چودھری شجاعت کو صدارت سے ہٹانا ناممکن ہے: طارق بشیر چیمہ

0
607

وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ اس وقت تمام صوبائی صدر ہماری پریس کانفرنس میں موجود ہیں، تمام عہدیداران اور مجلس عاملہ کو لاہور آنے کی کالز کی جا رہی ہیں، میں نے چودھری شجاعت کی منت کی کہ خاندان کو تقسیم ہونے نہ دیں، اپنے خاندان کو مذاق نہ بنائیں، بہترہوگا الزامات نہ لگائے جائیں، آج مجھے سازشی کہا جا رہا ہے۔ اس سے زیادہ تضحیک نہیں ہوسکتی کہ چابی لگا کر آگے کر رہے ہو۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چودھری شجاعت کو صدارت سے ہٹانا ناممکن ہے، پوزیشن کلیئرکردوں ان کواختیارحاصل نہیں، آج ہمارے اجلاس میں تمام عہدے داران موجود ہیں، یہ ہوش کے ناخن لیں اپنے خاندان کا مذاق نہ بنائیں۔ میرے قائد ایک وقاروالا نام ہیں، انہوں نے پارٹی کی بنیاد رکھی، پنجاب کا ایک عہدیدار اُٹھ کر اجلاس بلالیتا ہے۔ گزشتہ 20برس سے پارٹی کے امورمیں خود دیکھ رہا ہوں، جتنا پینڈورا بکس کھولیں گے اتنا زیادہ نقصان ہوگا، عمران خان مو نس الہٰی کو نہیں سالک حسین کو وزیر بنانا چاہتےتھے۔

انہوں نے کہا کہ پچاس دفعہ کہا تھا عمران خان نااہل اورجھوٹ بولتا ہے، پچاس دفعہ کہا تھا عمران خان کا وزیر نہیں رہنا چاہتا، ہوش کے ناخن لیں ورنہ بہت ساری چیزیں کھلیں گی۔ عدالت نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو غیرقانونی قرار دیا، سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں، ہماری لیگل ٹیم کام کر رہی ہے اگر عدالت جانا پڑا تو جائیں گے، کیا کوئی کسی کے گھر جائے تو کیا کانسپرنسی ہی ہونی ہے؟ چودھری شجاعت بھی آصف زرداری کے گھرجایا کرتے تھے۔ سیاست میں لوگوں کا گھروں میں آنا جانا لگا رہتا ہے، ہمارے گھر زرداری کے آنے سے کوئی سازش نہیں ہوئی، خدا کرے یہ خاندان آج ہی دوبارہ اکھٹا ہو جائے، سوشل میڈیا پر چلنے والی اسٹیبلشمنٹ سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں۔

اس دوران صحافی نے سوال پوچھا کہ کیا مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق ایک ہو سکتی ہے؟ اس پر جواب دیتے ہوئے طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ اس پر جواب دینا قبل از وقت ہو گا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے دوران ہم نے پہلے سے فیصلہ کر لیا تھا عمران خان کو ووٹ نہیں دیں گے۔

طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ مجھے پارٹی سے ہٹائے جانے کی کوئی فکرنہیں، چودھری شجاعت کے اسٹیبلشمنٹ سے بڑے مراسم ہیں، چودھری شجاعت، زرداری میٹنگ میں ہم شامل نہیں ہوتے، ہم اتحادی حکومت کا حصہ ہیں، ہم دن گزارنے نہیں، ہم نے پہلے کلیئرکردیا تھا کہ عمران خان کوووٹ نہیں ڈالنا، یہی وجہ ہے ہماری جماعت پر اثرہوا، اسی کرسی پربیٹھ کر تمام معاہدے ہوئے تھے، چودھری شجاعت نے مجھے کہا پہلے استعفی دو، چودھری شجاعت نے کہا عمران کوووٹ نہیں ڈالنا، کسی پر جادوٹونے کا الزام نہیں لگانا چاہتے، چودھری شجاعت نے پرویزالہیٰ سے کہا تھا میرے چیف منسٹرکے امیدواربنوعمران کہ نہیں۔

انہوں نےکہا کہ کیا ہم چوچے، کاکے ہیں جو زرداری صاحب نے ٹریپ کر لیا، چودھری شجاعت، پرویزالہیٰ سے منجھا ہوا کوئی سیاستدان نہیں، مسلم لیگ (ن) اور (ق) لیگ ٹریپ نہیں ہوئی، آصف زرداری جو بات کرتا ہے پوری کرتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY