صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی وفات
اردو، فارسی اور پنجابی کے نامور شاعر، ادیب، نقاد اور عالم صوفی غلام مصطفی تبسم 4 اگست 1899ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ امرتسر اور لاہور سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد وہ لاہور کے تعلیمی اداروں سے بطور استاد وابستہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر، لیل و نہار کے مدیر اور کئی دیگر اداروں میں اعلیٰ عہدوں سے منسلک رہے۔
صوفی تبسم اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، شاعر، استاد، شارح، مترجم، نقاد اور ادیب ان کی شخصیت کی مختلف جہتیں تھیں، پہلے اصغر پھر تبسم تخلص کیا۔ ان کی اردو اور فارسی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔ انہوں نے بچوں کی شاعری کے حوالے سے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ ان کا تخلیق کردہ کردار ٹوٹ بٹوٹ انہیں بچوں کے ادب میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
انہیں حکومت ایران نے نشان سپاس اور حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔
صوفی غلام مصطفی تبسم 7 فروری 1978ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
————————
اجمل خٹک کی وفات
٭پاکستان کے نامور سیاستدان اور ممتاز شاعر اجمل خٹک 15 ستمبر 1926ء کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ باچاخان کے پیروکار اور نیشنل عوامی پارٹی کے سرگرم رہنما تھے۔ نیپ پر پابندی کے بعد انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور اس کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں انہوں نے طویل عرصہ تک افغانستان میں جلاوطنی بھی کاٹی۔ 1990ء سے 1993ء کے دوران وہ قومی اسمبلی اور 1994ء سے 1999ء تک سینٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔
اجمل خٹک پشتو اور اردو کے اہم اہل قلم میں بھی شمار ہوتے تھے۔ان کا مجموعہ کلام جلاوطن کی شاعری کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پرانہیں 2007ء کا کمال فن ایوارڈ بھی عطا کیا تھا۔
اجمل خٹک 7 فروری 2010ء کو نوشہرہ میں وفات پاگئے اور اکوڑہ خٹک میں آسودۂ خاک ہوئے۔
————————
میر محمد معصوم شاہ بکھری کی پیدائش
٭سندھ کے ایک مشہور عالم مؤرخ اور ادیب میر محمد معصوم شاہ بکھری کی تاریخ پیدائش 7 فروری 1528ء مطابق 7 رمضان 944ہجری ہے۔
میر محمد معصوم شاہ بکھری تعلیم کے حصول کے اکبر اعظم کے دربار سے وابستہ ہوگئے جہاں ان کی ملاقات عبدالرحیم خان خاناں سے ہوئی۔ اکبر اعظم نے آپ کو ایران میں سلطنت مغلیہ کا سفیر مقرر کیا جبکہ جہانگیر نے آپ کو امین الملک کا خطاب عطا کیا۔ میر محمد معصوم شاہ بکھری ایک بلند پایہ مؤرخ اور شاعر تھے۔ شاعری میں وہ نامی تخلص کرتے تھے۔ انہوں نے سندھ کی ایک تاریخ ، تاریخ معصومی کے نام سے تحریر کی جو آج بھی سندھ کی ایک سند تاریخ تسلیم کی جاتی ہے۔ آپ نے سکھر کی مشہور عمارت میر معصوم شاہ بکھری کا مینار بھی تعمیر کروایا۔ اس مینار کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کی بلندی بھی 84 فٹ ہے بنیادوں پر اس کا قطر بھی 84 فٹ ہے اور اس کی سیڑھیوں کی تعداد بھی 84 ہے۔ اس مینار کی بنیاد میر محمد شاہ معصوم شاہ بکھری نے رکھی تھی لیکن اس کی تکمیل اس کے بیٹے میر بزرگ نے کروائی۔
میر محمد معصوم شاہ بکھری نے 14 اپریل 1606ء مطابق 6 ذی الحجہ 1014 ہجری کو وفات پائی۔ آپ کا مزار آپ کے نام سے موسوم مینار سے ملحقہ قبرستان میں واقع ہے
وقار زیدی ۔ کراچی












