مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات
عالم دین، مبلغ اسلام اور سیاسی رہنما مولانا شاہ احمد نورانی 31 / مارچ 1926ء کو میرٹھ (یو پی) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی، اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خان بریلوی کے خلیفہ مجاز تھے۔ شاہ احمد نورانی نے حفظ قرآن اور درس نظامی کی تکمیل کے بعد نیشنل عربک کالج میرٹھ سے گریجویشن کیا اور الٰہ آباد یونیورسٹی سے فاضل عربی کی ڈگری حاصل کی۔
علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی اپنے وقت کے عظیم مبلغ تھے۔ ان کی وفات کے بعد یہ فریضہ شاہ احمد نورانی نے سنبھال لیا۔ وہ 1953ء سے 1964ء تک ورلڈ مسلم علما آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل رہے۔ انہوں نے 1953ء اور 1974ء کی ختم نبوت تحریک میں فعال حصہ لیا۔ 1970ء میں وہ جمعیت علمائے پاکستان کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2003ء میں وہ ایم ایم اے کے ٹکٹ پر سینٹ آف پاکستان کے رکن بنے تھے اور اپنی وفات کے وقت بھی سینٹ کے رکن تھے۔
مولانا شاہ احمد نورانی 11 / دسمبر 2003ء کو اسلام آباد میں وفات پاگئے۔
مولانا شاہ احمد نورانی کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
————————————————————————————————————-
خدیجہ مستور کی پیدائش
اردو کی نامور افسانہ نگار محترمہ خدیجہ مستور 11 / دسمبر1927ء کو بلسہ، بریلی میں پیدا ہوئیں۔
انہوں نے افسانہ نگاری کا آغاز 1942ء میں کیا۔ ان کے ابتدائی افسانوں کے دو مجموعے ’’کھیل‘‘ اور ’’بوچھاڑ‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ لاہور آگئیں۔پاکستان آنے کے بعد ان کے تین افسانوی مجموعے چند روز اور، تھکے ہارے اور ٹھنڈا میٹھا پانی کے نام سے شائع ہوئے۔ اسی دوران انہوں نے دو ناول ’’آنگن‘‘ اور ’’زمین‘‘ کے نام سے تحریر کئے۔ آنگن کا شمار اردو کے صف اول کے ناولوں میں ہوتا ہے، اس ناول پر انہیں 1962ء کا آدم جی انعام بھی ملا۔
خدیجہ مستور کی چھوٹی بہن ہاجرہ مسرور اردو کی صف اول کی افسانہ نگاروں میں اور بھائی خالد احمد اردو کے جدید شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔
26 / جولائی 1982ء کو اردو کی نامور افسانہ نگار محترمہ خدیجہ مستور لندن میں وفات پاگئیں اورلاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔
————————————————————————————————————-
فلم ہیرا اور پتھر ریلیز ہوئی
وحید مراد کے فلم ساز ادارے فلم آرٹس کی پہلی فلم ہیرا اور پتھر 11 /دسمبر 1964ء کو ریلیز ہوئی۔
ہیرا اور پتھر کے ہدایت کار پرویز ملک‘ موسیقار سہیل رعنا‘ کہانی نگار اقبال حسین رضوی اور نغمہ نگار مسرور انور اور موج لکھنوی تھے۔ جب کہ فلم کے اداکاروں میں وحید مراد‘ زیبا‘ ادیب،کمال ایرانی‘ ابراہیم نفیس‘ نرالا‘ آغا جان ، غوری ، خورشید کنول،کمو اور نمو شامل تھے۔
ہیرا اور پتھر کا شمار پاکستان کی کامیاب فلموں میں ہوتا ہے۔ یہ کراچی میں تیار ہونے والی پہلی فلم تھی جس نے گولڈن جوبلی منانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
اس فلم میں وحید مراد نے بہترین اداکار کا اور ایم عقیل خان نے بہترین تدوین کار کا نگار ایوارڈ حاصل کیا تھا۔
————————————————————————————————————-
ظہیر عباس کی سوویں سنچری
ظہیر عباس پاکستان کے ان مایۂ ناز بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں جن کا ہر اسٹروک قابل دید ہوا کرتا تھا۔ وہ اپنے اسٹائل اور زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کی بنا پر ایشائی بریڈمین اور رنز بنانے کی مشین کہلاتے تھے۔ کرکٹ کے شائقین آج بھی ان کے کھیلنے کے انداز کو نہیں بھولے۔
11 / دسمبر 1982ء وہ یادگار دن تھا جب پاکستان کے مایۂ ناز بیٹسمین ظہیر عباس نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی سنچریوں کی سنچری بنائی۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان اور ایشیا کے پہلے اور دنیائے کرکٹ کے بیسویں کھلاڑی تھے۔
ظہیر عباس نے فرسٹ کلاس کرکٹ میںاپنی پہلی سنچری 1968-69ء میں کراچی کی طرف سے کھیلتے ہوئے مشرقی پاکستان کے خلاف بنائی تھی۔ 1969-70ء میں انہوں نے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا اور 1971ء میں انگلستان کے خلاف 274 رنز اسکور کئے۔اس کے بعد ظہیر عباس فرسٹ کلاس اور ٹیسٹ کرکٹ دونوں میں سنچریوں کا ڈھیر لگاتے رہے۔
11 / دسمبر 1982ء کو بھارت کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں ظہیر عباس نے اپنے کیریئر کی سوویں فرسٹ کلاس سنچری اسکور کی۔ اس اننگز میں ظہیر عباس نے 215 رنز اسکور کئے تھے۔ اس طرح ظہیر عباس کو نہ صرف یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے اپنی سوویں فرسٹ کلاس سنچری ٹیسٹ میچ میں اسکور کی بلکہ یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہوا کہ ان کی سوویں سنچری ڈبل سنچری تھی۔
————————————————————————————————————
قومی مالیاتی ایوارڈ کا اعلان
پاکستان کے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ، وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور قومی مالیاتی کمیشن کے ارکان نے لاہور میں 9 سے 11 دسمبر 2009ء کے دوران قومی مالیاتی کمیشن کے تین روزہ اجلاس میں شرکت کی جس کے بعدوزیر خزانہ، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور قومی مالیاتی کمیشن کے ارکان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران پوری قوم کو ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ پر اتفاق رائے کی خوش خبری سنائی۔
اس اعلان کے مطابق وفاق اور چاروں صوبے آبادی، غربت اور پسماندگی پر متفق ہوگئے اور انہوں نے اعلان کیا کہ چاروں صوبے قابل تقسیم محاصل کے کثیر الجہتی فارمولے پر بھی متفق ہوگئے ہیں جس کے مطابق آبادی کا حصہ 82 فیصد، پسماندگی و غربت 10.3 فیصد، ریونیو جنریشن 5 فیصد اور آبادی کی کثافت کا حصہ 2.7 فیصد ہوگا اوراس نئے فارمولے کے بعد وفاقی قابل تقسیم محاصل میں پنجاب کا حصہ 51.74، سندھ کا حصہ 24.55، سرحد کا حصہ 14.62 اور بلوچستان کا حصہ9.09 فیصد ہوجائے گا۔
گوادر میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں 30 / دسمبر 2009ء کو وفاقی وزیر خزانہ ، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزرائے خزانہ نے اس تاریخ ساز ایوارڈ پر دستخط کردیئے۔ اس تقریب میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وفاقی کابینہ کے ارکان بھی موجود تھے۔ اس ایوارڈ کا نفاذ یکم جولائی 2010ء سے ہوگا۔
وقار زیدی ۔ کراچی












