کسی بھی معاشرے کی بقاء فقط عدل و انصاف میں مضمر ھے جو معاشرہ عدل و انصاف سے دور ھوتا جاتا ھے معذرت کیساتھ حقیقت میں وہ معاشرہ اجتماعی طور پر انتقال کر چکا ھوتا ھے ایک بے حس معاشرے کی حالت ایک اس جسم جیسی ھوجاتی ھے جس کو ڈکٹراز آپریشن کیلیے سن کر نیکا ٹیکہ لگا دیتے ہیں وہ سن جسم احساسات کی طاقت کھو چکا ھوتا ھے کہ اسکا کونسا بیکار ھو چکا ھے یعنی احساسات کا یک لخت ختم ھوجانا کبھی 4 آنے چینی کے دام بڑھ جاتے تو قیامت آجاتی تھی اور اب اس سں ٹیکے کے مہلک اثرات معاشرے میں کتنے گہرے مرتب ھو چکے ہیں کہ لوگ 30 یا 40 روپے کی ایک لحظہ میں مہنگائی ھونے کے باوجود حواس باختہ جیسے احساس کی صلاحیت کھو چکی ھو۔۔۔
بہرحال معذرت کیساتھ پاکستان کا عدالتی نظام کمرشل بنیادوں پر کام کرتا ھے ایک مشہور وکیل صاحب کیس جیتنے کی ضمانت ھوتے ہیں کیونکہ وکیل صاحب کا ایک حلقہ احباب ھوتا ھے اس میں طاقتور سیاسی لوگ اور معاشرے کے دوسرے لوگ جو مالی و معاشی طور پر بہت اثر و رسوخ رکھتے ھوں پاکستان کا عدالتی نظام انکے ایک فون کی مار ھے آپ بجلی ٹیلیفون کسی محکمے میں فون ملائیے تو دو رویہ کا تجربہ سے گذرینگے کہ آپ شہری آبادی سے ھیں یا دیہی آبادی سے تعلق رکھتے ہیں لوڈ شیڈنگ صحت کی سہولیات سب کی سب شہری آبادیوں کا مقدر ھیں اور دیہات کی قسمت میں بس وعدے ھوتے ھیں جو ھر نئے الیکشن میں قرآن پر حلف دیکر دیے جاتے ہیں۔۔۔ لہذا اس موجودہ پاکستان میں عدل و انصاف کا استحصال ھوتا رھیگا اسی لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دنیا میں عدل و انصاف کی فہرست میں 134 نمبر جو صرف ھمسایہ افغانستان سے اوپر ھے یہ ھمارا عدل و انصاف ھی جسکی وجہ سے ایک قیدی اپنی ایک سال کی قید کی پوری سزا بھگتنے کے بعد صرف 3000 یا 4000 جرمانہ نہ دینے کیوجہ سے اپنی قید میں مزید دو ماہ کا اضافہ بخوشی قبول کر لیتا ھے
آخری بات جو آنکھوں دیکھا حال ھے کہ پچھلے سال سردی کا موسم تھا بخشی تھانہ میں قیدی اپنی قسمتوں کے پروانے لینے کے لیے صبح صبح قیدیوں کے وینز میں لاے جاتے ہیں اور اچانک معزز جج صاحبان کا دوپہر کے کھانے کا وقت ھو گیا دیگر محترم جج صاحبان نے دھوپ خوب انجوائے کی پھر کھانا کھا کر پھل نوش فرماے گرم چاے سے طبیعت سراب کی اور اس سارے اھتمام میں عصر کا وقت آگیا تھا تمام قیدی انہی ہتھکڑیوں میں جج صاحبان کی کھانے کی نشت برخاست کے منتظر رھے لکھنے کو اتنی دکھ بھری سچی داستانیں ھیں کہ ھر قاری افسردہ ھو جائیگا آپکا بہت شکریہ













