ماہِ صیام اور ذیابطیس کے مریض

0
147

ذیابطیس کے شکار مریض ماہِ رمضان سے قبل ہی اپنےماہرِ امراضِ ذیابطیس سے مشورہ ضرور کرلیں، بلکہ مناسب تو یہی ہے کہ رمضان کے آغاز سے چند دِن قبل اپنے معالج سے تفصیلی معائنہ کروالیا جائے، تاکہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ متعلقہ فرد روزہ رکھنے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔ اور اگر روزہ رکھ سکتا ہے، تو اُسے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ نیز، معالج کی ہدایت کے مطابق ادویہ میں ردّوبدل بھی کی جاسکے۔ دراصل جب کوئی صحت مند، تن درست فرد روزہ رکھتا ہے، تو سحری کے8گھنٹے بعد، جسم ذخیرہ شدہ توانائی استعمال کرنے لگتا ہے، تاکہ خون میں شکر کی مقدار متوازن رہے، لیکن اگر ذیابطیس سے متاثرہ فرد روزہ رکھ رہا ہے، تو اس کے مرض کی نوعیت کے لحاظ سےجہاں خون میں شکر کی مقدار نارمل رکھنے کے لیے ادویہ کی مقدار اور اوقات میں تبدیلی ضروری ہے، وہیں ایک غذائی چارٹ بھی مرتب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

امسال چوں کہ روزے گرمیوں میں آرہے ہیں اور پھر دورانیہ بھی طویل ہے، تو عام فرد کی نسبت پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ ذیابطیس میں مبتلا افراد میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ ڈی ہائیڈریشن کے باعث شوگر بڑھنے یا یک دَم بہت کم ہونے (ہائپو) کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے زیادہ بہتر تو یہی ہے کہ چاہے ذیابطیس ٹائپ وَن ہو یا ٹائپ ٹو ہر صورت معالج سے مشورہ کے بعد ہی روزہ رکھا جائے۔

طبّی ماہرین نے ذیابطیس کے مریضوں کی، اُن کی کیفیات کے لحاظ سے درجہ بندی کی ہے۔ پہلے درجے میں ذیابطیس کے وہ تمام مریض شامل ہیں، جن میں ماہِ رمضان سے تین ماہ قبل خون میں شکر کی انتہائی کمی ظاہر ہو۔ جسے طبّی اصطلاح میں ’’Severe Hypo glycemia‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ افراد صرف معالج کی ہدایت ہی پر روزے رکھیں۔ علاوہ ازیں، ذیابطیس ٹائپ وَن سے متاثر افراد، جن کا مرض پر کنٹرول نہ ہو، جنہیں ڈی کے اے ’’Diabetic Ketoacidosis‘‘ کوما ہوا ہو، بار بار خون میں شکر کی مقدار گرجاتی ہو، ہائپو کی علامات کا احساس نہ ہو، حال ہی میں کوئی اور مرض تشخیص ہوا ہو یا پھر ہارٹ اٹیک ہوا ہو، کسی خاتون میں دورانِ حمل ذیابطیس ظاہر ہوئی ہو اور وہ انسولین یا پھر انسولین پیدا کرنے والی دوا استعمال کررہی ہو، گُردے کا مرض، چوتھے یا پانچویں مرحلے میں ہو، ایسے عُمررسیدہ افراد، جن کی عمومی صحت اچھی نہ ہو اور ذیابطیس کے ساتھ مختلف پیچیدگیاں ایڈوانس اسٹیج پر ہوں، تو یہ سب لوگ ہائی رسک پر ہیں، اس لیے بہتر تو یہی ہے کہ یہ لوگ روزہ نہ رکھیں اور اگر روزہ رکھنا ہی ہے، تو لازماً معالج سےمشورہ کریں۔ جب کہ معالج کی بھی یہ ذمّے داری ہےکہ وہ مریض کے ساتھ، اس کے قریبی عزیزوں کو بھی تمام تر صورتِ حال سے آگاہ رکھے۔

دوسرے درجے میں شامل مریضوں کے خون میں شکر کی مقدار خطرناک حد تک کم یا پھر شکر کی مقدار معمول سے زائد پائی جاتی ہے۔ حاملہ خواتین، جو ٹائپ ٹو سے متاثر ہوں،جن کے گُردوں کے افعال متاثر ہوں (یعنی گُردے کی خرابی کے اسٹیج3 کے مریض)،ذیابطیس کی پیچیدگیاں لاحق ہوں، مگر مریض بظاہر صحت مند نظر آئے، دیگر طبّی مسائل درپیش ہوں۔

نیز، زیادہ محنت و مشقّت کے کام کرنے والے مریضوں کےلیے بھی روزہ رکھنے سےقبل طبّی مشورہ و معائنہ ناگزیر ہے۔ اگر پہلےاور دوسرے درجے کے مریض معالج کے مشورے سے روزہ رکھ رہے ہیں، تو اوّل تو وہ معالج کی ہدایات معمولی سمجھ کر ہرگز نظرانداز نہ کریں، دوم، خون میں شکر کی مقدار کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں روزہ کھول دیں۔

تیسرےدرجے میں ذیابطیس کے وہ تمام مریض شامل ہیں، جن کےخون میں شکر کی مقدار طرزِ زندگی میں تبدیلی، ورزش اور غذائی پرہیز کے ذریعے ہی متوازن رہتی ہو یا پھر ایسی ادویہ زیرِاستعمال ہوں، جن سے خون میں شکر کی کمی کا خدشہ کم سے کم ہو، تو وہ باآسانی روزہ رکھ سکتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس درجے میں شامل مریض ماہِ صیام سے قبل اپنا تفصیلی معائنہ نہ کروائیں اور معالج کی ہدایت پر عمل نہ کریں۔ نیز، ذیابطیس کی شکار وہ حاملہ خواتین، جو پہلے درجے میں شامل ہوں یا جنہیں دورانِ حمل ذیابطیس ظاہر ہوئی ہو یا پھر ذیابطیس کے ساتھ حمل ٹھہرا ہو، بہتر ہوگا کہ روزہ نہ رکھیں کہ ان کے شکمِ مادر میں ایک نئی زندگی افزایش کے مختلف مراحل سے گزررہی ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ دینِ اسلام میں ایسے افراد کےلیے جنہیں روزہ رکھنے کےباعث صحت کے سخت مسائل لاحق ہونے کا اندیشہ ہو، روزہ نہ رکھنے، قضا کرلینے یا فدیہ دینے کی اجازت ہے (چاہیں تو اس ضمن میں کسی مستند عالمِ دین سے بھی مشورہ کرلیں)۔ خاص طور پر ایسی حاملہ خواتین اور مائوں کےلیے جو بچّے کو دودھ پلارہی ہوں، اس ضمن میں خاصی رعایت اور چھوٹ موجود ہے۔

بہرکیف، دورانِ صیام ان تینوں درجات کی کیفیات اور خون میں شکر کے لحاظ سے ادویہ کی مقدار اور تعداد میں ردّوبدل کےلیے اپنے معالج سے رابطے میں رہنا انتہائی ضروری ہے۔ کیوں کہ اگر ازخود ادویہ میں ردّوبدل کیا جائے، تو خون میں شکر کی مقدار زیادہ کم ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں ہائپو کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جب کہ دورانِ رمضان ادویہ سرے سے استعمال نہ کی جائیں، تو ظاہر سی بات ہے کہ خون میں شکر کی مقدار بڑھ جائے گی اور اس صورت میں بھی کسی خطرناک پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

دورانِ روزہ ذیابطیس کے مریض جن طبّی مسائل سےدوچار ہوسکتے ہیں، ان میں شامل ہیں:

٭ہائپو گلائی سیمیا (Hypo Glycemia): اس میں خون میں شکر کی مقدار خطرناک حد تک کم ہوجاتی ہے۔

٭ہائپر گلائی سیمیا (Hyper Glycemia): بعض اوقات انسولین اور شوگر کی دیگر ادویہ میں نامناسب کمی یا پھر کھانے پینے کے معاملے میں احتیاط نہ برتنے کی صورت میں خون میں شکر کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، جسے طبّی اصطلاح میں ہائپر گلائی سیمیا کہا جاتا ہے۔

٭ڈی ہائیڈریشن: ذیابطیس کے مریضوں میں دورانِ روزہ پانی کی کمی بسا اوقات بہت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ لہٰذا جسم کو ری ہائیڈریٹ کرنے کےلیے افطار تا سحر پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ نیز، افطار میں ایسے پھل کھائے جائیں، جن میں پانی کی زائد مقدار پائی جاتی ہے۔ یاد رہے، کافی، چائے میٹھے مشروبات اور کولڈ ڈرنکس کا استعمال ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھاسکتا ہے۔ عام طور پر ڈی ہائیڈریشن کا زیادہ خطرہ دھوپ میں سخت جسمانی مشقّت کرنے والے افراد، حاملہ خواتین، ضعیف العُمر افراد اور اُن مریضوں میں ہوتا ہے، جن کی شوگر کنٹرول میں نہ ہو۔

اس کی علامات میں یک دَم دِل کی دھرکن تیز ہوجانا، غنودگی، بے ہوشی طاری ہونا، گرجانا، چکر آنا،جسم ٹھنڈا پڑجانا اور پیشاب میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔ نیز، پانی کی کمی کی وجہ سے خون میں گاڑھا پن بھی پیدا ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں فالج ہونے یا بلڈ کلاٹنگ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر ڈی ہائیڈریشن کے نتیجے میں رونما ہونے والی کیفیات کا بروقت تدارک نہ کیا جائے، تو جان جانے کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ بعض علمائے کرام کے نزدیک ایسی کیفیت میں شوگر چیک کرنے، گلوکوز کا انجیکشن یا ڈرپ لگانا سے روزہ نہیں ٹوٹتا، لہٰذا اگر یہ اقدام بھی کرنا ہو، تو بروقت کرلیں کہ خون میں شکر کی کمی یا زیادتی ایک ہنگامی کیفیت ہے۔

ذیابطیس کی خواہ کوئی بھی قسم ہو، اس سے متاثرہ مریضوں کے لیے سحر کے اوقات میں اُٹھ کر سحری کرنا لازم ہے۔ یوں بھی امسال گرم اور طویل روزے ہیں، اس لیے سحری نہ کرنے سے جہاں خون میں شکر کی مقدار کم ہوسکتی ہے، وہیں ڈی ہائیڈریشن کا بھی خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ ذیابطیس کے شکار مریض سحری تو کرلیتے ہیں، لیکن معالج کی ہدایت کے مطابق باقاعدگی سے ادویہ استعمال نہیں کرتے، تو یہ عمل کسی بھی پیچیدگی سے دوچار کرسکتا ہے۔

ذیابطیس سے متاثرہ افراد ماہِ صیام میں اگر خاص طور پر باقاعدگی سے بلڈ شوگر چیک کریں، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق غذا کا خاص خیال رکھیں، ادویہ کی مقدار اور اوقات کار میں تبدیل کرلیں (ازخود ہرگز نہیں)، تو رمضان کریم میں، کسی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر روزے رکھ سکتے ہیں۔ پھر اکثر مریض اس تذبذب کا شکار بھی رہتے ہیں کہ تراویح پڑھیں یا نہیں، تو تراویح ضرور پڑھیں کہ تروایح نسبتاً مشقّت والی عبادت ہے اور اگر کوئی مریض تراویح پڑھ رہا ہے، تو پھر بے شک وہ ورزش نہ کرے۔ ہاں مگر چند باتوں کا خاص دھیان رکھا جائے۔ مثلاً پانی کی کمی اور ہائپو کے خطرے سے محفوظ رہنے کے لیے تراویح سے قبل رات کا کھانا کھالیں۔

