شہر ویراں اداس ہیں گلیاں،حبیب جالب

0
1043

شہر ویراں اداس ہیں گلیاں
رہ گزاروں سے اٹھ رہا ہے دھواں

آتش غم میں جل رہے ہیں دیار

گرد آلود ہے رخ دوراں

بستیوں پر غموں کی یورش ہے
قریہ قریہ ہے وقف آہ و فغاں

صبح بے نور شام بے مایہ
لٹ گئی دولت نگاہ کہاں

پھر رہے ہیں طیور آوارہ
برق ہر شاخ پر ہے شعلہ فشاں

میری تنہائیوں پہ صورت شمع
رو رہا ہے الم نصیب سماں

میرے شانوں سے تیری زلفوں تک
فاصلہ عمر کا ہے میری جاں

SHARE

LEAVE A REPLY