کراچی میں نقیب اللہ قتل کیس میں گرفتار پولیس افسر راؤ انوار کو ان کے خلاف دائر دونوں مقدمات میں ضمانت ملنے کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

سابق ایس ایس پی ملیر پر 13 جنوری کو جعلی پولیس مقابلے میں قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود سمیت پانچ افراد کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ راؤ انوار نے ہلاک ہونے والوں کو کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے قرار دیا تھا۔

راؤ انوار کی نقیب اللہ کیس سے منسلک دونوں مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ضمانت منظور کرلی تھی۔

ان پر قتل، اقدامِ قتل اور اغوا کے علاوہ غیر قانونی اسلحہ اور بارودی مواد کی جعلی برآمدگی ظاہر کرنے کے دو الگ الگ مقدمات قائم کیے گئے تھے جس میں ان کے علاوہ کراچی پولیس کے ایک ڈی ایس پی سمیت ایک درجن سے زائد پولیس اہلکار نامزد ہیں۔

راؤ انور کو 20 اپریل کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ نقیب اللہ کے قتل پر لیے جانے والے ازخود نوٹس کیس میں کئی ماہ کی روپوشی کے بعد سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

بعد ازاں انہیں کراچی میں انسدادِ ہشت گردی کی اس عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ان کے خلاف کیس زیرِ سماعت تھا۔

حکومتِ سندھ نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر راؤ انوار کے ملیر کینٹ میں واقع گھر کو سب جیل قرار دے کر انہیں وہیں قید رکھا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ضمانت پر رہائی منظور ہونے کے بعد راؤ انوار کے کسی اور کیس میں پولیس کو مطلوب نہ ہونے پر ان کے گھر سے جیل پولیس کی نفری ہٹادی گئی ہے۔

ملزم کے گھر کو سب جیل قرار دینے پر نقیب اللہ کے والد اور کیس میں مدعی خان محمد نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی۔ تاہم سرکاری وکیل کے عدم تعاون کی وجہ سے اس کی سماعت بروقت مکمل نہ ہوسکی اور اب یہ درخواست غیر مؤثر ہوچکی ہے۔

دوسری جانب انسدادِ دہشت گردی عدالت میں جہاں یہ کیس زیرِ سماعت ہے، نقیب اللہ کے والد خان محمد کے وکیل صلاح الدین پنہور نے عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کر رکھا ہے جس کے بعد سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو رہے ہیں۔

مقتول کے والد کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی ایک اور درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت کی جج پر اعتماد نہیں کیوں کہ بقول درخواست گزار وہ جانب دار نہیں رہے اور اس لیے کیس کسی اور عدالت منتقل کیا جائے۔

راؤ انوار کے خلاف محکمانہ انکوائری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 13 جنوری کو ہونے والا مقابلہ جعلی تھا۔ راؤ انوار پر جعلی پولیس مقابلوں میں 400 سے زائد افراد کے قتل کا بھی الزام ہے لیکن وہ ہمیشہ ان الزامات کی نفی کرتے آئے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY