توسب سے پہلے اسے پیش کی جاتی ہے اس کے بعد بقیہ حاضرین کو اور یہ اسی طرح روزانہ پیش ہوتی رہی اور ہوتی رہیگی؟ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کتا دوڑ تا ہوا آتا ہے اس کا پاؤں اس کونڈیلی میں پڑ جاتا ہے تو گاؤں کے ملا کے پاس جا پڑتا ہے یہ معلوم کرنے کے لئیے کہ وہ مقدس مشروب حلال رہا یا حرام ہوگیا اور وہ فتویٰ دیدیتے ہیں کہ کتے کے پیر کو کنڈیلیوں میں رکھ دھوڈالو تو پاک ہوجا ئے گا۔ یہیں سے رہنمائی لیکر ہمارا خیال ہے کہ ایک ہی بنک میں حکومت پاکستان نے دو کاونٹر بنا دیئے ایک بلا سود بنکاری کے لئیے اور دوسرا باسود بنکاری کے لئیے۔ وہ بھی ایک دوسرے کو نہیں چھیڑتے؟ کیونکہ ایک مقولہ ہے کہ عیبیوں میں بڑا اتحاد ہوتا ہے؟

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY