کوئی نئی بات سُناؤ ۔۔عالم آرا

0
137

ہم نے اپنی ایک دوست کو کلثوم صاحبہ کی جیت کے بارے میں بتایا کہنے لگیں کوئی نئی بات سُناؤ ؟؟؟ ہمیں لگا واقئی یہ تو ہونا ہی تھا ۔لیکن سب سے بڑی بات ہے کہ عدلیہ کتنا صبر اور کرے گی اور انصاف کتنا اور نرمی دکھائیگا ۔جس طرح ان دنوں میں اور اب بھی عدل پر اور فیصلے پر اُنگلیاں اُٹھائی گئیں وہ بھی ایک کارنامہ ہی ہے کیونکہ کسی عام ملزم کی مجال نہیں ہو سکتی کہ وہ عدلیہ اور اُس کے فیصلوں پر یوں اُنگشت نمائی کرے یا اس طرح تنقید کے تیر برسائے ۔
الیکشن کا نتیجہ یہ ہی آنا تھا مگر ووٹوں کی کمی اس بات کی غماز ہے کہ تمام تر وسائل اور حربے استعمال کرنے کے باوجود چونکا دہینے والا نتیجہ نہیں اآیا اس نتیجنے سے کوئی بھی اپنی جیت پر خوشیاں نہیں منا سکتا بلا شک کلثوم نواز صآحبہ جیت گئیں مگر آگے کیا ہونا ہے اگر اُس پر نظر ڈالیں تو حُدیبیہ کا کیس اگر کُھل گیا تو ؟؟ شہباز صاحب کی بھی نیندیں حرام ہیں ۔کیونکہ جب کرپشن گلے تک آجاتی ہے تو سانس لینا مشکل ہی نہیں کبھی کبھی نا ممکن بھی ہو جاتا ہے ۔ہماری تو ایک ہی دعا ہے کہ ہمارے ملک سے یہ نحوست کسی صورت ختم ہو تاکہ ہمارے عوام خوشحال ہوں ۔اپنے ملک کا پیسہ اپنے ملک میں لگے ۔دوسروں کے ملک میں جاکر ہماری آنےوالی نسلوں کی تنگدستی کا سلسلہ نہ بنے ۔
ہمیں بڑی حیرت ہوتی ہے جب چھوٹی چھوٹی کامیابیاں بھی جمہوریت کی جیت اور اپنی کامیابی بنا دی جاتی ہیں ایک حلقے کے لوگ اگر بیس بائس کروڑ پر بھاری ہیں تو ہم دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ ہمیں عقل دے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مقدمے جلدی نمٹائے جائیں اور عوام کو اس مشکل اور کشمکش سے آزاد کیا جائے جو نہ صرف ہمارے کاموں پر اثر انداز ہو رہے ہیں بلکہ عجیب سی بے چینی اور بے اعتباری بھی پھیل رہی ہے ۔اداروں کوبھی کٹہروں میں لایا جائے جو کسی کی بھی معاونت کرتے یا بے جا سہولت فراہم کرتے ہیں اُنہیں بھی جواب دِہ کیا جانا چاہئے تاکہ ہمارے ادروں سے اقرباء پروری اور غلامی نکل سکے ۔جب تک اداروں سے یہ سہارے دینے والے ختم نہیں کئے جائینگے ہم نہیں سمجھتے کہ کوئی بھی کام صاف اور شفاف ہو سکے گا ۔ ضرورت اس اَمَر کی ہے کہ ایک دفعہ تمام ہی اداروں اور اُن کے سر براہوں کو تنبیہ کی جائے کہ اگر کوئی بھی بات ضوابط کے خلاف ہوئی تو قانونی چارہ جائی کی جائیگی ۔مگر ہم حیران ہیں کہ کس دَھڑلے سے ہمارے ملک کے اہم ادارے کہتے ہیں کہ ہم تو وہ ہی کرینگے جو ہمارا دل چاہے گا ۔ہمیں لگتا ہے سب سے بڑا سُقَم ہی یہ ہے کہ ہمارے ادارے جواب دہ نہیں ہیں اگر ایک دفعہ کوئی ادارہ چھری تلے لے آیا جائے تو سب سیدھے ہو جائینگے مگر پچھلے حکمرانوں کا تسلُط اس قدر زیادہ ہے کہ شاید صفائی کرنے میں بہت وقت لگے گا ۔اگر ان سے نجات پا لی تو ؟؟؟
یہ بھی ایک تاریخ ہو گی کہ سابقہ وزیرِ اعظم دو دفعہ نا اہل ہوئے مگر شاید ایک تیسرا موقعہ بھی ملے تو وہ ضرور استعمال کرینگے ۔کیونکہ اقتدار سے محبت اس قدر ہے کہ انہوں نے نہ صرف خود کو بلکہ پورے خاندان کو داؤ پر لگا دیا ہے لیکن کہتے ہیں نئے وزیرِ اعظم کہ ہمارے دل کے وزیرِ اعظم تو وہ ہی ہیں ۔یہ عجیب بات ہے کہ ملک کے لئے کوئی نہیں سوچ رہا بلکہ ہر کوئی زیادہ سے زیادہ اپنی وفاداری دکھا رہا ہے ایک خاندان کو کیوں ؟؟؟یہ ہماری سمجھ سے باہر ہی نہیں بہت باہر ہے ۔
اس الیکشن نے پی پی پی کی بھی پول کھول دی کہ وہ کہاں کھڑی ہے مگر اس کی کوئی تاویل ضرور پیش کی جائیگی پی پی پی کی طرف سے ۔ہمیں لگتا ہے کہ اگر بے نظیر صاحبہ کیا مقدمہ صحیح انداز میں لڑا جائے تو یہاں بھی بہت سے پردہ نشینوں کے نام سامنے آجائینگے مگر بات وہ ہی ہے کہ کرے گا کون؟؟ ہمیں یہاں بلاول سے شکایت ہے کہ بیٹے تو ماں کے قاتلوں کا پتہ لگائے بغیر چین سے بیٹھ ہی نہیں سکتے یہ کیسے خاموش ہیں اس بات پر ۔اپنی حکومت کے پانچ سال گزارے اور اب بھی پانچ سال ہونے کو آرہے ہیں کیا رکاوٹیں حائل ہیں کاش بتائیں ۔ہم اس نئے خون سے یہ امید کرتے ہیں کہ یہ اقتدار نہیں پاکستان کے بھلے کے لئے آگے آئینگے اور اس فرسودہ اور گھسی پٹی سیاست کو ایک نیا رنگ دے کر سچائی اور ایمانداری کا بول بالا کرینگے ۔ حق بات کرنا اور اُس پر قائم رہنا ہی ہمارا وطیرہ ہونا چاہئے جھوٹ اور دروغ اور بے ایمانی کا خاتمہ بھی اس نئی نسل ہی کو کرنا ہے کہ یہ پرانے گُر گے تو صرف اور صرف پیسے کے رسیا اور اپنی انَاَ کے غلام ہیں انہوں نے نہ عوام کے بارے میں سوچا اور کچھ کیا، نہ ہی ملک کے بارے میں اب ہمیں ایسے لوگوں کو بے نقاب ضرور کرنا چاہئے ۔ جو بھی مجرم ہیں ہماری قوم اور ملک کے ۔انہیں ضرور سامنے لایا جانا چاہئے تاکہ ہم ترقی کی راہوں پر گامذن ہو سکیں ۔
ہمیں کسی سے کوئی مخاصمت ہے نہ ہم کسی بھی پاکستانی کے خلاف ہیں ہم خلاف ہیں اس جھوٹ اور دغا کے جو یہ حکمران اور بڑے ہمارے ساتھ کرتے ہیں ۔یہ جھولیاں بھر بھر کر ملک کی دولت باہر لے جاتے اور ملک کو کنگال کرنے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں ۔ہماری خواہش ہے کہ اب کوئی بھی عوام کی قسمت سے نہ کھیل سکے بلکہ ہر وہ شخص پکڑا جائے جس نے دھوکہ دیا یا ہمیں نقصان پہنچایا ۔
ہم جس دور کو بھی دیکھیں ایسا لگتا ہے کہ ہر دور میں یہ ہی کچھ ہوتا رہا اور ہم کمزور سے کمزور ہو گئے کیونکہ انصاف نہیں ملا ۔مقدمے نہیں کھلے ۔ہر حادثے کو لپیٹ دیا گیا ۔ہر مقدمے کو سمیٹ دیا گیا ۔ہر کرپشن کو دبا دیا گیا ۔یہ ہی ملزموں کی طاقت بنا اگر ہم نے پہلے ہی کَڑا محاسبہ کیا ہوتا تو شاید ہم سُر خرو ہو گئے ہوتے اور ملک اس نا پاک کرپشن سے بچ گیا ہوتا ۔موجودہ کُرسی نشین بھی ایل این جی کے گھیرے میں ہیں لیکن کب تک محفوظ رکھے جائینگے نہیں پتہ ۔بس یہ ہی المیہ ہے اور اسی سے نکلنے کی ضرورت ہے ۔کاش ہم اپنا اچھا برا سمجھ سکیں اور ہمت کر سکیں ان چوروں کے سامنے کھڑے ہونے کی اور انہیں پکڑنے کی ۔اور اگر ان سب پر صرف الزام ہیں تو پھر الزام لگانے والوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کرنا چاہئے تاکہ کوئی بھی جھوٹا الزام لگاتے ہوئے سو بار سوچے ۔
اللہ میرے ملک کا محافظ ہو آمین

SHARE

LEAVE A REPLY