بلاشبہ ریڈیو پاکستان ایک وقت میں مالی طور پر خود کفل، خوشحال اور مضبوط ادارہ تھا لیکن اس ادارے کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت زوال پذیر کردیا گیا۔ کارپوریشن ہونے کی وجہ سے اس ادارے کے ملازمین کی تنخواہیں ، پینشنراور مراعات دیگر اداروں کی نسبت بہتر ہوتی تھی۔ ہماری رائے میں ابلاغی محاذ پر جدید ترقی کے اثرات سے ریڈیو پاکستان اس انداز میں مستقبد نہ ہوسکا جو وقت کی ضرورت اور ایک قومی ادارے کے وجود کو قائم رکھنے اور مضبوط کرنے کیلئے ضروری تھا۔ ریڈیو پاکستان کارپویشن کی مالی بدحالی اور بحرانی کیفیت آج کی بات نہیں گزشتہ دو دہائیوں سے یہ ادارہ زوال پذیر ہے۔
یہ مالی بحران کا ہی شاخسانہ ہے کہ اس ادارے کے پینشنرز جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال اور اپنی جوانیاں اس اہم قومی اارے کی آبیاری ، ترقی اور بہتری کیلئے وقف کررکھی تھیں انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد پنشنز کی فراہمی بروقت یقینی نہ بنانا اعلیٰ افسران، سرخ فیتہ اور سیاہ و سفید کے مالک افراد کی غفلت اور خود غرضی کا نتیجہ ہی قرار دی جاسکتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ریڈیو پاکستان کے ساڑھے چار ہزار سے زائد پینشنرز ہیں ان میں اکثر افراد بڑھاپے اور ضعیف العمری کی زندگی گزار رہے ہیں اور اکثر بیوہ خواتین جو اپنے مرحومین کی پنشن وصول کرتی ہیں۔
گزشتہ کئی ماہ سے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو پنشن نہیں مل رہی ایسے میں جب وطن عزیز پاکستان میں ہوشربا مہنگائی کا سیلاب ہے اور مالی بحران کے باعث لوگوں کی قوت خرید انتہائی کمزور ہوگئی ہے جبکہ ایسے افراد جن کی گزر اوقات ہی صرف پنشن پر ہو تو ان کا کون پرسا ن حال ہوگا۔ ریڈیو پاکستان میں مالی بے ضابطگی اور کرپشن کے باعث پنشنرز مشکلات کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے لندن میں مقیم ریڈیو پاکستان کے ایک سابق آفیسر صفدر ہمدانی کوششیں کررہے ہیں۔ صفدر ہمدانی کو ی ایک تاریخی اعزاز حاصل ہے کہ ان کے والد جناب مصطفی علی ہمدانی ریڈیو پاکستان کی پہلی آواز تھے۔ صفدر ہمدانی اور ان کے والد مرحوم مصطفی علی ہمدانی کی اس ادارے کی بہتری اور آبیاری میں ایک موثر کردار رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صفدر ہمدانی اس ادارے سے اپنی خاندانی وابستگی کے باعث پینشنرز کے حقوق اور ان کو بروقت پنشن کی ادائیگی یقینی بنانے کیلئے متحرک انداز میں کوششیں کررہے ہیں۔
ریڈیو پاکستان آزاد کشمیر ریڈیو تراڑکھل کے پروگرام ’’میرے وطن ‘‘ کے تخلیق کار اور رائٹر میرنور الدین اختر المعروف میر صاحب نے بھی اس ادارے کی ترقی ، مضبوطی اور خاص طورپر ملازمین کی بہتری اور خوشحالی کیلئے بے پناہ خدمات سرانجام دیں ہیں۔ بطور صدر آل پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ایمپلائیز یونین اور وائس چیئرمین پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن مرحوم میر نور الدین اختر نے ملازمین کے حقوق ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے اورریڈیو پاکستان ملازمین کے لئے ؎طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے بے پناہ خدمات سرانجام دیں ہیں جو تاریخ کا حصہ ہے۔ آزاد کشمیر ریڈیو کا میرے وطنـ اپنے دور کا ایک منفرد اور موثر پروگرام تھا جس کی باز گزشت بھارتی ایوانوں میں بھی سنی جاتی تھی۔ صوتی محاز پر ریڈیو پاکستان نے بھارت کو چاروں شانے چت کر رکھا تھا۔لیکن آج اس ادارے کو برئے حالات سے دوچار کر دیا گیا ہے جو بلا شبہ ایک مجرمانہ غفلت ہی قرار دی جاسکتی ہے۔
