سنا تھا اہل ادب حساس ہوتے ہیں مگر ؟ ڈاکٹر نگہت نسیم

2
2081

بچے یہ پوچھتے ہیں خلاوں میں گھور کر
کل تک یہاں تھی آج کہاں کھو گئی ہے ماں

پاکستان کے شہر اسلام آباد کے پاک چائینہ سینٹر کے بارہ فٹ اونچے اسٹیج سے نیچے گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والی جواں سال شاعرہ “ فرزانہ ناز“ کو لحد میں اتارے کتنے ہفتے ، کتنے دن ہو گئے شاید اس کی کوئی اہمیت نہیں ، پھر یہ بحث بھی عبث ہے کہ فرزانہ ناز شہید ہوئیں ، ہلاک ہوئیں یا جاں بحق ہوئیں۔ جو کچھ بھی ہوا اور جب بھی ہوا اصل مسلہ یہ ہے کہ دو معصوم بچوں کی ماں ایک محبت کرنے والے شوہر کی بیوی اور انتظار کرنے والے والدین کی بیٹی جو ایک تخلیقکار سخن گو اور شاعرہ تھی اور جسے ابھی کامیابی کی کتنی ہی منزلیں طے کرنی تھیں کہ اس نے سفر کے آغاز میں ہی آخری منزل طے کر لی اور خالق لوح و قلم کے حضور پہنچ گئی ۔ میں اس ناگہانی موت سے اب تک اس صورتحال اور فرزانہ ناز کے بارے میں لکھنے کی کوشش کرتی رہی لیکن لفظ گرفت میں آنے سے گریز کرتے رہے اور قلم جیسے پتھر کا ہو گیا۔

میں فرزانہ ناز سے کبھی نہیں ملی اور سچ تو یہ ہے کہ میں نے اس ناگہانی حادثے سے قبل فرزانہ ناز کا نام بھی نہیں سنا تھا اور نا ہی اس کے کسی شعر سے شناسا تھی پر نجانے کیوں یہ دکھ مجھے اپنا دکھ لگتا ہے ۔ یہ جدائی کسی ماں جائی کی جدائی لگتی ہے ، اور اس جواں سال موت پر رونا تو چاہتی ہوں لیکن آنکھیں خشک ہیں ۔ سچ تو ہے کہ درد جب حد سے گزر جائے تو درد کی شدت محسوس ہی نہیں ہوتی ۔

میں اسلام آباد سے ہزاروں میل دور سڈنی میں بیٹھی ہوئی گزشتہ کئی دن سے سوشل میڈیا خاص طور فیس بک پر اس سلسلے کی احتجاجی تحریک چند گنے چنے لوگوں کے کالم اور کچھ اہل درد ہمت والے لوگوں کے تبصرے پڑھ اور اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کر رہی ہوں ۔ لیکن کتنے ہی نام نہاد اہل قلم کی یہ بات سینے کو چیر دیتی ہے کہ “ تم اتنی دور بیٹھی آخر کیوں اس قدر پریشان ہو ، ایسے حادثات تو روزانہ ہوتے رہتے ہیں ، جانے والا تو جا چکا اس کے لئے بہترین زاد راہ مغفرت کی دعا ہے وہ کرو “ ۔۔ یہ ہے وہ بے حسی جو وطن عزیز میں اب “قومی احساس “ بن چکا ہے جو مرگیا وہ نا تو ہمارا تھا اور نا ہی ہم میں سے تھا ۔ جب سڑکوں پر مسلسل خون بہتا رہے ، جب دربار والے اہل قلم اور اہل دانش کو خریدتے رہیں ، جب ضمیر بکتے رہیں ، جب دین فروخت ہوتے رہیں تو پھر بے حسی کی ایسی ہی فصل کاشت ہوتی ہے ۔

یوں تو مجھے ہر جنس ہر نسل کے فرد پر حیرت ہے پر میں حیران ہوں اپنے قلم قبیلے کے اکثر اندھے ، بہرے ، گونگے قلمکاروں پر اور خاص طور پر اپنے ہی صنف کی ان خواتین پر جوخود بھی ایک ماں ، ایک بیٹی اور ایک بہن اور بہت سی صورتوں میں ایک بیوی بھی ہیں ۔ اس بحث کو اب بند ہو جاناچاہیئے کہ فرزانہ ناز بارہ فٹ اسٹیج سے کیسے گریں ؟ ، سوچنے کی بات یہ ہے کہ منتظمین کے بقول اسی طرح کے پانچ حادثات پہلے بھی ہو چکے ہیں اور پھر ایک سرکاری ادبی ادارے کے سربراہ کے بقول اس کی موت ایسے ہی لکھی تھی وہ مر گئی ۔۔ پر اس بات کا جواب کون دے گا اور کون لے گا کہ کسی بھی ہال میں کسی حفاطتی اقدامات کے بغیر بارہ فٹ اونچے اسٹیج کو بنانے کا مقصد کیا ہے ؟ تقاریب کے منتظمین حادثے کی صورت میں فوری طبی امداد کے کیا انتظامات کرتے ہیں ؟ اور ایک انسان کے طور پر دوسرے انسان کی جان بچانے کے لئے کیا اقدامات کیئے جاتے ہیں ؟۔ یہ سب وہ سوالات ہیں جن کا جواب فرزانہ ناز کی موت کے تناظر میں اہل قلم کو بھی ان سرکاری ادبی اداروں کے سربراہوں سے لینا ہے ۔ اور کاش وطن عزیز کی عدلیہ واقعی کسی اسلامی ملک کی عدلیہ ہوتی تو سائل کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی بجائے عدل خود سائل کے دروازے تک پہنچتا۔ مگر باب العلم مولا علی کے بقول “ روئے زمین پر وہ قومیں اپنی زندگی میں ہی نیست و نابود ہو جاتی ہیں جہاں اشرافیہ کے لئے الگ اور عوام کے لئے الگ قوانین ہوں “ ۔

جی تو چاہتا ہے کہ اہل قلم کی اس بے حسی پر آج اس منافق ، مفا دپرست اور انسان کش قلم قبیلے سے علیحدگی کا اعلان کر دوں لیکن اس لیئے نہیں کرونگی کہ کل پھر کوئی ماں ، کوئی بیٹی ، کوئی بیوی ، کوئی بھائی ایسے ہی سانحے کا شکار ہو گا توحق کی خاطر سچ بولنے والی وہ چند آوازیں جو حکمرانوں کے ایوانوں پر دستک دے کر لوٹ آتی ہیں کم ہو جائیں گی ۔ میں اپنی آواز ان آوازوں میں شامل رکھنا چاہتی ہوں اس وقت تک جب تک میرے دل کی دھڑکن کی سرگم جاری ہے ۔ وہ اور ہونگے جنہیں کسی سرکاری ، درباری اعزاز کی طمع یا لالچ ہوگی ۔ میرے جیسے لوگ تواپنے شہر کے کھوکھلے مشاعروں میں برسوں برسوں نہیں جاتے ۔ بس یقین کا یہ وہ چراغ ہے جس نے باطن کو روشن رکھا ہوا ہے۔ اور یہی وہ ہمت ہے جس نے قلم کی نوک سے لکھے ہوئے ایک ایک لفظ کو یقین کی طاقت دی ہوئی ہے ۔ اور اسی ہمت اور طاقت کے بل بوتے پر میں طاقت سے چیخ کریہ سوال کرتی ہوں کسی بھی ادبی سرکاری سربراہ کا نام لیئے بغیر کوئی مجھے یہ بتا سکے گا کہ اتنے دن گزر جانے کے باوجود بھی کوئی حکومت کاوزیر ، کوئی مشیر، کوئی سرکاری اہلکار ، کوئی ادبی ادارے کا سربراہ یا کوئی شاعروں ادیبوں کاوفد فرزانہ ناز کے گھر ماں کے منتظر دو بچوں سے ،زندگی کی رفیق کھو دینے والے شوہر سے اور خالی آنکھوں سے راہ تکنے والی ماں سے اس کی بیٹی کی لفظی تعزیت کے لئے بھی کوئی گیا ہے ؟ ۔ کم از کم میں نے ایسی کوئی خبر نادیکھی ہے اور نا سنی ہے ۔

