اسرائیل کے عبرانی اخبار’ہارٹز‘ نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں میں فلسطینیوں کی نجی اراضی پر تعمیر کی گئی غیرقانونی یہودی کالونیوں میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیرکے لیے کروڑوں ڈالر کی رقم  جاری کی گئی ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق سنہ 2008ء سے 2014ء صہیونی حکومت نے مغربی کنارے میں غیرقانونی طور پرتعمیر کی گئی کالونیوں میں بنیادی ڈھانچے بالخصوص سوریج، پائپ لائنیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے لیے 11 ملین شیکل کی رقم جاری کی گئی ہے۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 3 ملین ڈالر کے برابر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکومت کی طرف سے فلسطینیوں کی نجی اراضی پر تعمیر کی گئی پانچ کالونیوں مشرقی رام اللہ کی ’متسبیہ دانیہ‘ مغربی رام اللہ میں کی’حرشا‘ شمالی رام اللہ کی ’گیوات ھرئیل‘ جنوبی نابلس کی ’کیدا‘ اور شمالی وادی اردن کی ’کیر ریعیم‘ کے لیے جاری کی گئی۔

 اس کے علاوہ شمال مشرقی رام اللہ کی ’عوفرا‘ کالونی کے لیے پانچ ملین شیکل[ایک ملین 3 لاکھ ڈالر] سیوریج اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے جاری کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تفصیلات علاقائی یہودی کونسلوں کی آن لائن ویب سائیٹ پر بھی موجود ہیں جن میں بتایاگیا ہے کہ شمالی رام اللہ کئ ’شفوت راحیل‘ کالونی کو جاری کردہ رقوم کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔

فلسطین میں یہودی توسیع پسندی کے خلاف سرگرم تنظیم’سلام الآن‘ کی ایک عہدیدار حاگیت عوفران نے اخبار’ہارٹز‘ کو بتایا کہ صہیونی ریاست فلسطینیوں کی نجی اراضی پر بنائےیہودی بلاکوں کی سہولیات لیے رقوم فراہم کرکے حقائق کو تبدیل کرنےکےساتھ ساتھ عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کررہی ہے۔

میں مزید پڑھیں
https:/urdu.palinfo.com/3950
جملہ حقوق بحق مرکز اطلاعات فلسطین محفوظ ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY