عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر اسرائیل اور فلسطینیوں کا ردِعمل

0
677

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے جنوبی افریقہ کے نسل کشی کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور جنگ کے ساتھ آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک اور لوگوں کے دفاع کے لیے جو ضروری ہے ہم وہ جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض مالکی نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی جے کے ججز نے حقائق اور قانون کا جائزہ لیا اور انسانیت اور بین الاقوامی قانون کے حق میں فیصلہ دیا۔

اسرائیل نے جمعرات کو اس اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ عالمی عدالتِ انصاف ‘جعلی اور بے بنیاد’ الزامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دے گی۔

دوسری جانب غزہ میں برسرِ اقتدار فلسطینی عسکری تنظیم حماس نے کہا ہے کہ وہ عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کرے گی۔

عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے حتمی ہوتے ہیں اور ان کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی۔ لیکن عدالت کے پاس ان پر عمل درآمد کرانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد غزہ میں جنگ کا آغاز ہوا تھا۔

حماس کے حملے میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1200 افراد ہلاک اور 240 کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کر دیا گیا تھا جب کہ اسرائیلی کی جوابی کارروائی میں اب تک 25 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

غزہ جنگ کے دوران نسل کشی کے الزامات پر اسرائیل کے وکیل میلکم شاو نے عالمی عدالتِ انصاف میں ہونے والی گزشتہ سماعت کے دوران مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسرائیل اپنے دفاع کے لیے کارروائی کر رہا ہے اور وہ فلسطینی آبادی سے نہیں، حماس سے لڑ رہا ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی عدالت انصاف سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کیس کو بے بنیاد قرار دے کر خارج کر دے اور اسے نسل کشی قرار نہ دے۔

SHARE

LEAVE A REPLY