اب تو حد یہ ہو چکی کہ کسی سے شکایت کریں تو اس کاجواب یہ ہے “ میں تو پنجابی ادارے کی سربراہ ہوں اور پنجابی زبان کے لئے کام کرتی ہوں “ ، دوسری جانب سے ایک آواز یہ آتی ہے کہ “ نگہت تم سکون سے سڈنی میں بیٹھی پاکستان کی الجھنوں میں خود کو کیوں الجھاتی ہو “ ۔۔ یہی وہ بے حسی ہے جس کی فصل ہم قومی سطح پر کاٹ رہے ہیں ۔ سڑکوں پر بہتے خون اور تڑپتی لاشوں کو ڈراموں اور فلموں کے سین کی طرح دکھایا جاتا ہے ۔ اور ہم اس نبی پاک کی امت کے افراد ہونے کے دعویدار ہیں جو کافروں کے مرنے پر بھی تعزیت اور دعا کرتے تھے ۔ شاعر ہونا، تخلیقکار ہونا اور قلم سے لفظوں کا نور بکھیرنا یہ خدائے کبیر کے اوصاف ہیں جو اس نے اپنے منتخب لوگوں کوعطا کیئے لیکن اپنے گریبانوں میں جھانکئے ، اپنے خفتہ ضمیروں کواپنے ہی پاؤں کی ٹھوکر سے جگایئے اور اپنی ماں کی قسم کھایئے کہ آج ایک بار میرے کہنے پر اپنے ضمیر کو اپنے ہی عدالت میں کھڑا کر کے یہ سوال پوچھیئے “ کیا آپ ان خدائی اوصاف کے حامل افراد میں شامل ہونے کے قابل ہیں ؟؟“

میں نے اپنی اس تحریر میں کسی بھی فرد کا نام اس لیئے نہیں لکھا کہ مجھے نہ کوئی ان کا خوف ہے یا ان سے کسی ایوارڈ و انعام کی لالچ ہے ۔ صرف اپنے اس فلسفہ زندگی کے مطابق نہیں لکھا کہ ظالم اور جابر کا نام کوئی بھی ہو ، وہ عورت ہو یا مرد ، اس کا کردار ایک ہی ہوتا ہے ۔ آج ہمیں دوسرے کی آنکھ کا شہتیر تلاش کرنے کی بجائے اپنی آنکھ کے تنکے کو دیکھنا ہے ۔

فرزانہ ناز تم نے اپنی جان دے کر کم از کم کچھ قلمکاروں کا اتنا فائدہ تو کر دیا کہ وہ خوف سے جن ادبی اور قلمی جاگیرداروں کا نام نہیں لیتے تھے اب مختلف ڈھنگ سے کھل کر ان کے نام لے رہے ہیں ۔ مگر قران کے الفاظ میں جن قلوب پر قفل لگا دیا جائے ان کی سماعتیں ہواؤں میں آویزاں ہو جاتی ہیں سو ان جاگیرداروں کو اب بھی اپنے نام سنائی نہیں دے رہے ۔ فرزانہ ناز میرے پاس چند آنسو ، کچھ اشعار اور ایک باغی آواز کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے جو آج تمہیں نذرکر سکوں ، مگر میرا تم سے یہ وعدہ رہا جب کبھی پاکستان آئی تمہاری قبر پر ضرور آؤنگی ۔۔ جو اگر خزاں کا موسم ہوا تب بھی تمہارے لئے گلاب کے پھول لاؤنگی ۔۔ گلاب جو محبت اور انسانیت کی علامت ہیں ۔۔ یہی میرا تم سے رشتہ ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر نگہت نسیم#

