امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کے بارے میں عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں ہر کسی کو زندگی کی تمام بنیادی سہولتیں میسر ہیں لیکن ایسا نہیں ہے ۔ یہاں بھی حالات مثالی نہیں ہیں اور نہ ہی کسی بڑے ملک میں غالباً ہو سکتے ہیں۔
امریکہ میں زندگی بہت سی دیگر سہولتوں کے لحاظ سے آسان سہی مگر اس ملک میں صحتِ عامہ تک رسائی ہر ایک کو میسر نہیں ہے۔اور بات آ جائے بچے اور ماں کی صحت کی تو کسی سہولت کے کم ہونے کی گنجائش کہاں رہتی ہے۔
لیکن اس کے باوجود “جرنل آف دی امیریکن میڈیکل ایسوسی ایشن” میںشائع ہونے والی ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں غیر مساوی تناسب میں پورے امریکہ میں زچگی کے دوران اموات دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔
امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے ادارے سی ڈی سی کی ایک حالیہ تحقیق کےمطابق گزشتہ برس امریکہ میں سیاہ فام حاملہ عورتوں میں بچوں کی پیدائش کے دوران اموات کی شرح سفید فام اور ہسپانوی نژاد خواتین کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ تھی۔
وجہ کچھ بھی ہو، بہترین سہولتوں کے حامل اس ملک میں اس شرح کا پایا جانا لمحۂ فکریہ ہے۔
حال ہی میں امریکی سائنسی جریدے جرنل آف امیریکین میڈیکل ایسوسی ا یشن میں شائع ہونے والے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ کیسے امریکہ کی کچھ مخصوص ریاستوں میں زچگی کے دوران شرح اموات کے تناسب میں اضافہ ہوااور کچھ مخصوص آبادیوں میں جہاں پہلے ہی عدم مساوات پائی جاتی ہے ، وہاں زچگی کے باعث ہونے والی اموات میں بھی اضافہ ہوا۔
اسٹڈی کے مطابق سیاہ فام ماؤں میں اموات کی شرح ملک میں سب سے زیادہ ہے جب کہ اموات میں سب سے زیادہ اضافہ امریکہ کے آبائی قبیلوں اور ریاست الاسکا کی ماؤں میں پایا گیا۔
زچگی کے دوران سیاہ فام عورتوں کی شرح اموات میں اضافے کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ اس میں متعدد عوامل کارفرما ہیں ،جیسے کہ معیاری صحت کی دیکھ بھال تک رسائی میں کمی، معاشی حالات اورنسل پرستی پر مبنی تعصب۔ ان ماؤں کو صحت کے لیے مناسب مواقع حاصل کرنے میں رکاوٹ کا باعث ہوتے ہیں ۔
اس رپورٹ کے مرکزی محققین کا کہنا ہے کہ اس عدم مساوات کی بنیادی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے اور اسے لمحہ فکریہ جاننا چاہیے کہ عدم مساوات کی وجہ محض صحتِ عامہ کی سہولتوں تک رسائی کا مسئلہ نہیں ، بلکہ اس کا تعلق نظام میں نسل پرستی ، پالیسیوں اور سسٹم سے ہے جو لوگوں کو صحت مند زندگی گزارنے سے روکتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گزشتہ سات برسوں میں متعدد ملک، زچہ اور بچہ میں اموات کی شرح پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔
تاہم ماہرین اور ریسرچرز کا کہنا ہے کہ کو وڈ نائنٹین کی عالمی وبا، معاشی حالات ، غربت ، تنازعات اور دنیا بھر میں مختلف قدرتی آفات نےپہلے سےدباؤ کے شکار صحتِ عامہ کے نظام پر مزیدباؤ ڈالا ہے۔