اپنے ساتھ پانی کی بوتل رکھیں اور سلام پھیرنے کے بعد تھوڑا تھوڑا پانی پیتے رہیں۔ جیب میں کوئی ٹافی یا بسکٹ وغیرہ ضرور رکھیں، تاکہ خون میں شکر کی مقدار کم محسوس ہونے پر فوری کھاسکیں۔ افطار تا تراویح پانی زائد مقدار میں استعمال کریں۔ میٹھے مشروب اور تلی ہوئی اشیاء زائد مقدار میں استعمال نہ کی جائیں، جب کہ نشاستے دار غذائیں صرف معالج کی ہدایت کے مطابق کھائیں۔ اگر دورانِ روزہ خون میں شکر کی مقدار بڑھ جائے، تو اس کی عام علامات میں شدید پیاس محسوس ہونا، بار بار پیشاب کی حاجت، بہت زیادہ تھکن، نظر دھندلانا، معمول سے بڑھ کر پسینہ آنے کے ساتھ جسم ٹھنڈا ہونا شامل ہیں۔

ایسی صورت میں فوری طور پر آلے کی مدد سے خون میں شکر کی مقدار چیک کریں، اگر شوگر60 سے کم یا 300ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ ہوجائے، تو روزہ ختم کردینا ہی بہتر ہے۔ اس کے علاوہ ذیابطیس کے مریض شناختی کارڈ اور اپنے مرض کی نوعیت کسی کاغذ پر لکھ کر اپنے ساتھ رکھیں، تاکہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں اہلِ خانہ سے رابطہ کیا جاسکے۔ نیز، اسپتال جانے کی صورت میں علاج میں تاخیر نہ ہو۔ دھوپ میں محنت و مشقّت کرنے والے افراد وقفے وقفے سے کسی سایہ دار جگہ پر کچھ دیر سستا لیں، تاکہ تازہ دَم ہوسکیں۔

رہی بات غذا کی، تو چوں کہ دورانِ صیام کھانے پینے کے معمولات میں تبدیلی آجاتی ہے، تو ذیابطیس کے مریض افطار تا سحر تھوڑا تھوڑا اور وقفے وقفے سے کھائیں تو بہتر ہے۔ سحری آخر وقت میں کریں اور ایسی غذا استعمال کریں، جو دیر سے ہضم ہو۔ مثلاً چپاتی ہلکے تیل کے ساتھ، یا پھر دلیا، آٹا چوکر والا ہو، سوجی کی کھیر، سالن میں چکن، دال، سبزیاں وغیرہ استعمال کی جائیں کہ ان میں چکنائی کم اور پروٹینز زیادہ پائے جاتے ہیں۔

سحری اور رات کے کھانے میں پھل اور سلاد کھائیں، گھی، مکھن اور مارجرین کی بجائے تیل استعمال کریں۔ ڈیپ فرائیڈ اشیاء جیسے پکوڑے، سموسے، رول، کباب، چپسس، فرائیڈ چکن سے اجتناب برتا جائے، اس کے برعکس گِرل کی ہوئی اشیاء کم مقدار میں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کھانے میں نمک کی مقدار کم رکھیں، سحر و افطار میں شوربے والا سالن کھانا بہتر ہے۔

افطار میں ایک درمیانے سائز کی کھجور اور پانی سے روزہ کھولیں۔ لال پیلے، ہرے میٹھے مشروبات کی جگہ لیموں، پانی کا شربت (گھر کا بنا ہوا کینڈرل کے ساتھ) یا پھر بغیر شکر اور بغیر بالائی کی لسّی کا استعمال کیا جاسکتا ہے، جب کہ ایک کپ فروٹ چاٹ (بغیر چینی) کھائی جاسکتی ہے۔ میٹھی غذائیں مثلاً مٹھائیاں، جلیبیاں، پڈنگ، کیک وغیرہ ہرگز استعمال نہ کریں۔ رات کے کھانے میں کم تیل اور چکنائی والا سالن، چپاتی یا پھر اُبلے ہوئے چاول بھی سبزی یا دال کے ساتھ کھائے جاسکتے ہیں۔

تمباکو نوشی سے مکمل احتراز برتیں۔ اگر یہ علّت لاحق بھی ہے، تو ماہِ صیام میں اس سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ یاد رہے، یہ محض عمومی ہدایت و مشورے ہیں۔ بہتر یہی ہوگا کہ اپنے معالج کے مشورے اور ہدایات کے بغیر روزہ نہ رکھیں کہ انفرادی و مخصوص حالات کے تحت متعلقہ معالج کا مشورہ ہی حتمی تسلیم کیا جاتا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY