اسلامی طرز ِزندگی (17)۔۔۔ شمس جیلانی

0
934

جیلانی
میں نے حضورﷺ کی سیرت ِمبارکہ “روشنی حرا سے“ ً کے نام سے لکھی جو آن لائن ہے اور یو ٹیوب پر بھی موجوہے اس کے علاوہ24 کتابیں لکھیں جس میں سے گیارہ صحابہؓ پر اور ۱یک صحابیات منوراتؓ کے نام سے مشہور صحابیات ؓ کی سیرت پر ہے۔ حال میں ‘ اسلام دینِ معاملت ہے ‘ سلسلہ وار تحریر کیا جوکہ معاملات اور حقوق کے بارے میں تھا۔ جن کو ہمارے قارئین نے بہت پسند کیا؟ ًآجکل یہ سلسلہ اسلامی طرز زندگی “ جاری“ ہے۔ اب تک میں نے سورہ الا نعام کی آیت 65 کو سامنے رکھا تھا جس کے نزول کے بعد حضورﷺ بہت پریشان ہوئے اور ایک بہت طویل عبادت میں مصروف ہوگئے لو گوں نے پوچھا کہ یارسول ﷺاللہ آج ایسی کیا بات ہے کہ مسجد سے یکایک اٹھ کر یہاں جنگل میں آپ ﷺ تنہا تشریف لے آے اور جب ہم آپ کو تلاش کر تے ہوئے یہاں پہنچے تو ہم نے آپ کو سجدے میں پایا؟ تو انہوں ﷺنے فرمایا کہ یہ آیت نازل ہوئی تھی جس میں آسمانی عذاب، زمینی عذاب اور آپس میں ٹکڑ ے ٹکرے کرکے لڑانے کا ذکر تھا۔ میں ﷺنے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ میری امت کو اس سے مستثنیٰ فرمادے اللہ تعالیٰ نے میرے دو مطالبے تو مان لیئے۔ مگر تیسرا نہیں مانا فرمایا کہ وہ تو اس امت کا مقدر ہو چکا ہے؟ پھر حضور ﷺ صحابہ ؓ کرام سے ارشاد فرمایا کہ تم وعدہ کرو کہ تم آپس میں لڑوگے تو نہیں؟ سب نے یک زبان ہوکرفرمایا کہ حضور ﷺ یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن ہمارے پاس ہے آپکا اسوہ حسنہﷺ ہمارے پاس ہے اور ہم آپس لڑیں؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت قر آن تمہارے حلق سے نیچے نہیں اترے گا؟میں نے بارہا سورہ الانعام کی اس آیت نمبر 65 اور اس سے متعلقہ سارے واقعہ کو اپنی تحریروں میں بار بار دہرایا ہے۔ حال میں اس سلسلہ کے دوران کئی احادیث ایسی دیکھیں کہ جن میں دھنسانے کا ذکر ہے، صورتیں مسخ کرنے کا ذکر ہے۔ بندر اور سور بنا نے کا ذکر ہے۔ اور خصوصاً یہ حدیث کہ میں رحمت اللعالمیں ہوں اور میں تمام قسم کے مزامیر ختم کرنے کہ لیئے آیا ہوں۔ مجھے اس سے رجوع کرنا پڑا کہ اس امت پر اور عزاب نہی آئیں گے ؟پھر حال میں جب ماہ پارہ صفدر صاحبہ کی کتاب میں ایران کے شہر بام کے بارے میں مضمون پڑھا جوکہ زمین میں دھنسنے کے واقعہ پر مشتمل تھا جو کہ دوہزار تین کوواقع ہوا یہ ابھی زیادہ دور بات نہیں ہے تو مجھے میرا خیال آزادکشمیر کے تباہ کن زلزلہ کی طرف لے گیا۔ اور اپنے خیال سے رجوع کرنا پڑا۔ لیکن دھنسنے کہ عزاب کی جو وجہ حضور ﷺ نے بتائی ہے وہ قرب قیامت کی نشانی ہے کہ لوگ گانے والیوں کو ساتھ لیئے پھریں گے خود بھی لہک لہک کران کے سامنے گائیں گے ان کے گانے سنیں گے اور سنا ئیں گے؟ جو کہ اب مسلمان گناہ سمجھتے ہی نہیں ہیں؟ قرب قیامت کی احادیث میں ایک حدیث یہ بھی ہے کہ ہر گھر سے گانے کی آواز آئے گی؟ اور اس پر حضور ﷺ کارد عمل یہ تھا کہ جب گانے کی آواز آتی تھی تو سنن ابی داود میں ہے جس کے راوی حضرت نافع ؓ ہیں یہ ہے کہ حضور ﷺ اپنے کانوں کے اندر انگلی ڈال لیتے تھے؟ انہوں ؓ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کو کہ انہوں نے مزامیرکی آواز پر اپنے کانوں میں انگلی ڈالیں توا ن سے وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضور ﷺ کو کانوں میں انگلی ڈالتے دیکھا تو میں نے بھی ان کا اتباع کرنا شروع کردیا(ابو داؤد،مسند احمد)۔سنن ابن ِماجا میں ہے کہ ٖفرمایا رسول ﷺاللہ نیےکہ بعضے لوگ شراب کا نام بدل کر اس کو پیئیں گے ان کے سروں پرباجا ستار وغیرہ اورگانے والیوں سے بجوایا جا ئے گااور گوایا جا ئے گا اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں دھنسا دے گا ان کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔ ایک دوسری حدیث میں ابی دنیا اور بیہقی نے شعبی سے روایت کیا ہے فرمایا رسول ﷺ اللہ نے کہ خدا لعنت کریگا گانے والیوں پر اور اس پر جس کی خاطر گاناگایا جائے۔مسند ابی دنیا میں مروی ہے کہ فرمایا رسول ﷺاللہ نے ایک قوم اس امت سے آخری زمانے میں بندر اور خنزیر بنا ئی جا وے گی۔ صحابہ کرام (رض) نےکہا رسول ﷺ اللہ کیا وہ لوگ لااللہ اور محمد رسول اللہ کےقائل نہ ہونگے۔آپ نے فرمایا کیوں نہ ہونگے بلکہ صوم و صلاۃ حج سب کر تے ہونگے کسی نےعرض کیا اس سزا کی وجہ؟ آپ ﷺ نے فرمایاانہوں نے معازف (باجہ،ستار وغیرہ)اور گانے والیوں کا مشغلہ اختیار کیا ہوگا۔ اس سلسلہ میں بہت سی اور احادیث ہیں جنہیں طوالت کے خوف سے ہم نہیں دے رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس کا حل یہ ہی ہے کہ مسلمان پہلے کی طرح حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کو پڑھیں۔ جیسے کہ قرون ِ اولیٰ کے مسلمان پڑھتے تھے۔ اس سلسلہ ہم امام زین العابدین ؑ کا قول پیش کر کے بات ختم کرتے ہیں کہ انہوں نے فرما یا کہ ہم بچپن میں اسوہ حسنہ ﷺ اس طرح پڑھتے تھے جیسے کہ لوگ آجکل قرآن شریف پڑھتے ہیں مسلمانوں کاعالم یہ ہے کہ وہ باجوں اور گانوں کو گناہ ہی نہیں سمجھتے۔اب تو یہ عالم ہے کہ کوئی شادی ایسی نہیں ہوتی جس میں ڈھولکی نہ رکھی جا ئے۔ مخلوط طور پر گانے بجانے کا انتظام نہ ہو؟ ولیمہ ہے تو دولہا دلہن کا ناچنا ضروری ہے۔ مجھے خوف آتا ہے کہ یہ گناہ جسے اب ہم گناہ نہیں سمجھتے اتنےزیادہ نہ بڑھ جا ئیں کہ یوم محشر ہماری نیکیاں کم پڑ جا ئیں؟ اس گناہ کی جو سزائیں بیان ہو ئیں دھنسانا اور صورت مسخ کرنا ہے پہلی امتوں ں میں یہ عذاب واقع ہوچکاا ہے جوکہ انتہائی نا فرمان تھیں؟ کیا ہم بھی نا دانستہ ان کے نقش ِ قدم پر تو نہیں چل رہے ہیں ہم حضور کے اسوہ حسنہ ﷺ پر اسی طرح روشنی ڈالتے رہیں گے۔؟ آئیے ہم دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY