تھی سراپا دین ودنیا کا سبق تیری حیات، نصرت نسیم

0
924

امی جی
تھی سراپا دین ودنیا کا سبق تیری حیات
23جنوری کی صبح فجر پڑھ کر آی سی یو میں داخل ہوئ حسب معمول یس اوردعائیں پڑھنے لگی مگر آج انکے لب خاموش تھے دل کی دھڑکن ظاہر کرنے والی لکیر بار بار ٹوٹ رہی تھی میرا دل بھی اتھل پتھل ہونےلگا میں باہر آگئی کچھ دیر بعد بھائ روتا ہوا باہر آیا وہ لمحہ آن پہنچا جس کے تصور سے ہی ہم کانپ کانپ جاتے تھے چند ماہ پہلے امی بیمارتھیں تو بھائی (جو کابل میں تھا)نے غزل واٹس ایپ کی تھی نیرہ نور کی آواز میں اس غزل پرامی بہت روی تھیں حالانکہ وہ بہت کم رویا کرتیں تھیں
ہر چند سہارا ہے تیرے پیار کا دل کو
رہتا ہے مگرایک عجب خوف سا دل کو
وہ خوف جو دل کے نہاں خانوں میں پنہاں تھاآج حقیقت بن کر سامنے تھا زندگی کی سب سے مشکل اورتلخ حقیقت کہ دنیا کا سب سے زیادہ مخلص اور سچل پیار ہم سب سے چھن گیا تھا
ایمبولینس میں انکےساتھ بیٹھے تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے آنسوؤں کے سیلاب میں ان کی زریں حیات کے ورق پلٹتے چلے گئے
امی نے اپنی ماں نہیں دیکھی تھی زندگی بھر انہیں اس کا افسوس اورحسرت رہی کہ مجھے ماں کی شکل تک یاد نہیں اپنے اسی احساس کے تحت وہ بہت محبت کرنے والی ماں تھیں ماں سے زیادہ بہت اچھی اور پیار کرنے والی نانی، دادی، اور ساس تھیں نواسے نواسیوں سےاتنی محبت کہ لوگ مثال دیتے سات نواسیوں میں ہر ایک کو یہی لگتا کہ وہ نانی کی سب سے زیادہ لاڈلی ہے اورایسا ہی پیار پوتیوں سے بھی تھا ان کا بچپن اور اوائل زندگی کچھ اتنی آسان نہ تھی سوتیلی مائیں اور ان کے مرنے کے بعد چھوٹی سی عمر میں سوتیلی بہنوں کو ماں بن کر پالا ان میں ایثار و قربانی کا عجیب مادہ تھا نانا کی طرف سے امی کو جو جائداد ملی ابو اپنے کاروبار میں ایک ایک کرکے بیچتے رہے آخر میں جوایک دو پلاٹ بچ گئے وہ انہوں نے اپنی زندگی میں بیٹوں بیٹیوں میں تقسیم کردیے جب کہ خود ان کا ہاتھ ہمیشہ تنگ رہا جس کی وجہ انکی فراخ دلی تھی کہ جو جو بھی ان کے ہاتھ میں آتاوہ ہمیشہ دینے دلانے اورصلہ رحمی پر خرچ کردیتیں مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ کبھی اگر ان کی مرضی کے مطابق مہمان نوازی نہ ہو سکی تو کئ دنوں تک افسردہ رہتیں اپنی چچا، پھوپھی کی بیٹیوں سے ایسی محبت کہ جیسے سگی بہنیں ہوں محبت، خلوص، رکھ رکھاوسلیقہ نفاست پسندی کن کن خوبیوں کا زکر کیاجاے
دھواں دھواں سی ابر آلود سرد شام تھی جب ہم سب نے انہیں غسل دیا چہرے پر مسکراہٹ، طمانیت، نورانیت چھائ ہوی موسم خزاں تھا پھول میسر نہ آسکے مگر آنسوؤں کے ہاراورعقیدت ومحبت سےگندھےہوے ہوے تعریف و توصیف کے اتنے پھول اپنے پرائے ہر ایک نے نچھاور کئے کہ بےاختیاردل سے دعا اور لبوں پر سورہ فجر کی آخری آیات اے نفس مطمئنہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی، سو تو میرے خاص بندوں میں شامل ہو جا اور میری بہشت میں داخل ہوجا

دفتر ہستی تھی زریں ورق تیری حیات
تھی سراپا دین ودنیا کا سبق تیری حیات

نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY