مسئلہ کشمیر: حل کا وقت آگیا,ڈاکٹر مجاہد منصوری

0
571

خارجہ پالیسی کی سائنس مقررہ ریاستی ہدف (نیشنل انٹرسٹ) کے حصول کے چاربڑے انسٹرومنٹس تجویز کرتی ہے۔ ڈپلومیسی (سفارت کاری)، پروپیگنڈہ (میں اسے جنگی ابلاغی معاونت بھی کہتا ہوں)، اقتصادی ترغیبات (بشکل اکنامک ایڈ) اور جنگ۔ ایک پانچواں بہت متحرک اور نتیجہ خیز بھی ہے لیکن ناقابلِ دید اور استعمال کرنے والا اسے مانتا نہیں کہ وہ یہ استعمال کر رہا ہے، لہٰذا فارن ریلیشنز کے اسکالر اسے رائج کتابی علم (نظری) میں شامل نہیں کرتے۔سو عملی صورت یہی ہے کہ یہ پراسرار انسٹرومنٹ آف فارن پالیسی (یاافیئرز) میں بمطابق سکت برابر ہر ریاست استعمال کرتی اور اسے بڑھاتی ہے۔ یہ پوشیدہ ہتھیار خفیہ ریاستی ادارے ہیں، جن کو عرفِ عام میں انٹیلی جنس ایجنسیاں کہا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت اپنے خارجی امور خصوصاً مسئلہ کشمیر پر اپنے اپنے مقررہ قومی مفاد (نیشنل انٹرسٹ) کے حوالے سے گزشتہ 73 سال سے (اکنامک ایڈ کے سوا) خارجہ پالیسی کے ان انسٹرومنٹس کا استعمال کر رہے ہیں۔ واضح رہے ’’فارن اکنامک ایڈ‘‘ کا انسٹرومنٹ صرف بہت امیر ممالک ہی استعمال کرسکتے ہیں، بھارت اور پاکستان کی یہ پوزیشن نہیں تھی، تاہم اس کی خال خال مثال دونوں ملکوں کے حوالے سے ملتی بھی ہے، کہ ہم نے ’’اکنامک ایڈ‘‘ کے طور پر تو نہیں خیر سگالی (گڈول جیسچر) کے طور مقررہ ممالک کو ’’اکنامک ایڈ‘‘ کی سی اپروچ سے، اس انسٹرومنٹ کو بھی استعمال کیا، جیسے بھارت نے اقتصادی ترغیبات سے بھی افغان حکومتوں اور عوام پر اثر انداز ہونے کے اقدامات کئے۔ پاکستان نے دور جائے وقوعہ کے باوجود مالدیپ کو خیر سگالی کا جیسچر دیتے ہوئے وہاں کی پارلیمنٹ کی عمارت تعمیر کرکے دی اور سری لنکا کی سلامتی کے حوالے سے بھی کچھ نہ کچھ کیا۔ جس کا اقتصادی پہلو واضح ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق متنازعہ جموں و کشمیر میں عالمی اداروں کی منظور قراردادوں پر عملدرآمد اورمقبوضہ علاقے کو بزور عسکری طاقت، بھارت کے اٹوٹ انگ کے طور پر اپنے قبضے میں رکھنا، ابتدا سے ہی پاکستان، بھارت تعلقات میں سب سے بڑے ’’قومی مفاد‘‘ رہے ہیں۔ دونوں ملکوں نے اپنے اپنے اعلانیہ متذکرہ ’’قومی مفادات‘‘کو مکمل حاصل کرنے اور جزوی حصول کو برقرار رکھنے کے لئے عشروں ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ پاکستان نے جزوی حصول بذریعہ جنگ (بشکل جہاد) مقبوضہ ریاست کے ایک تہائی حصے کو آزاد کرکے پاکستان کے عارضی انتظامی کنٹرول سے منسلک کردیا۔ آج تک آزادیٔ کشمیر کا یہ اسٹیٹس آزاد کشمیر کے شہریوں کی مکمل مرضی و منشا کے مطابق قائم دائم ہے۔ دوسری جانب بھارت، جس نے پاکستان کے فوری اور موثر ترین انسٹرومنٹ (جنگ) کے استعمال سے واضح طور پر کشمیریوں کو مرضی سے بھارت کے چنگل سے نکلتا دیکھ کر پاکستان کی واضح کامیابی کا اندازہ لگاتے ڈپلومیسی اور جنگ، دونوں کا بیک وقت استعمال کیا۔ کشمیریوں کی مرضی کے بالکل خلاف جموں و کشمیر کو ہتھیانے کے لئے ایئر فورس کا استعمال کرکے فوج بھی وادی میں اتاری اور پاکستان کی واضح جنگی کامیابیاں دیکھتے، فوری نومولود اقوام متحدہ سے بھی رجوع کیا، جنگ بندی کے لئے سلامتی کونسل کی اپیل آئی تو جنگ کے انسٹرومنٹ سے کامیابی حاصل کرتے پاکستان نے نئے نئے قائم عالمی ادارہ برائے امن و آزادی و استحکام کو معتبر اور خود کو اس کے چارٹر اور فیصلوں کا پابند سمجھتے اپنے حاصل ہوتے ’’قومی مفاد‘‘ کی قربانی دے کر سلامتی کونسل کی اپیل کو قبول کرتے ہوئے انٹرنیشنل ازم کے جذبے سے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کا جہاد روک دیا جو پاکستان خصوصاً کشمیریوں کو بہت مہنگا پڑا۔ اندازہ مقبوضہ کشمیر کی آج کی ڈیڑھ سال سے بدترین محصور و مقہور صورتحال سے لگایا جاسکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کی یہ ریکارڈڈ تاریخ ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں رائے شماری کرانے اور جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لئے ’’سیزفائر لائن‘‘ (جسے شملہ معاہدہ میں زبردست سفارتی دبائو سے ’’لائن آف کنٹرول تسلیم کرایا گیا)کے دونوں جانب اقوام متحدہ کے مبصرین کی تعیناتی سے لے کر جواہر لعل نہرو کے آنجہانی ہونے (1963) تک، عالم گھبراہٹ میں سیکورٹی کونسل کی مدد سے ’’جہاد کشمیر‘‘ کو رکوانے والے بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو موضوع پر اپنے جملہ اقسام کے ابلاغ میں ’’حالات سازگار ہونے پراقوام متحدہ کے فیصلے کے مطابق کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق خودارادیت کے مطاق رائے شماری کرانے‘‘ کا وعدہ کرتے رہے، حتیٰ کہ سری نگر کے جلسہ عام میں بھی، پھر ان کے دوست کشمیری رہنما شیخ عبداللہ بھی پنڈت جی کے ایما پر کشمیریوں کو ’’یقین دہانی‘‘ میں جکڑتے جکڑتے ’’شیر کشمیر‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ نہرو کی قید میں چلے گئے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ یہ ہے کہ دونوں خارجہ پالیسی کے چاروں اور ’’پانچویں‘‘ بھی انسٹرومنٹ کے بھرپور استعمال سے اپنے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے اپنا اپنا متذکرہ ’’قومی مفاد‘‘ حاصل کرنے کا ممکنہ زور لگا رہے ہیں۔ اس صورت حال سے اقوام متحدہ کی قیام عالمی امن کے عظیم مقصد کے حصول اور اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کی نہ ہونے برابر کیپسٹی یا منافقانہ کردار، دونوں ہی مکمل بے نقاب ہو چکے۔ واضح رہے خارجہ پالیسی کی سائنس کے چاروں، پانچوں زیر بحث انسٹرومنٹس میں ’’جنگ‘‘ وہ انسٹرومنٹ ہے جسے ریاستیں آخری ترجیح سمجھتے ہوئےاپنا مقررہ ’’قومی مفاد‘‘ حاصل کرنے کی سعی کرتی ہیں۔ اس کے مقابل ڈپلومیسی اولین ترجیح کا انسٹرومنٹ ہے جو سب سے زیادہ زیر استعمال اور پرامن، نرم اور مکمل قابل قبول ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں زیادہ سے زیادہ ممالک کے قائم سرگرم سفارت خانے، خارجہ تعلقات و امور میں ڈپلومیسی کے اہم ترین ہونے کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ اس کے باوجود اس کی ناکامیاں بھی اتنی ہی اور بےحد تشویشناک اور مسلسل ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY