محبِّ وطن پاکستانی اسے ضرور پڑھیں۔طاہرہ مسعود

10
240

“پاکستان اور اس کے لا محدود وسائل”؟ یہ عنوان ہم میں سے بیشتر لوگوں کو عجیب لگے گا ہے نا؟ کیونکہ ہم اکثر پاکستان کے متعلق ایسا نہیں سنتے۔ ہم زیادہ تر “ہال پاریا” یعنی مصیبتوں اور کمیوں کا رونا دھونا ہی سنتے ہیں۔؟؟
آئیے آج آپ کو ایسے پاکستان سے ملواتے ہیں جس کےمتعلق ہمیں کم ہی بتایا جاتا ہے۔
پاکستان تو حقیقت میں ایک سونے کی چڑیا ، ایک الٰہ دین کا چراغ ہے جس سے آبتک حکمرانوں نے اپنے کھاتے بھرنے اوراپنی نسلوں تک دولت کے انبار اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ لیکن جسے دنیا کے سامنے مٹی یا بے کار لوہے کاثابت کیا جاتا ہے۔
لیکن قارئین کرام جب کچھ نہایت خوش کن اور امیدافزاء ھقائو جب سامنے آیا تو سوچا کو بحال کرنے والی ایک نئی چیز سامنےآئی تو دل بے حد و حساب خوش ہوا اور تحدیث نعمت کے طور پر اپنے عزیز پاکستانی بہن بھائیوں سےاس کا ذکر کرنا بہت ضروری لگا۔ مزید دیر کیے بغیر تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ نہایت باوثوق ذرائع کے پاکستان میں اربوں کھربوں ڈالرز معدنیی ذخائر موجوفد ہیں کہ جو نہ صرف ا سکے سارے دلدّر دور کرسکتے ہیں بلکہ اس کو خوشحال اوقام میں سر فہرست لا سکتے ہیں۔
ان معدنیات کے ذخائر میں پاکستان کی رینکنگ پہلے دس بڑے ممالک میں ہوتی ہے۔ان اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں دنیا میں کوئلے کے چوتھے بڑ ے ذخائر ہیں جن کی مالیت پچیس کھرب ڈالرز بتائی جاتی ہے۔ جو کہ باقاعدہ ریکارڈ پر ہیں۔ سونے اور تانبے کے ذخائر میں پاکستان دوسرا بڑا ملک ہے۔ جن کی مالیت کا اندازہ دو ہزار پانچ سو ارب ڈالرز ہے۔ قیمتی پتھروں میں سنگ مر مر میں پاکستان آ ٹھویں نمبر پہ جبکہ پکھراج جسے اوپل بھی کہا جاتا ہے پانچویں نمبر پہ ہے۔ ایکسپورٹ میں پاکستان فٹ بال بنانے والا چند سال پہلے نمبر ایک پر تھا اب دوسرے نمبر پہ ہے۔ اب پہلے نمبر پہ چائنا ہے۔
کپڑے کی صنعت میں پاکستان آٹھویں نمبر پر جبکہ کپاس کی پیدا وار میں چوتھے نمبر پہ ہے۔ اسی طرح کاشتکاری میں پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے۔ گندم پیدا کرنے میں ہمارا پیارا وطن چھٹے نمبر پہ ہے۔ گنے کی کاشت میں پانچویں نمبر پہ اور پھلوں میں کنوں کی کاشت میں اول نمبر پہ اور کھجوروں کی کاشت میں پاکستان چوتھے نمبر پہ ہے۔ اور یہاں کی کھجور اتنی اعلیٰ ہے کہ عرب بادشاہ یہاں سے بیج نہیں درختوں کےدرخت اکھاڑ کر لے گئے ہیں اور کھجوروں کی کاشت میں اب باقاعدہ پاکستان کے مقابل پر آ گئے ہیں۔
خشک میوہ جات میں پاکستان بادام کی پیدا وارمیں ساتویں نمبر پہ اور پستوں میں دسویں نمبر پہ ہے۔ اسی طرح سبزیوں میں پیاز کی پیدا وار میں دوسرا بڑا ملک ہے اور انڈیا کو بھی برآمد کرتا ہے۔
قا رئین آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ برقی توانائی کا بحران دور کرنے کے لیے پاکستان نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ سرے سے پاکستان کو یہ مسئلہ ہی نہیں ہے۔ مثلا صرف شمسی توانائی سے پاسکتان بیس لاکھ میگا واٹس بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ اور خدا کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو نہایت مفید موسم عطا فرما رکھے ہیں۔ جن میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہوا کی ہے۔ قرآن پاک میں ہوا کا ذکر ہے جس میں معاشی منفعت ہے۔ پاکستان ہوائی چکی یعنی ونڈ مل سے ساڑھے تین لاکھ میگا واٹس بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ مکران کے ساحل اس کے لیے بہت زرخیز ہیں۔
پھر تیسرے نمبر پہ سب سے سستا ذریعہ یعنی ہائیڈن انرجی ہے۔ جس کو برو ئے کار لاتے ہوئے ایک لاکھ میگا و اٹس بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ جبکہ ضرورت صرف بیس ہزار میگا واٹس کی ہے۔ اس کے مطابق صارفین کو پچاس سے ساٹھ پیسے فی یونٹ بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔ قارئین یہ تو یہ وہ اعداد و شمار تھے جو ہم نے سنے اور من وعن آ پ کی گوش گزار کردیے۔
مندرجہ بالا تفاصیل کی صداقت پہ کوئی شبہ نہیں کیونکہ یہ ایک نہایت محب وطن پاکستانی نے میڈیا پہ آ کر ببانگ دہل ہم سب کو بتائے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک وقت تھا کہ نواب آف بہالپور عربو ں کو زکوٰۃ بھیجتے تھے۔ اور یہ کہ جس قدر سنگ مر مر اور دوسرے وسائل پاکستان میں موجود ہیں اگر ان کو صحیح طور پہ استعمال کیا جائے تو پاکستان میں روزگار کے اتنے مواقع فراہم ہو سکتے ہیں کہ ہمیں باہر سے لوگوں کو ملازم رکھنا پڑ جائے۔ اور لوگ پاکستان آنے کے لیے ویزے اور راہیں تلاش کریں۔ اللہ کرے کہ ایسا ہماری زندگیوں میں ہی ہو سکے۔آمین۔
یہ سب جان کر ہمارے یا کسی بھی پاکستانی کے غم و غصے اور ناراضگی کا اندازاہ تو ہو ہی سکتا ہے۔ لیکن ساتھ میں بے بسی کی آگہی بھی ہے۔ سوائے دعا کے کیا کر سکتے ہیں ہم؟ اب ہمیں تشویش ہے تو صرف یہ کہ اس کے بعد بھی ہمارا ملک غریب ممالک کی صف میں کیوںکھڑا ہے۔ اور ہماری عوام سانس سانس، بوند بوند خوشحالی کے لیے کیوں ترستی ہے؟ آج کے میڈیا کا یہ فائدہ تو ہے کہ کم از کم ہمیں یہ اندازہ تو ہوا کہ ہمارے حکمران کیسے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں زیادتی کرنےا ور سہنے دونوں سے بچائے۔ آمین
اور یہ بھی وسوسہ ہے کہ ان معدنی قدرتی وسائل کا حشر ہمارے لالچی حکمرانوں نے کیا کیا ہوگا؟ کیا یہ ان کی نظر سے اوجھل رہ سکے ہوں گے؟ یا بچ بھی سکے؟
کیا یہی وجہ نہیں کہ لوگ ان وسائل تک پہنچنے کے لیے سیاست کی کرسی کے لیے اپنی جان تک لڑا دیتے ہیں۔ تا کہ اس دولت سے جتنی لوٹ مار کر کے اپنی نسلوں کو منتقل کر سکتے ہوں کر لیں۔ اور کیا ا سی وجہ سے تو وہاں مذہبی لسانی فسادات نہیں کروائے جاتے کہ لوگوں کو اپنی ہی پڑی رہے؟ اور اس دھاندلی اور لوٹ مار کی طرف کوئی نہ دیکھے۔ اور یہ کہ شاید اسی لیے غیر ملکی طاقتیں اس ملک کے گرد گھیرا تنگ رکھتی ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کمی نہیں۔اللہ کرے کہ کوئی ایسا حکمران آئے جو عوام کا حق عوام کو دے۔ اور پاکستان کو دلہن کی طرح سجا دے۔آمین
طاہرہ مسعود کینیڈا

SHARE

10 COMMENTS

  1. ماشاء اللہ طاھرہ جی بہت اچھا لکھا ہے اللہ کرۓ زور قلم اور زیادہ
    👍🏻👍🏻

  2. بہت اچھا آرٹیکل لکھا آپ نے واقعی ہم لوگ بہت زیادہ نیگیٹو باتوں کی طرف دھیان دیتے ہیں کاش ہم لوگ خلوص دل سے اپنی وطن کی بھلائی کا سوچیں اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو جو نعمتیں عطاء فرمائی ہیں ان کا استعمال کرکے اپنی آئیندہ آنے والے نسلوں کے لئے ایک ایسا پاکستان چھوڑ کر جائیں جو اپنے ملک میں رہنا پسند کریں اور اپنے بڑوں پر فخر کریں آمین

  3. بہت بہت اچھا ….
    مثبت سوچ سے مزین ….
    اللہ کرے ہم سب پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا باعث بنیں…

  4. بہت بہت اچھا آرٹیکل ہے
    مثبت سوچ سے مزین ….
    اللہ کرے ہم سب پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا باعث بنیں…

LEAVE A REPLY