دریں اثناء مہنگائی کے اس دور کے تناظر اور پنشنرز کے مسائل کے حل کیلئے اگلے روز لندن میں مقیم جموںو کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق کے صدر ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں حکومت پاکستان اور اعلیٰ حکام سے کہا ہے کہ وہ پنشنرز کی مشکلات کا ادارک کرتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں۔ ڈاکٹر نذیر گیلانی کا کہنا تھا کہ ریڈیو پاکستان کے ریٹائر ڈ پنشنرز درحقیقت نامعلوم ہیروز ہیں جنہوںنے اپنی زندگی اس ادارے کے کیلئے وقف کر رکھی تھی، مشکل وقت میں اس ادارے کی آبیاری کی اور ترقی کے لئے کام کیا۔
یاد رہے کہ جموں کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق کو اقوام متحدہ میں مشاورتی درجہ حاصل ہے اور مسئلہ کشمیر کے قانونی پہلوئوں کو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورموں پر اجاگر کرنے میں ڈاکٹر نذیر گیلانی اور ان کی تنظیم اہم کردار ادا کررہی ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ایک وقت میں ریڈیو پاکستاننا صرف وطن عزیز کا اہم قومی ادارہ ہی نہیں بلکہ ابلاغی محاذپر پاکستان کا مثبت تصور پیش کرنے اورمسئلہ کشمیر کو حقیقی تناظر میں اجاگر کرنے کا بھی ایک موثر ذریعہ تھا اور بلاشبہ مالی طور پر بھی خود کفیل اور خوشحال ادارہ تھا۔بد قسمتی سے ابلاغی محاذ اور میڈیا کی ترقی کے مثبت اثرات ریڈیو پاکستان پر مرتب نہ ہوسکے۔ یہ ادارہ ایک وقت میں مالی طور پر اس قدر مستحکم ، خود انحصار اور مضبوط تھا کہ پی بی سی ملازمین کو اچھی تنخواہوں ، پنشن کے علاوہ ملازمین اور ان کے خاندان کے افراد کو صحت ، علاج و معالہ کی سہولتوں کی فراہمی بھی اس ادارے کی ترجیحات میں شامل تھیں۔
ملک کے بہترین سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ملازمین اور ان کے اہل خانہ جدید طبی سہولیات سے مستفید ہوتے تھے۔ ہسپتالوں کے علاوہ اچھے جنرل پریکٹشنرز مقرر کئے گئے تھے اور آوٹ ڈور مریضوں کیلئے ادویات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جاتی تھی۔ لیکن ترقی یافتہ دور میں اد ادرے کو مفقول الحال اور کسمپرسی کے حالات میں لاکھڑا کیا گیا ہے جو اس ادارے اور ملازمین کے ستاتھ بڑی زیادتی ہے ۔ موجودہ حالات کے تناظر اور ریڈیو پاکستان کارپوریشن کی اہمیت کے پیش نظر اس ادارے کو بحران سے نکالنے کے لئے ضروری کہ وزیراعظم پاکستان محمد شہبازشیرف، وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ، سیکریٹری اطلاعات و نشریات شاہیرہ شاہد اس اہم مسئلے کی طرف خصوصی توجہ دیں تاکہ ریڈیو پاکستان کے ملازمین کے جملہ مسائل فوری حل ہوسکیں اور خاص طور پینشنرز کے دکھوں کا مداوہ یقینی بنایا جاسکے۔
بشکریہ ۔ڈاکٹر سید نزیر گیلانی













