ماہر اقتصادیات ممتازحسن کا 28 / اکتوبر 1974ء کو انتقال ہوگیا۔

0
374

ممتاز حسن کی وفات

چھ اگست 1907ء پاکستان کے نامور ماہر اقتصادیات اور علوم و فنون کے زبردست سرپرست جناب ممتاز حسن کی تاریخ پیدائش ہے۔
جناب ممتاز حسن ضلع گوجرانوالہ کے ایک چھوٹے سے گائوں تلونڈی موسیٰ میں پیدا ہوئے تھے۔ جناب ممتاز حسن نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی جو ایک سول جج تھے اور علامہ اقبال کے قریبی دوست اور ہم جماعت تھے۔جناب ممتاز حسن نے اپنے والد کے تبادلوں کے باعث ابتدائی تعلیم مختلف شہروں میں حاصل کی اور 1927ء میں ایف سی کالج (لاہور) سے بی اے (آنرز) کا امتحان فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا پھر انہوں نے ادیب فاضل کے امتحان میں بھی کامیابی حاصل کی۔ وہ ایل ایل بی کا پہلا سال مکمل کرچکے تھے کہ ان کا انتخاب انڈین آڈٹ اینڈ اکائونٹس سروس کے لیے ہوگیا یوں 6 / مارچ 1930ء کو انہوں نے انڈر سیکریٹری کی حیثیت سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔

کچھ عرصے بعد وہ ممبر فائنانس سرجیرمی ریزمن کے پرائیویٹ سیکریٹری ہوگئے اور جب 1946ء میں مسلم لیگ اور کانگریس کی عارضی حکومت قائم ہوئی تو نوابزادہ لیاقت علی خان نے جو اس حکومت میں وزیر خزانہ تھے‘ جناب ممتاز حسن کو اپنا پرائیویٹ سیکریٹری مقرر کرلیا ان کی یہ رفاقت نوابزادہ لیاقت علی خان کے پاکستان کے وزیر اعظم بننے تک جاری رہی۔
1952ء میں جناب ممتاز حسن اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے قائم مقام گورنر بنے اور اسی برس حکومت پاکستان کے فائنانس سیکریٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس عہدے پر وہ 1959ء تک فائز رہے۔ ان کی اگلی تعیناتی پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کے طور پر ہوئی جہاں وہ 1962ء تک رہے پھر وہ پانچ برس تک نیشنل بنک آف پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نیشنل پے کمیشن کے چیئرمین اسپیشل آڈٹ کمیٹی مغربی پاکستان کے چیئرمین‘ براڈ کاسٹنگ کمیشن کے چیئرمین اور ڈیفنس سروسز پے کمیشن کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 28 / اکتوبر 1974ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔

جناب ممتاز حسن‘ علوم و فنون کے دلدادہ تھے۔ وہ ایک وسیع المطالعہ شخص تھے اور انہی کی کوششوں سے نیشنل بنک آف پاکستان کی لائبریری قائم ہوئی جوملک کی چند اچھی لائبریریوں میں شمار کی جاسکتی ہے۔ انہی کی کوششوں سے بھنبھور کے کھنڈرات میں وہ مقام بھی دریافت ہوا جہاں محمد بن قاسم کی فوج اتری تھی۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

امتیاز احمد کی ڈبل سنچری

امتیاز احمد پاکستان ہی نہیں، ایشیا کے پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ڈبل سنچری اسکور کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ امتیاز احمد نے اپنی یہ ڈبل سنچری 26 سے 31 / اکتوبر 1955ء کے درمیان نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں 28 / اکتوبر 1955ء کواسکور کی تھی۔ امتیاز احمد نے اپنی اس یادگار اننگ میں 28 چوکوں کی مدد سے 209 رنز اسکور کئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی اس یادگار اننگ کی اگلی اننگ میں وہ کوئی رن بنائے بغیر صفر کے اسکور پر آئوٹ ہوئے اور یوں وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی قرار پائے جس نے کسی ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگ میں ڈبل سنچری اسکور کی اور دوسری اننگ میں صفر کے اسکور پر آئوٹ ھوئے۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

لاہور میں فوڈ اسٹریٹ کا افتتاح
پاکستان کی پہلی فوڈ اسٹریٹ کا افتتاح28 / اکتوبر 2000ء کو ہواتھا۔ یہ فوڈ اسٹریٹ لاہور کے مشہور محلے گوالمنڈی میں چیمبر لین روڈ پر قائم کی گئی تھی۔ اس سڑک پر کھانے پینے کے مختلف چھوٹے بڑے ریسٹورنٹ مدتوں سے قائم تھے جنہیں نیشنل کالج آف آرٹس کے طلبہ اور اساتذہ نے مل کرباہمی طور پر ہم آہنگ کیا اوراسے ایک فوڈ اسٹریٹ کی شکل دے دی۔ لاہور کی یہ فوڈ اسٹریٹ نہ صرف اہل لاہور میں بے حد مقبول ہوئی بلکہ پاکستان بھر کے عوام اب جب بھی لاہور جاتے ہیں وہ اس اسٹریٹ کا دورہ ضرور کرتے ہیں۔ لاہور کی اس فوڈ اسٹریٹ کے کامیاب تجربے کے بعد نہ صرف لاہور میں بلکہ پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی اس قسم کی مزید فوڈ اسٹریٹس قائم ہوچکی ہیں۔
———————

SHARE

LEAVE A REPLY