افغان طالبان نے کہا ہے کہ امریکا نے ان کے ساتھ ہونے والی حالیہ امن بات چیت میں یہ وعدہ کیا ہے کہ واشنگٹن اس سال اپریل تک ہندو کش کی اس ریاست سے اپنے نصف فوجی دستے واپس بلا لے گا۔ افغان طالبان کا ایک وفد ان دنوں روس میں افغان اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ مکالمت میں حصہ لے رہا ہے۔
اس بات چیت میں کابل حکومت شامل نہیں ہے۔ امریکا اور افغان طالبان کے مابین ابھی حال ہی میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک ہفتے تک امن بات چیت ہوئی تھی، جس کے نتائج سے افغانستان میں قیام امن کے امکانات کے سلسلے میں کچھ مثبت اشارے ملے تھے۔