frazana nn 1

SHARE

2 COMMENTS

  1. ویسے باجی سچ ہی تو کہ رہے ہیں لوگ کہ آپ اپنی آسان زندگی کو کیوں مُشکل بنا رہی ہیں ؟ اور میرے جیسے چند فضول لوگوں کی آنکھوں میں آنسو کیوں لاتیں ہیں ایسی تحریر لکھ کر جو براہ راست دل پر لگتی ہے ۔ ۔۔
    میں نے کچھ دن پہلے ایک اسٹیٹس لکھا تھا کہ آج کل کے ادیب و شاعر(چند ایک کو چھوڑ کہ ) امیر کبیر کیوں ہوتے ہیں ، اور سب سے بڑا سوال ہے کہ ہمارا آج کا لکھاری وی وی آئی پی کیوں بن گیا ہے ؟ پہلے کا ادیب عوام میں رہتا تھا عوام کی بات کرتا تھا ، کتنے ہی درباری قصیدے ہیں جن میں بادشاہ کے آگے عوام کی بات کی گئی اور بادشاہ کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا گیا
    آج کا ادیب و شاعر ، زلف کی چھاوٗں سے باہر نہیں آتا ، محبوب نہیں محبوبہ کے لیے ہی سب لکھتا ہے ۔۔ ۔ ایک ایک جملہ کسی بھی نثر کا کاٹ کہ رکھ دینا چاہیے ، مگر آج ۔ ۔ ۔
    فرزانہ نے ایسے ہی جانا تھا سو وہ چلی گئی ، مگر کتنوں کا ضمیر جھنجھوڑ گئی ۔ ۔ ؟ آپ نے ہزاروں میل دور بیٹھ کہ اسکا درد اسکی فیملی کا دُکھ محسوس کیا ، اور وہ جو چند قدم کے فاصلے پر موجود ہیں انہیں اثر ہی نہیں ہو رہا ۔ ۔ ۔
    میں ایک بے حس معاشرے کا انتہائی احساس انسان ہوں ۔ جسے یہ بے حس معاشرہ انسان نہیں سمجھتا ۔ ۔۔ مجھے بھی بہت اثر ہوتا ہے ۔۔ ۔ مگر جب میں اپنے ادیبوں اور شاعروں کو دیکھتا ہوں ۔ ۔۔ تو پتہ چلتا ہے کہ وہ غم کی شاعری تو کر لیتے ہیں مگر انہوں نے کبھی غم سہا ہی نہیں ۔ ۔ بھوکے کی بھوک کا اور پیاسے کی پیاس کا اسی کو پتہ ہوتا ہے جو پیاسا رہا ہو ۔ ۔ اور جب اسے طاقت ملتی ہے ، یا تو وہ سب کے لیے پانی کا حصول آسان بناتا ہے کہ کوئی اُس کی طرح پیاسا نہ رہے ، یا پھر وہ پانی کے حصول کے سب ذریعے اپنے قابو میں کر دیتا ہے اور بے گناہوں کو ویسے ہی پیاسا رکھ کہ ترساتا ہے جیسے وہ کبھی پیاسا تھا ۔ ۔ ۔
    ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کن میں شمار کرنا چاہتے ہیں خود ، موسٰی کے ساتھی یا فرعون کے چمچے ۔ ۔ ۔ کسی کے دُکھ پر رونے والوں میں یا ہنسنے والوں میں ۔ ۔ ۔

    شاید بے حسی کی معراج حاصل کرنے والوں کو ااپ کی بھی کوئی تحریر اثر نہیں کرے گی نہ ۔ ۔ ۔ کوئی چیخ یا موت ۔ ۔۔ ان کو جھنجھوڑے ۔ ۔ ۔کیونکہ اللہ مجھے معاف کرے ۔ ۔۔ ان کی توآنے والی ہزاروں نسلیں ۔ ۔ ۔ اب ایسی ہی وی وی آئی پی ہونگی ۔ ۔ اور ہزاروں فرزانہ ایسے ہی گر گر کر مرتی رہیں گیں

LEAVE A REPLY