کیا ضروری تھا ?
فرصت ہو تو بیٹھ کر ضرور سوچنا کبھی،
تمہاری خوشیوں کی تعمیر میں میری ذات ھو مسمار ضروری تھا ?
میرے خوابوں کے نگر کیوں جلائے گئے،
ہر خوشی کی قیمت ھو اتنی دشوار ضروری تھا ?
ھم تو محبت کی زبان ہی بولتے ھیں اکثر
کیا ہر بات میں تم ہی کرو تکرار ضروری تھا ?
میرے لہجے میں نہ شکوہ نہ کوئی گلہ،نا اداسی
پھر بھی دل توڑنے کے لیے ہر پل ھو تیار ضروری تھا ?
وابسطہ رھی میری زات تیرے نام کے ساتھ
کیا میری ہستی کا یوں انکار ضروری تھا ?
ستم گر اپنے رویے پہ پشیمان نہیں ھے پر بتا ?
میرے صبر کا بھی نا کرنا اقرار کیا ضروری تھا ?
………………
تنہائی بھی ایک قسم کی غربت ہے
تنہائی بھی ایک قسم کی غربت ہے، جو انسان کا سکون، مسکراہٹ اور جینے کی خواہش تک آہستہ آہستہ کھا جاتی ہے۔ یہ غربت جیب کی نہیں بلکہ دل کی ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ ہجوم میں رہتے ہوئے بھی خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں، کیونکہ انہیں سننے والا، سمجھنے والا یا احساس بانٹنے والا کوئی نہیں ملتا۔
انسان فطرتاً ایک معاشرتی مخلوق ہے۔ اسے محبت، توجہ، گفتگو اور تعلق کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب یہ چیزیں زندگی سے کم ہونے لگتی ہیں تو دل پر خاموشی کی گرد جم جاتی ہے۔ یہی خاموشی رفتہ رفتہ اداسی، بے چینی اور مایوسی کو جنم دیتی ہے۔
لیکن یاد رکھیے، تنہائی ہمیشہ دشمن نہیں ہوتی۔ اگر اسے صحیح انداز سے گزارا جائے تو یہی تنہائی انسان کو اپنے رب سے قریب، اپنے آپ سے آشنا اور زندگی کے اصل مقصد سے واقف بھی کر دیتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم تنہائی کو مایوسی کا ذریعہ بناتے ہیں یا خود کو سنوارنے کا۔
تنہائی سے بچنے کے چند مؤثر طریقے
اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔ نماز، تلاوتِ قرآن اور دعا دل کو حقیقی سکون عطا کرتی ہیں۔
اپنے والدین، بہن بھائیوں، رشتہ داروں اور مخلص دوستوں سے رابطہ رکھیں۔
روزانہ کچھ وقت چہل قدمی، ورزش یا فطرت کے درمیان گزاریں۔
اچھی کتابیں پڑھیں اور علم حاصل کریں، کیونکہ کتابیں بہترین ساتھی ثابت ہوتی ہیں۔
کوئی نیا ہنر سیکھیں یا اپنی پسند کا مشغلہ اپنائیں۔
دوسروں کی مدد کریں، کیونکہ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا اپنے دل کو بھی روشنی دیتا ہے۔
ہر روز شکر گزاری کی عادت اپنائیں اور اپنی نعمتوں پر غور کریں۔
یاد رکھیں، تنہائی سے نکلنے کا پہلا قدم دوسروں کی طرف نہیں بلکہ اپنے اندر امید کا چراغ جلانے سے شروع ہوتا ہے۔ جب انسان اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے، اپنی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے اور لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے تو زندگی کے اندھیرے آہستہ آہستہ روشنی میں بدلنے لگتے ہیں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
انسا ن کو کیسے جینا چاھیے ?
انسان کو اس طرح جینا چاہیے کہ اگر کوئی یہ کہہ دے: “تمہیں تمہارے کیے گئے اعمال کا پھل ضرور ملے گا” تو دل مطمئن ہو جائے
زندگی ایک عارضی سفر ہے، مگر اس سفر کا ہر قدم، ہر لفظ، ہر نیت اور ہر عمل ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا جا رہا ہے۔ انسان اگر ہر صبح یہ سوچ کر اٹھے کہ آج جو کچھ میں کروں گا، کل اسی کا بدلہ مجھے ضرور ملے گا، تو اس کی زندگی خود بخود نیکی، دیانت، انصاف اور محبت کا نمونہ بن جائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کا اصل سرمایہ اس کا مال، شہرت یا طاقت نہیں، بلکہ اس کے اعمال ہیں۔ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب نہ کوئی سفارش کام آئے گی، نہ دنیاوی رتبہ، نہ دولت، بلکہ صرف اعمال کا وزن ہوگا۔ اگر کسی انسان سے یہ کہا جائے کہ “تمہیں تمہارے کیے گئے اعمال کا پھل ضرور ملے گا” اور وہ یہ سن کر گھبرانے کے بجائے مطمئن ہو جائے، تو سمجھ لیجیے کہ اس نے زندگی صحیح طریقے سے گزاری ہے۔
اسلام ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ہر عمل کا حساب ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
“پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔”
(سورۃ الزلزال: 7-8)
یہ آیات انسان کو جھنجھوڑ دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کوئی عمل ضائع نہیں ہوگا۔ اسی لیے مومن کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے، اس کی زبان سے کسی کا دل نہ دکھے، اور اس کے رویّے سے کسی پر ظلم نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اچھا انسان وہ نہیں جو صرف عبادت گزار ہو، بلکہ وہ ہے جس کے اخلاق دوسروں کے لیے راحت کا سبب ہوں۔
ہم اکثر دنیا میں دوسروں کے ساتھ وہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں جو ہم اپنے لیے کبھی پسند نہیں کرتے۔ کسی کا دل توڑ دیتے ہیں، کسی کی عزت پامال کر دیتے ہیں، کسی کے اعتماد کو دھوکا دے دیتے ہیں، اور پھر یہ سمجھتے ہیں کہ بات ختم ہو گئی۔ حالانکہ اللہ کے ہاں کوئی ظلم، کوئی آنسو اور کوئی آہ بے حساب نہیں رہتی۔
اگر انسان ہمیشہ یہ سوچے کہ کل مجھے بھی میرے اعمال کا پھل ملنا ہے، تو وہ کبھی کسی یتیم کا حق نہیں مارے گا، کسی غریب کو حقیر نہیں سمجھے گا، کسی بے بس پر ظلم نہیں کرے گا، کسی کا راز فاش نہیں کرے گا، اور نہ ہی کسی کی عزت سے کھیلے گا۔ وہ جان لے گا کہ جو تکلیف آج وہ کسی کو دے رہا ہے، کل اسی کی صورت میں اس کے سامنے بھی آ سکتی ہے۔
اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ بہترین اخلاق کا بھی نام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں۔”
(صحیح بخاری)
اس لیے نماز، روزہ اور تلاوت کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنے کردار کو بھی خوبصورت بنانا چاہیے۔ نرم گفتگو، معاف کر دینا، دوسروں کی مدد کرنا، والدین کی خدمت، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک، وعدے کی پابندی، امانت داری اور انصاف—یہ سب ایسے اعمال ہیں جو آخرت میں روشنی بنیں گے۔
یاد رکھیں، دنیا میں ہر شخص اپنے الفاظ بھول سکتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ ہر بات سن رہا ہے۔ لوگ ہمارے رویّے بھول سکتے ہیں، مگر اعمال نامہ ہر چیز محفوظ کر رہا ہے۔ اس لیے ایسی زندگی گزارنی چاہیے کہ اگر آج ہمیں یہ خبر مل جائے کہ کل ہمارے اعمال کا بدلہ ملنے والا ہے، تو ہمارے دل میں خوف کے بجائے امید پیدا ہو، کیونکہ ہم نے جہاں تک ممکن ہوا، اللہ کی رضا کے لیے لوگوں کے ساتھ بھلائی کی۔
آئیے عہد کریں کہ ہم ایسی زندگی گزاریں گے جس میں کسی کا حق نہ ماریں، کسی کا دل نہ دکھائیں، کسی کی عزت نہ اچھالیں، اور ہر قدم یہ سوچ کر اٹھائیں کہ ایک دن ہمیں اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہے۔
وہی انسان حقیقت میں کامیاب ہے جسے اپنے اعمال کے انجام سے خوف بھی ہو اور اللہ کی رحمت سے امید بھی۔ یہی ایمان کی خوبصورتی اور ایک مومن کی پہچان ہے۔














بہت شکریہ
ماشاء اللہ طاھرہ جی بہت اچھا لکھا ہے اللہ کرۓ زور قلم اور زیادہ
????
بہت بہت اور بہت شکریہ صدف جی ، احسانمند یہوںا س فیڈ بیک کے لیے
ماشاء اللہ طاھرہ جی بہت اچھا لکھا ہے اللہ کرۓ زور قلم اور زیادہ
بہت اچھا آرٹیکل لکھا آپ نے واقعی ہم لوگ بہت زیادہ نیگیٹو باتوں کی طرف دھیان دیتے ہیں کاش ہم لوگ خلوص دل سے اپنی وطن کی بھلائی کا سوچیں اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو جو نعمتیں عطاء فرمائی ہیں ان کا استعمال کرکے اپنی آئیندہ آنے والے نسلوں کے لئے ایک ایسا پاکستان چھوڑ کر جائیں جو اپنے ملک میں رہنا پسند کریں اور اپنے بڑوں پر فخر کریں آمین
آمین ۔ بہت شکریہ مقصودہ جی
بہت بہت اچھا ….
مثبت سوچ سے مزین ….
اللہ کرے ہم سب پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا باعث بنیں…
بہت شکریہ راحیلہ جی۔ فیڈ بیک کے لیے بہت شکریہ
بہت بہت اچھا آرٹیکل ہے
مثبت سوچ سے مزین ….
اللہ کرے ہم سب پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا باعث بنیں…
بہت شکریہ مقصودہ جی۔ آپ کی فیڈ بیک سے بہت خوشی ہوئی