پاکستان کے عوام کے ٹیکس سے شروع کیے گئے شہری بہبود کے فلاحی یا ترقیاتی منصوبے صرف پاکستان یا پھر پاکستانیوں کے نام سے منسوب ہونے چاہیں۔
اگر کسی حکمران یا سیاسی شخصیت کو اپنے یا اپنے کسی عزیز کے نام پر کوئی منصوبہ شروع کرنا ہے تو وہ اپنے ذاتی ویلفئر فنڈ قائم کرے اور اس کو ٹرسٹ کے تحت چلائے۔
فلاحی منصوبے ٹیکس دہندگان کا حق ہیں ۔ کسی کا ان پر احسان نہیں۔
غریب اور غربت کے الفاظ سے قوم کا مورال کبھی بلند نہیں ہو سکتا ۔
قوم کو احساس کمتری میں مبتلا ضرور کیا جا سکتا ہے۔
عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام کا نام
کسی بھی انکم سپورٹ پروگرام کا نام :
پاکستان ویلفیئر فنڈ
پاکستان بہبود فنڈ
پبلک ویلفئر پروگرام
پاکستان ویلفئر کارڈ
وغیرہ ۔۔۔۔
تاریخ گواہ ہے کہ سر گنگا رام ، گلاب دیوی، حکیم سعید، عبدالستار ایدھی نے سرکاری فنڈ سے
اپنے منصوبے شروع نہیں کیے تھے۔
سپریم کورٹ کا حکم واضح ہے کہ سرکاری سطح پر عوام کے ٹیکس سے چلنے والے کسی بھی پروگرام یا منصوبے پر سیاسی لوگوں یا افسروں کی تصویر نہیں لگے گی۔
تصویر نہیں لگے کی تو منصوبے کا نام کیسے رکھا جائے گا۔
ہمارے پاس نام ہیں نا، پاکستان، جناح، وغیرہ۔
جو حکمران ویلفئر کیلیے عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ کرتے وہ اپنا فرض پورا کرتے ہیں۔
عوام پر احسان نہیں کرتے۔
عوام کا ٹیکس، عوام کے لیے، عوام کا نام ۔۔۔۔ بس۔۔ !!!
عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے کوئی
سیاسی فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
سیاسی پارٹیاں اپنے ٹرسٹ قائم کریں۔۔ اپنی جیبوں سے فنڈ جمع کریں۔ فلاحی منصوبے شروع کریں۔ کس نے روکا ہے؟
“میرا ٹیکس ۔۔۔۔ میرا نام”
سلیم کاوش













