نیر سلطانہ کی وفات
*27 / اکتوبر 1992ء کو پاکستان کی مشہور اداکارہ، ملکہ جذبات، نیر سلطانہ کراچی میں وفات پاگئیں۔
نیر سلطانہ کا اصل نام طیبہ خاتون تھا اور وہ 4 / مارچ 1932ء کو علی گڑھ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کی پہلی فلم ہدایت کار انور کمال پاشا کی ’’قاتل‘‘ تھی جو 1955ء میں نمائش پذیر ہوئی۔ اس فلم میں انہوں نے نازلی فرح کے نام سے کام کیا تھا بعدازاں فلم ساز اور ہدایت کار ہمایوں مرزا نے انہیں نیر سلطانہ کا نام دیا اور اپنی فلم ’’انتخاب‘‘ میں بطور ہیروئن منتخب کیا۔ نیر سلطانہ کی اصل شہرت کا آغاز فلم ’’سات لاکھ‘‘ سے ہوا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 216 فلموں میں کام کیا جن میں 140 فلمیں اردو میں، 49 فلمیں پنجابی میں، ایک فلم سندھی میں اور 6 فلمیں پشتو میں بنائی گئی تھیں۔ نیر سلطانہ کی یادگار ترین فلموں میں سہیلی، اولاد، گھونگھٹ، باجی، ثریا، ماں کے آنسو اور ایک مسافر ایک حسینہ کے نام سرفہرست تھے۔ انہوں نے پاکستان کے مشہور اداکار درپن سے شادی کی تھی جو پاکستان کی فلمی صنعت کی کامیاب ترین شادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ وہ لاہور میں مسلم ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
———————————–

ممتاز مفتی کی وفات
اردو کے نامور افسانہ نگار ممتاز مفتی کا اصل نام ممتاز حسین تھا اور وہ بٹالہ ضلع گورداس پور میں 11 / ستمبر 1905ء کو پیدا ہوئے۔
انہوں نے لاہور سے تعلیم حاصل کی اور پھر تدریس کے پیشہ سے وابستہ ہوئے۔ کچھ وقت فلمی دنیا میں بھی گزارا پھر مختلف سرکاری اداروں میں خدمات انجام دیتے رہے۔ ممتاز مفتی کا پہلا افسانہ ’’جھکی جھکی آنکھیں‘‘ 1936ء میں ’’ادبی دنیا‘‘ لاہور میں شائع ہوا تھا۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ان کہی، گہما گہمی، چپ، اسمارائیں، گھڑیا گھر، روغنی پتلے، سمے کا بندھن اور کہی نہ آجائے کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر تصانیف میں ان کے سوانحی ناول ’’علی پور کا ایلی‘‘ اور ’’الکھ نگری‘‘ سفرنامے ’’لبیک‘‘ اور ’’ہند یاترا‘‘ خاکوں کے مجموعے پیاز کے چھلکے، اوکھے لوگ اور اور اوکھے لوگ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔
*27 / اکتوبر 1995ء کوممتاز مفتی اسلام آباد میں وفات پاگئے اوراسلام آباد ہی کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
—————————-

غلام اسحاق خان کی وفات
غلام اسحاق خان20 / جنوری 1915ء کو اسماعیل خیل بنوں میں پیدا ہوئے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی کرنے کے بعد 1940ء میں انہوں نے صوبہ سرحد کی سول سروس سے اپنے شاندار کیریئر کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ صوبہ سرحد کے ہوم سیکریٹری، سیکریٹری محکمہ خوراک، صوبائی ترقیات کے سیکریٹری اور کمشنر ترقیات رہے۔ ایسے ہی کئی اور عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد یکم فروری 1961ء کو انہیں واپڈا کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ وہ اس عہدے پر 11 / اپریل 1966ء تک فائز رہے۔ انہوں نے وفاقی سیکریٹری مالیات، گورنر اسٹیٹ بنک اور سیکریٹری دفاع کے عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے انہیں سیکریٹری جنرل انچیف مقرر کیا۔ یہ عہدہ وفاقی وزیر کے عہدے کے برابر تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور ہی میں وہ وزیر خزانہ بھی رہے۔ مارچ 1985ء میں وہ سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 17 / اگست 1988ء کو فضائی حادثہ میں جنرل ضیاء الحق کی ناگہانی موت کے بعد انہوں نے پاکستان کے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالا۔ 12 / دسمبر 1988ء کو وہ پاکستان کے مستقل صدر منتخب ہوئے، وہ اپنے اس عہدے پر 19 / جولائی 1993ء تک فائز رہے۔ انہوں نے اگست 1990ء اور اپریل 1993ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی حکومتوں کو رخصت کیا اور یوں اپنے کیریئر کے آخری زمانے میں وہ ایک متنازع شخصیت کی شکل میں سامنے آئے۔ صدارت کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد انہوں نے اپنی عمر کا بقیہ حصہ پشاور میں بسر کیا۔27 / اکتوبر 2006ء کو پشاور ان کا انتقال ہوگیا اور وہ پشاور ہی میں یونیورسٹی ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔حکومت پاکستان نے انہیں ہلال پاکستان اور ستارۂ پاکستان کے اعزازات سے نوازا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY