مولانا شوکت علی کی وفات

تحریک آزادی کے عظیم رہنما مولانا شوکت علی نے 28 / نومبر 1938ء کو وفات پائی۔ وہ مولانا محمد علی جوہر کے بڑے بھائی تھے۔
مولانا شوکت علی10 / مارچ 1873ء کو رام پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1895ء میں ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کیا اور سرکاری ملازمت اختیار کی تاہم 1913ء میں یہ ملازمت ترک کرکے انجمن خدام کعبہ کی بنیاد رکھی اور اپنی سیاسی سرگرمیوں کے باعث پہلی عالمی جنگ کے دوران قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ 1919ء میں انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی مولانا محمد علی جوہر کے ساتھ تحریک خلافت کی بنیاد ڈالی۔ اسی دوران انہوں نے گاندھی جی کے ساتھ ہندو مسلم اتحاد کی ایک نئی تاریخ رقم کی، تاہم جلد ہی انہوں نے گاندھی کی حمایت سے دستبرداری اختیار کی اور مسلم لیگ کی پالیسیوں کی حمایت کرنے لگے۔ 1931ء میں مولانا محمد علی جوہر کی وفات کے بعد آپ سیاست میں اتنے فعال نہ رہے جتنے پہلے تھے تاہم 1937ء میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 28 / نومبر 1938ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ دہلی میں آسودۂ خاک ہیں۔
———————————————————————————————————————————
پاک فوج کے سربراہ ۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی

(اٹھائیس نومبر 2007 تا انتیس نومبر 2013)
جنرل اشفاق پرویز کیانی 20 / اپریل 1952 کو پیدا ہونے والے بری فوج کے پہلے سربراہ تھے جو پاکستان بننے کے بعد پیدا ہوئے۔ وہ پہلے سپاہ سالارتھے جنہیں آئی ایس آئی کی کمان کا براہِ راست تجربہ ہے۔ وہ پہلے کمانڈرتھے جنہوں نے اپنے عہدے کی پہلی مدت میں توسیع خود سے نہیں مانگی بلکہ ایک منتخب حکومت کی جانب سے توسیع چل کے آئی ۔
جنرل کیانی کو 1971 میں فوجی کمیشن ملا۔ انھوں نے کاکول کے علاوہ امریکی آرمی کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج فورٹ بیننگ اور فورٹ لیون ورتھ سے بھی عسکری تجربہ حاصل کیا۔ ریاست ہوائی کے ایشیا پیسفک سینٹر سے سکیورٹی سٹڈیز کا کورس کیا۔ سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں مدرس رہے۔ پنڈی کی دسویں کور کو کمان کیا۔ اکتوبر 2004 میں انھیں آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا گیا ۔
اس دوران پاکستان میں امریکی ڈرون حملے شروع ہوئے۔ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد بڑھا۔ لال مسجد کا واقعہ ہوا۔ خودکش بمباروں کے پھٹنے کا چلن بکثرت پھیلا۔ بلوچستان میں شورش کا ایک اور باب کھلا۔ اکبر بگٹی قتل ہوئے۔ عدلیہ اور مشرف حکومت میں محاذ آرائی انتہا تک پہنچی۔ بےنظیر بھٹو سے مذاکرات میں جنرل کیانی نے مشرف حکومت کی نمائندگی کی۔
بےنظیر کو جنرل کیانی پر اس لیے بھی اعتماد تھا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں ان کے ڈپٹی ملٹری سیکرٹری رہ چکے تھے۔
جنرل اشفاق پرویز کیانی اکتوبر 2007 میں آئی ایس آئی کی سربراہی سے سبک دوش ہونے کے بعد وائس چیف آف آرمی سٹاف بنائے گئے اور پھر دو ماہ بعد مکمل چیف آف آرمی سٹاف بنے ۔
جنرل کیانی کے دور میں لاپتہ افراد کے مسئلے میں مزید شدت پیدا ہوئی۔ ایبٹ آباد پر امریکی حملے نے پاکستان امریکہ تعلقات کو ابتر سطح پر لا کھڑا کیا۔ ریمنڈ ڈیوس کا سکینڈل ہوا۔ میمو گیٹ کھلا۔ وزیرستان اور سوات میں فوجی آپریشن ہوئے۔جنرل کیانی نے فوج کے بنیادی عسکری نظریے میں ترجیحاتی تبدیلی کی۔ یعنی بھارت کے بجائے پاکستان کا اولین دشمن دہشت گردی کو قرار دیا گیا ۔
—————————————————————————————————————————–
بانو قدسیہ کی پیدائش

اردو کی مشہور ناول نویس، افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار محترمہ بانو قدسیہ کی تاریخ پیدائش 28 / نومبر 1928ء ہے۔
1950ء میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا اور مشہور افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس اشفاق احمد سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔ بعدازاں انہوں نے اپنے شوہر کی معیت میں ادبی پرچہ داستان گوجاری کیا۔ بانو قدسیہ کا شمار اردو کے اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ناقابل ذکر، بازگشت، امر بیل اور کچھ اور نہیں کے نام شامل ہیں۔ انہوں نے کئی ناول بھی تحریر کیے۔ ان کا ناول راجہ گدھ اپنے اسلوب کی وجہ سے اردو کے اہم ناولوں میں شمار ہوتا ہے جبکہ ان کے ناولٹس میں ایک دن، شہر بے مثال، پروا،موم کی گلیاں اور چہار چمن کے نام شامل ہیں۔انہوں نے ٹیلی ویژن کے لیے بھی کئی یادگار ڈرامہ سیریلز تحریر کیے۔ جن کے متعدد مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ حکومت پاکستان نے آپ کو ستارۂ امتیاز کا اعزاز عطا کیا ہے۔
——————————————————————————————————————————
طورسم خان کی وفات

اسکواش کے مشہور پاکستانی کھلاڑی طورسم خان 28 / نومبر 1979ء کو آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں آسٹریلین اوپن اسکواش ٹورنامنٹ کا ایک میچ کھیلتے ہوئے دل کا شدید دورہ پڑنے کی وجہ سے انتقال کرگئے۔ یہ اسکواش کی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جب کوئی کھلاڑی کھیل کے دوران اسکواش کورٹ میں فوت ہوا تھا۔
طورسم خان، پاکستان کے سابق برٹش اوپن چیمپئن روشن خان کے صاحبزادے تھے۔ وہ 27 / ستمبر 1951ء کو پیدا ہوئے تھے۔ 1967ء میں وہ قومی چیمپئن بنے، 1971ء میں انہوں نے عالمی ایمیچر اسکواش چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 1972ء میں انہوں نے انگلستان اوپن جیتی، 1974ء میں شمالی انگلستان اوپن، امریکن اوپن اور ویلش اوپن اسکواش چیمپئن شپ جیتی اور 1978ء میں برٹش اوپن کے کوارٹر فائنل میں قمر زمان کا مقابلہ کیا۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ ان کا چھوٹا بھائی جہانگیر خان اسکواش کا عالمی چیمپئن بنے مگر ابھی اس نے عالمی ایمیچر اسکواش چیمپئن شپ جیتی ہی تھی کہ ڈیڑھ ماہ کے اندراندر طورسم خان اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
طورسم خان کراچی میں گورا قبرستان سے متصل فوجی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY