سویڈن شمالی یورپ کا ایک ملک ہے جس کے اطراف میں زیادہ تر سمندر ہے۔ مغرب میں ناروے اور شمال مشرق میں فن لینڈ ہے۔ یہ سمندر پر ایک لمبے پل کی مدد سے ڈنمارک سے بھی ملا ہوا ہے۔
سویڈن میں مڈ سمر فیسٹویل یا وسط موسم گرما کا مقبول تہوار
تین ہزار سال پہلےشمالی ممالک کے لوگ یہ جانتے تھے کہ سورج عین سر پر کب ہوتا ہے – لمبے سرد موسم کی وجہ سے گرمی کے استقبال کے لئے تانبے کے دور ہی سے لوگ روایت کے مطابق اس دن اس گرمی کی خوشی میں رقص کرتے ہیں – ان روایت کی تصویریں پتھروں پر کندہ ہیں –
یہ دن حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے چھ مہینے پہلے منانے کا فیصلہ کیا گیا –
سویڈن میں یہ دن اس لئے جون میں رکھا گیا کہ جرمنی میں سویڈن سے پہلے مئی میں سبزہ شرو ع ہو جاتا ہے وہاں مئی میں مناتے ہیں – یہ روایت سویڈن میں بانس کے اوپر صنوبر کے درخت کی ٹہنیوں اور مختلف پھولوں سے سجے ہوئے درخت کے گرد ڈانس اور گانے گا کر بچے بڑے ، سب مناتے ہیں . یہ بہت اہم تہوار شمار ہوتا ہے ۔سویڈن میں عام تعطیل ہوتی ہے اور یہ بیس اور چھبیس جون کے درمیان آنےوالے ہفتے کے روز منایا جاتا ہے۔
عوامی لباس پہن کر سر پر صنوبر کے درخت کی ٹہنیوں اور پھولوں سے سجا ہوا ھار پہنتے ہیں.
اس میں بچوں کے اور موسم گرما کے مختلف گیت گائےجاتے ہیں. ہر سال، محلوں میں اور سٹاک ہولم کے سب سے بڑے چڑیا گھر پارک میں اس دن کو منانے کے خاص انتظامات ہوتے ہیں
اکثر یہ تین دن منایا جاتا ہے. سکانسن میں یہ دن منانے کے لئے صرف سویڈش لوگ ہی نہیں ہوتے، بلکے ہر سالدوسرے ممالک سے بھی لوگ آتے ہیں -اس سال ٢٠١٠ میں تقریباً، چھبیس ہزار کے لگ بھگ لوگ تھے .اس موقع پر کھانے میں مختلف مچھلی اور تازہ آلو کھائے جاتے ہیں. یہ سب سے لمبا دن ہوتا ہے اور چھ مہینے بعد حضرت عیسیٰ کی پیدائش پچیس دسمبر کو سب سے چھوٹا دن.












